فکر مودودی امت کے لیے مشکلات کا باعث : شیخ الازہر

ابوعکاشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جون 3, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    فکر مودودی امت کے لیے مشکلات کا باعث : شیخ الازہر
    روز قیامت تک اس امت کی ہر نسل میں علمائے حق رہیں گے : شیخ الازہر
    مترجم: شبیر حسین ازہری


    نوٹ : گزارش ہے کہ تمام بھائی اس مضمون کو غور سے پڑھیں ۔ ہمارا اختلاف مولانا مووددی رحمہ اللہ سے نہیں ۔ اور نا ہی ان کی شخصیت یا ان کے علم سے ہے ۔ لیکن ہم ان کے فکر سے ضرور اختلاف رکھتے ہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ و سنت اور فہم صحابہ ؓ سے ہٹ کر کسی بھی فکر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نا ہی وہ قابل قبول ہے ـ

    مرسلہٗ: مولانا احمد رضا ازہری مالیگانوی، قاہرہ مصر فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر احمد الطیب نے فرمایا : کہ حاکمیت کا غلط مفہوم شدت پسند تحریکوں کے وجودکے بنیادی پتھروں میں سے ایک ہے یہی وہ خارجی فکر ہے جس نے ان جماعتوں کو معاشرے کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کیا۔شیخ الازہر نے گزشتہ جمعہ مصر کے رسمی چینل پر گفتگو کے دوران فرمایا کہ جس فتنہ حاکمیت کو خارجیوں نے جنم دیا تھا وہ ان کے ساتھ ہی سوگیا تھامگر جماعت اسلامی کے بانی ہندوستانی مفکر ابوالاعلیٰ مودودی نے اس فتنے کو دوبارہ زندہ کیا، انہوں نے اپنی ایک کتاب، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ( الٰہ ،رب، عبادت، دین) میں اس فکر کی تجدید اور احیا کرتے ہوئے کہا کہ ان چار اصطلاحوں پر ہی دین کی بنیاد قایم ہے اورانہوں نے الہ کی تعبیر حاکم سے، الوہیت کی حاکمیت سے، اور عبودیت کی تعبیراللہ کے احکام کی اطاعت سے کی ہے
    اور مزید لکھا ہے کہ حکومت و سلطنت اللہ ہی کو زیبا ہے مخلوق کے لیے صرف اطاعت ہے اور جو شخص اس بات کا دعوی کرے کہ اسے حکومت کرنے یا انسانوں کے لیے قانون سازی کی آزادی ہے وہ کافر ہے، کیوں کہ وہ حاکمیت میں اللہ کا مقابل بننا چاہتا ہے جو صرف اللہ کے ساتھ خاص ہے، نیز جو کوئی اس شخص کی حکومت کو مانے یا اس کے بنائے قوانین پر عمل کرے وہ بھی مودودی صاحب کے نزدیک ’’مشرک‘‘ ہے کیوں کہ اس نے اللہ کے سوا دوسرے کو معبود مانا۔
    اور شیخ الازہر نے مودودی کی اس فکر کا بھی ذکر کیا جس کا دعویٰ انہوں نے کیاہے کہ ان چار اصطلاحوں کا یہ مفہوم ان کی ایجادواختراع نہیں ہے، بلکہ نزول قرآن کے وقت مشرکین قریش ان کا یہی مفہوم سمجھتے تھے اور اسلام کو ایک یا دو صدی بھی نہیں گزری تھی کہ[یہ] مفہوم ان کی نظروں سے اوجھل ہوگیا اور کئی صدیوں تک اوجھل رہا یہاں تک کہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اس کا صحیح مفہوم مودودی صاحب نے آکر واضح کیا اور پچھلی دس صدیوں کے مسلمانوں پر ’’گمراہیت‘‘ پر رہنے کا الزام بھی دیا ۔
    شیخ الازہر نے مودودی کے ا س دعویٰ کی تردید نبی اکرم ﷺکی حدیث سے کی جیسا کہ مروی ہے کہ: ’’میری امت کبھی گمرہی پر جمع نہیں ہوگی‘‘ اور فرمایا کہ مودودی صاحب اس حدیث کا انکار کیسے کر سکتے ہیں؟ اک اور حدیث ہے کہ’’ روز قیامت تک اس امت کی ہر نسل میں علمائے حق رہیں گے جنہیں ناتو کسی مخالف کا ڈر ہوگا ناہی کسی ملامت کی پرواہ ‘‘۔ یہ احادیث اور اس قسم کی دیگر احادیث صحیحہ کا ذخیرہ ’’فکرِ مودودی‘‘ کے قصر کو ملیامیٹ کرنے کے لیے کافی ہے جو دس صدیوں کے مسلمانوں کی تضلیل پر قایم ہے۔
    مزید فرمایا کہ: مودودی صاحب کا یہ دعویٰ قرآن مجید پرغیرصریح اور غیر واضح ہونے کاکھلا الزام ہے حالانکہ خود اللہ رب العزت نے بہت سی آیتوں میں قرآن پاک کاوصف مبین یعنی واضح ہونا بیان فرمایا ہے؛ سورہ حجر آیت نمبر دس :ترجمہ :’’یہ روشن کتاب قرآن کی آیتیں ہیں ‘‘ تو جب اللہ نے فرمادیاکہ قرآن کے معانی وا ضح وبین ہیں تو مودودی صاحب اس نظریے کو کہاں سے لائے جو آیات کریمہ کے بالکل متضاد ہے ،مودودی صاحب عالم تھے۔ ممکن ہے بعض مسائل میں ان کے رائے درست ہو مگر ان کے بعض افکار امت کے لیے کثیر مشکلات کا باعث بنے، اسی طرح انہوں نے پہلی دس صدیوں کی تفسیرات میں شک کیا ہے، حالاں کہ خود ان کی تفسیر کے اَصح[صحیح] ہونے پر کوئی دلیل نہیں ایسے ہی انہوں نے کہا کہ’’ قرآن ہمیشہ ایک پہیلی اور غموض وابہام سے بھرپور رہے گا اور کوئی اس کی تفسیر نہیں کرسکے گا‘‘ ان کا یہ قول اسلامی اصول پر کھلا وار ہے۔
    اس مسئلے پرمزید روشنی ڈالتے ہوئے شیخ الازہر نے فرمایا کہ :’’سید قطب‘‘ اپنے ہم عصر دوست ابو الاعلیٰ مودودی کے اس نظریہ سے دیوانگی کی حد تک متاثر ہوئے اور اس نظریہ کی رو سے انہوں نے کہاکہ حاکمیت صرف اللہ ہی کے لیے ہے کیوں کہ حاکمیت الوہیت کا دوسرا نام ہے ، کسی انسان یا ادارہ یا تنظیم کو حق قانون سازی دینا اللہ کی حاکمیت کو چھوڑ کر انسانوں کو حاکم بنانا ہے اور سید قطب کے مطابق موجودہ تمام انسان اللہ کے عطاکردہ قانون کو چھوڑ کر انسان کے خود ساختہ قوانین پر عمل پیرا ہیں جو شریعت اسلامیہ کے بالکل خلاف ہے اس وجہ سے موجودہ معاشرہ ’’کافر و مشرک‘‘ اور ’’غیر اللہ‘‘ کی عبادت کرنے والا ہے، کیوں کہ عبادت کا مفہوم قطب صاحب کے نزدیک اللہ کی حاکمیت میں اس کی اطاعت کرنا ہے اور جب معاشرے نے اس کے سوا دوسرے کی اطاعت کی تو اس نے مخلوق کو اللہ کاساجھے دار ٹھہرایا ،اسی نظریہ کو بنیاد بناتے ہوئے سید قطب نے کہا کہ موجودہ معاشرہ جس میں امت اسلامیہ پنپ رہی ہے در اصل’’زمانۂ جاہلیت‘‘ کا معاشرہ ہے اور نہ صرف ’’زمانۂ جاہلیت‘‘ کی طرح ہے بلکہ اس سے دوگنا جہالت کا حامل ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں صرف بتوں کی پرستش ہوتی تھی اور موجودہ مسلم معاشرے پردساتیر اور ’’قانون ساز اداروں کاتسلط‘‘ ہے جو سید قطب کی نظر میں ’’اصنام‘‘[بت] ہیں اور دوسرے ہزاروں قسم کے بت ہیں جن کی مسلمان پرستش کرتے ہیں ،مزید برآں جو لوگ شریعت کی تطبیق کی بات کرتے ہیں ان سے تمسخر کرتے ہوئے سید قطب کہتے ہیں کہ یہ معاشرے مسلم تو ہے نہیں کہ ان میں نظام شریعت لاگو کیا جاسکے، یہ تو کافر معاشرہ ہے جس پر کافر حاکموں کا راج ہے پہلے ان سب کو اسلام میں دوبارہ داخل کرو ، ’’اسی نظریہ کو لے کر انہوں نے پہلے اسے جاہلی معاشرہ قرار دیا پھر اس معاشرے کو کافر کہا اور اس کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو جائز قرار دیا‘‘ اور کہا کہ مسلمانوں کے لیے ولایت اور غیر مسلمین سے برائت کو اپنا وتیرہ بنانا چاہیے ،ان کی اس تفریق نے (جو پورے مسلم معاشرے کی تکفیر اور اس سے نفرت کی طرف بلاتی ہے )اس فکر کے دلدادہ نوجوانوں کو اپنے آباواجداد سے متنفر کیا ان میں سے بعض نے اپنی نوکری چھوڑدی اوربعض نے اس سے علاحدگی اختیار کرلی کیوں کہ ان کا ماننا ہے کہ یہ پورامعاشرہ جاہلی ہے، حاکم جاہلی ہے ۔
    اخیر میں اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے شیخ الازہر نے فرمایا کہ ’’’سید قطب کے ان افکار ونظریات کا دین سے کوئی واسطہ نہیں ،لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض داعیان اسلام اس نظریہ کی تائید میں کھڑے نظر آتے ہیں۔‘‘
    (بحوالہ جریدہ صوت الازہر، عدد شمارہ ۷۰۸ بتاریخ ،۱۳؍ مارچ ۲۰۱۵ء)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    ڈاکٹر احمد طیب نے بالکل درست تشخیص کی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,302
    حسن البنا بانی اخوان المسلمین کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ ان کے مولانا مودودی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔
    بہرحال جیسے کہ عکاشہ بھائی نے کہا ان کی ذاتیات سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ۔ لیکن جماعت اسلامی کے ممبرز پر مجھے حیرانی ہوتی ہے جو ان کی ہر بات کو غلطی سے پاک سمجھتے ہیں حالانکہ غلطی ہونا بشری تقاضا ہے اگر ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہمیں وہ غلطی نہیں کرنی چاہیے۔
    دجال کے بارے میں ان کا عقیدہ سرار قرآن وحدیث کے خلاف ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    بجا فرمایا ۔۔ رد کرتے ہوئے مقصد یہ ہوتا ہے ۔ یہ وہ بنیادی غلطی ہے جس کی وجہ سے جماعت اسلامی اور اہل سنت و الجماعت کے عقائد کے درمیان خلیج حائل ہے ۔ یہی و ہ فکر ہے جو کہ حق بات کو قبول نا کرنے ، محبت کرنے والے دوستوں اور بھائیوں کودور کردیتی ہے ۔ وجہ صرف یہ فکر نہیں ۔ بلکہ اصل وجہ مولانا مودودی کا نام آتے ہی حق بات کوٹھکرا دیا جاتا ہے ۔ورنہ ہمارے بہت سےقریبی جماعت بھائی تسلیم کرتے ہیں کہ اس فکر نے امت کو سوائے فساد کے اور کچھ نہیں دیا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    یہ بہت خطرناک ’’فکر ‘‘ہے، اور اس کی زد میں ہمیشہ کم علم طبقہ ہی آتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,302
    مولانا رحمہ اللہ کے خود اپنے بیٹے شاید نام حیدر ہے وہ جماعت اسلامی کے سخت ناقد ہیں۔
    بہرحال اللہ ہمیں حق پر چلنے کی توفیق دے۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    ان کے ناقد ہونے کی ایک اہم وجہ جماعت اسلامی کے قائدین کا اصولوں سے انحراف بتایا جاتا ہے ـ واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    یا تو بہت ہی کم علم طبقہ زد میں آتا ہے یا بہت زیادہ پڑھا لکھا ـ مشاہدہ بتاتا ہے کہ جماعت اسلامی میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی نہیں ـ شاید تمام جماعتوں کی نسبت شرح خواندگی زیادہ ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    دنیاوی تعلیم کا حصول انسان کو پڑھا لکھا تو بنا سکتا ہے مگر عالم تو صرف دین کا علم حاصل کرنے سے ہی بنا جاسکتا ہے۔ میں نے یہ بات اسی پسِ منظر میں کہی ہے۔ اس کی مثال ڈاکٹر عبداسلام ہے۔ پڑھ لکھ کر اتنا بڑا سائنس دان تو بن گیا مگر مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کو نہیں جان سکا۔ اس لے وہ صرف پڑھا لکھا تھا نہ کہ عالم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,063
    انتہائی احترام کے ساتھ تھوڑا سا اختلاف کروں گا ،قادیانی کی مثال تو یہاں نہیں بنتی اور نا ہی مناسب ہے ـجہاں تک دینی تعلیم کی بات ہے تو یہ بات آپ کی کسی حد تک صحیح ہے ـ لیکن اگر دینی تعلیم حاصل بھی ہوجائے تو جماعت کا منہج لوگوں کو اس فکر سے آزاد نہیں ہونے دیتا ـبچپن سے نوجوانی یا جوانی کے مراحل تک بچوں کی ایسی تربیت کی جاتی ہے کہ ان کےذہن میں صرف اتنی بات رہ جائے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ـ اسی کو اولیت حاصل رہے ـ باقی سب احکامات کی حیثیت ثانوی ہے ـ ایسی صورت میں دین کا علم آبھی جا تو فائدہ نہیں دیتا ـ یہ اس فکر کی مصیبت ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں