فضائی آلودگی کے انسانی طبیعت پر اثرات

عفراء نے 'ادبِ لطیف' میں ‏اگست 6, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    اچھے یا برے ماحول کا اثرانسانی طبیعتوں پر پڑتاہے۔جب دم گھٹے گا،ناک میں دھواں جائے گا، توعین ممکن ہے کسی کے لیے منہ سے کوئی برا لفظ نکل جائے یا بددعانکلے۔ اس کے برعکس اگر فضا خوش گوارہوگی،سبزہ، درخت اور پھول پھلواری نظر آئے گی تو طبیعت میں انبساط پیداہوگا۔ مجھے فضل کریم احمد فضلی کے ناول خون جگر ہونے تک کا ایک نمایاں کردار ذلیل الدّی یاد آرہا ہے، جو ایک غریب شخص تھا مگر بلبل کی آواز سن کر خوش ہوتااور جھوم جھوم جاتا۔ پھردن یارات کے کسی لمحے وہ تصور ہی تصور میں بلبل کی آواز کو یاد کرکے ایک خودساختہ مصرع پڑھا کرتاتھا ع
    بلبل کی چیں چیّ میں آوازِ مرحبا ہے
    کائنات میں سب سے اہم چیز کیاہے؟ ’انسان‘ اگر وہی پریشان ہے،مضطرب اور بے چین ہے اور فضائی آلودگیوں کے سبب طرح طرح کے امراض کا شکار ہورہاہے تو پھریہ ترقی، تیزرفتار میٹرو، اُونچے اُونچے پلازے اور دولت کی ریل پیل سب کچھ ہیچ ہے۔ اگر ماحول بہتر نہ بنایا گیاتو بیماریاں بڑھتی جائیں گی۔طرح طرح کے وائرس اور جراثیم انسان کو سکون کاسانس نہیں لینے دیں گے۔


    اقتباس از کراچی کا المیہ اور ماحولیات
    ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
    بشکریہ عالمی ترجمان القرآن- اگست 2015
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,123
    جزاک اللہ خیرا
    اس طرف واقعی توجہ کرنی چاہیئے اور کیا اقدامات ہو سکتے ان کا بهی بتایا جانا چاہیئے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    وایاک
    جی۔ اقدامات کے لیے ماہرین یہی کہتے ہیں کہ درختوں کو نہ کاٹا جائے اور زیادہ سے زیادہ درخت اگائے جائیں تاکہ وہ فضا کی آلودگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکیں۔
    اس مضمون میں کراچی میں حالیہ گرمی کی شدت کی وجہ بھی یہی بتائی گئی کہ سڑکوں کو چوڑا کرنے کے لیے درختوں کا صفایا کیا گیا، حالانکہ ٹریفک کا بہاؤ تیز کرنے میں سڑکوں کی چوڑائی زیادہ کرنے کے بجائے ٹریفک کے اصولوں کی پابندی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔
    سورج کی گرمی سے تارکول کی سڑکیں اور سیمنٹ اورسریے وغیرہ سے بنائی گئی عمارتیں حدت میں مزید اضافہ کرتی ہیں جبکہ درخت زہریلے مادوں کو اپنے اندر جذب کر کے آکسیجن کی فراہمی میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    یہ کام تو حکومتی سطح پر کرنے والے ہیں لیکن ہم اپنے طور پر ماحول دوست اقدامات کر سکتے ہیں۔ مثلا اپنے گھروں میں باغبانی وغیرہ کو فروغ دیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,435
    جزاک اللہ خیرا.
    یقینا درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور ان کی حفاظت ایک ملی فریضہ ہے.ملک بھر میں گرمی کی شدت کی ایک بڑی وجہ جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,123
    میرے خیال میں ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے عوام کی مدد کے بغیر حکومت کچه نہیں کر سکتی.
    درختوں کے علاوہ ہم اپنے ارد گرد کی صفائی کا خیال رکهیں.
    ایک واقعہ ہم ایک دفعہ کسی وادی میں گئے بچی نے ڈسپوزل استعمال شدہ کپ پهینک دیا میں کہا یہ کیا اس کو یہاں نہ پهینکو تو ایک خاتون بولی تو کیا ہوا یہ کونسا گهر ہے ؟
    جہاں سوچ کا حال یہ ہو وہاں ماحول کیا صاف رہے گا.
    گهر کے علاوہ ہم جہاں بهی ہوں صفائی کو دوسروں کا کام اور گندگی بکهیرنا اپنا فرض سمجهتے ہیں .اکثرہت کا یہ حال ہے .
    سفر کے دوران باته رومز اور راستوں میں گندگی کے وہ مناظر کہ دل جل اٹهتا ہے.
    اللہ ہمیں هدایت دے .آمین یا رب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں