اقبال اقبال کا فلسفہ خودی اور بے خودی

فہد جاوید نے 'مجلسِ اقبال' میں ‏جولائی 15, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی

    نہیں ہے سنجر وطغرل سے کم شکوہ فقیر

    خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب

    خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیاں و حریر

    اقبال کے فلسفہ حیات میں تصور خودی کو بنیادی اور مرکزی مقام حاصل ہے۔ خودی اور بے خودی کے بارے میں اقبال کے افکار و نظریات فلسفہ عجم 1908ءاسرار خودی 1915ءاور رموز بے خودی 1918ء میں ملتے ہیں۔ علامہ اقبال نے تاریخ عالم کا گہرا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ انیسویں اور بیسویں صدیوں میں مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی زوال کا سبب ان کا اسلامی تعلیمات سے انحراف تھا۔ اس کی وجہ قوائے عملی کو مفلوج کر دینے والا افلاطونی فلسفہ، ہندوﺅں کا فلسفہ وحدت الوجود اور ایرانی شاعروں کی رومانوی شاعری تھی۔ اقبال نے افلاطونی نظرئیے کو رد کر کے ڈیکارٹ کے افکار کی تائید کی جن کے مطابق انسانی وجود ایک حقیقت تھا اور کائنات فریب نظر نہیں تھی۔ اقبال کے نزدیک خودی، جذبہ خوداری، غیرت مندی اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لئے کائنات کی قوتوں کے ساتھ برسر پیکار رہنے کا نام ہے۔ فلسفہ خودی میں خود بینی اور خدا بینی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ خود بینی خدا کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔

    اگر خواہی خدا را فاش دیدن

    خودی رافاش تردیدن بیاموز

    ڈاکٹر فرمان فتح پوری اقبال کے تصور خودی پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں۔

    ”اسرارخودی کی توضیحات کے مطابق اس جہان رنگ و بو کا ظہور دراصل خودی کی نمو ہے۔ خودی کی بیداری ہی تخلیق کائنات کا سبب ہے“ خودی کی تربیت سے مشت خاک میں آتش ہمہ سوز پیدا کی جا سکتی ہے۔

    خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف

    کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ سوز

    اقبال کے مطابق خودی کو مضبوط کر کے انسان یزداں کے دھارے کا رخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے۔

    ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے

    خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے

    عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں

    تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

    اقبال کے فلسفہ خودی کی رو سے خودی کی تربیت کی تین منازل ہیں یعنی اطاعت ضبط نفس اور نیابت الٰہی۔ ان میں سے اطاعت میں فرائض کی ادائیگی اور شریعت الہیہ کی عملی تائید نمایاں ہیں۔ ضبط نفس سے مراد نفسانی خواہشات پر قابو پانا ہے جبکہ نہایت الٰہی تخلیق انسانی کا سب سے اعلیٰ مقصد ہے۔

    علامہ اقبال نے اپنا فلسفہ بے خودی مشہور و تصنیف رموز بے خودی میں پیش کیا۔ اس میں فرد کی خودی سے آگے بڑھ کر ملت کی خودی کی وضاحت کی گئی۔

    درجماعت فرد را بینم ما

    ازچمن راچوں گل چینم ما

    فرد تا اندر جماعت گم شود

    قطرہ وسعت طلب قلزم شود

    اقبال نے دلائل سے ثابت کیا کہ درجہ کمال تک پہنچنے کے لئے فرد کو ایک ملت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ملت میں فرد کی انفرادیت ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی حیثیت پہلے سے زیادہ مضبوط اور نمایاں ہو جاتی ہے۔ ملت اسلامیہ کی بنیادیں قرآنی تعلیمات پر استوار ہوتی ہیں۔ یہ ملت توحید و رسالت، تقلید اور اجتہاد کے اصولوں پر عمل کر کے خود کو دوسروں سے ممتاز کر لیتی ہے موجودہ دور میں ملت اسلامیہ ہی انفرادی اور اجتماعی خودی کی تربیت کا بہترین نظام عمل پیش کرتی ہے۔

    از
    احسان اللہ ثاقب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں