تجاہل عارفانہ ، خطبہ جمعہ حرم المکی از شیخ سعود الشریم

ابوعکاشہ نے 'خطبات الحرمین' میں ‏جولائی 26, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    امام حرم مکی شیخ سعود الشریم حفظہ اللہ کا جمعہ میں خطاب
    ترجمہ و تلخیص : ثناءاللہ صادق تیمی

    آج بتاریخ 8/10/1436 ہجری حرم شریف کے اندر شیخ سعود الشریم حفظہ اللہ نے جمعہ کا خطبہ دیا ۔ آپ نے تجاہل عارفانہ کے موضوع پر نہایت جامع ، مدلل اور پر اثر تقریر کی ۔ آپ نے کہا کہ عقلمند آدمی وہ ہے جو اس بات کو مستحضر رکھتا ہے کہ کمال نہ تو انسان کو حاصل ہے اور نہ انسانی زندگی کو ، کمی انسان اور انسانی زندگی دونوں کو لاحق ہوتی ہے ، کوئی ایسا انسان نہيں جس سے لغزش نہیں ہوتی، اس لیے انسانوں کو باہمی رشتوں کو نباہتے ہوئے تجاہل عارفانہ سے کام لینا چاہیے ۔ آپ نے بتلایا کہ تجاہل عارفانہ کا تعلق قوت ، بردباری اور صبر سے ہے ضعف، عاجزی اور شکستگی سے نہیں ۔ کان اگر سب کچھ سننے لگے اور آنکھ اگر سب کچھ دیکھنے لگے تو اس سے سماجی شیرازہ منتشر ہوگا۔ عداوت اور کینہ و حسد کا بازار گرم ہوگا ۔ اس لیے بسااوقات تجاہل عارفانہ برتنا ضروری ہو جاتا ہے ۔ اگر انسان ہر ایک آدمی کی ایک ایک لغزش پر سرزنش کرنے لگے تو ایک وقت آئے گا جب اس کے پاس بھائی ، دوست ، بیوی اور پڑوسی کوئی نہ بچے گا ۔ اسی لیے ہر عقلمند شخص کے نزدیک تجاہل عارفانہ ایک اچھی بات ہے ۔ یہ خوبی انسان کوکسی بھلائی کے پانے اور برائی سے بچنے کے لیے جان کر انجان بننے پر ابھارتی ہے ۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہيں کہ " کوئی شریف آدمی باتوں کو کھنگھالتا نہیں ۔ اللہ نے اپنے نبی کی بابت اس وقت فرمایا جب ان کی بعض بیویوں نے غلطی کی (وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ )ترجمہ " نبی نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی پھر جب اس بیوی نے ( کسی اور پر ) وہ راز ظاہر کردیا ، اور اللہ نے نبی کو اس ( افشائے راز ) کی اطلاع دے دی ، تو نبی نے اس پر کسی حد تک ( اس بیوی کو ) خبر دار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا ۔ "
    اسی طر ح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " مجھ تک کوئی کسی کے بارے میں کوئي بات نہ پہنچائے ، میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں تمہارے پاس اس طرح آؤں کہ میرا دل صاف ہو " اس حدیث کو احمد ، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے ۔
    آپ نے بتلایا کہ تجاہل عارفانہ برتنے والا انسان عقلمند ہوتا ہے جبکہ وہ شخص جو اصلا نادان ہو اور اپنی دانائی کا مظاہرہ کرتا پھرے وہ بے وقوف ہوتا ہے ۔ بڑی پرانی کہاوت ہے۔
    بے وقوف قوم کا سردار نہيں ہوتا
    قوم کا سردار تو تجاہل عارفانہ برتنے والا ہوتا ہے
    آپ نے بتلایا کہ قابل تعریف تجاہل عارفانہ وہ ہے جس کے اندر درگزر ، نرمی اور چشم پوشی کا معنی پایا جاتا ہو ۔ عقلمندی یہ نہیں کہ لوگوں کی غلطیوں کے پیچھے پڑا جائے اور ان کی نیتوں کی زمین کھودی جائے ، اس لیے کہ اس سے عافیت نہیں حاصل ہوتی بلکہ یہ تو عافیت کو تباہ کردینے والی خصلت ہے ۔ امام احمد رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ عافیت کے دس حصے ہيں ، ان میں سے نو تجاہل عارفانہ برتنے میں ہیں تو امام احمد رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ عافیت کے دس حصے ہیں اوروہ دسوں کے دسوں تجاہل عارفانہ برتنے میں ہے ۔ امام ابن حزم کا قول ہے کہ اس بات کی کوشش کرو کہ تمہاری صفت یہ بیان کی جائے کہ تم بے ضرر ہو اور اس سے بچو کہ تمہیں چالبازی سے متصف کیا جائے ۔ کیوںکہ ایسی صورت میں لوگ تم سے بچنا شروع کردینگے ۔ اعمش فرماتے ہیں کہ تجاہل عارفانہ بہت سے شر کوخاکستر کردیتا ہے ۔
    آپ نے مزید وضاحت کی کہ جان کر انجان بننے والا آدمی اپنے دشمن کے منہ کو بند کردیتا ہے ۔ وہ کسی کمینے انسان کے پاس سے گزرتا ہے جو اسے گالی دے رہا ہوتا ہے تو وہ یہ سوچ کر گزرجاتا ہے کہ وہ کسی اور کو گالی دے رہا ہوگا ۔ اس کے برعکس جب آدمی تجاہل عارفانہ برتنے کی بجائے ہر غلطی پر لوگوں کی سرزنش کرنے کا عادی ہوجاتا ہے تو لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہيں ۔ عربی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے ۔
    اذا كنت في كل الامور معاتبا ** صديقك لم تلق الذي تعاتبه
    فعش واحدا أو صل اخاك فإنه ** مقارف ذنب تارة ومجانبه
    اذا انت لم تشرب مرارا عى القذى ** ظمئت واي الناس تصفو مشاربه

    "اگر آپ ہر معاملے میں اپنے دوست کی سرزنش کرینگے تو آپ کو کوئی آدمی ناقابل ملامت نہ ملے گا ۔ اس لیے یا تو تنہا زندگی بسر کیجیے یا پھر بھائی کے ساتھ صلہ رحمی سے کام لیجیے ، وہ کبھی گناہ کرے گا اور کبھی گناہ سے بچا رہے گا ۔ پانی کے گدلا ہونے کی وجہ سے بار بار پانی نہ پیینگے تو پیاسے رہ جائینگے اور بھلا کون لوگ ہيں جن کا پانی صاف وشفاف ہی ہوتا ہے ۔"
    شیخ شریم حفظہ اللہ نے فرمایا کہ تجاہل عارفانہ ایک ایسی وسیع خصلت ہے جو سب کے لیے ہے ۔ یہ کسی ایک کے لیے خاص نہيں ۔ محترم و حقیر ، حاکم و محکوم ، رئیس اور ماتحت ، استاد اور شاگرد ، باپ اور بیٹے ، شوہر اور بیوی سب اس کے اندر سب شامل ہیں ۔ اس کے بغیر اپنے اور دوسروں کے مابین ہم آہنگی نہیں ہوپاتی ، ایثار نہیں ہو پاتا اور نہیں ہی اتحادو اتفاق ہوپاتا ہے ۔ عقل مند لوگ ہی تجاہل عارفانہ برتتے ہیں ۔ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں اللہ کے اس فرمان کو پڑھتے ہيں ۔ قَالُوا إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ(ان بھائیوں نے کہا " یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف ) بھی چوری کرچکا ہے " یوسف نے ان کی اس بات کو من ہی میں چھپا لیا اور حقیقت ان پر بیان نہيں کیا )
    بہت سے لوگ تجاہل عارفانہ کا معیار متعین کرنے میں غلطی کرجاتے ہیں وہ اس کے اندر حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کرنے کے عمل کو بھی شامل سمجھتےہیں ۔ اس طرح وہ اچھی چیزوں سے تجاہل عارفانہ برتتے ہیں اور بری چیزوں کو ظاہرکردیتے ہیں اوریوں تجاہل عارفانہ کا سارا فلسفہ ہی ان کے نزدیک بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے ۔یاد رہے کہ تجاہل عارفانہ برتنے کے درمیان اور ژرف نگاہی و بصیرت اور دھوکہ و فریب سے خود کو بچائے رکھنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " مومن ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا "اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں ان قیمتی باتوں پر عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    It made my day!
    جزاک اللہ خیرا بہت ہی عمدہ خطبہ ہے. اللہ تعالی ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے.
    کیا اس خطبہ کی آڈیو مل سکتی ہے?
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    جزاک اللہ خیرا
    بہت اعلیٰ! جیسا کہ ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنے بھائی کو شک کا فائدہ دو۔ اس کے عمل کے لیے جواز تلاش کرو۔ نہایت عمدہ خوبی مگر کبھی کبھار اتنا ہی مشکل کام۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    وایاکم ـ ماشاء اللہ ، ہمیشہ کی طرح اچھا خطبہ تھا ـ حسب حال ـ اللہ عزوجل شیخ محترم کی حفاظت فرمائے ـ بارک اللہ فیہ
    آمین یارب ـ حق اور باطل کے درمیان کوئی تجاہل عارفانہ نہیں ـ خطیب کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ اصولوں کی بھی یاددہانی ساتھ ساتھ کروا دیا کرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  7. جمیل

    جمیل ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2009
    پیغامات:
    750
    Last edited: ‏اگست 1, 2015

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں