ايک اور امريکی منصوبہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اگست 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    زرعی فروخت میں اضافہ اور فنی صلاحیتوں میں بہتری کے لئے امریکی منصوبہ

    اسلام آباد (۶ اگست، ۲۰۱۵ء)__ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے پاکستان میں نئے سربراہ جون گرورکی نے آج زرعی منڈی کی ترقی کے لئے پاک امریکہ مشترکہ منصوبے (اےایم ڈی ) کا افتتاح کیا۔ امریکی حکومت کی مالی اعانت سے شروع کئے گئے اس پروگرام کےتحت ۲۱ ملین ڈالر مالیت پر مشتمل گرانٹس، تربیتی نشستوں اور تکنیکی مہارتوں میں بہتری کے ذریعہ کھیتی باڑی اور جانوروں کے افزائش کے طریقوں میں بہتری لا کرپاکستانی گوشت، سبزیوں، آم اور رس دار پھلوں کی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھا کر اگلے چار سال کے دوران آمدن کو ۱۴۰ ملین ڈالر مالیت تک فروغ دیا جائےگا۔

    یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر گرورکی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ پاکستانی زرعی شعبہ کو اہم ترین ترجیح کا حامل سمجھتے ہوئے پاکستان کے لوگوں کے لئے معاشی ترقی اورروزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئےانتہائی پُر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ حکومت پاکستان کے اشتراک سے امریکی سرمایہ کاری سے پاکستانی کسانوں اور بین الاقوامی منڈیوں کے مابین روابط کو بڑھایا جائے گا تاکہ ایک خوشحال، مستحکم اور خوراک کے حوالے سے محفوظ ملک بنایا جاسکےگا۔

    اے ایم ڈی پروگرام کو وضع کرنے کا مقصد کسانوں کے لئے دستیاب جدید ترین ، کار آمد اور ماحول دوست مہارتوں کی فراہمی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کاروباری مراکز بھی قائم کئے جائیں گے تاکہ کسان، خریدار، اور فروخت کنندہ کے درمیان فاصلوں کو کم کیا جا ئے تاکہ پاکستانی اجناس دنیا بھر کے باورچی خانوں تک رسائی حاسل کر سکیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ۴۰ فیصد پاکستانی زرعی شعبہ سے منسلک ہیں اور جہاں ملک کی ۲۱ فیصد خام ملکی پیداوار زراعت کے شعبہ سے حاصل کی جا رہی ہو، اس اقدام کے ذریعہ فروخت اور سرمایہ کاری کو ۱۴۰ ملین ڈالر سے زیادہ تک بڑھائے جانے کی امکانات موجود ہیں۔

    یو ایس ایڈ کے معاشی ترقیاتی پروگرام کے تحت ۲۰۱۲ء سے اب تک۲۳۰۰۰ روزگارکے مواقع پیدا کئے گئے ہیں اور ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کسانوں کے لئے تقریبا ساٹھ ہزار ہیکٹرز رقبہ پر جدید ترین تکنیک اور انتظامی طور طریقہ متعارف کروائے گئے ہیں۔ یو ایس ایڈ کے معاشی اور زرعی پروگراموں کے بارے میں مزید جاننے کے لئےیہ ویب سائٹ دیکھئے:

    http://www.usaid.gov/pakistan/economic-growth-agriculture

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,367
    کوئی بتائے اس منصوبہ کا کیا کریں ہم ۔ اچار ڈالیں ۔۔ پہلے والے منصوبوں میں کونسا تیر مارلیا ہے
     
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکی امداد پاکستانی قوم کی تقدير بدل سکتی ہے۔ يہ توقع بھی حقيقت پر مبنی نہيں ہے کہ امريکہ پاکستان کو کوئ ايسا نظام دے سکتا ہے جس کی بدولت پاکستان کو درپيش تعليم، بجلی، خوراک اور صحت سے متعلق تمام مسائل حل کيے جا سکتے ہيں۔ اس ضمن ميں فيصلہ کن کردار اور ذمہ داری پاکستانی عوام، ان کے منتخب قائدين اور پارليمنٹ ميں موجود ان افراد کی ہے جو قانون بناتے ہيں۔ اسی مقصد کے لیے انھيں ووٹ ڈالے جاتے ہيں۔

    امريکی امداد کا مقصد ذرائع اور وسائل کا اشتراک اور ترسيل ہے جس کی بدولت ممالک کے مابين مضبوط تعلقات استوار کيے جا سکيں۔ عالمی سطح پر دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ باہمی مفاد کے ايسے پروگرام اور مقاصد پر اتفاق راۓ کیا جاۓ جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ اسی تناظر ميں وہی روابط برقرار رہ سکتے ہيں جس ميں دونوں ممالک کا مفاد شامل ہو۔ دنيا ميں آپ کے جتنے دوست ہوں گے، عوام کے معيار زندگی کو بہتر کرنے کے اتنے ہی زيادہ مواقع آپ کے پاس ہوں گے۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوۓ امداد کے عالمی پروگرامز دو ممالک کے عوام کے مفاد اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے ليے ايک دوسرے کی مشاورت سے تشکيل ديے جاتے ہيں۔

    موجودہ دور ميں جبکہ ساری دنيا ايک "گلوبل وليج" کی شکل اختيار کر چکی ہے پاکستان جيسے نوزائيدہ ملک کے ليے امداد کا انکار کسی بھی طرح عوام کی بہتری کا سبب نہيں بن سکتا۔ يہ بھی ياد رہے کہ يہ بھی باہمی امداد کے پروگرامز کا ہی نتيجہ ہے پاکستانی طالب علم اور کاروباری حضرات امريکہ سميت ديگر ممالک کا سفر کرتے ہيں اور وہاں سے تجربہ حاصل کر کے پاکستانی معاشرے کی بہتری کا موجب بنتے ہيں۔

    پاکستان وہ واحد ملک نہيں ہے جسے امريکی امداد ملتی ہے۔ کئ ممالک اس امداد سے استفادہ حاصل کرتے ہيں۔ اس کے علاوہ يہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ امداد صرف امريکی حکومت ہی فراہم نہيں کرتی بلکہ کئ نجی تنظيميں اور ادارے بھی اس ضمن ميں کليدی کردار ادا کرتے ہیں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لئے معاونت

    اسلام آباد (۲۴ اگست ، ۲۰۱۵ء)__ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے آج یہا ں یو ایس ایڈ کی زرعی ٹیکنالوجی کانفرنس میں پاکستان کے زرعی شعبے میں ہونے والی نئی کامیابیوں کو سراہا۔ جان گرورک نے کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی سلامتی و تحقیق سکندر حیات بوسن کے ہمراہ ۲۰۰ پاکستانی کسانوں، سائنسدانوں اور زرعی رہنماؤں سے ملاقات کی، جنہوں نے یو ایس ایڈ کے زرعی جدت کے پروگرام (ایگریکلچرل انوویشن پروگرام) کے تحت ممکن بنائی جانے والی نئی زرعی ٹیکنالوجیز کو اجاگر کیا۔

    یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نےکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس چارسالہ پروگرام کے نصف سفر میں ہی اس پروگرام کے مثبت نتائج دیکھ رہے ہیں۔ یہ نتائج اس امرکے عکاس ہیں کہ امریکہ اور پاکستان مشترکہ طور پر کام کرتے ہوئے پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی و خوشحالی کا حصول اور اس سے آگے پیش قدمی کرسکتے ہیں۔

    ۲۰۱۳ ءمیں شروع ہونے والا زرعی شعبے میں جدت کا یہ پروگرام یو ایس ایڈ، انٹرنیشنل میز اینڈ ویٹ امپروومنٹ سینٹر (سیمٹ) اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کا منصوبہ ہے۔ ۳۰ ملین ڈالر کے اس چارسالہ منصوبے کے تحت گرمی کے خلاف مزاحمت کی حامل مکئی، زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل گندم کی فصلوں، مویشیوں کے حفاظتی ٹیکوں اور کم پانی پر انحصار کرنے والے چاول کی کاشت کے جدید طریقے اور دیگر تکنیکس وضع کی گئیں۔ آئندہ دو سال کے عرصے کے دوران یہ پروگرام ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی دشواریوں سے نمٹتے ہوئے پاکستانی کسانوں کو اپنے منافع میں اضافہ کرنے میں مدد جاری رکھے گا۔

    سال ۲۰۱۲ ءسے اب تک یو ایس ایڈ کے معاشی ترقی کے پروگرام کی بدولت ۲۳ ہزار سے زائد روزگار کے مواقع میسر آئے اور ۶۰ ہزار ہیکٹرز کے رقبے پر ایک لاکھ ۱۸ ہزار سے زائد کسان نئی ٹیکنالوجیز اور جدید انتظامی طورطریقوں سے روشناس ہوئے ہیں۔ یو ایس ایڈ کے معاشی ترقی اور زراعت سے متعلق پروگراموں کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کیجئے۔


    http://www.usaid.gov/pakistan/economic-growth-agriculture

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  5. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹف

    قوانین اردو مجلس فورم کے مطابق واضح انسانی تصاویر کا استعمال منع ہے ۔ آئندہ خیال رکھا جائے ۔ انتظامیہ ۔ شکریہ

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی مدد سے پاکستان میں بجلی کی ترسیل اور پاور کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ

    اسلام آباد (۲۷اگست ، ۲۰۱۵ء) __ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے اقتصادی و ترقیاتی معاونت کے کوارڈینیٹر لیون وسکن اور چئیر مین نیپرا بریگیڈ یر ریٹائرڈ طارق صدوزئی نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے پاور دسٹریبوشن پروگرام کی کامیاب تکمیل کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی۔ دو سو اٹھارہ ملین امریکی ڈالر مالیت کا یہ پانچ سالہ پروگرام امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بہتری کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سمارٹ میٹرز اور چوری روکنے والے تاروں جیسی جدید اصلاحات کو پاکستان میں متعارف کروایا گیا جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصان میں کمی اور منافع میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

    اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیون وسکن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت توانائی کی بلا تعطل اور مسلسل فراہمی اور ایک روشن و ترقی یافتہ پاکستان کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی۔

    پاور دسٹریبوشن پروگرام نے پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے نظام میں متعد د جدید ٹیکنالوجیز متعارف کروائی ہیں جس کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی سالانہ آمدنی میں چار سو ملین ڈالر کا اضافہ ہوا اور دو سو میگا واٹ بجلی کی بچت ممکن ہوئی جس سے تیس لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

    ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۵ء کےعرصے میں اس پروگرام کے ذریعے بتیس ہزار سے زیادہ توانائی کے ماہرین کو تربیت فراہم کی گئی ، بجلی کے بہاؤ کی رفتار کی پیمائش کے جدید میٹرز کی تنصیب کی گئی اورصارفین کے لیے بلنگ سسٹم میں بہتری لائی گئی ۔ اسی پروگرام کے تحت زرعی پمپس پر بجلی کے ضیاع کو روکنے کے لیے نوے ہزار کپیسٹرز بھی لگائے گئے ، دولاکھ ساٹھ ہزار میٹر طویل تقسیم کار تاروں کو تبدیل کیا گیا اور تقسیم کے نظام میں بہتری کے لیے کئی اور آلات بھی فراہم کیے گئے ۔

    توانائی کے شعبے میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانیوالی اعانت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے وزٹ کریں

    (http://www.usaid.gov/pakistan/energy).

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 29, 2015
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    فاٹا کے ۷۶طالبعلموں کی جانب سے اعلیٰ ثانوی تعلیم کا حصول

    اسلام آباد (یکم اکتوبر، ۲۰۱۵ء)__ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے ۷۶ طالبعلموں نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران اعلیٰ ثانوی تعلیم کی اسناد وصول کیں۔ معاشی امور ڈویژن کے سیکریٹری محمد سیٹھی اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نےفاٹا کے ان طلبہ میں اسناد تقسیم کیں، جنہوں نے ’’یو ایس ایڈ فاٹا اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے تحت اعلیٰ ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اسناد کی تقسیم کی خصوصی تقریب یکم اکتوبر کو یہاں منعقد ہوئی، جس میں متعدد طلبہ نے زندگی تبدیل کرنے والے اپنے تجربات اور مزید تعلیم کے لئے اپنے جذبات کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

    ’’یو ایس ایڈ فاٹا اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے تحت جس کا آغاز ۲۰۰۸ء میں ہوا تھا، تعلیم کے جذبے سے سرشار، انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے، فعال تعلیمی پروگرام کے خواہشمند اور اپنے علاقے سے باہر بورڈنگ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل طلبہ کووظائف دیئے گئے۔

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے پائیدارتعاون اور ایک محفوظ، توانا اور خوشحال پاکستان کے امریکی عزم کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے والے یہ طلبہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب دونوں ملک ملکر کام کریں تو کس قدر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اسکالرشپ حاصل کرنے والے خیبرایجنسی کے ایک طالبعلم حامد اللہ نے ،جنہیں تعلیم کے لئے اسلامیہ کالج، پشاور بھیجا گیا، کہا کہ تعلیم سے میری بصیرت میں وسعت آئی ہے ، میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں اور ایک اچھے میڈیکل کالج میں داخلے کے حصول کے لئے بہت محنت سے مطالعہ کررہا ہوں۔ حامد اللہ کا کہنا تھا کہ میں تعلیم کے حصول کا یہ موقع فراہم کرنے پر امریکی عوام کا شکریہ کبھی بھی پوری طرح ادا نہیں کرسکتا۔

    باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالبعلم ذاکر اللہ ،جنہوں نے بھی اسلامیہ کالج میں تعلیم حاصل کی، کا کہنا تھا کہ ہم اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہمیں یہ وظائف ملے۔ اس سے ہمیں پاکستان کے معروف ترین کالجوں میں سے ایک کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔

    تعلیم کے شعبے اور فاٹا میں یو ایس ایڈ کے اقدامات کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    www.usaid.gov/pakistan

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    [​IMG]

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکی زرعی ماہرین کی جانب سے پودوں کو کیڑوں اور بیماریوں

    سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے پاکستانی حکام کی تربیت

    اسلام آباد (۲۰ اکتوبر، ۲۰۱۵ء)__ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے)کی اینیمل اینڈ پلانٹ انسپکشن سروس کے ایک تجزیہ کار اور ایک برآمدات کے رابطہ کار نے زرعی پودوں کے تحفظ کے پاکستانی محکمے اور دیگر متعلقہ حکام کے لئے پودوں کو کیڑا لگنے کے خطرات کا تجزیہ، ان خطرات پر قابو پانے اور رابطوں کی اہمیت سے متعلق تربیت کا اہتمام کیا۔ یہ تربیت زرعی اشیاء کی برآمد بڑھانے کے لئے حکومت پاکستان کی کوششوں میں بین الاقوامی معاونت کا حصہ تھی۔ تربیت کے مقاصد پودوں کی صحت کے نظام اور زرعی سائنس کے شعبے کے حکام کے علم میں اضافہ کرنا اور امریکی محکمہ زراعت اور پودوں کی صحت کے لئے کام کرنے والے پاکستانی حکام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا تھا۔

    امریکی محکمہ زراعت کی ایکسپورٹ کوآرڈینیٹر محترمہ لوٹی ایرکسن نے تربیت کے دوران کہا کہ حکومت پاکستان نے برآمدی زرعی مصنوعات کی قدر اور معیار میں اضافے کے لئے حالیہ برسوں کے دوران ناقابل یقین پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پودوں کے تحفظ کے کام پر مامور عملے اور ان کی مہارتوں کو وسعت دینے کے لئے پودوں کے تحفظ کے پاکستانی محکمہ کے اقدامات میں معاونت پر امریکی محکمہ زراعت کو از حد خوشی ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت کے رسک اینالسٹ والٹر گُٹیریز نے پودوں کو کیڑا لگنے کے خطرات کے تجزیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند پودوں سے متعلق قواعد ضوابط کا مقصد ملک کی مجموعی زراعت اور زرعی شعبے کے کاروباری شراکت داروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ محفوظ تجارت کے ہدف کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ درآمدی و برآمدی مصنوعات لازمی طور پر کیڑوں اور بیماریوں سے پاک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پودوں کے تحفظ کے محکمہ کو پودوں کو ممکنہ کیڑوں اور بیماریوں سے،جو زرعی مصنوعات میں ہوسکتی ہیں، لاحق خطرات کا ٹھوس سائنسی، بااعتبار اور قابل دفاع تجزیہ کے ذریعے تعین کرنا چاہئے ۔

    زراعت پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے جس کا خام ملکی پیداوار میں حصہ ۲۱ فیصد سے زائد ہے۔ زراعت سب سے زیادہ روزگار مہیا کرنا کرنےوالا شعبہ ہے ، جس سے مجموعی افرادی قوت کا ۴۶ فیصد حصہ منسلک ہے۔ دیہی علاقوں کی ۶۲ فیصد کے قریب آبادی کے لئے زراعت روزہ مرہ کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ امریکی محکمہ زراعت پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافے، معاشی اہدف کے حصول اور غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پاکستانی سائنسدانوں اور کسانوں کی معاونت کرتا ہے


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    پاکستانی زرعی اداروں، امریکی محکمہ زراعت اور آئی سی اے آر ڈی اے کے زیر اہتمام زمین کی بہتر نگہداشت کا منصوبہ

    اسلام آباد (۳۰ ِاکتوبر، ۲۰۱۵ء)__ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے فنی ماہرین نے ۲۹ اور ۳۰ اکتوبر کو مقامی شراکت کاروں کے ساتھ اپنے دوسرے سالانہ اجلاس میں حصہ لیا۔ اڑھائی سال پر محیط ایک اعشاریہ چار ملین ڈالر لاگت کے اس منصوبے کامقصد پاکستان میں زمین کی زرخیزی اور پیداوار میں اضافہ ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت اور انٹر نیشنل سینٹر فار ایگریکلچرل ریسرچ اِن ڈرائی ایریاز (آئی سی اے آر ڈی اے) اور ۱۰ پاکستانی اداروں کے اشتراک کار سے پاکستانی کسانوں کوزمین کی زرخیزی اور پیداوار میں اضافے کے لئے پانی کےبہتر استعمال اورفصلوں کو زیادہ غذائی اجزاء کی فراہمی کے بارے میں آگاہ کی جاتا ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت کے ماہر کاشتکاری مائیک کوچیرا نے کہا کہ پاکستان کی زمین کے وسائل کا صحیح استعمال اور اس میں بہتری کا دارومدار چار نکات پرمنحصر ہے: درست غذائی اجزاء ،درست مقدار میں ،درست وقت پر اور درست جگہ استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کو فصلوں بھوسہ اور چھلکے سے ڈھانپنے، ڈھانپی ہوئی فصلوں کے بہتر استعمال، زمیں کے ٹوٹ پھوٹ کو روکنے، سال بھر تندرست جڑوں کو برقرار رکھنے اور فصلوں کی باری باری کاشت ایسے طریقے ہیں جن سے پاکستان کی آئندہ نسلوں کو بہتر پیداوار کی حامل زمین برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

    اس منصوبے کے تحت جن نت نئے طریقوں کے ذریعے کسانوں کو رہنمائی کی گئی اُن میں کیلوں کے پتوں اور درختوں کے ذریعے زمین کیلئے نامیاتی مادوں کی تیاری،حیاتیاتی کھاد کے استعمال سے روایتی کھاد کو موثر بنانا،بغیر کھیتی کے پرانی فصلوں کے ذریعے بیج کی براہ راست کاشت، گوبر کا استعمال اور بہتر منافع حاصل کرنے کیلئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فرٹیلائزر پریڈکشن ماڈل کوبروئے کار لاکر نائٹروجن کھاد کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب شامل ہیں۔

    زمین کی زرخیزی کے ماہر ڈاکٹر محمد اسلم نے،جو کہ آئی سی اے آر ڈی اےسےبھی منسلک ہیں ، کہا کہ گوبر اور گلے سڑے پتوں کااستعمال فصلوں کیلئے بہت ضروری ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت اورانٹرنیشنل سینٹر فار ایگریکلچرل ریسرچ اِن دی ڈرائی ایریاز(آئی سی اے آر ڈی اے) صوبہ بلوچستان، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں تین صوبائی زرعی تحقیقی اداروں، دوپاکستانی جامعات، تین پاکستان زرعی تحقیقی کونسل کے اداروں، ایک صوبائی زرعی توسیعی محکمہ اورایک پاکستانی این جی او کے ساتھ اشتراکِ کار میں مصروف عمل ہیں۔اس منصوبے کے تحت امریکی محکمہ زراعت کے فنی ماہرین نے ان پاکستانی اداروں کو زمین کی نشوونما کی نگرانی کے حوالے سے تربیت فراہم کی ہے ۔اس سلسلے میں کسانوں اور زرعی خدمات فراہم کرنے والے افراد کیلئے مختصر دورانئے کی ویڈیوز بھی تیار کی گئی ہیں۔ کھیتوں میں عملی مظاہرے، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگراموں اور شراکت کاراداروں کی دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بیشتر کسانوں میں آگہی پیدا ہوئی کہ وہ کیسے زمین کی نشوونما اور پیداوار میں اضافہ کر کے غذائی قلت کا خاتمہ کر سکتے ہیں


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  9. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکہ کی جانب سے فاٹا کے متاثرین کی واپسی کیلئے ۳۰ ملین ڈالر اعانت کا اعلان

    پشاور (۴ نومبر ، ۲۰۱۵ء) ___ حکومت ِ ریاستہائے امریکہ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کے بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی کیلئے ۳۰ ملین ڈالر کی اعانت کا اعلان کیا ہے۔


    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی( یو ایس ایڈ) کی جانب سے فراہم کردہ رقم اسکولوں کی تعمیر نو، روزگار کے لئے تربیت، کاشتکاری کے طریقوں میں بہتری اور طلبہ کیلئے خوراک کے وظائف کی فراہمی کیلئے استعمال ہو گی۔ اقوام متحدہ کے تین اداروں کے ذریعے اس منصوبے پر عمل در آمد کیا جائے گا۔


    یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹرجان گرورکی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام بڑے جفاکش ہیں اورہم اُن کے عزم و ارادے اور ہماری اعانت سے فاٹا میں تیزی سے پھلتے پھولتے پرامن مستقبل دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ تقریب میں حکومت ِ پاکستان اور اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    یوا یس ایڈ کی اعانت فاٹا سیکرٹریٹ کی واپسی اور بحالی حکمت عملی سے مربوط ہے، جس کا مقصد بے گھر ہونے والے متاثرین کی باعزت واپسی ہے۔ فاٹا کے لگ بھگ بیس لاکھ افراد نے ۲۰۰۸ ء سے اب تک شورش اور بد امنی سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کی ہے۔

    امریکہ نے ۲۰۰۹ ء سے اب تک فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی اعانت فراہم کی ہے ، جو کہ اب تک کسی ملک کی طرف سے سب سے بڑی اعانت ہے

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  10. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کے ایک طویل دور میں یہ بات ہر خاص و عام پر منکشف ہوچکی ہے کہ امریکہ پاکستان کا وہ بدترین دشمن ہے تو دوستی کے نام پر پاکستان کی جڑیں کاٹ رہا ہے اس لئے پاکستان امریکہ کی دوستی سے جتنی جلدی جان چھڑالے یہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ امریکہ سے پاکستان کو کبھی کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ نقصان ہی اٹھایا ہے۔
     
  11. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    گزشتہ تين برسوں کے دوران پاکستان کو ملنے والی کل سويلين اور فوجی امريکی امداد کی ماليت چار ارب ڈالر سے زيادہ ہو چکی ہے۔ فراہم کی جانے والی اس اعانت ميں طبی امداد، اسکولوں کی تزئين و آرائش، پلوں اور کنوؤں کی تعمير نو، خوراک کی تقسيم اور زرعی وتعليمی منصوبے شامل ہيں۔ مخصوص دفاعی اعانت ميں 14 ايف سولہ لڑاکا طيارے، 10 ايم آئ سترہ ہيلی کاپٹر، پاکستان فرنٹير کور کے ليے 450 سے زيادہ گاڑياں، رات کو ديکھنے والی سينکڑوں عينکيں، دن اور رات کے اوقات ميں استعمال ہونے والی دوربينيں، ريڈيو، اور پاکستان کی مسلح افواج کے ليے ہزاروں کی تعداد ميں حفاظتی جيکٹيں اور ابتدائ طبی امداد کی اشياء شامل ہيں۔ امريکہ نے 370 سے زيادہ پاکستانی فوجی افسران کو انسداد دہشت گردی، اينٹيلی جينس، نقل وحمل، ميڈيکل، دوران پرواز حفاظت اور فوجی قوانين ايسے موضوعات کے بارے ميں قائدانہ صلاحيتوں کو ابھارنے کے پروگراموں کے لیے تربيت بھی فراہم کی ہے۔

    امريکہ پر بے بنياد الزامات لگانے سے پہلے ان زمينی حقائق اور گزشتہ چند برسوں کے دوران امريکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی فوجی اور سول امداد کی تاريخ کو بھی مدنظر رکھنا چاہيے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  12. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکی حکومت کی جانب سے فاٹا کے ۱۸،۰۰۰ سے زائد بے گھر خاندانوں کی واپسی کیلئے زرعی اعانت


    اسلام آباد (۵ ِجنوری ، ۲۰۱۶ء)__ امریکی حکومت نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے تعاون سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے ۱۸،۰۰۰ سے زائدعارضی طور پر بے گھ کسانوں کو اپنے علاقوں میں واپسی پر زرعی اعانت کی ہے۔کسانوں کو فراہم کی گئی زرعی اجناس انہیں ربی کی فصل کی کاشت کے ذریعے منافع کمانے اور اپنے خاندانوں کی کفالت میں مدد دینگی۔


    گزشتہ دسمبر کے دوران ۱۶،۶۵۰ خاندانوں کو گندم کے بیج، کھاد اور سبزیوں کے تھیلے، جبکہ ۲۰۰۰ اضافی خاندان جئی کے بیج اورکھاد فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنی فصلوں کی کاشت شروع کر سکیں۔


    یو ایس ایڈ ، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)کے تعاون سے فاٹا کے۵۴،۰۰۰ واپس جانے والے خاندانوں کو۲۰۱۵،۱۶ کے دوران اگلی تین فصلوں کی کاشت میں اعانت کریگا۔اس اعانت میں ایف اے او کے کسانوں کے فیلڈ سکول ماڈل میں کاشتکاری میں پانی کے بہتر استعمال، بہتر کاشت کاری کے طریقوں کے بارے میں تربیت، گھریلو پیمانے پر کاشتکاری کے طور طریقوں کی تربیت بھی شامل ہے۔


    فاٹا سیکریٹریٹ کے سسٹین ایبل ریٹرن اینڈ ری ہیبلٹیشن اسٹرٹیجی کے مطابق دسمبر ۲۰۱۶ تک۳۱۱،۰۰۰ خاندا ن واپس فاٹا جائینگے، جن میں سے اکثریت چھوٹے کاشتکاروں پر مشتمل ہے جن کیلئے بغیر مالی اعانت اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنا بہت مشکل ہو گا۔امریکی حکومت ان مشکلات کے حل کیلئے جامع پروگراموں کے ذریعے پاکستانی حکومت کی مدد کر رہی ہے۔ ان منصوبوں میں انسانی بنیادوں پر اعانت، ہاؤسنگ، تعلیم اور مالی معاونت کے ذریعے معاشروں کو مستحکم بنانا ہے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکہ ہی کے یاشاید کسی دوسرے یوپین کسی آفیشل نے ایک بار کہا تھاکہ امریکہ کے دشمنوں کوامریکہ سے ہوشیار رہناچاہئے اوردوستوں کواورزیادہ ہوشیاررہناچاہئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  14. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    بے گھر اور خوارک کی کمی کے شکار افراد کوراشن کی فراہمی کیلئے

    امریکہ کی جانب سے۲۰ ملین ڈالر کی اعانت

    اسلام آباد (۲۷ جنوری، ۲۰۱۶ء)__ امریکی حکومت نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے تقریباً ۱۲ لاکھ افراد، ۷۵ ہزار متاثرین زلزلہ اور پاکستان میں غذائیت کی کمی کاشکار ایک لاکھ ۵۳ ہزار ۵ سو خواتین اور بچوں کو خوراک کی فراہمی میں معاونت کے لئے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ذریعے حال ہی میں ۲۰ ملین ڈالر فراہم کئے ہیں۔

    یہ نئی امریکی معانت اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے زیر انتظام فراہم کی جائے گی، جو حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ تقریباً چالیس ہزارمیٹرک ٹن گندم کو غذائیت سے بھرپور مقوی آٹے میں تبدیل کرے گا۔ اس کے علاوہ، ڈبلیو ایف پی ان افراد کو غذائیت کی فراہمی کے لئے ۹ ہزار میٹرک ٹن سے زائد خصوصی غذائی اشیاء تقسیم کرے گا۔

    یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے کہا کہ امریکی حکومت غذائیت کی کمی کے خطرے کاشکار عورتوں، مردوں اور بچوں کی محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ انسانی ہمدردی کی بنیادپر امداد اور انسانی ترقی میں معاونت کے لئے پاکستان کے ساتھ دیرپا بنیاد وں پر کام کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔

    یو ایس ایڈ کی ۲۰ ملین ڈالر کی یہ اعانت "ٹوئیننگ پروگرام" کے لئے فراہم کی جانے والی رقم کا حصہ ہے جو حکومت پاکستان، ڈبلیو ایف پی اور بین الاقوامی امدادی اداروں کا مشترکہ پروگرام ہے۔ اس پروگرام کے تحت حکومت پاکستان کی جانب سے عطیہ کردہ گندم کو غذائیت سے بھرپور مقوی آٹے میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے بے گھر ہونے والے افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ امدادی اداروں کی رقوم کو گندم کی پسائی، گندم کے آٹے کو غذائیت سے بھرپورمقوی بنانے، اسے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے، اس کی نقل و حمل اور تقسیم کی لاگت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یو ایس ایڈ اس ‘‘ٹوئیننگ پروگرام’’ کے لئے رقم فر اہم کرنے والا سب سے بڑا بین الاقوامی ادارہ ہے، اس تازہ ترین معاونت کے بعد یو ایس ایڈ کی اس پروگرام کے لئے ۲۰۱۳ء سے اب تک مجموعی معاونت ۷۵ ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  15. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں اس تھيوری کی منطق سمجھنے سے قاصر ہوں۔

    اس ضمن ميں میری گزارش ہے کہ امريکی حکومت کی مدد سے کچھ جاری منصوبوں اور اقدامات پر تفصيلی نظر ڈاليں اور پھر يہ فيصلہ خود کريں کہ کيا يہ الزام لگانا انصاف پر مبنی ہے

    کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہیں کہ تمام تر سفارتی روابط منقطع کر کے اور تمام جاری ترقياتی منصوبوں کو ختم کر کے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ترقی کے مواقعوں اور سہوليات کا خاتمہ ہی وہ بہترين طريقہ کار ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کے مابين خليج کو دور کيا جا سکتا ہے ؟

    آپ کے خيال ميں جب پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت، متعدد حکومتی ادارے اور عوامی بہبود پر مامور مختلف نجی تنظيميں سيلاب، زلزلے اور ديگر قدرتی آفات سے نبردآزما ہونے کے ليے امريکی حکومت سے مدد کی درخواست کرتی ہيں تو اس کے جواب ميں ہمارا کيا ردعمل ہونا چاہيے؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  16. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    17ستمبر2014ء کو صبح 9بج کر 53منٹ تک امریکہ کا غیر معمولی قومی قرض یہ تھا:17764283324567.73ڈالراور امریکہ کی آبادی تقریباً319031951افراد پر مبنی ہے۔ گویا ہر امریکی 55681.83ڈالر کا مقروض ہے۔قومی قرض2.37بلین ڈالر روزانہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
    http://dunyapakistan.com/11609/امریکہ-کا-قومی-قرض-12-ماہ-میں-1ٹریلین-ڈالر/#.VrLrD9J97IU
    امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ قومی قرضہ شدید حکومتی خسارے کے باعث 160 کھرب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جسکے بعد ہر امریکی شہری 50 ہزار ڈالر کا مقروض ہے۔
    http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2012-09-08&edition=LHR&id=2982_46404182
    عراق، افغانستان اور بالواسطہ پاکستان پر مسلط کی جانے والی اس حیاباختہ جنگ کے لئے امریکہ کو کھربوں ڈالر کا قرضہ لینا پڑا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ساری کی ساری جنگ ادھار کے پیسوں پر لڑی گئی۔ امریکی قرضوں کا حجم 160 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد قرضے بے قابو ہوگئے۔ 2003ء سے سالانہ پانچ سو ارب ڈالر قرضوں کا اضافہ شروع ہوا۔ 2008ء میں یہ دس کھرب ڈالر سالانہ تک جاپہنچا۔ 2010ء میں امریکہ نے سترہ کھرب ڈالر ادھار لیا۔ امریکی معیشت کے کھوکھلے پن کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب اسے ہر سال اپنی مجموعی قومی پیداوار کے مساوی رقم قرض لینا پڑتی ہے۔ 2001ء میں ، نائن الیون سے پہلے مجموعی قومی پیداوار اور قرضوں کا تناسب 56 فیصد تھا جو اب بڑھ کر سو فیصد ہوچکا ہے۔ امریکیوں کو ہر سال پانچ سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم سود کی مد میں ادا کرنا ہوتی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے براہ راست جنگی اخراجات ایک سو ارب ڈالر سالانہ سے زائد ہیں یعنی 9ارب ڈالر ماہانہ۔
    http://www.alarabiya.net/views/2012/02/12/194080.html
     
  17. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ ايک غير منطقی سوچ ہے کہ ايک طرف تو آپ امريکہ کو ايک شکست خوردہ ملک کی حيثيت سے بيان کريں ٹوٹ پھوٹ کا شکار کمزور معاشرہ قرار ديں اور دوسری طرف اسے تمام تر وسائل سے مزين ايک ايسی قوت قرار ديں جو ہزاروں ميل دور کسی بھی ملک کے معاشی، سياسی يا معاشرتی نظام کو تبديل کرنے کی صلاحيت رکھتا ہے۔ يہ دونوں مفروضے بيک وقت درست نہيں ہو سکتے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  18. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکی معاشرے کی مضبوطی کو بھی بیان کیاجاتاہے تواس میں جوکمزوری ہے اسے بیان کرنے میں حرج کیاہے امریکہ میں مسلمان اور انکے ممالک بلکہ اس کے دین پر بھی تنقید کی جاتی ہے توہم نے کچھ ذراسی تنقید کی کردی ہے توبرداشت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    امریکہ کمزورملک ہے یہ صرف میں نہیں کہہ رہاہوں امریکہ کے سابق وزیر جنگ لئون پینیٹا نے کہتے ہیں کہ سرکاری ادارے بند ہوجانے سے امریکہ بہت کمزور ہوگیاہے۔اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے مطابق امریکی عوام کو بھی اس بات کا احساس ہوچلا ہے کہ ان کا ملک اب دنیا پر حکمرانی کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ امریکیوں کو دن بہ دن اندازہ ہوتا جارہا ہے کہ ان کے ملک کی جس قدر بھی طاقت تھی، اُس کی بنیادیں کمزور پڑتی جارہی ہیں۔ طاقت میں کمی آنے سے عالمی سطح پر امریکا کے لیے مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۶۰ فیصد سے زائد امریکیوں کا خیال ہے کہ ان کا ملک اپنی طاقت سے محروم ہوتا جارہا ہے۔
    ماسکو۔ ( پاک رائٹر رپورٹ)امریکہ روس سے تعلقات کیوں رکھنا چاہتا ہے، ولادی میر پوٹن نے امریکی کمزور سے پردہ اٹھا دیا۔۔۔پوٹن نے اپنے مہمانوں سے بہت سے موضوعات پر بات کی۔ پوٹن نے حاضرین سے کہا کہ امریکا صرف ایک وجہ سے ہی روس سے تعلقات بڑھانا چاہتا ہے، صرف روس ہی وہ ملک ہے جو امریکا کو آدھے گھنٹے یا اس سے بھی کم وقت میں تباہ کر سکتا ہے۔
     
  19. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ امريکہ کے ناقدين جو امريکہ کو زوال پذير معاشرہ ثابت کرنے کے ليے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہيں ديتے اور اپنے دلائل کو تقويت دينے کے ليے کسی بھی ايسی خبر کو اجاگر کرنے سے نہيں چوکتے ، وہ انتہائ سہل طريقے سے امريکہ کے مبينہ معاشی مسائل اور عدم استحکام سے متعلق خبروں کو اس وقت فراموش کر ديتے ہيں جب پوری دنيا پر امريکی اثر و رسوخ اور مبينہ سازشی منصوبوں کی تشہير مقصود ہوتی ہے۔

    يقینی طور پر اگر مختلف فورمز پر امريکی ناقدين کے الزامات کے مطابق امريکہ کے پاس کوئ ايسی جادو کی چھڑی ہوتی جس کی بدولت ہم ہزاروں ميل دور ايسے معاشروں ميں مذہبی اور فرقہ وارانہ کشيدگی کو ہوا دينے کی صلاحيت رکھتے جن کی ثقافت اور معاشرت بھی ہم سے ميل نہيں کھاتی، تو پھر ہم اسی صلاحيت اور بے پناہ طاقت کو خود اپنے ہی معاشرے ميں واقعات کے تسلسل اور معاشی استحکام کے ليے بھی استعمال کرتے۔

    يہ دعوی انتہائ غير منطقی ہے کہ ايک جانب تو امريکہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور زوال پذير ملک کے طور پر پيش کيا جاۓ اور پھر اسی ملک کو "طاقت کے نشے ميں سرشار" ايک ايسی منہ زور عالمی طاقت کا طعنہ ديا جاۓ جو پوری دنيا ميں کسی بھی ملک کے سياسی، معاشرتی اور معاشی نظام ميں ردوبدل کرنے کے علاوہ اسے مکمل طور پر کنٹرول کرنے کی صلاحيت بھی رکھتا ہو۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  20. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    آپ کی بات ممکن ہے کہ درست ہومگردنیامیں لوگ بلکہ خودوہ جوکہ مسلمان نہیں عیسائی ہیں امریکہ کوایک زوال پذیرمعاشرہ قرار دے رہے ہیں جیسے کہ امریکہ کے سابق وزیر جنگ لئون پینیٹا جوکہ امریکی ہیں میں نے مندرجہ بالاپوسٹ نمبر18ان کی بات ہی لکھی ہے جس میں وہ امریکہ کوزوال پذیرقراردے رہے ہیں۔اسی امریکی کمزوری کو
    پال کینیڈی نے اپنی کتاب ’بڑی طاقتوں کے عروج و زوال’ میں دیا تھا جو 1989 میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں شمار ہوتی تھی۔اس کتاب میں مصنف نے حقائق سے یہ ثابت کیاتھا کہ جب بھی کسی بڑی طاقت کا زوال شروع ہوتا ہے اس کے فوجی اخراجات اور فوجی مہموں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماضی کی بہت سی بڑی سلطنتیں اپنی قومی آمدنی کا بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کر کے کھوکھلی ہوگئیں اور آخر میں مٹ گئیں۔ اس نظریے کے مطابق امریکہ بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔
    امریکہ فوجی مہمات کاارتکاب کرتارہاہے حال ہی کی شام کی مثال ہمارے سامنے ہے امریکی ریٹائرڈ جنرل، ڈینئل بولگر نے اپنی چشم کشا کتاب’’ہم کیوں ہارے؟‘‘(Why We Lost: A General’s Inside Account of the Iraq and Afghanistan Wars) اپنی کتاب میں اعتراف کرتے ہیں کہ ہاں ہم نے صدام حسین کوکیمیائی ہتھیاردیئے۔
    موصوف اسی کتاب میں امریکہ کا عراق اور افغانستان کی جنگ میں ملوث ہونے کااعتراف کرتے ہیں جوکہ دنیا کے سامنے اظہرمن الشمس ہے۔
    ابراہم لنکن کا قول ہے کہ
    Mistakes like stones on the water you can grow under your destination through walk over them
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں