فکر مودودی امت کے لیے مشکلات کا باعث : شیخ الازہر

ابوعکاشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جون 3, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,150
    سو جملوں میں امن کی تلقین کے دوران صرف ایک بار لفظ انقلاب استعمال کر لیا جائے تو سارا امن دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ انقلاب کا مطلب ہی عدم تدریج ہے۔ اسلام اصلاح کا دین ہے نہ کہ انقلاب کا۔ قرآن وسنت میں اصلاح کا لفظ بار بار آیا ہے لیکن انقلاب کی دعوت کہیں نہیں۔ اسلام سنوارنے کا دین ہے۔
    مولانا مودودی رحمہ اللہ کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ان کی لغزشوں کا تحقیقی مطالعہ ہونا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,590
    ازھر یونیورسٹی کے منہج و عقیدہ کے حوالے سے لا علم ہیں یا مصلحت کے تحت لکھا ہے ۔ بہرحال انکا مزاج بریلوی نہیں بلکہ حنفی صوفی اشعری وغیرہ ہے ۔اور اس میں بریلوی ،دیوبندی ،تحریکی، حنفی سب شامل ہو جاتے ہیں ۔ بعض مسائل میں اختلاف ہے ۔ مگر دفاع بھی کھل کرکرتے ہیں ۔ لیکن ازھر میں حق بیان کرنے والے بھی ہیں ۔ عمار خان ناصر صاحب نے یہ مضمون اس وقت لکھا تھا جب وہ اپنے ممدوح غامدی صاحب کے متنازعہ فتوے پر دفاع میں تقریباً ناکام ہو چکے تھے. اور سخت ترین ردعمل جماعتیوں کی طرف سے ہی سامنے آیا تھا. دین بیزار حضرات فکر مولانا مودودی کے ڈانڈے خارجیت، داعش سے جوڑنے کی کوشش میں تھے تو انہوں یہ تحریر لکھی تھی. یہ اتنی وائرل ہوئی کہ لوگ غامدی صاحب کو بھول گے. اس کا فائدہ ہوا کہ متنازعہ فتوی اور انکار حدیث کے باوجود غامدی صاحب اب جماعتیوں کے نزدیک محب سنت ہیں. قندیل کی روشنی ہمیشہ سے ایسے ہی ہے. اللہ، اس کے رسول و صحابہ کی محبت میں.الحمد للہ. اللہ اسے قائم و دائم رکھے.اسے دنیا دار لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے. آمین.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں