ايک اور امريکی منصوبہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اگست 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    943
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    زرعی فروخت میں اضافہ اور فنی صلاحیتوں میں بہتری کے لئے امریکی منصوبہ

    اسلام آباد (۶ اگست، ۲۰۱۵ء)__ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے پاکستان میں نئے سربراہ جون گرورکی نے آج زرعی منڈی کی ترقی کے لئے پاک امریکہ مشترکہ منصوبے (اےایم ڈی ) کا افتتاح کیا۔ امریکی حکومت کی مالی اعانت سے شروع کئے گئے اس پروگرام کےتحت ۲۱ ملین ڈالر مالیت پر مشتمل گرانٹس، تربیتی نشستوں اور تکنیکی مہارتوں میں بہتری کے ذریعہ کھیتی باڑی اور جانوروں کے افزائش کے طریقوں میں بہتری لا کرپاکستانی گوشت، سبزیوں، آم اور رس دار پھلوں کی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھا کر اگلے چار سال کے دوران آمدن کو ۱۴۰ ملین ڈالر مالیت تک فروغ دیا جائےگا۔

    یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر گرورکی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ پاکستانی زرعی شعبہ کو اہم ترین ترجیح کا حامل سمجھتے ہوئے پاکستان کے لوگوں کے لئے معاشی ترقی اورروزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئےانتہائی پُر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ حکومت پاکستان کے اشتراک سے امریکی سرمایہ کاری سے پاکستانی کسانوں اور بین الاقوامی منڈیوں کے مابین روابط کو بڑھایا جائے گا تاکہ ایک خوشحال، مستحکم اور خوراک کے حوالے سے محفوظ ملک بنایا جاسکےگا۔

    اے ایم ڈی پروگرام کو وضع کرنے کا مقصد کسانوں کے لئے دستیاب جدید ترین ، کار آمد اور ماحول دوست مہارتوں کی فراہمی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کاروباری مراکز بھی قائم کئے جائیں گے تاکہ کسان، خریدار، اور فروخت کنندہ کے درمیان فاصلوں کو کم کیا جا ئے تاکہ پاکستانی اجناس دنیا بھر کے باورچی خانوں تک رسائی حاسل کر سکیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ۴۰ فیصد پاکستانی زرعی شعبہ سے منسلک ہیں اور جہاں ملک کی ۲۱ فیصد خام ملکی پیداوار زراعت کے شعبہ سے حاصل کی جا رہی ہو، اس اقدام کے ذریعہ فروخت اور سرمایہ کاری کو ۱۴۰ ملین ڈالر سے زیادہ تک بڑھائے جانے کی امکانات موجود ہیں۔

    یو ایس ایڈ کے معاشی ترقیاتی پروگرام کے تحت ۲۰۱۲ء سے اب تک۲۳۰۰۰ روزگارکے مواقع پیدا کئے گئے ہیں اور ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کسانوں کے لئے تقریبا ساٹھ ہزار ہیکٹرز رقبہ پر جدید ترین تکنیک اور انتظامی طور طریقہ متعارف کروائے گئے ہیں۔ یو ایس ایڈ کے معاشی اور زرعی پروگراموں کے بارے میں مزید جاننے کے لئےیہ ویب سائٹ دیکھئے:

    http://www.usaid.gov/pakistan/economic-growth-agriculture

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,160
    کوئی بتائے اس منصوبہ کا کیا کریں ہم ۔ اچار ڈالیں ۔۔ پہلے والے منصوبوں میں کونسا تیر مارلیا ہے
     
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    943
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکی امداد پاکستانی قوم کی تقدير بدل سکتی ہے۔ يہ توقع بھی حقيقت پر مبنی نہيں ہے کہ امريکہ پاکستان کو کوئ ايسا نظام دے سکتا ہے جس کی بدولت پاکستان کو درپيش تعليم، بجلی، خوراک اور صحت سے متعلق تمام مسائل حل کيے جا سکتے ہيں۔ اس ضمن ميں فيصلہ کن کردار اور ذمہ داری پاکستانی عوام، ان کے منتخب قائدين اور پارليمنٹ ميں موجود ان افراد کی ہے جو قانون بناتے ہيں۔ اسی مقصد کے لیے انھيں ووٹ ڈالے جاتے ہيں۔

    امريکی امداد کا مقصد ذرائع اور وسائل کا اشتراک اور ترسيل ہے جس کی بدولت ممالک کے مابين مضبوط تعلقات استوار کيے جا سکيں۔ عالمی سطح پر دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ باہمی مفاد کے ايسے پروگرام اور مقاصد پر اتفاق راۓ کیا جاۓ جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ اسی تناظر ميں وہی روابط برقرار رہ سکتے ہيں جس ميں دونوں ممالک کا مفاد شامل ہو۔ دنيا ميں آپ کے جتنے دوست ہوں گے، عوام کے معيار زندگی کو بہتر کرنے کے اتنے ہی زيادہ مواقع آپ کے پاس ہوں گے۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوۓ امداد کے عالمی پروگرامز دو ممالک کے عوام کے مفاد اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے ليے ايک دوسرے کی مشاورت سے تشکيل ديے جاتے ہيں۔

    موجودہ دور ميں جبکہ ساری دنيا ايک "گلوبل وليج" کی شکل اختيار کر چکی ہے پاکستان جيسے نوزائيدہ ملک کے ليے امداد کا انکار کسی بھی طرح عوام کی بہتری کا سبب نہيں بن سکتا۔ يہ بھی ياد رہے کہ يہ بھی باہمی امداد کے پروگرامز کا ہی نتيجہ ہے پاکستانی طالب علم اور کاروباری حضرات امريکہ سميت ديگر ممالک کا سفر کرتے ہيں اور وہاں سے تجربہ حاصل کر کے پاکستانی معاشرے کی بہتری کا موجب بنتے ہيں۔

    پاکستان وہ واحد ملک نہيں ہے جسے امريکی امداد ملتی ہے۔ کئ ممالک اس امداد سے استفادہ حاصل کرتے ہيں۔ اس کے علاوہ يہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ امداد صرف امريکی حکومت ہی فراہم نہيں کرتی بلکہ کئ نجی تنظيميں اور ادارے بھی اس ضمن ميں کليدی کردار ادا کرتے ہیں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    943

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لئے معاونت

    اسلام آباد (۲۴ اگست ، ۲۰۱۵ء)__ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے آج یہا ں یو ایس ایڈ کی زرعی ٹیکنالوجی کانفرنس میں پاکستان کے زرعی شعبے میں ہونے والی نئی کامیابیوں کو سراہا۔ جان گرورک نے کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی سلامتی و تحقیق سکندر حیات بوسن کے ہمراہ ۲۰۰ پاکستانی کسانوں، سائنسدانوں اور زرعی رہنماؤں سے ملاقات کی، جنہوں نے یو ایس ایڈ کے زرعی جدت کے پروگرام (ایگریکلچرل انوویشن پروگرام) کے تحت ممکن بنائی جانے والی نئی زرعی ٹیکنالوجیز کو اجاگر کیا۔

    یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نےکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس چارسالہ پروگرام کے نصف سفر میں ہی اس پروگرام کے مثبت نتائج دیکھ رہے ہیں۔ یہ نتائج اس امرکے عکاس ہیں کہ امریکہ اور پاکستان مشترکہ طور پر کام کرتے ہوئے پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی و خوشحالی کا حصول اور اس سے آگے پیش قدمی کرسکتے ہیں۔

    ۲۰۱۳ ءمیں شروع ہونے والا زرعی شعبے میں جدت کا یہ پروگرام یو ایس ایڈ، انٹرنیشنل میز اینڈ ویٹ امپروومنٹ سینٹر (سیمٹ) اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کا منصوبہ ہے۔ ۳۰ ملین ڈالر کے اس چارسالہ منصوبے کے تحت گرمی کے خلاف مزاحمت کی حامل مکئی، زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل گندم کی فصلوں، مویشیوں کے حفاظتی ٹیکوں اور کم پانی پر انحصار کرنے والے چاول کی کاشت کے جدید طریقے اور دیگر تکنیکس وضع کی گئیں۔ آئندہ دو سال کے عرصے کے دوران یہ پروگرام ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی دشواریوں سے نمٹتے ہوئے پاکستانی کسانوں کو اپنے منافع میں اضافہ کرنے میں مدد جاری رکھے گا۔

    سال ۲۰۱۲ ءسے اب تک یو ایس ایڈ کے معاشی ترقی کے پروگرام کی بدولت ۲۳ ہزار سے زائد روزگار کے مواقع میسر آئے اور ۶۰ ہزار ہیکٹرز کے رقبے پر ایک لاکھ ۱۸ ہزار سے زائد کسان نئی ٹیکنالوجیز اور جدید انتظامی طورطریقوں سے روشناس ہوئے ہیں۔ یو ایس ایڈ کے معاشی ترقی اور زراعت سے متعلق پروگراموں کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کیجئے۔


    http://www.usaid.gov/pakistan/economic-growth-agriculture

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  5. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    943
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹف

    قوانین اردو مجلس فورم کے مطابق واضح انسانی تصاویر کا استعمال منع ہے ۔ آئندہ خیال رکھا جائے ۔ انتظامیہ ۔ شکریہ

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی مدد سے پاکستان میں بجلی کی ترسیل اور پاور کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ

    اسلام آباد (۲۷اگست ، ۲۰۱۵ء) __ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے اقتصادی و ترقیاتی معاونت کے کوارڈینیٹر لیون وسکن اور چئیر مین نیپرا بریگیڈ یر ریٹائرڈ طارق صدوزئی نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے پاور دسٹریبوشن پروگرام کی کامیاب تکمیل کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی۔ دو سو اٹھارہ ملین امریکی ڈالر مالیت کا یہ پانچ سالہ پروگرام امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بہتری کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سمارٹ میٹرز اور چوری روکنے والے تاروں جیسی جدید اصلاحات کو پاکستان میں متعارف کروایا گیا جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصان میں کمی اور منافع میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

    اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیون وسکن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت توانائی کی بلا تعطل اور مسلسل فراہمی اور ایک روشن و ترقی یافتہ پاکستان کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی۔

    پاور دسٹریبوشن پروگرام نے پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے نظام میں متعد د جدید ٹیکنالوجیز متعارف کروائی ہیں جس کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی سالانہ آمدنی میں چار سو ملین ڈالر کا اضافہ ہوا اور دو سو میگا واٹ بجلی کی بچت ممکن ہوئی جس سے تیس لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

    ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۵ء کےعرصے میں اس پروگرام کے ذریعے بتیس ہزار سے زیادہ توانائی کے ماہرین کو تربیت فراہم کی گئی ، بجلی کے بہاؤ کی رفتار کی پیمائش کے جدید میٹرز کی تنصیب کی گئی اورصارفین کے لیے بلنگ سسٹم میں بہتری لائی گئی ۔ اسی پروگرام کے تحت زرعی پمپس پر بجلی کے ضیاع کو روکنے کے لیے نوے ہزار کپیسٹرز بھی لگائے گئے ، دولاکھ ساٹھ ہزار میٹر طویل تقسیم کار تاروں کو تبدیل کیا گیا اور تقسیم کے نظام میں بہتری کے لیے کئی اور آلات بھی فراہم کیے گئے ۔

    توانائی کے شعبے میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانیوالی اعانت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے وزٹ کریں

    (http://www.usaid.gov/pakistan/energy).

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 29, 2015
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    943
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    فاٹا کے ۷۶طالبعلموں کی جانب سے اعلیٰ ثانوی تعلیم کا حصول

    اسلام آباد (یکم اکتوبر، ۲۰۱۵ء)__ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے ۷۶ طالبعلموں نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران اعلیٰ ثانوی تعلیم کی اسناد وصول کیں۔ معاشی امور ڈویژن کے سیکریٹری محمد سیٹھی اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نےفاٹا کے ان طلبہ میں اسناد تقسیم کیں، جنہوں نے ’’یو ایس ایڈ فاٹا اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے تحت اعلیٰ ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اسناد کی تقسیم کی خصوصی تقریب یکم اکتوبر کو یہاں منعقد ہوئی، جس میں متعدد طلبہ نے زندگی تبدیل کرنے والے اپنے تجربات اور مزید تعلیم کے لئے اپنے جذبات کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

    ’’یو ایس ایڈ فاٹا اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے تحت جس کا آغاز ۲۰۰۸ء میں ہوا تھا، تعلیم کے جذبے سے سرشار، انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے، فعال تعلیمی پروگرام کے خواہشمند اور اپنے علاقے سے باہر بورڈنگ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل طلبہ کووظائف دیئے گئے۔

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے پائیدارتعاون اور ایک محفوظ، توانا اور خوشحال پاکستان کے امریکی عزم کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے والے یہ طلبہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب دونوں ملک ملکر کام کریں تو کس قدر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اسکالرشپ حاصل کرنے والے خیبرایجنسی کے ایک طالبعلم حامد اللہ نے ،جنہیں تعلیم کے لئے اسلامیہ کالج، پشاور بھیجا گیا، کہا کہ تعلیم سے میری بصیرت میں وسعت آئی ہے ، میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں اور ایک اچھے میڈیکل کالج میں داخلے کے حصول کے لئے بہت محنت سے مطالعہ کررہا ہوں۔ حامد اللہ کا کہنا تھا کہ میں تعلیم کے حصول کا یہ موقع فراہم کرنے پر امریکی عوام کا شکریہ کبھی بھی پوری طرح ادا نہیں کرسکتا۔

    باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالبعلم ذاکر اللہ ،جنہوں نے بھی اسلامیہ کالج میں تعلیم حاصل کی، کا کہنا تھا کہ ہم اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہمیں یہ وظائف ملے۔ اس سے ہمیں پاکستان کے معروف ترین کالجوں میں سے ایک کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔

    تعلیم کے شعبے اور فاٹا میں یو ایس ایڈ کے اقدامات کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    www.usaid.gov/pakistan

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    943
    [​IMG]

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکی زرعی ماہرین کی جانب سے پودوں کو کیڑوں اور بیماریوں

    سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے پاکستانی حکام کی تربیت

    اسلام آباد (۲۰ اکتوبر، ۲۰۱۵ء)__ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے)کی اینیمل اینڈ پلانٹ انسپکشن سروس کے ایک تجزیہ کار اور ایک برآمدات کے رابطہ کار نے زرعی پودوں کے تحفظ کے پاکستانی محکمے اور دیگر متعلقہ حکام کے لئے پودوں کو کیڑا لگنے کے خطرات کا تجزیہ، ان خطرات پر قابو پانے اور رابطوں کی اہمیت سے متعلق تربیت کا اہتمام کیا۔ یہ تربیت زرعی اشیاء کی برآمد بڑھانے کے لئے حکومت پاکستان کی کوششوں میں بین الاقوامی معاونت کا حصہ تھی۔ تربیت کے مقاصد پودوں کی صحت کے نظام اور زرعی سائنس کے شعبے کے حکام کے علم میں اضافہ کرنا اور امریکی محکمہ زراعت اور پودوں کی صحت کے لئے کام کرنے والے پاکستانی حکام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا تھا۔

    امریکی محکمہ زراعت کی ایکسپورٹ کوآرڈینیٹر محترمہ لوٹی ایرکسن نے تربیت کے دوران کہا کہ حکومت پاکستان نے برآمدی زرعی مصنوعات کی قدر اور معیار میں اضافے کے لئے حالیہ برسوں کے دوران ناقابل یقین پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پودوں کے تحفظ کے کام پر مامور عملے اور ان کی مہارتوں کو وسعت دینے کے لئے پودوں کے تحفظ کے پاکستانی محکمہ کے اقدامات میں معاونت پر امریکی محکمہ زراعت کو از حد خوشی ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت کے رسک اینالسٹ والٹر گُٹیریز نے پودوں کو کیڑا لگنے کے خطرات کے تجزیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند پودوں سے متعلق قواعد ضوابط کا مقصد ملک کی مجموعی زراعت اور زرعی شعبے کے کاروباری شراکت داروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ محفوظ تجارت کے ہدف کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ درآمدی و برآمدی مصنوعات لازمی طور پر کیڑوں اور بیماریوں سے پاک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پودوں کے تحفظ کے محکمہ کو پودوں کو ممکنہ کیڑوں اور بیماریوں سے،جو زرعی مصنوعات میں ہوسکتی ہیں، لاحق خطرات کا ٹھوس سائنسی، بااعتبار اور قابل دفاع تجزیہ کے ذریعے تعین کرنا چاہئے ۔

    زراعت پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے جس کا خام ملکی پیداوار میں حصہ ۲۱ فیصد سے زائد ہے۔ زراعت سب سے زیادہ روزگار مہیا کرنا کرنےوالا شعبہ ہے ، جس سے مجموعی افرادی قوت کا ۴۶ فیصد حصہ منسلک ہے۔ دیہی علاقوں کی ۶۲ فیصد کے قریب آبادی کے لئے زراعت روزہ مرہ کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ امریکی محکمہ زراعت پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافے، معاشی اہدف کے حصول اور غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پاکستانی سائنسدانوں اور کسانوں کی معاونت کرتا ہے


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    943
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    پاکستانی زرعی اداروں، امریکی محکمہ زراعت اور آئی سی اے آر ڈی اے کے زیر اہتمام زمین کی بہتر نگہداشت کا منصوبہ

    اسلام آباد (۳۰ ِاکتوبر، ۲۰۱۵ء)__ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے فنی ماہرین نے ۲۹ اور ۳۰ اکتوبر کو مقامی شراکت کاروں کے ساتھ اپنے دوسرے سالانہ اجلاس میں حصہ لیا۔ اڑھائی سال پر محیط ایک اعشاریہ چار ملین ڈالر لاگت کے اس منصوبے کامقصد پاکستان میں زمین کی زرخیزی اور پیداوار میں اضافہ ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت اور انٹر نیشنل سینٹر فار ایگریکلچرل ریسرچ اِن ڈرائی ایریاز (آئی سی اے آر ڈی اے) اور ۱۰ پاکستانی اداروں کے اشتراک کار سے پاکستانی کسانوں کوزمین کی زرخیزی اور پیداوار میں اضافے کے لئے پانی کےبہتر استعمال اورفصلوں کو زیادہ غذائی اجزاء کی فراہمی کے بارے میں آگاہ کی جاتا ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت کے ماہر کاشتکاری مائیک کوچیرا نے کہا کہ پاکستان کی زمین کے وسائل کا صحیح استعمال اور اس میں بہتری کا دارومدار چار نکات پرمنحصر ہے: درست غذائی اجزاء ،درست مقدار میں ،درست وقت پر اور درست جگہ استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کو فصلوں بھوسہ اور چھلکے سے ڈھانپنے، ڈھانپی ہوئی فصلوں کے بہتر استعمال، زمیں کے ٹوٹ پھوٹ کو روکنے، سال بھر تندرست جڑوں کو برقرار رکھنے اور فصلوں کی باری باری کاشت ایسے طریقے ہیں جن سے پاکستان کی آئندہ نسلوں کو بہتر پیداوار کی حامل زمین برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

    اس منصوبے کے تحت جن نت نئے طریقوں کے ذریعے کسانوں کو رہنمائی کی گئی اُن میں کیلوں کے پتوں اور درختوں کے ذریعے زمین کیلئے نامیاتی مادوں کی تیاری،حیاتیاتی کھاد کے استعمال سے روایتی کھاد کو موثر بنانا،بغیر کھیتی کے پرانی فصلوں کے ذریعے بیج کی براہ راست کاشت، گوبر کا استعمال اور بہتر منافع حاصل کرنے کیلئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فرٹیلائزر پریڈکشن ماڈل کوبروئے کار لاکر نائٹروجن کھاد کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب شامل ہیں۔

    زمین کی زرخیزی کے ماہر ڈاکٹر محمد اسلم نے،جو کہ آئی سی اے آر ڈی اےسےبھی منسلک ہیں ، کہا کہ گوبر اور گلے سڑے پتوں کااستعمال فصلوں کیلئے بہت ضروری ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت اورانٹرنیشنل سینٹر فار ایگریکلچرل ریسرچ اِن دی ڈرائی ایریاز(آئی سی اے آر ڈی اے) صوبہ بلوچستان، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں تین صوبائی زرعی تحقیقی اداروں، دوپاکستانی جامعات، تین پاکستان زرعی تحقیقی کونسل کے اداروں، ایک صوبائی زرعی توسیعی محکمہ اورایک پاکستانی این جی او کے ساتھ اشتراکِ کار میں مصروف عمل ہیں۔اس منصوبے کے تحت امریکی محکمہ زراعت کے فنی ماہرین نے ان پاکستانی اداروں کو زمین کی نشوونما کی نگرانی کے حوالے سے تربیت فراہم کی ہے ۔اس سلسلے میں کسانوں اور زرعی خدمات فراہم کرنے والے افراد کیلئے مختصر دورانئے کی ویڈیوز بھی تیار کی گئی ہیں۔ کھیتوں میں عملی مظاہرے، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگراموں اور شراکت کاراداروں کی دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بیشتر کسانوں میں آگہی پیدا ہوئی کہ وہ کیسے زمین کی نشوونما اور پیداوار میں اضافہ کر کے غذائی قلت کا خاتمہ کر سکتے ہیں


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  9. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    943
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکہ کی جانب سے فاٹا کے متاثرین کی واپسی کیلئے ۳۰ ملین ڈالر اعانت کا اعلان

    پشاور (۴ نومبر ، ۲۰۱۵ء) ___ حکومت ِ ریاستہائے امریکہ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کے بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی کیلئے ۳۰ ملین ڈالر کی اعانت کا اعلان کیا ہے۔


    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی( یو ایس ایڈ) کی جانب سے فراہم کردہ رقم اسکولوں کی تعمیر نو، روزگار کے لئے تربیت، کاشتکاری کے طریقوں میں بہتری اور طلبہ کیلئے خوراک کے وظائف کی فراہمی کیلئے استعمال ہو گی۔ اقوام متحدہ کے تین اداروں کے ذریعے اس منصوبے پر عمل در آمد کیا جائے گا۔


    یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹرجان گرورکی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام بڑے جفاکش ہیں اورہم اُن کے عزم و ارادے اور ہماری اعانت سے فاٹا میں تیزی سے پھلتے پھولتے پرامن مستقبل دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ تقریب میں حکومت ِ پاکستان اور اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    یوا یس ایڈ کی اعانت فاٹا سیکرٹریٹ کی واپسی اور بحالی حکمت عملی سے مربوط ہے، جس کا مقصد بے گھر ہونے والے متاثرین کی باعزت واپسی ہے۔ فاٹا کے لگ بھگ بیس لاکھ افراد نے ۲۰۰۸ ء سے اب تک شورش اور بد امنی سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کی ہے۔

    امریکہ نے ۲۰۰۹ ء سے اب تک فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی اعانت فراہم کی ہے ، جو کہ اب تک کسی ملک کی طرف سے سب سے بڑی اعانت ہے

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  10. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    772
    پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کے ایک طویل دور میں یہ بات ہر خاص و عام پر منکشف ہوچکی ہے کہ امریکہ پاکستان کا وہ بدترین دشمن ہے تو دوستی کے نام پر پاکستان کی جڑیں کاٹ رہا ہے اس لئے پاکستان امریکہ کی دوستی سے جتنی جلدی جان چھڑالے یہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ امریکہ سے پاکستان کو کبھی کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ نقصان ہی اٹھایا ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں