بیس تراویح بدعت ہے تو حرم میں مصلحت کے تحت کیوں پڑھائی جاتی ہے ؟

ابوعکاشہ نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جون 23, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    ہمم، پانچ سال بعد آپ اس جنگ کو جنگ نہیں کہیں گے ان شاء اللہ ، میری پوسٹ کا سکرین شاٹ لے کر محفوظ کر لیں ، یاددہانی کے لئے : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
  3. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    چلیں جی ٹھیک ہے لے لیا اسکرین شاٹ۔
    ابتسامہ ویسے اتنا مجھے معلوم ہوگیا ہے جس تناظر میں آپنے بات کی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    : ) شکریہ، جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,719
    السلام علیکم
    خلاف سنت اور بدعت میں فرق کیا ہے۔ اگر کوئی چیز سنت کے خلاف ہے تو کیا وہ بدعت نہیں ہوتی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    وعلیکم السلام ـ اس کا جواب آپ علماء سے لیں ـ میرا سوال تھا کہ کیا بیس رکعت کو کسی نے بدعت کہا ہے تو جواب آیا کسی نے نہیں ، سوائے شیخ البانی رحمہ اللہ نے خلاف سنت کہا ہے ـ وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ اگر کوئی بیس رکعت کو ہی سنت سمجھےـ اگرسنت نا سمجھے تو خلاف سنت نہیں ـ بلکہ نفلی عبادت ہے ـ بیس ، تیس جتنی بھی بندہ پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    خلاف سنت اور بدعت میں بڑا فرق ہوتاہے، خلاف سنت امور قابل مواخذہ نہیں ہیں جبکہ بدعت ایک قبیح گناہ ہے۔
    مثال کے طور پر ظہر سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے 4 رکعت ادا کرنا مسنون (مؤکدہ)ہیں اگر کوئی 4 کی جگہ 6 پڑھ لیتا ہے تو ہم اس کو خلاف سنت کہہ سکتے ہیں بدعت نہیں، یادرکھیں بدعت وہ عبادت ہے جس کا دین میں وجود نہ ہو اور صاحب العمل اس کو سنت کا درجہ دے کر ثواب کا تعین بھی کر دے، جیسے کہ ہمارے ہاں رائج ہے،لہذا جب ہم ایسے کام کو سنت کہہ کر ثواب کا تعین کریں گے تو گویا ہم نے دین میں ایجاد کی ہے۔
    واللہ اعلم بالصواب۔ بہتر یہ ہے کہ آپ زمرہ سوال و جواب کا انتخاب کریں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو سکے اور ہمیں اپنی اصلاح کا موقعہ مل سکے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  8. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,719
    جی بھائی میرے لیے آپ لوگ ہی اہل علم ہیں اسی لیے پوچھا معاف کیجیے تھریڈ کا مطالعہ کرتے ہوئے یاد نہیں رہا اس طرح کہ سوالات دوسرے سیکشن میں پوچھے جاتے ہیں
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,719
    شکریہ نصراللہ بھائی اچھی طرح سمجھ آگیا جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. أبو عبدالله بلال سلفي

    أبو عبدالله بلال سلفي رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 4, 2015
    پیغامات:
    30
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته عکاشہ بھائی علماء کرام سے یہ مسئلہ متعدد بار دریافت ہوچکا ہے ماسوائے شیخ البانی رحمہ اللہ تعالٰی کے کسی بھی اہلحدیث عالم نے بیس رکعت تراویح کو بدعت میں شمار نہیں کیا۔ بیس رکعت تراویح بدعت میں شمار کرنا حد درجہ مبالغہ آرائی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالٰی نے تعداد تراویح کے متعلق اہل علم کا اختلاف نقل کیا ہے۔ یہ کہنا کہ بیس تراویح پر اجماع ہوچکا ہے بالکل باطل قول ہے امام ترمذی رحمہ اللہ تعالٰی نے کبار آئمہ محدثین کے اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے اہل مکہ کے نزدیک بیس رکعت اور اہل مدینہ کے نزدیک بمع وتر اکتالیس رکعت ہیں۔ والله اعلم بالتوفيق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. أبو عبدالله بلال سلفي

    أبو عبدالله بلال سلفي رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 4, 2015
    پیغامات:
    30
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہاں بدعت کہاہے ؟ حوالہ درکار ہے ۔ ایک قول ان کا اسی تھریڈ میں گزر چکا جس میں خلاف سنت کہا ہے ۔ بدعت نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. أبو عبدالله بلال سلفي

    أبو عبدالله بلال سلفي رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 4, 2015
    پیغامات:
    30
    جناب ہم یہاں برطانیہ میں مقیم ہیں اور میرا واسطہ یہاں بعض سلفی پبلشرز سے پڑتا ہے جو بیس رکعت تراویح کو بدعت میں شمار کرتے ہیں شیخ البانی رحمہ اللہ کے حوالے سے سلفی پبلشر کو غالباً آپ جانتے ہونگے ابو خدیجہ برمنگھم جن کا شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ تعالٰی نے رد کیا ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جن کے نزدیک سوائے سعودی عرب کے کہیں بھی علماء موجود نہیں خیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    بڑی عجیب بات ہے ۔ سلفی پبلشرز والے بدعت کہتے ہیں ۔ ان کا دماغ ویسے ہی کم " کام" کرتا ہے ۔ خیر، آپ شیخ البانی کا بدعت والا قو ل تو نقل کردیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    93
    امام مالک رح نے کہا تھا کہ اگر اہل مدینہ کسی بات پر متفق ہوجائیں تو انکا اتفاق تمہارے لئے دلیل نہیں ہے ،تمہارے لئے دلیل صرف کتاب و سنت ہے۔ اللہ تعالی قیامت میں یہ نہیں پوچھے گا کہ حرمین شریفین کے مطابق عمل کیوں نہیں کیالیکن یہ ضرور پوچھے گا کہ میرے نبی کی بات کیوں نہیں مانی ۔دوسری بات حرمین شریفین میں بلند آواز سے آمین بھی بولی جاتی ہے اورنمازمیں رفع یدین بھی کیا جاتا ہے اسکو کیوں نہیں حجت بناتے ۔بئس ما یحکمون۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    93
    تراویح کے موضوع پرشیخ البانی رح کی کتاب سب سے بہترین ہے اس کو غور سے پڑہنا چاہئے ۔انہوں نے صحیح حدیث کی دفاع میں اس کتاب کو لکھا ہے ۔قاعدہ یہ ہے کہ جب صحیح حدیث مل جاے تو اس پر عمل ضروری ہوجاتا ہے صحیح حدیث ہوتے ہوے علماءکے اختلاف کیطرف جانا اورصحیح حدیث کو چھوڑ کرعلماء کے اقوال پر عمل کرنا یہ گمراہی کی علامت ہے ۔یہودیوں کی حالت یہی تھی کہ علم ہونے کے بعد وہ اختلاف کرتے تھے صحیح کوچھوڑکرعلماءکے اقوال کیطرف جاتے تھے اسی لئے ان پر سخت وعیدیں قرآن میں وارد ہوئی ہیں ۔آج جو لوگ صحیح حدیث کو چھوڑ کرعلماء کے آراء و اقوال کی طرف جاتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ کہیں وہ بھی انہیں کے زمرے میں نہ آجایئں۔اللہ مسلمانوں کو صحیح فہم عطا کرے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. قیصر سجاد

    قیصر سجاد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 8, 2015
    پیغامات:
    32
    ترمذی شریف میں بابُ مَاجَاءَ فِي قِیَامِ شَھْرِ رَمضان کے تحت امام ترمذی رحمۃ اﷲ نے قیام رمضان یعنی تراویح کے باب میں احادیث پیش کرتے ہوئے فرمایا – واختلف اھل العلم فی قیام رمضان فرأی بعضھم ان یصلی احدی واربعین رکعة مع الوتر وھو قول اھل المدینة والعمل علی ھٰذا عندھم بالمدینة وَأ کْثرُ أھلِ العِلْمِ عَلٰی مَا رُوِيَ عَن عَلِّيٍ وَ عُمَرَ وَغَیْرِھِمَا مِنْ أصحابِ النبيِّ ﷺ عِشْرِینَ رَکْعَۃً وَ ھُوَ قَولُ الثَّوريِّ وَ ابْنِ المبارَکِ و الشَّافَعيِّ وقالَ الشافِعيُّ وَ ھَکذا أدْرکْتُ بِبَلَدِنَا مَکَّۃَ یُصَلُّونَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً (ترمذی جلد ص104) تراویح میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، بعض وتر سمیت اکتالیس رکعت کے قائل ہیں، اہلِ مدینہ کا یہی قول ہے اور ان کے یہاں مدینہ طیبہ میں اسی پر عمل ہے، اور اکثر اہلِ علم بیس رکعت کے قائل ہیں، جو حضرت علی، حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ کا یہی قول ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعات ہی پڑھتے پایا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. قیصر سجاد

    قیصر سجاد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 8, 2015
    پیغامات:
    32
    علامہ ابن تیمیہ کا فتویٰ
    علامہ ابن تیمیہ رقمطراز ہیں قَدْ ثَبَتَ أنَّ اُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ رضی اللہ عنہ کانَ یَقُوْمُ بِالنَّاسِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً فِي قِیَامِ رَمَضانَ یُوتِرُ بِثَلاثٍ فَرَأی کَثِیْرٌ مِنْ العُلَمَاءِ أنَّ ذَلِکَ ھُوَ السُنَّۃُِ لأنَّہُأقَامَہُ بَیْنَ المُھَاجِرِیْنَ وَالأنْصَارِ وَلَمْ یُنْکِرْہُ مُنْکِرٌ علامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ (صحابی)لوگوں کو قیام رمضان ( نماز تراویح )کے بیس (20) رکعات پڑھاتے اور وتر تین رکعات پڑھاتے تھے ، کثرت سے علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ بیس رکعات ہی سنت ہیں کیوں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کرام اور انصار صحابہ کے درمیان بیس (20) رکعات تراویح پڑھائی اور ان میں سے کسی نے بھی اسکا انکار نہیں کیا ۔(فتاوی ابن تیمیہ ص 112 ج 23)
     
  19. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    93
    قیصر صاحب امام مالک رح کا قول ہے کہ کسی شخص کے قول کولیابھی جا سکتا ہے اور رد بھی کیا جا سکتا ہے سواے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو لینا ہی لینا ہے ۔جب صحیح حدیث 8 رکعت تراویح کی موجود ہے تو اسے کس وجہ سے چھڑا جارہاہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ ابن تیمیہ زبردست مجتہد تھے لیکن انسے بھی غلطی کا امکان ہے ۔ یہ کہیں نہیں ہے کہ ابی بن کعب رض لوگوں کو 20 رکعت پڑھاتے تھے بلکہ صحیح روایت یہ ہے کہ عمر رض نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ لوگوں کو 11رکعت پڑہایئں (موطا امام مالک حدیث نمبر 280 ط موسسۃ الرسالہ )اسی کے نیچے حدیث 281نمبر کی ہے جس میں ہے کہ (کان الناس یقومون فی زمن عمربن خطاب بثلاثۃ و عشرین رکعۃ فی رمضان) لوگ عمر کے زمانہ میں 23 رکعت پڑھتے تھے کون لوگ تھے اس کا کوئی ذکر نہیں ۔کس نے حکم دیا اس کا بھی ذکر نہیں سارا معاملہ اس میں مجہول ہے اور یہ روایت محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے ۔جبکہ پہلی روایت میں صراحت ہے کہ عمر رض نے دونوں کو حکم دیا تھا ۔۔ لہذا دونوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے اور کسی شخص کے قول کی بنیاد پرحدیث رسول کو چھوڑنے کی جسارت نہ کریں بلکہ حدیث پر عمل کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرسچے ایمان کا ثبوت دیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  20. قیصر سجاد

    قیصر سجاد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 8, 2015
    پیغامات:
    32
    جزاک اللہ احسن جزا ۔ یقینا سنت سے 11 رکعت ہی ثابت ہیں۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں