انگلیاں چٹخانے سے آواز کیوں پیدا ہوتی ہے، مسئلہ حل کے قریب

بابر تنویر نے 'صحت و طب' میں ‏جون 24, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    شا جی تسی وی سائنسدان بن گۓ او۔ اللہ خیر کرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  2. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,101
    تے ہور کی بابر بھائی میں کوئی پاگل تھا کہ سارا دن یہ پلاسٹک ببلز چٹخاتا رہا ہوں :ڈ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    نہیں شاہ جی اب یقین ہو گیا ہے
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  4. أبو عبدالله بلال سلفي

    أبو عبدالله بلال سلفي رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 4, 2015
    پیغامات:
    29
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    آج پڑھتے ہوئے بابر بھائی آپکا یہ تھریڈ سامنے آیا اور تھریڈ سے زیادہ جوابات دلچسپ ہیں
     
    • متفق متفق x 1
  6. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,775
    2015 کے بعد اب 2018

    انگلیاں چٹخانے پر آواز کیوں آتی ہے؟

    ہیلن برگز

    سائنسدان اب ایک سب سے زیادہ باعثِ کوفت انسانی عادت کی تحقیق کرنے کا سوچ رہے ہیں جو وہ آواز ہے جو انگلیوں کو چٹخنے سے پیدا ہوتی ہے۔


    امریکہ اور فرانس کے محققین کا کہنا ہے کہ اس عادت کو ریاضی کے تین تسویوں کے ذریعے بیان کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے اس حوالے سے جو ماڈل بنایا ہے اس سے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے کہ چٹخنے کی آواز جوڑوں میں دباؤ کے منتقل ہونے سے گودے میں چھوٹے ببلز (بلبلے) پھٹنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ معاملے پر شاید ایک صدی سے بحث ہو رہی ہے۔

    اس پر تحقیق کرنے کا خیال اس وقت آیا جب فرانس میں سائنس کے طالب علم ونیتھ چندرن سوجا کلاس میں بیٹھے اپنی انگلیوں کو چٹخ رہے تھے۔
    انھوں نے اپنے لیکچرر ایکول پولیٹیکنیک کے ڈاکٹر عبد البراکات کے ساتھ ایک سلسلہ وار ایکویژن بنائی تاکہ ہاتھوں کی ہڈیوں اور انگلیوں کے درمیان جوڑوں کو موڑنے سے پیدا ہونے والی آواز کو بیان کیا جا سکے۔


    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ

    پہلی ایکویژن سے ہمارے جوڑوں کے اندر مختلف دباؤ کے بارے میں معلوم ہوتا ہے جب ہمیں اپنی انگلیوں کو چٹختے ہیں۔‘


    دوسری ایکویژن ایک مقبول ایکویژن ہے جو اس الگ الگ دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بلبلوں کے مخلتف حُجم کے بارے میں بتاتی ہے۔‘

    ان کے مطابق : ’تیسری ایکویژن جو ہم نے لکھی وہ یہ تھی کہ آواز پیدا کرنے والے ببلز کے مقابلے میں دوسرے ببلز کو جمع کرنا۔‘

    ونیتھ چندرن سوجا نے مزید بتایا کہ
    ’جب ہم اپنی انگلیاں چٹخاتے ہیں تو حقیقت میں ہم اپنے جوڑوں کو موڑ رہے ہوتے ہیں، اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو دباؤ نیچے کی جانب جاتا ہے۔ جوڑوں میں موجود گودے میں بُلبلے بنتے ہیں۔‘


    ’اس سارے عمل کے دوران جوڑوں کے اندر دباؤ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے جس کی وجہ سے ببلز کے حجم میں تیزی سے تبدیلی آتی ہے اور اس طرح وہ آواز پیدا ہوتی ہے جسے ہم انگلیاں چٹخنے سے جوڑتے ہیں۔‘

    متضاد نظریے

    یہ ماڈل دو متضاد نظریوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ انگلیوں کو چٹخنے آواز بلبلوں کے پھٹنے سے پیدا ہوتی ہے یہ خیال سب سے پہلے 1971 میں پیش کیا گیا تھا۔


    چالیس سال بعد اس خیال کو اس وقت چیلنج کیا گیا جب ایک نئے تجرنے سے معلوم ہوا کہ انگلیوں کو چٹخنے کے بعد بھی گودے میں ببلز موجود رہتے ہیں۔

    ایسا لگتا ہے کہ نئے ریاضی ماڈل نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے کیونکہ اس کے مطابق جوڑوں سے آواز کے لیے کچھ ببلز کا پھٹنا ہی کافی ہے، جبکہ انگلیوں کے چٹخنے کے بعد بھی چھوٹے چھوٹے ببلز جوڑوں کے گودے میں باقی رہتے ہیں۔

    یہ تحقیق جو سائنٹیفک رپپرٹس نامی جریدے میں شائع ہوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ ببلز کے پھٹنے سے جو دباؤ پیدا ہوتا ہے اس سے صوتی لہریں پیدا ہوتی ہیں جن کی ریاضی کی مدد سے پیشن گوئی کی جا سکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا تین رضاکاروں پر تجربہ بھی کیا گیا۔

    اس کے علاوہ اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آخر کیوں بعض لوگ اپنی انگلیوں کو چٹخ نہیں سکتے۔ اگر آپ کے جوڑوں کے اندر ہڈیوں میں خلا ہے تو یہ دباؤ اس درجے پر نہیں جا پاتا جہاں سے آواز پیدا ہوتی ہے۔

    شکریہ بی بی سی نیوز
    30 مار چ 2018

     
    • دلچسپ دلچسپ x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں