عورت کو "إنسانة" کہنا

ابوعکاشہ نے 'عربی علوم' میں ‏جولائی 28, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,165
    عورت کو "إنسانة" کہنا

    عربی میں "انسان" مرد و عورت ( مذکر و مؤنٹ ) دونوں کے لئے بولتے ہیں ۔ لیکن اگر کہیں " انسان " صرف مرد کے لئے استعمال ہو تو کیا عورت کو" انسانة"کہ سکتے ہیں ؟ اس حوالے سے اہل علم کا اختلاف ہے ـ بعض کہتے ہیں کہ درست نہیں ـ اور بعض کاکہنا ہے کہ " اگر عرب شعراء اس لفظ کو استعمال کرتے رہے ہیں تو اس کو غلط کہنا ٹھیک نہیں ـ اس کا ثبوت ہمیں عربی اشعار میں ملتا ہے ـ

    لقد كَستْني في الهوى :ملابسَ الصَّبِّ العزِلْ
    إنسانةٌ فتانةٌ :بدرُالّدجي منها خَجلْ
    إذازَنَتْ عيني بها :فبالدموع تغْتسلْ

    الوافي بالوفيات (21 /14)عيونِ الأنباء في طبقات الأطبّاء (1 /430).يتيمة الدّهر (3/ 363).

    الزبیدی نے کاھن الثقفی کا قول نقل کیا ہے ـ جو کہ عرب کے مشہور شعراء میں سے تھے ـ
    إِنْسَانَةُ الحَيِّ أَمْ أُدْمَانَةُ السَّمُرِ : بالنِّهْيِ رَقَّصَهَا لَحْنٌ مِنَ الوَتَرِ
    بالله يا ظبيات القاع قُلْنَ لنا :ليلايَ مِنْكُنَّ أم ليلى من البشر

    لاَعَبْتُ بالخَاتَمِ إنْسَانَةً :كَمِثْلِ بَدْرٍ فِي الدُّجَى النَّاجِمِ
    وَكُلَّمَا حَاوَلْتُ أَخْذِي لَهُ :مِنَ البَنَانِ المُتْرَفِ النَّاعِمِ
    أَلْقَتْهُ فِي فِيهَا فَقُلْتُ انْظُرُوا :قَدْ أَخْفَتِ الخَاتِمَ فِي الخَاتَمِ

    تاج العروس (15 /410): (وحكى الصَّفديُّ في شرح لامية العَجَم أنّ ابنَ المستكفيّ اجتمعَ بالمتنبيّ بمصر


    اگر ایک لفظ مستعمل رہا ہے ـ تو وہ مستند ہی رہے گا ـ لہذا"إنسانة"کہنا بھی جائز ہے ـواللہ اعلم ـ مزید دیکھیں :
    شرح الکافیہ ، الفیہ پر شیخ یاسین کا حاشیہ وغیرہ ـ
     
  2. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    لفظ ۔ انسان ۔ جنس ہے اس کا اطلاق مذکرومونث دونوں پر ہوتا ہے اسے لئے قرآن میں جا بجا ۔انسان ،ہی آیا ہے جیسے : ان الانسان لفی خسر ۔ و ۔ھل اتی علی الانسان حین من الدھر۔انکے علاوہ بیشمار آیتیئں ہیں جن میں انسان آیا ہے اور وہاں مرد و عورت دونوں مراد ہیں لفظ ۔انسانہ۔ عام مستعمل نہیں ہے نہ پہلے اور نہ آج ۔اسلئے اس سے احتراز کرنا چاہئے چند اشعا رمیں اگریہ لفظ آیا ہے تو یہ حجت اسلئے نہیں ہو سکتا کہ وہاں ممکن ہے کہ اس نے وزن اور قافیہ کی رعائت میں استعمال کیا ہو ۔واللہ اعلم بالصواب۔
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,165
    کسی چیز کے حجت ہونے یا نا ہونے کا فیصلہ تو عربی زبان کے ماہرین نے کرنا ہے آپ نے نہیں ـ آپ ان حوالہ جات کی طرف رجوع فرمائیں ـ جن کا ذکر کیا گیا ـ

    شرح الکافیہ ، الفیہ پر شیخ یاسین کا حاشیہ وغیرہ ـ
     
  4. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    قاعدہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یا کوئی ماہر لسانیات کوئی لفظ کسی معنی میں استعمال کرتا ہے تو وہ بطور ثبوت عرب قول کو پیش کرتا ہے کہ عرب بھی اس لفظکو اس معنی میں استعمال کرتے تھے اسی لئے آپ تفسیروں میں دیکھیں گے کہ متعدد مقامات پرلفظ کے معنی و مفہوم پر عرب شعراء اور انکے نثری کلام سے مفسرین نے استدلال کیا ہے اور آج بھی کیا جاتا ہے ۔اب آپ سے سوال یہ ہے کہ عرب کے نثری کلام یا اسکے بعد سے لیکر آج تک بیشمار قادرالکلام ادیب پیدا ہوئے کسی نے اپنے کلام میں لفظ ۔ انسانۃ ۔استعمال کیا ہے آپ ہمیں اس کا حوالہ ضرور دیجئے ۔ رجل، کے مقابلے میں ۔ ۔ امراءۃ۔ہے کیونکہ ۔رجل۔ آدمی کیلئے اورامرءۃ ۔عورت کیلئے مستعمل ہے ۔لیکن انسان کے مقابلے میں انسانۃ ۔ نہ کہیں میں نے پڑھا اور نہ ہی سنا ہے ۔ میں عربی زبان کا ماہر تو نہیں ہوں اور نہ کوئی اس کا دعوی کر سکتا ہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے اصحاب علم و فضل کی صحبتوں میں بیٹھکر اور عربی اصول و قواعد کی کتابوں سے دلچسپی رکھکر اتنی معلومات تو ضرور ہے کہ کون سا لفظ مستعمل ہے ،اور کون لفظ کس معنی میں مستعمل ہے کون لفظ زیادہ مستعمل ہے اور کون شاذ مستعمل ہے ۔
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,165
    عجیب ، جناب ،حوالہ دیا گیا ہے اور کونسا حوالہ چاہے ـجن کا حوالہ دیا گیا ہے ن کا تعلق عرب اور عربی سے تھا، میں نے اپنی طرف سے کچھ شامل نہیں کیا اور نا ہی اضافہ کیا ہے ـ تحقیق آپ کو کرنی ہے ـ اور ہمارے علم میں اضافہ کرنا ہے ـ اگر اس لفظ کا ثبوت موجود ہے ـتو وہ مستندہے ـ اور آپ کا یہ دعوی کہ کسی نے اپنے کلام میں یہ لفظ استعمال نہیں کیا ـ محض دعوی ہی ہے ـ جبکہ تین مثالیں تو اسی تھریڈ میں موجود ہیںـ جو کہ نیٹ سے ہی لی گئی ہیں ـ مزید سرچ کروائیں کئی حوالے مل جائیں گے ـ کسی لفظ کا کثیر الاستعمال نا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ متروک ہو چکا ـ
     
  6. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    عکاشہ صاحب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ دلیل کیلئے صرف زمانہ جاہلی کے شعراء کا کلام مستند ہے اور یہ کلام جس کو آپ نے پیش کیا ہے یہ مولدین شعراء کا کلام ہے اور مولدین شعراء کا کلام حجت نہیں ۔مزید معلومات کیلیے لسان العرب جو لغت کی معتمد اور مشہور کتاب ہے وہ لکھتے ہیں :ویقال للمراءۃ ایضا انسان ولایقال :انسانۃ ۔یعنی عورت کیلئے بھی ۔انسان ۔ ہی کہا جائیگا نہ کہ۔ انسانہ ۔ (لسان العرب ج1ص280،ط ۔دارالتوفیقیۃ للتراث۔ )صاحب القاموس المحیط لکھتے ہیں : والمراءۃ:انسان۔ و سمع فی شعر کانہ مولد۔ یعنی عورت کیلئے ۔۔انسان ۔۔ ہی بولا جائیگا اور شعر میں جویہ لفظ آٰٰیاہے وہ مولد کا کلام ہے اور یہ حجت نہیں (القاموس المحیط :ص 528،ط شرکۃ القدس للنشر والتوزیع )۔۔۔جناب آپنے محض دعوی کیا ہے اور وہ بھی بغیر سمجھے اور بغیر تحقیق کے ۔دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ لفظ عرب زبان میں مسلسل مستعمل ہو اور ایسا ہے نہیں ۔۔ اور یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کسی شخص یا کسی لفظ کا محض عربی ہونا حجت نہیں اسکیلئے کچھ قیود و شروط ہیں وہ اس فن کی کتابوں میں موجود ہیں وہاں دیکھ سکتے ہیں ۔۔ الحمد للہ میں نے صرف دعوی ہی نہیں کیا ہے بلکہ دلائل کی بنیاد پر بات کی ہے ۔دعوی تو آپکا ہے کہ نٹ پہ کوئی چیز دیکھی اور بغیر تحقیق کے حجت بنا لیا ۔حالانکہ نٹ کی بات کو بغیر تحقیق کے حجت بنانا صریح علمی غلطی ہے ۔پھر اربوں کھربوں کتابیں عربی زبان مین لکھی گئیں اور لکھی جا بھی رہی ہیں کسی نے عورت کیلئے لفظ ۔انسانۃ۔ استعمال نہیں کیا ہے ۔ اگر کسی نے استعمال کیا ہے تو دلیل کے ساتھ میرے علم میں اضافہ کیجئے۔واللہ اعلم بالصواب۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,165
    میں نے کہیں " دعوی " نہیں کیا؟؟ ۔ پہلی پوسٹ کو دوبارہ غور سے پڑھیں ۔ اور سوچ سمجھ کر لکھا کریں ،
    اور گفتگو کے اداب کا خیال رکھیں ۔ الزام تراشی نا کریں ۔ نا تو میں نے اپنی کوئی "تحقیق" مجلس پر پیش کی ہے ۔ اور نا ہی اپنی رائے پر کسی چیز کو " حجت " بنایا ہے ۔ اور نا ہی " کانٹ چھانٹ " کی ہے ۔
     
  8. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    الحمدللہ گفتگو کے آداب کا خیال رکھتے ھوئے علمی اندازاور دلائل کی زبان میں گفتگو کی ہے تاکہ آپ کے اور قارئین کے علم میں اضافہ ہوجاے کہ عورت کیلئے لفظ ۔انسانۃ۔ استعمال کرنا صحیح نہیں ہے اور نہ اس میں کسی کا اختلاف ہے جیسا کہ آپنے لکھا ہے ۔حجت صرف زمانہ جاہلی شعراء وادباء کا کلام ہے جو اپنے سلیقے پر تھے ۔مولدین شعراء اور ادباء کا کلام حجت نہیں ۔اور نہ ہی میں نے آپ پر کوئی الزام تراشی کی ہے بلکہ آپ کی بات کا جواب دیا ہے اوروہ بھی علمی زبان میں لغت کے حوالے کے ساتھ ۔اب اگر آپ اس علمی گفتگو کو الزام تراشی پر محمول کرتے ہیں تویہ آپ کی کوتاہ علمی ہے نہ کہ میری علمی گفتگو۔ اور صاحب علم ہمیشہ شرح صدر رکھتا ہے اور رکھنا بھی چاہئے کیونکہ کمال صرف اللہ کو حاصل ہے ۔انسان کتنا بھی علم میں اونچا ہوجاے لیکن غلطی کا امکان و احتمال رہتا ہے ۔اور یہی انسان ہونے کی دلیل ہے اسی لئے امام مالک رح نے دینی معاملے میں بڑی عمدہ بات کہی تھی کہ کسی کی بات کو لیا بھی جا سکتا ہے اور چھوڑا بھی جاسکتا ہے سواے اس قبر والے کی بات کے کہ اسے لینا ہی لینا ہے۔
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,165
    دعوی ، کانٹ چھانٹ ،حجت ، تحقیق یہ سب کیا ہے ۔ کیا یہ علمی دلائل ہیں ؟ یہ تمام الزمات ثابت کریں ۔ کہ میں نے کوئی کوشش کی ۔ ؟؟
    میں نے کہاں لکھا ہے کہ زمانہ جاہلی شعراء کا کلام حجت ہوتا ہے؟؟
    اور یہ بھی بتائیں کہ مولدین شعراء اور ادباء کا کلام حجت نہیں، وضاحت کریں کس نے ایسا کہا ہے ؟
    اما مالک کا قول بہت اچھا ہے ۔ کس کو انکار ہے ۔ لیکن میں نے کہیں صاحب علم ہونے کا دعوی نہیں کیا ۔۔ براہ مہربانی دھیان موضوع کی طرف رکھیں ۔ شکریہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں