اقبال اقبال اور فلسفہ وحدت الوجود

عائشہ نے 'مجلسِ اقبال' میں ‏جولائی 9, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    کچھ عرصہ قبل بعض ارکان کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اقبال وحدۃ الوجود کے قائل تھے یا نہیں۔ زیر نظر تحریر سید نذیر نیازی کی مرتب کردہ "دانائے راز" سے مقتبس ہے۔

    ۔۔۔۔ "وطنیت کی طرح ایک اور غلط فہمی جو دور اول کی بعض نظموں یا آگے چل کر بعض تحریروں کی بنا پر پیدا ہوئی یا پیدا کر دی گئی، یہ تھی اور شاید اب تک ہے کہ محمد اقبال ایک زمانے میں ہندی قومیت کی طرح وجود ی تصوف کے گرداب میں پھنس گئے تھے ۔ حالانکہ ان کی تعلیم و تربیت جس گھر اور جس استاد کی نظر کیمیا اثر سے ہوئی اس کا لحاظ رکھ لیا جاتا تو ایسی کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن محمد اقبال کے خیالات اور تصورات کا سطحی اور ادھورا مطالعہ، حالات زندگی سے نا واقفیت، سنی سنائی روایات، حتیٰ کہ ذاتی تعصبات نے ایسی ایک نہیں کئی غلط فہمیوں کو ہوا دی۔ مثلاً یہی کہ شروع میں وہ وطنیت کے قائل تھے۔ یورپ سے واپس آئے تو اسلامیت کا رُخ کیا۔ ایک اسلامی ریاست کا تصور ذہن میں اُبھرا تو پھر وطنیت کی طرف لوٹ گئے۔ ابتداء میں وجودی تھے آگے چل کر وحدۃ الوجود کے خلاف آواز اٹھائی، یا یہ کہ ابتداء میں تو وجود ی نہیں تھے۔ آخر میں وجودی ہو گئے۔
    وحدۃ الوجود ایک فلسفیانہ مسئلہ ہے۔ کوئی دینی عقیدہ نہیں کہ اس سے اتفاق یا اختلاف میں اسلام کا زیر بحث آنا لازم ٹھہرے یایہ کہا جائے کہ وحدۃ الوجود کے علاوہ توحید کی کوئی دوسری تعبیر ممکن نہیں۔ وحدۃ الوجود ایک نظریہ ہے حقیقت مطلقہ کے بارے میں جس کی ابتداء اسلام سے بہت پہلے ہو چکی تھی اور جس کا عمل دخل تصوف میں اس بحث سے ہوا کہ اگر وجود صرف ذات باری تعالیٰ کا ہے تو عالم موجودات کی حیثیت بمقابلہ اس کے کیا رہ جاتی ہے۔ یہ زمین آسمان ، یہ انسان اور کائناب ، اس کا ہر ذرہ اور ہرشے جس کی موجودگی کا ہمیں تجربۃً شعور ہوتا ہے، کیا ہیں؟ کیا ان کا بھی کوئی وجود ہے یا نہیں؟ اگر یہ کہیں نہیں تو کیسے ؟ ہیں تو کن معنوں میں؟ فلسفہ کی زبان میں یہ مسئلہ وجود یات کا ہے جس میں ایک نہیں کئی نظریے قائم ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ ماہیت وجود کیا ہے؟ وجود ایک ہے یا متعدد ؟ شیخ اکبر نے اس سوال کا جواب وحدۃ الوجود کی رعایت سے دیا۔ وہ ایک عظیم فلسفیانہ دل و دماغ لے کر آئے تھے۔ انھوں نے قرآن مجید کی تفسیر بھی اسی نقطۂ نظر سے کی۔ اب اگرچہ ہر شخص کو حق پہنچتا ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ہو اس میں قرآن مجید سے رجوع کرے جیسا کہ شیخ اکبر نے کیا۔ محمد اقبال نے بھی ایسا ہی کیا قرآن مجید میں ان کے مطالعے کی ابتدائبچپن ہی میں ہو گئی تھی ۔ جیسے جیسے حصول علم میں آگے بڑھے، اس میں وسعت اور گہرائی پیدا ہوتی گئی۔ قرآن مجید میں ان کے تدبر اور تفکر کا سلسلہ تادم آخری جاری رہا۔ آخری علالت میں بھی جب ان کے لیے اٹھنا بیٹھنا حتیٰ کہ بات کرنا مشکل ہو گیا تھا، قرآن مجید میں غور وفکر سے ایک لحظہ بھی غافل نہیں ہوئے ۔ ان کا کب سے خیال تھا قرآن مجید کے ’’نوٹ ‘‘لکھیں۔۲۸۳؎ فرماتے کوئی مسئلہ ہو، کیسی بھی مشکل پیش آئے۔ قرآن مجید سے رجوع کرتا ہوں تو مجھے اس کا حل مل جاتا ہے۔ وحدۃ الوجود کے باب میں بھی ان کے لیے فیصلہ کن حیثیت قرآن مجید کی تھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس مسئلے کا فلسفیانہ پہلو سامنے آیا تو اس میں انھوں نے جو کچھ کہا فلسفہ کے اُصول و قواعد اور حدود و قیود کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہوئے کہا۔ رہا تصوف سو تصوف سے بھی انھیں بچپن ہی میں لگائوپیدا ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ تھی گھر کا ماحول، کچھ خاندانی روایات، کچھ سیالکوٹ کی روحانی فضا، کچھ میر حسن کا حلقۂ درس جس میں ہر طرح کے مسائل زیر بحث آتے۔ ہر عقیدے اور خیال کے لوگ مذہب کی طرح فلسفہ اور تصوف پر بھی گفتگو کرتے۔ بچپن ہی میں انھوں نے مولانا روم اور شیخ اکبر کے نام سُن رکھے تھے ۔ بزرگوں کو دیکھتے مثنوی معنوی ، فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ ان کی سمجھ میں اگرچہ کچھ نہیں آتا لیکن ان گفتگوئوں کے اثرات ان کے ذہن پر مرتسم ہوتے چلے گئے گوغیر شعوری طور پر ۔ نو عمری ہی میں ان کے والد ماجد انھیں اعوان شریف لے گئے۔ وہ قاضی صاحب سلطان محمود علیہ الرحمۃ سے بیعت تھے یا نہیں۔ محمد اقبال نے بیعت کی یا نہیں قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں کہا جا سکتا ہے تو یہ کہ اعوان شریف کا سفر اس لیے نہیں کیا گیا تھا کہ شریعت اور طریقت کا کوئی مسئلہ در پیش تھا۔ کوئی ذہنی الجھن تھی جسے دور کرنا مقصود تھا۔ اس سفر کی غرض و غایت سر تا سر تعلیمی تھی تا کہ بیٹا دیکھ لے توحید و رسالت میں ایمان اور احکام شریعت کی پابندی سے حضرات صوفیاسیر ت و کردار کی پرورش میں کیا طریق اختیار کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا عملی نمونہ اس کے سامنے ہو۔ قاضی صاحب علیہ الرحمۃ کا تعلق سلسلہ قادریہ سے تھا۔ سلسلہ قادریہ کا مزاج فلسفیانہ نہیں ہے۔ اس کی نظر نفس انسانی پر ہے تا کہ اس کی آلائشیں دور ہو جائیں۔ تزکیہ باطن سے اخلاص فی العمل کی دولت ہاتھ آئے۔ سلسلہ ریشان پر بھی جس سے محمد اقبال کے بزرگوں کو ایک نسبت روحانی تھی اگرچہ زہد و تقشف کا غلبہ تھا۔ لیکن زہد و تقشف ہو، یا تزکیہ باطن، اس سے وحدۃ الوجود کی تائید کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ نہ کشف و الہام سے اسے کوئی نسبت ہے۔ لہٰذا سلسلہ قادریہ کا خیال کیجیییا سلسلہ ریشان، یا کشف و الہام کی ان روایات کا جو بچپن میں محمد اقبال نے سُنیں بلکہ اپنے والد ماجد کے معاملے میں ان کا کچھ مشاہدہ بھی کیا ان سب باتوں سے کچھ حاصل ہوتا ہے تو یہ کہ ان کے والد ماجد کو تصوف کے رسمی پہلو سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ نہ عقیدہ وحدۃ الوجود پر اصرار البتہ وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ تصوف میں وحدۃ الوجود بھی ایک نظریہ ہے۔۲۸۴؎ انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ تصوف کے ہر سلسلے کا اپنا ایک مسلک ہے۔ لیکن ارباب تصوف ایک دوسرے کے مسلک یا خیالات سے تعرض نہیں کرتے۔ اختلافی مسائل میں غیر جانب دار رہتے ہیں۔ عقلی بحثوں میں نہیں الجھتے ۔ چنانچہ یہی روش تھی جس پر وہ خود بھی کار بند رہے۔ الا یہ کہ مسلک تصوف میں کسی خاص طرز خیال، یا طرز عمل سے احتمال ہوتا کہ اس سے کوئی غلط نتیجہ مترتب نہ ہو جائے تو اسے روک دیتے۔’’ہم لکھنؤ میں تھے۔محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہو رہا تھا۔ ایک رو ز فرصت تھی۔ طے پایا دیوا شریف چلیں۔ اسٹیشن پہنچے۔ گاڑی کے آنے میں دیر تھی۔ وٹینگ روم میں جا بیٹھے۔ باتیں ہو رہی تھیں کہ کانفرنس کا ملازم ایک تار لے کر آیا۔ میرا پوچھا۔ تار میرے حوالے کر دیا۔ میں پریشان تھا تا ر کیوں آیا ہے۔ کھول کر دیکھا تو والدماجد نے لکھا تھا دیو امت جائو۔۲۸۵؎ میںنے دیو ا جانے سے انکارکر دیا ہر چند کہ احباب مصر تھے‘‘۔۲۸۶؎ اب مجھے یہ تو معلوم نہیں اور نہ میں نے دریافت کیا کہ ان کے والد ماجد کیا جانتے تھے وہ دیوا جا رہے ہیںیا لکھنؤ کے خیال سے انھیں یہ خیال گزرا کہ ممکن ہے و ہ دیوا جائیں۔ سوال یہ ہے کہ انھوں نے انھیں دیوا جانے سے کیوں روک دیا۔ اس سوال کا جواب مشکل نہیں ۔ جن حضرات کو حاجی وارث علی شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کے تصرفات اور سلسلہ وارثیہ سے تھوڑی بہت واقفیت ہے بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ا ن کا دیوانہ جانا ہی مناسب تھا۔ نہیں معلوم دیوا پہنچ کر ان کی حساس طبیعت کیا اثر قبول کرتی۔ وہ اس پر قابو پا سکتے یا نہیں۔ کوئی ایسی تبدیلی پیدا ہو جاتی جس سے ان کے دل و دماغ کی قابلیتیں بروئے کار نہ آتیں۔ یہ واقعہ یورپ سے واپسی کے بعد کاہے۔ لیکن قطع نظر اس سے کہ کب اور کن حالات میں پیش آیا سوچنے کی بات یہ ہے کہ باوجود تصوف سے لگائو کے ان کے والد ماجد کس قدر محتاط تھے۔ پھر جس طرح ان کے والد ماجد نہیں چاہتے تھے کہ ایسا نہ ہو بیٹا تصوف کے معاملے میں جادۂ اعتدال سے ہٹ جائے، بعینہ میر حسن نے بھی ان کے دل و دماغ کی تربیت اس طرح کی کہ تصوف کے بارے میں افراط و تفریط سے محفوظ رہیں۔ میر حسن تصوف کے رمز شناس سطح بیں نگاہوں میں وہابی۔ بلکہ ’نیچری‘ مگر ان کی زندگی میں کشف بھی تھا اور وہ اخلاص فی العمل کا نمونہ بھی تھے کہ یہی تصوف کا مقصود ہے۔ محمد اقبال ان کے شاگرد رشید ہی نہیں تھے بقول جمشید علی راٹھور نفس ناطقہ تھے۔ انھیں کیسے معلوم نہ ہوتا تصوف کیا ہے، اس کے مسائل کیا ہیں، اشغال و اعمال کیا۔ تصوف کس طرح شعر و شاعری میں، فلسفہ و حکمت حتیٰ کہ سیاسی اجتماعی زندگی میں نفوذ کر گیا ہے۔ خوب جانتے تھے ظہور اسلام سے پہلے تصوف کا گزر کن کن مرحلوں سے ہوا۔ ظہور اسلام کے بعد اس نے کیا کیا شکلیں اختیار کیں۔ عقیدہ ٔ وحدۃ الوجود کا مثبت اور منفی دونوں پہلو ان کے سامنے تھے۔ لیکن یہ بات کہ ایک زمانے میں ان کا مسلک وہی تھا جو وجودی صوفیا کا، غلط ہے۔ تکمیل تعلیم سے بہت پہلے وحدۃ الوجود کی بحث پورے طور پر ان کے ذہن میں تھی۔ لیکن بطور ایک نظریے کے۔ اس زمانے میں انھوں نے اس کی موافقت یا مخالفت میں کوئی رائے قائم نہیں کی۔ وہ سمجھتے تھے یہ بھی تصوف کا ایک نظریہ ہے بمقابلہ دوسرے نظریوں کے جو ذات باری اور بمقابلہ اس کے عالم موجودات کے بارے میں اختیار کیا گیا اور کیا جا سکتا ہے ۔ یا یوں کہیے کہ فلسفیانہ نقطہ نظر سے توحید کی یہ بھی ایک تعبیر ہے جو صوفیا اسلام کے ایک گروہ نے شیخ اکبر کی پیروی میں کی۔ ان کی روش اس باب میں غیر جانب داری کی تھی۔ جیسے فلسفے کے مطالعے میں کئی نظریے ان کے ذہن میں تھے جن کو درست بھی ٹھہرایا جا سکتا تھا اور غلط بھی۔ ان کے والد ماجد کو ابن عربی کی ذات سے بڑی عقیدت تھی جو بعض صورتوں میں غلو کا رنگ اختیار کر لیتی۔ فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم کے بار ے میں لکھتے ہیں : ’’برسوں تک ان کتابوں کا درس ہمارے گھر میں رہا گو بچپن میں مجھے ان مسائل کی سمجھ نہیں تھی… جب میں نے عربی سیکھی تو کچھ کچھ خود بھی پڑھنے لگا۔ جوں جوں علم اور بڑھتا گیا میرا شوق اور واقفیت زیادہ ہوتی گئی‘‘۔۲۸۷؎ وہ عربی کی تحصیل بھی میر حسن کے درس میں کر رہے تھے۔
    پھر جب اسرار خودی کی بحث نے شدت اختیار کر لی تو انھوں نے لکھا’’اس کا اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں کہ میں ایک عرصے تک ایسے عقائد و مسائل کا قائل رہا جو بعض صوفیا کے ساتھ خاص ہیں اور جو بعد میں قرآن مجید میں تدبر کرنے سے قطعاً غیر اسلامی ثابت ہوئے‘‘۔ قائل ہونے کا مطلب یہ نہیںکہ ان کا مسلک وحدۃ الوجودی تھا۔ ان کا اشارہ بعض عقائد اور مسائل کی طرف ہے ۔ غالباً وہی عقائد اور مسائل جو بیشتر فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم میں بیان ہوئے اور جن کی تان بالآخر وحدۃ الوجود پر ٹوٹتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے انھیں ٹھیک ماننے میںشاید کوئی مضائقہ نہیں۔ مذہب ، فلسفہ اور تصوف میں ان کا مطالعہ ابھی بہ نظر تحقیق جاری تھا ۔ ہنوز وقت نہیں آیا تھا کہ فلسفہ ہو یا مذہب ، تصوف یا کوئی اور موضوع اس میں ایک آخری رائے قائم کریں۔ یوں بھی کسی بحث کو جب ہی چھیڑا جاتاہے جب اس کا چھیڑنا ضروری ہو جائے۔ جیسا کہ اسرار خودی کی اشاعت پر ہو گیا اور جب اس کا پورے طور پر احاطہ کر لیا گیا۔ ان کے ذہن کا ابتداء ہی سے ایک رُخ تھا۔ اس کی پرورش بھی اس نہج پر ہوئی تھی کہ جیسے جیسے عمر میں، مطالعے میں، غور و فکر میں، تجربات اور مشاہدات میں آگے بڑھیں باعتبار اس کے ان کے خیالات منضبط ہوتے جائیں۔ پھر چونکہ ذہن اسلامی تھا۔ اس ذہن ہی کی رعایت سے انھوں نے ہر خیال اور ہر عقیدے پر نظر رکھی۔ کسی خیال یا عقیدے کو صحیح سمجھا تو عارضی طور پر ۔ ان کے غور و تفکر کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔ انھوں نے ان مسائل اور ان عقائد سے تعرض نہیں کیا جن کے بارے میں وہ ایک زمانے تک یہ سمجھتے رہے کہ اپنی جگہ پر ٹھیک ہوں گے۔ ان میں ایک عقیدہ وحدۃ الوجود بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرار خودی کے نزاع سے پہلے انھوں نے تصوف پر قلم نہیں اٹھایا۔ لیکن جب تصوف کی بحث چھڑ گئی تو پھر انھوں نے جو لکھا اس سے تو کسی طرح یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک مسلک کو چھوڑ کر دوسرا مسلک اختیار کر رہے تھے۔
    برعکس اس کے انھوں نے تصوف پر قلم اٹھایا تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ تصوف کے فلسفیانہ پہلو سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں۔ دلچسپی ہے تو ان مشاہدات اور تجربات سے جن کی نوعیت روحانی ہے اور جن کا ایک پہلو اگر مشاہدہ حق ہے تو دوسرا اخلاص فی العمل۔ فوق کو لکھتے ہیں: ’’اہل اللہ کے حالات نے مجھ پر بڑا اثر کیا …بعض بعض باتوں نے تو مجھے اتنا رلا دیا کہ میں بے خود ہو گیا‘‘۔۲۸۸؎ لیکن تصوف اور حضرات صوفیا سے اس قدر لگائوکے باوجود وہ خوب سمجھتے تھے کہ تصوف کا تعلق دل سے ہے دماغ سے نہیں۔ وہ عبارت ہے ایک تجربے میں گزرنے سے جیسا کہ راقم الحروف کے نام ایک خط میں لکھا: ’’تصوف کرنے کی چیز ہے، پڑھنے کی نہیں‘‘۔۲۸۹؎ یہی وجہ ہے کہ جب ہم ان مضامین کو دیکھتے ہیں جو انھوں نے ۱۹۰۵ء سے پہلے لکھے ۔ ان کی شاعری پر نظر رکھیے۔ علمی اور ملی مشاغل کا خیال کرتے ہیں تو لا محالہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان کا ذہن وجودی نہیں تھا۔ ان کے خیالات اور تصورات میں کہیں وحدۃ الوجود کی جھلک دکھائی دیتی ہے نہ جذبات اور احساسات میں۔ ہاں انسان اور کائنات پر نظر ہے۔ ’زندگی‘ ہے اس کے حقائق اور مسائل ملک اور قوم کے ساتھ ساتھ اسلام کے لیے دل سوزی۔ انھیں علم و حکمت سے شغف ہے۔ حقیقت کی طلب میں ذوق استفسار ہے۔ درد استفہام ہے۔ تلاش متصل، عقدۂ اضداد کی کاوش۔ وجودی ذہن کے لیے تو کائنات کوئی معمہ ہے نہ زندگی کوئی مسئلہ۔ اسے علم و حکمت کے الجھیڑوں سے کیا کام۔ کائنات اور جو کچھ ہے ایک وجود واحد کے تعینات۔ سب ہمارے خیالات کی بہتی ہوئی رو میں جلوہ ہائے یا برکاب ۔ لیکن محمد اقبال کے کلام کا تو یہ رنگ نہیں۔ انھیں جامی سے عشق ہے۔۲۹۰؎ اس لیے نہیں کہ جامی نے شاعری میں وحدۃ الوجود کی ترجمانی کی۔ بلکہ اس لیے کہ جامی عاشق رسول ہیں وہ جامی کی نعتوں کو سنتے تو بے قابو ہو جاتے ۔ انھیں حافظ کے سحر کا اعتراف ہے۔ عطیہ بیگم سے کہتے ہیں: ’’حافظ کی کیفیت مجھ پر طاری ہوتی ہے تو اس کی روح مجھ میں حلول کر جاتی ہے۔ میں خود حافظ بن جاتا ہوں‘‘۔۲۹۱؎ بایں ہمہ انھوں نے جامی کے رنگ میں کچھ کہا نہ حافظ کے رنگ میں۔ وحدت مطلقہ کا تصور جیسا کہ جیلی کے یہاں ہے بڑی خوبی سے واضح کیا۔ لیکن جیلی سے بھی انھیں دلچسپی ہے تو انسان کامل کے اس تصور کے باعث جو اس کے یہاں اُبھرا۔ یہ مضمون ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا۔ لیکن ان کا ذہن تو ۱۹۰۱ء سے بھی بہت پہلے خودی پر مرتکز ہو رہا تھا۔ چنانچہ اپنی ایک غزل میں وہ لفظ خودی استعمال بھی کرچکے تھے۔ وجودی ہوتے تو خودی کے بجائے بے خودی پر زور دیتے۔ رہے ان کے کلام میں دارو رسن ایسے کفایات۔ کثرت میں وحدت کا تماشا۔ ہر شے میں ذات الٰہیہ کی تجلی جن کی بنا پر وحدۃ الوجود کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے۔ سو وہ جو صائب نے کہا ہے تصوف برائے شعر گفتن خوب است۔ ایرانی ذہن وجودی ذہن تھا۔ اس ذہن کے زیر اثر فارسی شاعری نے کچھ ایسا پیرایۂ بیان اختیار کیا، کچھ اس قسم کے استعارے تشبیہیںاورترکیبیں وضع کیں۔ کچھ ایسے الفاظ اور اصطلاحات سے کام لیا کہ شاعر کی ذہنی کیفیت کچھ بھی ہو ہر شعر وحدۃ الوجود کے سانچے میں ڈھل گیا۔ پھر جب نوبت بادۂ و ساغر تک پہنچی۔ بغیر اس کے مشاہدۂ حق کی گفتگو نا ممکن ٹھہری تو کوئی بھی خیال ہو، کوئی بھی احساس ، کوئی بھی تجربہ، انسان ، کائنات، زندگی اور اس کے احوال کی طرف کوئی بھی اشارہ اس کی تعبیر وحدۃ الوجود کے رنگ میں ہونے لگی ۔ یہی کچھ محمد اقبال سے ہوا۔ اس بنا پر کہ وحدۃ الوجود ایک امر مسلمہ ہے لہٰذا وہ جو کچھ کر رہے ہیں وحدۃ الوجود ہی کے رنگ میں کہ رہے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن کسی رنگ میں وجود ی نہیں تھا۔نہ عقلی،نہ وجدانی نہ کسی اور اعتبار سے۔
    پھر اس بحث میں کہ محمد اقبال کیا ایک زمانے میں وحدۃ الوجود کے قائل تھے، اس امر کا لحاظ رکھنا ضرور ی ہے کہ وحدۃ الوجود کی ایک تاریخ ہے۔ اسلام سے پہلے اس کے ڈانڈے سر زمین یونان، ہندوستان اور نہ معلوم کہاں کہاں جا ملتے ہیں۔ ویدانت، صمنیت، افلاطونی اور نو افلاطونی فلسفہ حتیٰ کہ زرتشت یا یوں کہیے مجو سیت سے اسے جو گہرا تعلق ہے ہر کوئی تسلیم کرتا ہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ واحدیت کا ایک نظریہ ۔ مگر شکلیں مختلف۔ تعبیریں گو نا گوں تشریحیں متعدد۔ محمد اقبال اور سوامی رام تیرتھ جب باہم مل بیٹھتے ۔ تصوف پر گفتگو ہوتی تو ان کانقطہ نظر سمجھتے۔ اپنا نقطہ نظر سمجھاتے۔ اسلامی تصوف میں بھی وحدۃ الوجود نے کئی رنگ اختیار کیے۔۲۹۲؎ معتدل ، غیر معتدل ،انتہا پسند جس پر بالآخر وہ رنگ غالب آگیا جسے محمد اقبال نے عجمیت کہا ہے جس میں بقول ان کے افکار دماغ جذبات قلب سے دب گئے۔ زندگی نے فرار اور تعطل کا راستہ اختیار کیا۔ جسے شاعری میں خوب خوب فروغ ہوا۔ زندگی زندگی اور موت موت نہ رہی۔ ہجروصال کی دو کیفیتیں ٹھہریں۔ مجاز نے حقیقت پر پردہ ڈال دیا۔ ہستی فریب ہے نیستی بھی فریب ۔ تا آنکہ وحدۃ الوجود کی مخصوص اصطلاحیں جن کی ازروئے اسلام کوئی سند نہیں۔ مثلاً عین اور ثبوت ، تعینات اور تنزلات جو وجودی ذہن کی اختراع ہیں۔ مئے ومینا، ساقی و پیمانہ، رندی اور مستی ، ہوش اور مدہوشی سے بدل گئیں۔ الفاظ کی جگہ اشاروں اور کنایوں نے لے لی۔ افکار اور تصورات نے رمزو ایما کی۔ بس اتنا یاد رہ گیا کہ شیخ اکبر وحدۃ الوجود کے موسس ہیں۔ فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم اس کی تفسیر۔ اس روایت پر قناعت کر لی جو صدیوں سے چلی آتی تھی۔ ان کی دماغی کا وشوں اور احوال و واردات کو سمجھنے کی بہت کم توفیق ہوئی۔ لیکن جس طرح حلاج کے بارے میں وہ سب خیالات جو روایتاً چلے آتے تھے غلط ثابت ہوئے۔ بعینہ آج یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ابن عربی کیا فی الواقعہ وجودی تھے۔۲۹۳؎ یہ بحث نہایت دلچسپ اور تحقیق طلب ہے اس لیے کہ اگر ابن عربی وجود ی نہیں تھے تو فتوحات اور فصوص کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ ان میں تو بجز وحدۃ الوجود کے اور کچھ نہیں۔ بہر حال یہاں بحث وحدۃ الوجود کی نہیں ہے ۔ بحث یہ ہے کہ محمد اقبال کیا شروع میں وجودی تھے۔ یورپ کی آب و ہوا کے زیر اثر، یا عالم اسلام کے انحطاط کو دیکھتے ہوئے وحدۃ الوجود سے منحرف ہو گئے ۔ یہ تو کچھ ویسی ہی بات ہے جیسا کہا گیا کہ ابتداء میں ان پر وطنیت کا رنگ غالب تھا۔ یورپ میں وطنیت کے تباہ کن اثرات کا اندازہ کیا تو وطنیت کو خیر آباد کہہ دی ۔ اسلامیات کی طرف آ گئے۔ اب قطع نظر اس امر سے کہ ہمارا ذہن اس قسم کے غلط نظریوں کی طرف کیوں منتقل ہو جاتا ہے غور طلب معاملہ ان کی وہ تحریریں ہیں جن میں انھوں نے بعض ایسے عقائد اور ایسے مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو ایک زمانے میں صحیح مانتے رہے۔ یہ عقائد اور یہ مسائل وحدۃ الوجود ہی کے ضمن میں پیدا ہوئے۔ مگر یہ کچھ عقائد اور مسائل ہی تو تھے۔ نظریہ وحدۃ الوجود تو نہیں تھی۔ یوں اس کی طرف کوئی مثبت اشارہ نہیں ملتا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم ان کی علمی اور فکری کاوشوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں وحدۃ الوجود کے حق میں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ جذبات و احساسات کا خیال کرتے ہیں جن کا اظہار شاعری میں ہوا تو لا محالہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان کا ذہن شروع ہی سے ایک ہی مسئلے پر مرتکز تھا اور وہ انسان، اس کی ذات ، مرتبہ اور مقام، تقدیر اور مستقبل اس انسان کی نہیں جو گوشت اور پوست کی ایک ترکیب ہے۔ جس نے جہان آب و گل میں قدم رکھا۔ عمر کی چند منزلیں طے کیں۔ موت سے ہم کنار ہوا اور فنا ہو گیا، یا قطرے کی طرح واصل بدریا ، بلکہ اس انسان کی جو گوشت اور پوست کے اندر موجود ہے۔ جس کے لیے ایک اور زندگی ہے۔ ایک اور سفر۔ کئی امتحان ۔جیسے کچھ بنتا ہے۔ جس کا تعلق اس کی انفرادیت اور شخصیت سے ہے۔ کسی غایت کی طرف بڑھنے اور بڑھتے رہنے سے وحدۃ الوجود کا تویہ مسئلہ نہیں۔ اس کی نظر انسان پر ہے۔ انسان جیسا کہ اس کا ایک عین ہمارے ذہن میں قائم ہو جاتا ہے۔ نہ کہ اس انسان پر جس کی ایک انفرادیت ہے۔جسے شخصیت عطا ہوئی۔ وحدۃ الوجود میںتو تقدیر کا وہ مفہوم نہیں جس کی شرط اولین ہے سعی و عمل، خودی کا حفظ و استحکام۔ اس کی تربیت، عشرت قطرہ تقدیر نہیں ہے۔ ایک سفر کا اختتام ہے اور بس۔ یوں دیکھیے تو محمد اقبال کے فکر و نظر کا معاملہ ایک موقف سے دوسرے موقف میں تبدیلی کا نہیں ہے بلکہ بتدریج ارتقا ء اور مسلسل نشوونما کا۔
    اس سلسلے میں ایک بڑی دلچسپ بات وہ ہے جو میکش اکبر آبادی نے کہی ہے۔۲۹۴؎ وہ کہتے ہیں محمد اقبال شروع میں تو وحدۃ الوجود کے خلاف تھے ۔ آخر عمر میں جب خیالات میں پختگی پیدا ہوئی ۔ وجودی صوفیا کا بغور مطالعہ کیا تو وجودی ہو گئے۔ لیجیے میکش کی کتاب سے جو انھوں نے بڑی محنت سے لکھی، یہ نزاع تو باقی نہ رہا کہ محمد اقبال ابتداء میں وجودی تھے۔ میکش نے اگرچہ کہا نہیں لیکن معلوم ہوتا ہے ان کے نزدیک وہ جملہ شواہد جن کی بنا پر وحدۃ الوجود کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے لائق اعتنا نہیں ٹھہرتے۔ میکش کا خیال ہے اور نہایت ٹھیک کہ یہ زمانہ محمد اقبال کے لیے تحقیق و تجسس کا تھا۔ تامل اور توقف کا۔ عقیدہ وحدۃ الوجود اور اس کے جملہ متضمنات اگرچہ ان کے ذہن میں مستحضر تھے۔ لیکن دیانت علم کا تقاضا تھا کہ اس سارے مسئلے کو ہر پہلو سے جانچ لیں۔ جب تک ایسا نہ کر لیتے کسی نظریے کا بالخصوص جب اس نے ایک عقیدے کی حیثیت اختیار کر رکھی تھی رد و قبول ان کی فلسفیانہ طبیعت کے خلاف تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ تصوف سے لگائو اور حضرات صوفیا سے عقیدت کے باوجود انھیں فتوحات اور فصوص میں الحاد و زندقہ کی بُو آنے لگی تھی۔ انھیں یہ گوارا نہیں تھا کہ ذات الٰہیہ کو ہر شے کا عین ٹھہرایا جائے۔ یہ باتیں گو انھوں نے آگے چل کر کہیں۔ جیسے یہ کہ تصوف اسلام کی سر زمین میں ایک اجنبی پوداہے مگر وحدۃ الوجود کے سیاق و سباق میں تو صاف دیکھ رہے تھے کہ اس پہلو سے ابن عربی کی تعلیمات اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ شروع میں یہ بات ا ن کے ذہن میں نہیں تھی غلط ہے ۔ اس زمانے میں دراصل ان کی روش خاموشی کی تھی۔ عقائد اور مسائل کے بارے میں وہ بھی اپنے اُستاد کی طرح نزاع وجدال سے دور رہتے۔ چنانچہ انھوںنے یہ باتیں اس وقت کہیں اور وہ بھی مجبوراً جب اسرار خودی کی اشاعت پر وحدۃ الوجود کے حق میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اسرار خودی کی اشاعت تک وہ اپنے افکار اور تصورات میں ایک خاص موقف کی طرف بڑھ رہے تھے تاآنکہ ان کی ایک اساس متعین ہو گئی۔
    رہا میکش کا یہ کہنا کہ خیالات میں پختگی پیدا ہوئی ۔ صوفیا وحدۃ الوجود کا مطالعہ زیادہ ژرف نگاہی سے کیا تو وحدۃ الوجود کے قائل ہو گئے ٹھیک نہیں۔ تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ میں جو ان کے غور و فکر کا حامل ہے انہو ں نے وحدۃ الوجود کی نفی نہایت سلجھے ہوئے اور مختصر الفاظ میں کر دی ہے۔۲۹۵؎ دراصل تصوف کی بحث میں وہ وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے نظریہ سے بہت آگے نکل چکے تھے۔ لیکن یہ موقعہ اس موضوع پر گفتگو کا نہیں۔ وحدۃ الوجود سے ان کے رجوع کا بہر حال سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر پھر رجوع بھی کیسے جب بقول میکش وہ ابتداء میں وجود ی تھے ہی نہیں۔ دراصل میکش علیٰ ہذا ان کے ہم خیال اسی غلطی کا مرتکب ہو گئے جس کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں وہ وجودی تصوف کے گرداب میں پھنس گئے تھے۔ کہنا یہ چاہیے تھا کہ پھنس نہیں سکے۔ ان حضرات کا زور یا تو ان تعبیرات اور تاویلات پر ہے جو دینی نقطہ ٔ نظر سے وحدۃ الوجود کے حق میں کی گئیں۔۲۹۶؎ یا ان سطحی مشابہتوں پر جو بظاہر وجودی تصورات بلکہ یوںکہیے کہ باعتبار جذبات و کیفیات محمد اقبال کے بعض اشعار میں نظر آتی ہیں۔مثلاً بال جبریل کا شعر ہے:
    تو ہے محیط بے کراں میں ہوں ذرا سی آب جو
    یا مجھے ہم کنار کر یا مجھے بے کنار کر
    پھر ارمغان حجاز ہے ۔ یہ ربا عیاں:
    جہاں دل جہان رنگ و بو نیست
    در و پست و بلند و کاخ و کونیس ت
    زمین و آسمان و چار سو نیست
    دریں عالم بجز اللہ ہو نیست
    تو اے ناداں دل آگاہ دریاب
    بخود مثل نیاگاں راہ دریاب
    چنان مومن کند پوشیدہ را فاش
    ز لا موجود الا اللہ دریاب
    اگر ان ارشادات کا اشارہ وحدۃ الوجود کی طرف ہے۔ بالخصوص جب لا موجود الا اللہ قطعی طور پر ایک وجودی تصور ہے اور پھر اس سے پہلے بھی تو انھوں نے کہا تھا:
    وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی ہر نظارے میں
    چمک بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ہے پارے میں
    جس سے صریحاً وحدۃ الوجود کا پہلو نکلتا ہے اور جسے مان لیجیے تو وہ اول و آخر وجود ی ٹھہرتے ہیں۔ پھر یہ نزاع کیوں کہ شروع میں وجودی تھے۔ آگے چل کر وحدۃ الوجود سے انکار کر دیا۔ شروع میں وجودی نہیں تھے۔ آخر میں قائل ہو گئے۔ بات یہ ہے کہ وہ جذبات اور کیفیات جن کا اظہار ان اشعار میں ہوا وجودی ذہن سے مختص نہیں۔ شہودی ذہن سے بھی ان کا ویسا ہی تعلق ہے ۔ مثلاً جب ہم حقیقت مطلقہ کا اطلاق ذات الٰہیہ پر کرتے ہیں تو یوں ہمارا ذہن جس ذات واحد کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اسے ایک اور ورالورا مان کر بھی یہ کہنا ممکن ہے کہ باوجود ورائیت ہم اسے ہر شے میں مشہود دیکھتے ہیں۔ اس کی تجلی ہر کہیں نظر آتی ہے۔ کثرت میں وحدت کے اقرار سے کثرت کا انکار لازم نہیں آتا۔ نہ تجلی کے یہ معنی ہیں کہ بجز اس کے کسی شے کا وجود ہی نہیں ہے۔ پھر جب مومن اپنے ایمان اور عمل کی دُنیا میں لا الہ الا اللہ کی رعایت سے ماسوا کو بیچ گردانتا ہے تو اس ایمانی کیفیت کو اس عقلی یا وجدانی کیفیت سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے جس پر وحدۃ الوجود کی اساس ہے ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ وجود تو ایک تجرید ہے ، ایک تصور جو موجودات کو دیکھتے ہوئے قائم ہوا۔ موجود ایک خارجی حقیقت ہے، وجود داخلی۔ اب اگر وجودی ذہن کے نزدیک صفت وجود کا اطلاق صرف ذات الٰہیہ پر ہوتا ہے اور ہم نے کہا لا موجود الا اللہ، لا تومحالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ذات الٰہیہ کے سوا ہر شے صفت وجود سے معرا ہے ۔ بالفاظ دیگر موجود نہیں ہے۔ بظاہر یہ منطق بڑی کامیاب ہے اور اہل ایمان کے لیے بھی بڑی پر کشش لیکن دراصل ایک مغالطہ کہ پہلے تو موجودات کے اثبات سے ہم نے ایک تصور قائم کیا۔ پھر بغیر کسی دلیل کے یعنی محض اس عقیدے کی بنا پر کہ خدا ہے اس کا اطلاق ذات الٰہیہ پر کرتے ہوئے موجودات کی نفی کر دی۔ حالانکہ یہ تصور قائم ہی موجودات کے سہارے ہوا تھا۔ ہم سمجھے یوں وہ مسئلہ جو وجودیات کے سامنے ہے حل ہو گیا۔ توحید کی اس سے بہتر کوئی تعبیر ممکن نہیں۔ لیکن ہم بھول گئے۔ وجود ہی ایک صفت نہیں جو موجود کو عطا ہوئی علاوہ اس کے اور بھی صفات ہیں۔ مثلاً صفت انیت (میں) اب ہر انا موجود تو ہے۔ صفت وجود سے متصف لیکن ہر موجود انا نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ ذات باری تعالیٰ کے فہم میں ہماری بحث صرف صفت موجود پر مرتکز رہے۔ حالانکہ اس صفت کے اثبات سے صرف اس کے فہم کی ابتداء ہوتی ہے وہ اگر ایک اناہے مطلق اور محض ، تو موجود میں بھی جس کو اس نے صفت وجود عطا کی کچھ معنی پیدا ہو جاتے ہیں ۔ یہ نکتہ ہے جسے وحدۃ الوجود نے نظر انداز کر دیا۔ موجودات کے کوئی معنی نہ رہے۔ نہ ان کے انفرادی وجود کی۔ تو فرد کی بھی کوئی حیثیت نہ رہی جب ہی تو محمد اقبال نے کہا تھا وحدۃ الوجود ایک فلسفیانہ مسئلہ ہے کوئی دینی عقیدہ نہیں۔ حضرت مجدد کے نزدیک ایک وجدانی کیفیت کی غلط تعبیر۔ محمد اقبال کا گزر بھی عقل و فکر کی پر پیچ راہوں سے ہوا۔ ان کے یہاں بھی وجدانی کیفیات تھیں۔ ہم سمجھے ان کے نزدیک بھی شاید دل پر قطرۂ ساز انا البحر ہے۔ بحرش گم شدن انجام مانیست بھول گئے۔ جب مسئلہ ایک ہو اور بنیادی باوجوداختلاف رائے ان تصورات میں جو اس طرح قائم ہوتے ہیں کوئی نہ کوئی یکسانی کوئی نہ کوئی مشابہت اور مماثلت ضرورباقی رہ جاتی ہے ۔ اس قسم کی یکسانیوں ، مشابہتوں اور مماثلتوں کو مترادفات پر محمول کرنا غلطی ہے۔ مماثلت کو مماثلت ہی کہنا چاہیے۔ تماثل تماثل ہے۔ ترادف نہیں ہے۔
    یہ ایک پہلو تھا واحدۃ الوجود کی بحث میں محمد اقبال کے موقف کا جس میں ایک وجدانی کیفیت کی غلط تعبیر میں فکر کی جو عمارت تیار ہوئی۔ انسان، کائنات، زندگی اور اس کے احوال و شئون کے بارے میں جو تصورات وضع ہوئے فکر مجرد کے سہارے وضع ہوئے۔ ایک صغریٰ وکبریٰ قائم ہو گیا تو استخراج درا ستخراج کے عمل نے وحدۃ الوجود کا رشتہ حقائق سے منقطع کر دیا۔ اس کا دوسرا پہلو وہ احوال و واردات، عقلی اور وجدانی کیفیات ہیں جن کا اظہار ان کی شاعری میں ہوا۔ وہ سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے ۔ سلسلہ نقشبندیہ کے معترف، سلسلہ مجددیہ کے قائل مگر اس کے باوجود نہ رسماً تصوف ان کا مسلک ، نہ ان کی زندگی صوفی کی زندگی۔ ان کے یہا ں اذکار و اوراد تھے نہ مراقبے اور مجاہدے۔ نہ شریعت اور طریقت کا امتیاز۔ لیکن تصوف اگر عبارت ہے ایک روحانی تجربے، ایک حالت سے گزرنے سے جس سے مقصود ہے:
    شرع را دیدن باعماق حیات
    تو وہ صوفی تھے اور تصوف ان کا مسلک ۔ ان کے یہاں پیچ و تاب رازی تھا تو سوزو ساز رومی بھی۔وہ اس عقل کے قائل تھے جو ادب خوردۂ دل ہو۔ وہ روم کو آتش تبریز کی نذر کر چکے تھے۔ علم کو بر دل زدن پر کار بند ۔ ان کی نگاہیں آثار قلم پر نہیں، آثار قدم پر تھیں۔ انھوں نے آثار قدم دیکھے اور دیکھ دیکھ کر آگے بڑھتے چلے گئے۔۲۹۷؎
    یوں ایک اور حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ تصوف جو عبارت ہے اس روحانی تجربے سے جو ایک ذریعہ ہے ادراک بالحواس دلائل اور برہین سے ہٹ کر علم کا اگر محض فریب ہے۔ ہماری داخلی کیفیات کا ایک کرشمہ تو وہ سب بحثیں جو تصوف ، اس کے نظریے یا مسلک کے بارے میں اٹھائی جاتی ہیں حاصل ٹھہرتی ہیں۔ ہم اسے کلیتاً رد کر سکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔ اندریں صورت محمد اقبال کے فکر و نظر کو بھی بجز چند مستثنیات کے رد کرنا پڑے گا۔ اس کا تھوڑا سا حصہ ہی لائق اعتنا رہ جائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے تو گفتگو خواہ مشاہد ۂ حق کی ہو۔ خواہ اخلاص فی العمل کی یہ دیکھنا لازم ٹھہرے گا کہ تصوف کا رُخ جس کا وظیفہ ہی یہ ہے کہ ہمارے مشاہدات اور واردات قلب کے ساتھ ساتھ ضمیر اور باطن کا تزکیہ ہوتا رہے کسی ایسی جانب تو نہیں جو اسلام کے خلاف ہے۔ لیکن جیسے جیسے عالم اسلام کو زوال ہوا۔ زندگی کے ہر پہلو، اخلاق ، سیاست اور معیشت میں فساد پیدا ہوا۔ تصوف کی دنیا بھی اس سے محفوظ نہ رہی تاآنکہ بیشتر صورتوں میں اس کی حیثیت محض ایک فرسودہ روایت کی رہ گئی۔ بعض صورتو ں میں شریعت سے انحراف کا ایک فریب آمیز ذریعہ ۔ یہ زمانہ تھا جس میں محمد اقبال نے آنکھ کھولی۔ سیالکوٹ کی فضا بڑی حد تک تصوف آلود تھی۔ سیالکوٹ میں بھی مزار تھے، خانقاہیں تھیں، پیری مریدی تھی۔ عرس ہوتے، میلے لگتے۔ علماء و فضلاء کا وجود برائے نام رہ گیا تھا۔ ہندوستان کے میخانے تین سو سال سے بند پڑے تھے۔ ہاں کچھ نیک نہاد انسان پرانی روایات کے سہارے زندگی بسر کر رہے تھے ۔ خود ان پر عمل کرتے۔ دوسروں کو ان پر عمل کرنے کی تلقین کرتے۔ سیالکوٹ میں بھی بسبب اس تعلق کے جو حضرت مجدد الف ثانی کو ملا کمال سے تھا اس معرکے کی تھوڑی بہت یاد باقی تھی جو وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے درمیان رونما ہوا۔ لیکن روش غیر جانب داری کی اور یہی کیفیت کم و بیش سارے اسلام ہندوستان کی شاید حضرت شاہ ولی اللہ کے زیر اثر جنھوں نے تصوف کے ان دو نظریوں میں تطبیق پیدا کی۔ یوں بھی ارباب تصوف کی عام روش یہ تھی کہ اپنے اپنے مسلک پر کاربند رہیں۔ دوسروں سے تعرض نہ کریں۔ اختلافی مسائل کی بجائے توجہ صفائے باطن پر رہے۔ شریعت کی پابندی میں فرق نہ آئے۔ ابھی وہ وقت دور تھا کہ محمد اقبال اس جمود کو توڑیں جو پانچ سو برس سے الٰہیات اسلامیہ میں قائم تھا۔ ابھی تو عالم اسلام پر وحدۃ الوجود کا رنگ چھایا ہوا تھا۔ خیال تھا وحدۃ الوجود ہی توحید باری تعالیٰ کی بہترین تعبیر ہے ۔ وحدۃ الوجود ہی حقیقت مطلقہ کی تعین کا فلسفیانہ ذریعہ ۔ ابھی تو محمد اقبال کی ذہنی نشو ونما اور غور و فکر کا سلسلہ جاری تھا۔ ابھی تو اس جرأت مندانہ اقدام کی نوبت نہیں آئی تھی کہ محمد اقبال افلاطون کی طرح ابن عربی کو بھی خیر باد کہہ کر اپنے ایک الگ راستے پر چل پڑیں۔ وہ اس راستے پر چل پڑے۔ یہ راستہ طے ہوا تو ان کے افکار اور تصورات منضبط ہو کر سامنے آ گئے۔ اندریں صورت اگر ایک زمانے میں انھوں نے بعض ایسی باتوں کو درست مانا جس کے اظہار میں انھیں شرم محسوس ہوتی تھی تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس زمانے میں وحدۃ الوجود کے قائل تھے۔ ہاں وحدۃ الوجود ہی سب سے بڑا مسئلہ تھا جو منجملہ دوسرے مسائل کے انھیں تصوف میں پیش آیا۔ وہ اگر وحدۃ الوجود کے قائل ہوتے تواسرار خودی کے دیباچے میں بلا تکلف اس کا اعتراف کرتے۔ پھر ان کے معترضین تو درکنار حسن نظامی کہہ سکتے تھے کہ وحدۃ الوجود کو حق مانتے ہوئے اس سے منحرف کیوں ہو گئے۔ رہے مولانا روم، ان کے پیر و مرشد سو مولانا کے بارے میں بھی حلاج کی طرح یہ غلط روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے کہ ان کا مسلک وجودی تھا۔ حالانکہ مولاناوجودی نہیں تھے۔۲۹۸؎ خودی کے قائل تھے جس کی وحدۃ الوجود میں کوئی جگہ نہیں۔ اسرار خودی بھی تو انھیں کے اشارے سے لکھی گئی۔
    محمد اقبال کی مخلصانہ کوشش تھی کہ تصوف بالخصوص اس کی اسلامی روح کو ہر پہلو سے سمجھیں مذہباً ، عقلاً ۔ ان کی نگاہیں ان سب مراحل پر نہیں جن سے تصوف کا گزر ہوا۔ انھیں حق کی تلاش تھی۔ نزاع وجدال اور محاذ آرائی سے نفرت ۔ نہ کسی سے مخاصمت، نہ پر خاش۔ ان کے دل میں اسلاف کی بڑی قدر تھی۔ وہ ابن عربی کا بھی احترام کرتے۔ ان کا اختلاف اصولی تھا۔ وہ ہر خیال اور ہر نظریے کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھتے ۔ جس میں پھر انھیں کبھی یہ دعویٰ نہیں ہو اکہ ان کا ہر قول قولِ فیصل ہے۔ ہر حرف حرفِ آخر۔ وہ ایک انصاف پسند طبیعت لے کر آئے تھے جس میں انکسار تھا، تواضع تھی۔ انھیں جہاں کہیں کوئی حق بات نظر آئی بلا تکلف اس کا اعتراف کیا۔ ایک خط میں لکھتے ہیں وحدۃ الوجود میں یہ خوبی تو ہے کہ اس سے انسان کے اندر مساوات کی روح پیدا ہوتی ہے ۔ گرامی کا شعر:
    عصیان ما و رحمت پروردگار ما
    ایں را نہایت است نہ او را نہایتے
    نظر سے گزرا تو نیاز محمد خاں کو لکھا۔ یہ ایک صداقت ہے جو واحدۃ الوجود میں پائی جاتی ہے۔۲۹۹؎ مگر اس کی وضاحت نہیں کی۔ اس کا فہم قاری کے ذہن پر چھوڑ دیا ہے۔
    دراصل محمد اقبال سمجھ گئے تھے اسلامی تصوف کی حقیقت کیا ہے۔ وہ اس کی روح کو پا گئے۔ ۱۹۰۴ء میں ’قومی زندگی‘ کے عنوان سے ان کا جو مضمون مخزن میں شائع ہوا اس میں لکھتے ہیں ’’آواز نبوت کا اصل زور اور اس کی حقیقی وقعت عقلی دلائل اور براہین پر مبنی نہیں ہے۔ اس کا داراومدار اس روحانی مشاہدے پر ہے جو کے غیر معمولی قویٰ کو حاصل ہوتا ہے اور جس کی بنا پر اس کی آواز میں وہ ربانی سطوت اور جبروت پیدا ہو جاتی ہے جس کے سامنے انسانی شان و شوکت ہیچ ہے… یہ ہے نمود مذہب کا اصلی راز…۔۳۰۰؎ دو باتیں ہیں جو اس طرح ہمارے سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ مذہب اگر عطیہ ہے نبوت کا جیسا کہ یقیناہے تو انبیا علیہم السلام کا روحانی مشاہدہ اس کا سر چشمہ۔ ثانیاًیہی مشاہدہ انسانی شخصیت کا صورت گر ہے۔ اس کی تقویم اور تقویت کا راز ۔ اب اگر تصوف عبارت ہے ایک روحانی مشاہدے سے وہ ایک اکتشاف ہے ۔ ہمارے لیے قرب ذات کا ذریعہ جس میں ہمارا اتصال اپنی ہستی کی حقیقی اساس سے ہوتا ہے تاآنکہ جیسی ہماری بساط ہے ہم اس حق کو جس پر ہم ایمان لائے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اس کی شہادت دیتے ہیں۔ ہمار ے اندرون ذات اور دل و دماغ کی دنیا یکسر بدل جاتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد اقبال نے ان حقائق سے کیسے اور کب پردہ اٹھایا۔ مگر یہ وہ موضوع ہے جس کا تعلق اس سوانح حیات کے آیندہ ابواب سے ہے ۔ ہمیں اس کے لیے کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔ وحدۃ الوجودی وہ بہر حال کبھی نہیں تھے۔ نہ آخر الامر ہو گئے۔"
    بشکریہ اقبال سائبر لائبریری http://www.iqbalcyberlibrary.net/ur/2749.html
     
    Last edited: ‏جولائی 9, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں