خدا کو کس نے پیدا کیا۔ ۔؟ ملحدین کا ایک عام سوال

فہد جاوید نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جون 5, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    سوال خ عموما اس طور پر اٹھایا جاتا ھے کہ ” اگر ھر چیز کو خدا نے وجود بخشا ھے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟”

    یہ سوال ایک کیٹیگری مسٹیک (category mistake) ھے۔ تفصیل اسکی یہ کہ ھر وجود کو “ڈیفائن کرنے والی صفات” اس سے متعلق بعض ایسے سوالات کو غیر متعلق (irrelevant) کردیتی ھیں جو کسی دوسری صفات کے حامل وجود کے لئے متعلق ھوتے ھیں۔ مثلا اگر آپ کمرے میں قلم رکھ کر باھر جائیں اور واپس آنے پر اس قلم کی جگہ تبدیل پائیں تو آپ کے ذھن میں “کیسے” کا سوال آئے گا (یعنی اسکی جگہ کیسے تبدیل ھوئی)۔ لیکن اگر قلم کی جگہ آپ کا دوست کمرے میں بیٹھا ھو اور واپس آنے پر اسکی جگہ تبدیل ھوجائے تو آپ کا ذھن اس کیسے کے سوال کی طرف متوجہ نھیں ھوگا۔ چنانچہ انسان کی “متحرک بالارادہ” ھونے کی صفت نے اس سے متعلق “کیسے” کے سوال کو غیر متعلق کردیا؛ اسکے بارے میں “کیسے یھاں سے وھاں چلا گیا” کا سوال کیٹیگری مسٹیک ھے۔

    انسان کے بارے میں یہ سوال کہ “اسے کس نے پیدا کیا” ایک متعلق سوال ھے کہ خود ھمارا مشاھدہ و علمی اثار یہ بتا رھے ھیں کہ انسان ھمیشہ سے موجود نھیں؛ تو اس صورت میں یہ سوال منطقی طور پر درست ھے۔ مگر خدا کو ڈیفائن کرنے والی بنیادی صفت “الصمد” (قائم بالذات ھونا) ھے۔ اس صفت کے تناظر میں “خدا کو کس نے پیدا کیا” بالکل اسی طرح غیر منطقی ھے جیسے درج بالا مثال میں انسان کی بابت کیسے کا سوال غلط تھا۔ ظاھر ھے، اگر خدا کو کسی نے پیدا کیا ھے تو وہ الصمد نھیں لھذا خدا نھیں۔ اگر کھا جائے کہ موجودہ خدا کو اس سے قبل خدا نے پیدا کیا تو اس صورت میں جسے موجودہ خدا کہا جارھا ھے وہ خدا نھیں کہ وہ الصمد نھیں (یعنی اپنے ھونے کے لئے وہ اپنے سے قبل کسی کا محتاج ھے)۔ الغرض خدا کے بارے میں یہ سوال کہ “اسے کس نے پیدا کیا” بذات خود ایک غیر منطقی سوال ھے کہ یہ خدا کی تعریف ھی کو نہ سمجھنے کی بنا پر پیدا ھوتا ھے۔
     
  2. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    میرا خیال ہے کہ جب آپ ملحد کی بات کر رہے ہیں تو اسے قرآن سے دلیل دینا بالکل بے ثمر ہوگا، کیونکہ وہ قرآن کو سرے سے ہی نہیں مانتا یا مانتی۔۔۔۔۔ رہ گئی منطق یا عقلی دلیل، تو وہ سمجھنا بھی کوئی اتنا مُشکل کام نہیں۔۔۔ چھوٹا سانکتہ یہ ہے کہ جس نے یہ نظام تخلیق کیا، جس میں ایک چیز کے وجود میں آنے کی وجہ دوسری چیزیں ہو، ضروری نہیں کہ وہ خود اسی نظام کا حصہ ہو اور اسی نظام کے وجودی اصول کے ماتحت ہو۔۔۔ کیونکہ جو نظام اور اسکے اصول تخلیق کرے اوروضع کرنے، وہ اس نظام سے پہلے ہی موجود ہے، لہٰذا اسے پیدا ہونے والے نظام کے طریقوں اور اصول کے تحت چانچنا اور سمجھنا بنیادی طور پر خود ایک بے اصولی ہے۔۔۔۔ نکتہ سمجھنے کے لئے مثال کے طور پر آپ ایک روبوٹ ڈیزائن کرتے ہیں اور اس کے نظام کے تخلیق کار ہیں اور اس میں جاری شدہ اصول بھی آپ نے ہی وضع کئے ہیں جیسے یہ قدم کیسے اُٹھائے گا، بولے گا کس طرح وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مگر آپ نہ تو روبوٹ ہے، نہ ہی اسکے اصولوں اور نظام کے تحت ہیں۔۔۔ آپ اس سے زیادہ بہتر اور بلند تر نظام سے ہیں۔۔۔۔۔
    رہ جاتی ہے یہ بات کہ وہ خود کس نظام کے تحت ہے، تو ابھی تک کوئی سائینس یا کوئی اور علم اسے بات سے بالکل لاعلم ہے سوائے اسکے کہ خدا اس بارے میں خود کوئی علم فراہم کردے۔۔۔ لیکن ایک بات، جو وجدان میں خود آجاتی ہے، وہ یہ کہ خدا جس نظام میں ہے، وہاں کے پیدا ہونے یا وجود میں آنے کی اصول وہ نہیں ہیں جو اس کائنات میں ہے۔۔۔ اور اس سے زیادہ نہ عقل جاتی ہے، نہ ہی کوئی منطقی سائینس۔۔۔۔ باقی واللہ اعلم۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ٹھیک ہے ملحد کو قرآن سے الہامی دلیل نہیں دی جا سکتی لیکن قرآن میں دی گئی منطقی دلیل دی جا سکتی ہے۔ قرآن میں جا بجا ملحدین کو منطقی جوابات دیے گئے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  4. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    قرآن میں موجود ان منطقی دلائل کا انتظار رہے گا۔۔۔ جزاک اللہ خیرا و کثیرا
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اس کے لیے قرآن کے وہ تمام مقامات دیکھے جا سکتے ہیں جہاں آخرت کے منکرین کو جوابات دیے گئے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    ملحد کے اس سوال کا جواب خود اس کی وجود کی تخلیق میں ہے کہ وہ کیسے پیدا ہوا ۔ یہی دلیل آپ کو قرآن میں ملے گی، اللہ نے کئی آیات میں انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ہے ۔ پہلی وحی میں ہی تذکر ہے ۔ خلق الانسان من علق ۔ توقرآن میں منظقی دلائل موجود ہیں ۔ صرف تلاش کرنا ہے ۔
    سمجھ لیں کہ ،اتنی بات کا وجدان میں آنا بھی درست نہیں تھا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  7. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    اس بات کی وضاحت مطلوب ہے۔۔۔۔۔۔ ایسا کیوں درست نہیں؟
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    میرے علم میں نہیں کہ لفظ وجدان کو آپ کس معنی میں لیتے ہیں ـلیکن صوفیت کی صطلاح میں اسے کیفیت کہتے ہیں ، جس میں کشف نہیں ہوتا ـ بالفرض مان لیں کہ خدا جس نظام کا حصہ ہے وہاں تخلیق کے کچھ اصول رہے ہوں گے ، لیکن ملحد پھر سوال کر سکتا ہے کہ وہ اصول کس خالق نے بنائے ، ظاہر ہے خود تو بننے سے رہے ـ پھر آپ کہیں گے کہ ہم کہ سکتے ہیں کہ وہ جس نظام کا حصہ اس کے الگ اصول ہوں گے وغیرہ ـ اس طرح ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا ـ جس کی کوئی انتہا نہیں ـعقل سوچنے سمجھنے سے قاصر ہے ـ پھر اس عقل سے کیونکر یہ سوچنا ممکن ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف سے دی ہوئی ہے ـ جو بچپن سے لیکر بڑھاپے تک کبھی کسی ایک حالت میں نہیں رہتی، اس کا دائرہ اختیار محدود ہے ،اس کا استعمال بھی محدود ہے، یہ ضرور ہے کہ قرآن سے یقننا ایسے منطقی دلائل مل سکتے ہیں جن سے آپ کسی ملحد کو مطمئن کرسکتے ہیں ـ جیساکہ سابقہ مراسلات میں اس کا ذکر ہو چکا ـ صحیح مسلم کی روایت بھی ہے کہ اللہ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی(وہ سب سے پہلے تھا ) اور نا ہی اللہ کے بعد کوئی چیز ہے"ـ پھر پہلے کسی نظام کا تصور کرنا صحیح نہیں ـ انسان اگر اپنے وجود پر ہی غور و فکر کر لے ، جو کہ روح اور جسم کا مرکب ہے ، کس طرح اس کی تخلیق ہوئی ، کس چیز سے ہوئی ، اس کی حیثیت کیا ہے ، تو بلا تردد وہ کہنے پر مجبور ہو جائے گا کہ یقنا کوئی ایسا خالق ہے جس کے مثل کوئی چیز نہیں ـ
     
    • متفق متفق x 1
  9. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    میں آپ کا نکتہء نظر سمجھ گیا ہوں۔۔۔ میرا خیال ہے، مجھے کہنا چاہئیے تھا کہ جہاں خدا ہے، وہاں کے نظام کے کیا اصول ہیں ھم نہیں جانتے، مگر وہ اس نظام جیسے نہیں ہیں جس میں ھم ہیں۔۔۔۔ گو کہ یہ بات بھی بہت محدود ہے ، کیونکہ جس نے تخلیق کیا، اسی نے اصول بھی وضع کئے۔۔۔ اور ھر نظام کی تخلیق بھی اسی نے کی۔۔۔

    جی ھاں، نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہونے دیں تو انسان کو اپنی عقل اور علم کی محدودیت کا خود بخود احساس ہوتا ہے۔۔۔ اورکسی بھی چیز کی حالت کا تبدیل ہوتے رہنا دراصل اس کائنات کے ہی اصولوں میں سے ایک ہے۔۔ اسی کی بنیاد پر وقت کا تعین ہوتا ہے۔۔۔ کیونکہ اس کائنات میں ہر چیز ایک دوسری چیز میں تبدیل ہورہی ہے۔۔ کہیں اسکی رفتار بہت آہستہ ہے، کہیں بہت تیز، مگر کچھ بھی ساکن نہیں ہے اور نہ ہی ایک حالت میں رہنے والی۔۔۔

    وجدان، کشف وغیرہ انسانی دماغ کی صلاحتیں ہیں، اسے صوفیت کی حدود میں نہ جانچیں۔۔۔ مذھب کی حدود سے باہر، ٹیلی پتھی، ہپناٹزم، میس میرزم وغیرہ جیسے علوم انہی صلاحتیوں کو مختلف طریقوں سے اجاگر کرکے حاصل کئے جاتے ہیں۔۔۔ اور مذاھب میں یہ طریقے مذھبی طریقوں سے منسلک ہوتے ہیں۔۔۔ صحیح مذھب دراصل اپنے خالق کی طرف راغب کرتا ہے نہ کہ مخلوقات کی طرف یوں راغب کرے کہ خالق کا حق ہی سلب کر ڈالے۔

    میں وجدان سے مراد یہی لیتا رہا ہوں کہ اپنے علم، تجربے کی بنیاد پر انسانی ذھن کیا نتائج اخذ کرتا ہے۔۔ مگر وجدان کی کچھ وسیع قسم کی تعریف یہاں مل جائے گی۔۔:
    https://ur.wikipedia.org/wiki/وجدان



     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اردو ویکی پر وجدان کی یہ تعریف اتنی گھما کر کی گئی ہے کہ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!
    اگر سادہ سے فلسفی سے پوچھیں تو وجدان انسان کے علم جبلی Instinctive knowing کا نام ہے۔
    وجدان کی کئی تعریفیں ہو سکتی ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام میں وجدان مستند ذریعہ علم نہیں ہے سو اس کی بنیاد پر خدا کے وجود کے متعلق کوئی خیال پیدا ہو بھی تو وہ واہمہ ہو گا۔
    اسلام میں مستند ترین ذریعہ علم وحی ہے، اور ہم خدا کے ذات وصفات کو وحی کی بنیاد پر ہی سمجھتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بالکل درست!
     
  12. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے مستند ترین ذریعہ علم وحی ہے۔۔ مگر وجدان دراصل خود تربیت اور علم دئے جانے کا محتاج ہے۔۔۔ وحی صرف انبیاء اکرام علیہم السلام پر آتی ہے اور وہ اسے انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔۔۔ انسان اس پر تحقیق بھی کرتے ہیں اور اسے اپنی تربیت کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں اور یوں وجدان کو معاملات کی سمجھ آتی ہے۔۔۔۔۔
    مگر اسکے باوجود، خالق نے انسانی دماغ کو سوچنے کی صلاحیت دی ھے۔ گو کہ اس سوچ میں گمراہ ہونے کا عنصر بھی ہے اور انبیاء اکرام کے ذریعے وحی اس کی تصحیح کا ذریعہ ہے۔۔۔
    اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو ابراھیم علیہ السلام کے خدا کو پہچاننے کے واقعات قرآن میں جس طرح بیان ہوئے ہیں ان میں وحی کا عنصر نہیں، بلکہسوچ زیادہ غالب ہے جس کے ذریعے ابراھیم علیہ السلام نے خدا کو پہچانا۔۔۔۔۔۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سوچ ان کے پاس کہاں سے آئی؟ یقینآ ان سے پہلے موجود علوم اور تربیت کی بنیاد پر ۔۔ پھر نبوت عطا ہونے کے بعد وحی سے ان کی تربیت کی گئی اور یوں وہ اپنی قوم کو راہ راست کی دعوت دینے کے قابل ہوئے۔۔۔
    اسی طرح وحی کےعلاوہ وہ اسباب جن کے ذریعے اللہ سبحان و تعالیٰ اپنی مخلوق کو علم سکھاتا ہے بھی موجود ہیں اور موجودہ سائینسی ترقی کے پیچھے یہی اسباب موجود ہیں جن میں انسانی ذھن کی صلاحتیں بھی شامل ہیں۔۔ جو بہرحال اللہ سبحان و تعالٰی ہی کی تخلیق ہے۔۔۔
    مجھے ایسی کسی وحی کا علم نہیں جس میں وہ علوم سکھائے گئے ہوں جو آج کل سائینس نے دریافت کئے اور ان پر مزید تحقیق کر کے نئے نئے راز افشاء کئے ہوں ۔۔۔ آج سائینس فرشتوں، جنات وغیرہ جیسی نہ نظر آنے والی مخلوقات کے موجود ہونے پر بھی تحقیق کر رہی ہے۔۔ ۔
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    فرق ہے ، خدا کی ذات و صفات میں کھوج کا کوئی بھی علم اور اس کی جستجو جائز نہیں ـ باقی علوم میں انسان کی ضرورت کے تحت آزادی ہے ـ
    آپ اس واقعہ کی تفسیر پڑھیں ـ وہاں اپنے والد اور قوم کی تربیت کر رہے ہیں ـ ـجیسا کہ اس واقعہ کے شروع میں اپنی قوم کے شرک کو گمراہی کہ دیا ـ انہیں ان کی ضرورت نہیں تھی ـ حکمت اور تربیت کا یہ طریقہ انہیں اللہ نے ہی سکھایا ـ وہ اللہ کی ذات میں ٖغور نہیں فرما رہے بلکہ اسکی پیدا کردہ مخلوق پر مثالیں دے کر پہچاننے کی کوشش کررہے ہیں ـ " اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں (75)"
     
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  14. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    یہی بات میں نے پہلے بھی کہی۔ ان کے لئے وہ اسباب موجود تھے جن کے ذریعے اللہ نے انہیں سکھایا، مگر وہ وحی نہیں تھی۔

    جائز ہے یا نہیں، مگر جب ملحدین سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ ایسے سوالات کرتے ہیں۔۔ اور ذھن بھی لاکھ سمجھانے کے باوجود ایسی باتیں سوچنے پر مجبور ہے۔۔۔
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہاں خدا کی ذات و صفات کے بارے میں بات ہو رہی تھی، اس میں وحی ہی مستند رہنما ہے۔ دنیاوی معاملات میں ہمیں شرعی دائرے میں رہ کر عقل اور تجربے کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن خدا کی ذات کو ہم نے نہیں دیکھا، اس پر ہم ایمان بالغیب رکھتے ہیں اس لیے وہاں عقلی یا وجدانی دلائل نہیں چل سکتے۔ وجدان ہمیں صرف خدا کے وجود کا مبہم شعور دیتا ہے۔ اس کی ذات و صفات کا تفصیلی علم ہمیں وحی دیتی ہے۔
    سوچنے اور کنفیوز ہونے میں فرق ہوتا ہے۔ مومن، ملحد کی شرائط پر کیوں سوچے؟ وہ یہ کیوں نہ کہے کہ میرے نزدیک مستند ذریعہ علم، تمہارے تسلیم شدہ ذریعہ علم سے مختلف ہے۔ جب ملحد ایک مختلف ذریعہ علم پر اصرار کرتا ہے تو ہم کیوں اپنے ذریعہ علم پر اصرار نہ کریں۔ اگر ہم وحی اور وجدان کو افلاطون یا ارسطو کی تعلیمات کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں گے تو کنفیوز ہی ہوں گے۔آپ جس سائنس کی بات کر رہے ہیں وجدان کو تو وہ بھی نہیں مانتی، ہماری ماڈرن سائنس تو امپیریسسٹ ہے۔
    ایک مومن کے لیے انسان خدا کی تخلیق ہے تو اس کے ذہن کی اڑان انڈکٹو سائنسز تک ہو یا ڈیڈکٹو تک، سب اللہ کا دیا ہوا علم ہیں۔ اسلام میں وحی عقل کے لیے رہنما ہے، اسلام عقلی صلاحیت کا انکار نہیں کرتا اسے وحی کے تابع کرتا ہے۔
    بقول اقبال:
    گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
    چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے​
     
  16. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    یہاں مسئلہ تسلیم شدہ ذریعہ علم نہیں، بلکہ اس علم کی تلاش ہے جسے تسلیم کیا جا سکے۔۔۔ ملحدین کے ایسے سوالات بعض اوقات علم کی تلاش میں بھی ہوتے ہیں۔۔۔ اور ظاہر جو نہ اسلام کو مانتا ہو اور نہ ان دیکھے خدا کو، اسے بھلا اپنے مستند ذریعہ علم کے ذریعے کیونکرتسلی ہوگی؟؟
     
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بھائی یہ کوئی نئی بحث نہیں، آپ epistemology اورislamic epistemology کا مطالعہ کریں ان شاءاللہ ان سوالات کے جوابات مل جائیں گے۔
    ملحدین کے سوالات کے جوابات قرآن میں موجود ہیں جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے عصر حاضر کے کئی ملحدین نے قرآن پڑھ کر ہی اسلام قبول کیا۔ یہاں نو مسلم شخصیات کے زمرے میں ان میں سے کچھ کا تعارف پیش کر چکی ہوں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہ لیجیے لارنس بی براؤن سابق ملحد اور نومسلم انہوں نے پیغام ٹی وی کے لیے پوری ایک سیریز ریکارڈ کروائی جس میں الحاد کے 10 بڑے سوالات کا جواب دیا۔
    http://en.islamway.net/scholar/1946/new
    http://en.islamway.net/lesson/133011/the-big-questions
    اور یہ امریکی نومسلم سابق ملحد ڈاکٹرجیفری لینگ یونیورسٹی پروفیسر، ماہر تعلیم جو اسلام لا کر تین کتابیں اسی موضوع پر لکھ چکے ہیں۔
     
    • مفید مفید x 1
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    میرا کسی کافر ملحد سے واسطہ نہیں پڑا کبھی۔ البتہ مسلمان ملتے رہتے ہیں۔ آپ اس حوالے سے علماء کو سنیں اور انہی کے کلام میں معروف جوابات سے رد کرنے کی کوشش کیا کریں۔ عربی جاننے والوں کے لیے تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہی کافی ہیں۔۔ اردو میں اس موضوع پر میرے علم میں کسی اہل علم کا کام نہیں۔ احمد دیدات وغیرہ ایک اہم نام ہے۔
     
  20. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    میرا تو پڑتا رہا ہے۔۔ بسمیں اب خود ان فورمز پر نہیں جاتا۔۔۔۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں