معاشرے کی سب سے بڑی برائی - شرک اکبر : یعنی مردہ پرستی !

محمد عامر یونس نے 'گرافک کی دنیا' میں ‏مئی 28, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    [​IMG]

    معاشرے کی سب سے بڑی برائی - شرک اکبر : یعنی مردہ پرستی !

    شرک گناہ کبیرہ اور سنگین جرم ہے۔ اس کا مرتکب اپنے خالق اور محسنِ حقیقی کا ایسا مجرم ہے کہ اس پر جنت کو حرام کردیا گیا ہے- اور اگر یہ بغیر توبہ کیے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے لیے مغفرت کی تمام راہیں مسدود ہیں -قیامت کے روز اس کا سب کِیا دھرا غبار کی طرح اُڑا دیا جائے گا -

    شرک تمام نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے خواہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔

    قُلْ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَأْمُرُوٓنِّىٓ أَعْبُدُ أَيُّهَا ٱلْجَٰهِلُونَ ﴿64﴾وَلَقَدْ أُوحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ ﴿65﴾

    ترجمہ: کہہ دو اے جاہلو کیا مجھے الله کے سوا اور کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہو اور بے شک آپ کی طرف اور ان کی طرف وحی کیا جا چکا ہے جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں کہ اگرتم نے شرک کیا تو ضرور تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے

    (سورۃ الزمر،آیت 64-65)

    شرک انسان کو آسمان کی بلندیوں سے زمین کی پستی میں گرادیتا ہے،جہاں وہ مسلسل مختلف گمراہیوں میں دھنستا چلا جاتا ہے حتی کہ وہ ہلاک اور برباد ہو جاتا ہے۔

    وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ ٱلطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ ٱلرِّيحُ فِى مَكَانٍۢ سَحِيقٍۢ﴿31﴾

    ترجمہ: اور جو الله کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے

    (سورۃ الحج،آیت31)

    شرک کے علاوہ تمام گناہ معاف ہو سکتے ہیں :

    حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    ’’ اے ابن آدم! تو نے مجھے جو پکارا اور مجھ سے امید کر رکھی ہے اس کی وجہ سے میں نے تمہارے گناہوں کو معاف کر دیا اور میں پرواہ نہیں کرتا ہوں اے ابن آدم! اگر تمہارے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں پھر تم سے مجھ سے استغفار کرو تو میں تمہیں بخش دوں گا اور پروا ہ نہیں کروں گا، اے ابن آدم! اگر تم میرے پاس زمین کے برابر غلطیاں لے کر آؤ گے اور مجھ سے اس حال میں ملو گے کہ میرےساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ہو تو میں تمہارے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا۔‘‘

    (ترمذی: 3540؛ صحیح سنن ترمذی: 2805)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں