محققین کے لیے رہ نمائی

ابوعکاشہ نے 'ادبِ لطیف' میں ‏جولائی 31, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,108
    محققین کے لیے رہ نمائی

    ڈاکٹر محمد عمرچھاپڑا



    ڈاکٹر محمد عمر چھاپڑا عہد حاضر کے نام ور اسلامی اسکالر ہیں۔ اسلامی معاشیات پر ان کی گہری نگاہ ہے۔ وہ اس وقت اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامک ڈیولپمنٹ بینک، جدہ کے سینئر ایڈوائزر ہیں۔ ان سے کسی مجلس میں سوال کیاگیا کہ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں علمی وتحقیقی کام کرنے والوں کے لیے کچھ ضروری مشورے دیں ۔ زیر نظر مضمون اسی سوال کا جواب ہے۔ اس کی افادیت کے پیش نظر عالمی ترجمان القرآن لاہور کے شکریے کے ساتھ اسے زندگی ٔ نو میں بھی شائع کیا جارہا ہے— ﴿ادارہ﴾

    تحقیقی کام کے سلسلے میں پہلی چیز جو ہماری نگاہ میں رہنی چاہیے وہ یہ ہے :

    فَانَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً ۔انَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً ۔﴿نشرح:۵،۶﴾

    ’’پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے‘‘۔

    تنگی یا مشکل سے مراد ہے محنت۔کیوں کہ محنت کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اگر آدمی محنت کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا پھل ملتا ہے ۔ اس کے بغیر زندگی میں کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے محنت کو اپنی عادت بنائیں۔ مثلاً اگر عربی نہیں آتی تو اسے سیکھنے کی کوشش کریں۔ ضروری نہیں ہے کہ کسی ادارے میں جاکر ہی سیکھی جائے، گھر میں بیٹھ کر بھی سیکھی جاسکتی ہے۔ عربی سیکھنا تو ویسے بھی بہت ہی ضروری ہے۔ کیوں کہ جب تک آپ عربی نہیں جانیں گے تو قرآن حکیم کی مٹھاس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ترجمہ پڑھنا تو ایسا ہی ہے کہ آپ کے پاس شہد آیا اور کسی نے اُس کی شیرینی نکال دی اور باقی آپ کو دے دیا۔ عربی سیکھنا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ کتاب عربی کا معلم جو کہ چار جلدوں پر مشتمل ہے ، اس کام کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ آج کل تو عربی سیکھنے کے جدید طریقے سامنے آگئے ہیں۔ جن سے عربی سیکھنا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ قرآن وحدیث کو عربی میں سمجھے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ عام آدمی کے لیے تو یہ نہیں کہا جاسکتا لیکن جو لوگ اسلامک اسٹڈیز میں کام کر رہے ہیں ، ان کے لیے عربی کے بغیر کوئی مفر نہیں ہے۔ اگر آپ عربی نہیں سیکھ رہے ہیں تو آپ اسلام کی اچھی طرح خدمت نہیں کرسکتے۔

    جہاں تک تحقیق کا تعلق ہے تو اس کام میں محنت کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ اگر آپ اس کے لیے تیار نہ ہوں اور گھنٹوں کے حساب سے ٹیلی ویژن پر وقت صرف کریں ، تو زندگی میں کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ خصوصاً علمی کام تو ہوہی نہیں سکتا۔ ٹیلی ویژن سے حاصل شدہ معلومات محض وقتی ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں آپ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو وہ آپ کو یاد رہتی ہے ۔ اگر کچھ پڑھا ہوا بھول گئے ہیں تو دوبارہ کتاب دیکھ سکتے ہیں۔ جتنا زیادہ مطالعہ کرسکیں، کیجیے۔ مطالعے کابھی طریقہ یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد نوٹس لیں۔ اگر لائبریری کی کتاب ہے تو اپنے کارڈ پر یا کسی اور جگہ نوٹس لے لیں۔ اگر آپ کوئی مقالہ لکھ رہے ہیں تو اس کے نوٹس بنائیے ۔ موضوع کی مناسبت سے پڑھیں اور نوٹس لیں۔ اس کے بعد اپنے خاکے (Outline) کی مناسبت سے لکھیں۔

    ہمارے ہاں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تحریر کے معاملے میں پہلی کوشش ہی کافی ہے اور اس سے زیادہ بہتر تو لکھا ہی نہیں جاسکتا۔ اگر تکبر کا عنصر آجائے تو وہاں علم کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ تکبر اور علم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اپنے لکھے ہوئے کو کئی مرتبہ دہرائیں۔ گیل وریتھ جو کہ ایک بہت بڑا مصنف ہے، اس کا کہنا ہے کہ میں اپنی تحریر کو کئی مرتبہ دہرانے کے بعد مطمئن ہوتا ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کام میں بہت وقت اور محنت لگتی ہے، لیکن اس کے بغیر کام بھی نہیں بنتا۔ لکھے ہوئے کو خود بھی دہرائیں اور دوسروں کو تبصرے کے لیے دیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ تبصرے کے لیے دیتے ہیں تو صرف تعریف کی امید رکھتے ہیں۔ اگر آپ نے ان پر کوئی تنقید کردی تو ان کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ یہ رویہ ہوتو بہت زیادہ سیکھا نہیں جاسکتا۔ اس کے لیے بھی تیار ہونا چاہیے کہ اگر کوئی غلط قسم کی تنقید بھی کردے تب بھی ناراض نہ ہوں۔ اچھی طرح غور کرکے دیکھیں کہ اس کی تنقید درست ہے یا نہیں۔ درست ہے تو اپنی تحریر کو بہتر بنائیں اور صحیح نہیں ہے تو اس کو چھوڑ دیں۔

    کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اچھے رسالے کے لیے مقالہ لکھیں اور محنت سے لکھیں۔ اس کے بعد بھی اس چیز کے لیے تیار رہیں کہ مبصرین کے جو تبصرے آئیں گے اس کی مناسبت سے آپ اس میں بہتری لائیں گے۔ گویا سب سے پہلے محنت، بہت سا مطالعہ کرنا اور خاص طور سے اگر کوئی مضمون لکھنا ہے تو اس سے متعلق چیزوں کا مطالعہ کرنا ، نوٹس لینا، پھر مقالہ لکھنا ، اس کو کئی بار دہرانا ، لوگوں کو تبصرے کے لیے دینا اورتبصروں کی مناسبت سے دہرانا ہے۔ پھر فَانَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراًکے مصداق آپ کو آپ کی محنت کا صلہ مل جائے گا۔ آپ کو خوشی ہوگی جب آپ کا مقالہ کسی عمدہ رسالے میں چھپے گا، لوگ اس پر اچھے تبصرے کریں گے اور آپ کی عزت بڑھے گی۔ جو محنت کرنے اور تنقید سننے کے لیے تیار نہیں ہے وہ عالم نہیں بن سکتا۔ ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ افراد کے لیے تو اور بھی ضروری ہے کہ وہ اپنا مطالعہ وسیع تر کریں۔ اگر ٹی وی دیکھتے ہیں تو اس کے دورانیے کو کم کریں اور وہ وقت مطالعے میں صرف کریں۔ شام کو گھر پر جاکر ضرور مطالعہ کریں۔پڑھنے لکھنے والوں کے لیے تو فارغ وقت ہوتاہی نہیں ، انھیں سارا وقت محنت کرنی ہے۔ گھر جاکر بھی پڑھنا ہے ، دفتر میں بھی مطالعہ کرنا ہے۔ چھٹی والے دن اور معمول کے دنوں میں بھی، فرق صرف یہ ہونا چاہیے کہ چھٹی کے دن آدمی گھر میں کام کرے اور اس کا دفتر آنے جانے کا وقت بچے ۔ زندگی میں اپنے سامنے اس بات کو نشانِ راہ کے طور پر رکھیں:

    ’’محنت کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا، اور محنت کے ذریعے سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔

    باہر کے ممالک میں تحقیق کے لیے بہت زیادہ محنت کرتے ہیں جو ہمارے ہاں نہیں ہے۔ یہاں لوگ محنت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسرے ممالک میں لوگ اپنے مقالہ جات کو خود بار بار پڑھتے ہیں، لوگوں کو بتاتے ہیں ، تبصرے لیتے ہیں، لوگوں کے ساتھ اس پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں اور اس دوران میں نوٹس لیتے رہتے ہیں۔ ان کی روشنی میں مقالے کو مزید بہتر کرتے ہیں۔ یہ ایک اسکالر کی صفات ہیں۔ بعض اوقات آپ کی تحریر پر بہت سخت قسم کی تنقید بھی ہوسکتی ہے لیکن تنقید کرنے والے سے ناراض ہونے سے کام نہیں چل سکتا۔

    بعض اوقات دفتروں کے اندر بھی لوگ ٹانگ کھینچتے ہیں اور سازشیں بھی کرتے ہیں۔ ان چیزوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ کیوں کہ مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اور جب تک اللہ نہ چاہے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ۔ قرآن حکیم میں کئی مقامات پر اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بظاہرآپ کے خلاف کسی نے سازش ہی کی ہو، لیکن بعد میں آپ کو پتا چلے کہ یہ تو آپ کے حق میں بہت بہتر ہوگیا۔

    وَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْئاً وَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ۔ ﴿البقرہ:۲۱۶﴾
    ’’ممکن ہے تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمھارے حق میں اچھی ہو‘‘۔

    خود میرے ساتھ بہت سے مواقع پر ایسا ہوا کہ شروع میں محسوس ہوا کہ جیسے یہ بہت برا ہوا لیکن بالآخر اس کا نتیجہ میرے حق میں بہتر ہی رہا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو ترقی نہ ملے اور آپ اپنے افسر کو برا بھلا کہنے لگیں لیکن ترقی دینے والا آپ کا افسر بالا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اگراللہ نے چاہا تو آپ کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا اوراگر اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا تو کوئی ترقی دے نہیں سکتا۔ ہمارایہ عقیدہ مضبوط ہو کہ جتنا ہمیں ملے گا ،اللہ ہی کی ذات سے ملے گا اور اسی کے سامنے آدمی دستِ طلب بھی دراز کرے، اور اسی کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرے تو زندگی میں ترقی ہی ترقی ہے۔

    بشکریہ ،،ماہنامہ نئی زندگی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    عمدہ تجاویز ہیں ما شاء اللہ۔
    اللہ ہمیں بھی محنت اور لگن سے کام کی توفیق دے۔

    میرے خیال سے ڑ نہیں ر ہے یہاں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. محمدعتیق الرحمان

    محمدعتیق الرحمان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2015
    پیغامات:
    10
    ماشاءاللہ ۔ اچھی تحریر ہے جو کہ رہنمائی کے قابل ہے ۔اللہ ڈاکٹر صاحب کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے (آمین)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں