ايک اور امريکی منصوبہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اگست 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    892

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ايک طرف تو امريکہ پر الزام لگايا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کو کمزور کر کے اس کے ايٹمی اساسوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ليکن يہ نظرانداز کر ديا جاتا ہے کہ جو چيز پاکستان کو کمزور کر رہی ہے وہ دہشت گردی اور اس کے نتيجے ميں پيدا ہونے والی بے چينی کی فضا ہے نا کہ امريکی حکومت جو کہ اب تک حکومت پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے ليے کئ ملين ڈالرز کی امداد دے چکی ہے۔ اگر امريکہ کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہوتا تو اس کے ليے دہشت گردوں کی کارواۂياں ہی کافی تھيں، امريکہ کو اپنے 10 بلين ڈالرز ضائع کرنے کی کيا ضرورت تھی۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,347
    ویسے امریکہ میں پاکستان کوامدادکے سلسلے میں کافی بحث ہورہی ہے کہ اس امدادکوروک دیاجائےخودبی بی سی کی خبرہے
    امریکی محکمۂ دفاع نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنے کے الزام میں پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کے 30 کروڑ ڈالر روک دیے ہیں۔

    پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری دفاع ایش کارٹر نے وہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس سے یہ رقم پاکستان کو مل سکتی تھی۔

    ٭ ایف 16 کی خریداری، امریکہ کا پاکستان کی مدد سے انکار

    ٭ ’کانگریس کے اہم ارکان امداد دینے کے حق میں نہیں‘

    ٭’مشروط امداد کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے‘

    كولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت سنہ 2002 سے ہی امریکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں پاکستان فوجی مدد کرتا رہا ہے۔

    یہ ایک طرح سے وہ رقم ہوتی ہے جو پاکستان کہتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف كارروائی میں خرچ کی ہے۔

    سال 2015 میں اس بجٹ کے تحت پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی رقم طے ہوئی تھی لیکن کانگریس نے اسے جاری کرنے سے پہلے ایک شرط رکھی تھی کہ اس میں سے 30 کروڑ ڈالر تبھی جاری کیے جائیں جب سیکریٹری دفاع حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کی کارروائی سے مطمئن ہوں اور اس کا سرٹیفیکیٹ دیں۔
    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160804_us_pakistan_funding_sh
    ’مشروط امداد کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے‘
    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160525_pakistan_america_relations_zz


     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,347
    امریکہ یہ زحمت کیوں کرتاتھااس کاجواب بھی بی بی سی نے ہیں دیاہے خودپڑھ لیں
    1954ء کے معاہدے کے تحت امریکہ نے صرف میپ یونٹوں کی امداد کرنا تھی اور اس کا مقصد ان یونٹوں کی جدید خطوط پر تربیت کرنا بتایا گیا تھا۔

    اسی معاہدے کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ اسکے بعد جنرل ایوب خان نے امریکہ کو پاکستان میں اپنا پہلا خفیہ فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔ پشاور میں قائم اس فوجی اڈے کے ذریعے امریکی حکام حریف ملک سوویت یونین کی دفاعی تنصیبات کی خفیہ نگرانی کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے مشہور امریکی یو ٹو طیارے استعمال ہوتے تھے۔

    پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1959ء میں اس اڈے کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو امریکی بیس کمانڈر نے جواب دیا تھا کہ وزیر موصوف کو (اڈے کے) کیفے ٹیریا کا دورہ کرنے پر خوش آمدید کہا جائے گا وہاں انہیں کافی اور سینڈویچ بھی پیش کیے جائیں گے۔

    امریکہ نے 1960ء میں اپنے اس خفیہ اڈے کی موجودگی کا اعتراف اس وقت کیا تھا جب سوویت یونین نے اسی اڈے سے پرواز بھرنے والے ایک یو ٹو طیارے کو مار گرایا تھا اور اسکے پائلٹ کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ہی امریکہ کو بغیر پائلٹ کے اڑنے والے ڈرون طیارے بنانے کا خیال آیا۔

    1954ء میں ہوئے امریکی امداد کے اس پہلے معاہدے کے خلاف مشرقی پاکستان میں کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور وہاں کی صوبائی اسمبلی کے 162 ارکان نے اپنے دستخطوں سے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں اس معاہدے کی شدید مخالفت کی گئی تھی۔
    امریکہ نے افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کو نکالنے کے لیے مجاہدین کی تربیت اور اسلحے کی فراہمی کے لیے دل کھول کر مدد کی اور 1980ء سے 1990ء کے دوران جنرل ضیاء الحق کی حکومت کو مجموعی طور پر پانچ ارب ڈالر کی رقم دی۔

    افغان جنگ کے دوران ہی جب امریکی انتظامیہ پاکستان کی فوجی حکومت کے لیے بھاری رقوم بھیج رہی تھی۔
    گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکی ترجیحات بدلیں تو پاکستان میں دو سال پہلے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر آنے والی ایک اور فوجی حکومت اپنے قدم جماچکی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کے پہلے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی نہ صرف ایک نئی عدلیہ آگئی تھی اور اس نے ان کے فوجی انقلاب کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں آئین میں ترمیم کرنے کی مشروط طور پر اجازت بھی دے دی تھی۔

    جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے ایک بار پھر پاکستان کی فوجی حکومت کے لیے امداد بحال کردی۔ امریکہ نے جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کو مجموعی طور پر گیارہ ارب ڈالر دیے جس میں آٹھ ارب ڈالر فوجی امداد کی مد میں دیے گئے۔
    (بی بی سی Thursday, 8 October, 2009)

     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,347
    میں نے بھی درج بالا جوحوالہ دیا ہے وہ بھی ایک یورپ کے لیڈنگ میڈیاہاؤس کادیاہے ناکہ الجزیرہ،اے آروائےیاکسی محدث فورم وغیرہ کا دیاہے۔
     
  5. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    892
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    یو ایس ایڈ پاکستان کو مکئی کے بیجوں کی پیداوار میں خود کفیل بنائے گا

    اسلا م آباد (۱۱ اپریل، ۲۰۱۷ء) __ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی ڈپٹی مشن ڈائریکٹر جولی چین اور وزیر برائےقومی غذائی سلامتی و تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے مکئی کی پیداوار سے متعلق آج ایک قومی ورکشاپ کا افتاح کیا۔ ورکشاپ میں مکئی کے ان نئے بیجوں کی کارکردگی اجاگر کی گئی جو یو ایس ایڈ کے فنڈز سے چلنے والے ایگریکلچرل انوویشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت گذشتہ سال بیس پاکستانی زرعی تحقیقی ادارں اور زرعی بیجوں کی پاکستانی کمپنیوں کو نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں فراہم کئے گئے تھے۔ مکئی کے بیجوں کی ان نئی اقسام سے پاکستان میں مکئی کے معیاری ہائیبرڈ بیج کی پیداوار تیزی سے پھیلی ہے۔

    یو ایس ایڈ کے فنڈز سے چلنے والا ایگریکلچرل انوویشن پروگرام پچاس ہائیبرڈ اور اوپن پولینیٹڈ مکئی کی اقسام جو پاکستان کے ماحول سے مطابقت رکھتی ہیں، کی نشاندہی کے لئے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (پی اے آر سی) کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے۔ مکئی کے بیجوں کی یہ اقسام خشک سالی اور موسم کی حدت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کی گئی ہیں، جن سے غذائیت (مزید پروٹین، پروٹامن اے اور زنک) میں اضافہ ہوا ہے۔ ان اقسام سے کاشتکاروں اور صارفین دونوں کے لئے پیداواری صلاحیت اور غذائیت میں بہتری رونما ہوئی ہے۔

    ورکشاپ ان بیجوں کی ایک سالہ پیشرفت کا جائزہ لینے اور ۱۹۶۰ء کی دہائی جب امریکی اور پاکستانی سائنسدانوں نے پاکستان میں گندم کی میکسی پاک قسم متعارف کرائی تھی، سے جاری امریکہ۔پاکستان تعاون کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔ ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۹ء کے دوران پاکستان میں گندم کی پیداوار میں ۲۵ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

    یو ایس ایڈ کی ڈپٹی مشن ڈائریکٹرجولی چین نے کہا کہ مکئی کے بیجوں کی ان نئی اقسام کے ساتھ اب ہمارے پاس مقامی سیڈ کمپنیوں اور زرعی تحقیق کے سرکاری اداروں کے لئے مزید زیادہ قابل رسائی اور موسم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور زیادہ غذائیت کے حامل مکئی کے بیج موجود ہیں۔ گزشتہ سال نئی بیجوں کی فراہمی اس تعاون کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو امریکہ پاکستان کو زرعی شعبے میں فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکئی کے ان بیجوں کی صلاحیت لاکھوں پاکستانی کسانوں کی زندگی میں بہتری کا موجب بنے گی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے قومی غذائی سلامتی و تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے پاکستانی کاشتکاروں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی و تحقیق کا تبادلہ کرنے پر امریکہ کا شکریہ اا کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستانی ادارے ان بیجوں سے مستفید ہوں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ بیج کسانوں کو ان کے مقامی سپلائی اسٹور پر دستیاب ہوں۔

    ۲۰۱۳ء میں شروع کیا جانے والا ایگریکلچرل انوویشن پروگرام یو ایس ایڈ، انٹرنیشنل میز اینڈ ویٹ امپروومنٹ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کا منصوبہ ہے جو گندم، مکئی، چاول، مویشیوں، پھلوں اور سبزیوں کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی اور فراہمی کے ذریعے زرعی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کے لئے کام کرتا ہے۔

    مزید معلومات کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    aip.cimmyt.org


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    892
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    پاکستان کی سیکورٹی مضبوط بنانے کے لیے سرحدی چوکیوں کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح


    اسلام آباد (۱۲ ِمئی ، ۲۰۱۷ ء)__ جنرل ہیڈ کوارٹر ز راولپنڈی میں ڈی آئی جی ایف سی خیبر پختونخواہ بریگیڈیر محمد یو سف ماجوکا اورشعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون (انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز) کی ڈائر یکٹر کیٹی اسٹا نا نے سرحدی چو کیوں کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ایف سی خیبر پختونخواہ نے شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکی سفارتخانہ کا انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز ایک عشرے سے زیادہ عرصہ سے ایف سی کے ساتھ کھڑا ہےاور پاکستان کی مغربی سرحد پر قانون نافذ کرنے والےاداروں اور عام شہریوں کےجانی نقصانات ، سرحد پاردراندازی ، اسمگلنگ اور منشیات ،اغواء برائے تاوان اور دیگرجرائم کو کم کرنے میں اعانت فراہم کر رہا ہے۔

    یہ تقریب ۲۰۱۴ء میں شروع ہونے والے ایک کروڑ ڈالر لاگت کے تین سالہ منصوبے کے مکمل ہونے کی خوشی میں منعقد کی گئی جس میں پانچ کمپنی ہیڈ کوارٹرز ، تینتیس سرحدی چوکیوں کی تعمیر ، ۵۴حفاظتی چوکیوں کی تزئین و آرائش شامل تھی ۔ قبل ازیں ۵۵ لاکھ ڈالر کی لاگت سے ۵۴ سرحدی چوکیوں کی تعمیر جبکہ تیس تنصیبات کی تزئین و آرائش کی گئی۔

    تقریب میں انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز اسلام آباد کی سربراہ کیٹی سٹانا نے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد پر فر نٹیر کور کی بطور اولین دفاعی لائن کردارکی تعریف کی اور اس کے ساتھ تعاون کو قابل فخر قرار دیا ۔ کیٹی اسٹانا نے خاص طور پر شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون کے تعاون سے چترال ، مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں قائم سرحدی چوکیوں کا ذکر کیا جن سے ۲۰۱۴ ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران کئی حملوں میں انسداد منشیات اور سرحد پار در اندازی روکنے میں مصروف عمل ایف سی اہلکاروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملی۔

    شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ رواں سال انسداد منشیات اہلکاروں کے تحفظ اور فاٹا اور پاک افغا ن سرحد پر ایف سی کی موجودگی بہتر بنانے کے لیے بلٹ پروف جیکٹس ، ہیلمٹ اور بم ڈسپوزل سوٹ کی فراہمی سمیت سازو سامان کی شکل میں پچاس لاکھ ڈالر مہیا کرے گا۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    892
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکہ کی جانب سے پاکستان میں صحت کے بہتر نظام کیلئے مزید سرمایہ کاری

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک، وزارت قومی صحت کے سیکرٹری ایوب شیخ، ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اسد حفیظ اور شعبہ صحت حکومت سندھ ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے حکومت امریکہ کی جانب سے پاکستانی عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے مختص بجٹ میں اعانت کیلئے نئے منصوبے شروع کرنے کی غرض سے تین لیٹرز آف کمٹمنٹ پر دستخط کئے۔

    یو ایس ایڈ اور وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے درمیان طے پانے والے پہلے لیٹر آف کمٹمنٹ کا مقصد صوبے میں صحت وآبادی کے شعبے میں منصوبہ بندی اور اصلاح کو فروغ دینا، صحت سے متعلق سرکاری شعبہ کی مالی استعداد بڑھانا،محفوظ زچگی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور صحت کے شعبہ میں افرادی قوت ، بالخصوص ماہر دائیوں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز، کو تیارکرناہے۔

    یو ایس ایڈ اور وزارت صحت حکومت سندھ کے درمیان دستخط کئے جانے والے دوسرے لیٹر آف کمٹمنٹ کا تعلق عوام کی صحت کے حوالے سے منصوبہ بندی میں معلومات فراہم کرنے کیلئے اعدادوشمارکے استعمال میں بہتری لانا ہے۔ امریکی اعانت سے اس محکمے کو صوبے بھر میں نگرانی کی صلاحیتوں کو مؤثربنانے اور ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ کے نگرانی اور جائزے کےشعبے کو ترقی دینے میں مدد ملے گی۔

    یوایس ایڈ اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی کےمابین طے پانے والے تیسرے لیٹر آف کمٹمنٹ کے ذریعے اساتذہ کی ترقی ، مطلوبہ تحقیق، سابق طالب علموں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے اور فاصلاتی تعلیم کے پروگرام وضع کرنے میں مدد ملے گی۔

    مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے پاکستان کے شعبہ صحت کے حوالے سے امریکہ کے دیر پا عزم کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ پاکستانی عوام پر سرمایہ کاری کرنااور ہر سطح پر ضروری خدمات کی فراہمی کیلئے حکومت پاکستان کی استعداد کو بہتر بنانا انسانی زندگیوں کو بچانے اور صحت کے حوالے سے بہتر نتائج حصول کے دو لازمی اجزاء ہیں۔

    وزارت قومی صحت کے سیکرٹری ایوب شیخ نے صحت کے شعبے میں حکومتوں کی سطح پر نئے پروگرام شروع کرنے اور تزویراتی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرنے پر، جس سے قومی صحت پالیسی، خدمات، مالیات اور نگرانی میں بہتری آئے گی ، امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

    فوٹو دیکھنے کیلئے درجہ ذیل پیج ملاحظہ کیجئے۔

    U.S. Embassy’s Flickr page.

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    892
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    امریکی تعاون سے تعمیرکردہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی نئی عمارت کا افتتاح


    امریکی سفارتخانے کے شعبہ انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز (آئی این ایل) کے ڈپٹی ڈائر یکٹر مائیک مک کیون نے آئی این ایل کے تعاون سے مکمل ہونیوالے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے سپنہ تھانہ کمپاؤنڈ کی عمارت کے افتتاح کے حوالے سے ایک تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام خیبر پختونخواہ ہاؤس اسلام آباد میں کیا گیا۔ اس موقع پر آئی این ایل کے جانب سے سے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے لئے وردیاں اور زرہ بکتر بھی فراہم کی گئیں۔


    دو اعشاریہ چھ ملین ڈالر سے زائد لاگت سے تعمیرشدہ سپنہ تھانہ کمپاؤنڈ میں۹۰۰ ایف سی اہلکاروں کے لیے دفاتر، رہائشی عمارت، بیرکس، میس ہالز، سنتری پوسٹس، اور چوکیوں کی تعمیر شامل ہے ۔ تقریب کے دوران آئی این ایل کے تعاون سے حال میں ایف سی کو مہیا کی گئی تین ملین ڈالر مالیت کی پندرہ سو حفاظتی جیکٹس اور ہیلمٹ، تیس ہزار وردیاں، پندرہ سو جوتے اور پندرہ ہزاربیلٹس کو بھی سراہا گیا۔


    ڈپٹی ڈائریکٹر مائیک مک کیون نے حکومتی عملداری اور سیکورٹی کی فراہمی میں اضافے کے لیے ایف سی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کہ سپنہ تھانے کی نو تعمیر شدہ عمارت کوہاٹ، پشاور اور خیبر ایجنسی کے سنگم پر واقع ہے اور یہ آئی این ایل کے تعاون سے دسمبر ۲۰۱۵ء اور مارچ ۲۰۱۶ء میں ایک اعشاریہ نو اور ایک اعشاریہ سات ملین امریکی ڈالر لاگت سے تعمیر ایف سی اور لیوی کمپاؤنڈ کے ساتھ واقع ہے۔


    کمانڈنٹ لیاقت علی خان نے اپنے خطاب میں امریکی حکومت اور آئی این یل کی اعانت اور موثر تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایف سی اور آئی این ایل کے درمیان تعاون جاری رہے گا۔


    ۲۰۱۷ء میں اب تک مہیا کی گئی تین ملین امریکی ڈالر کی اعانت کے علاوہ رواں برس امریکی سفارتخانے کا شعبہ آئی این ایل فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کی حفاظت اور فاٹا میں آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک اعشاریہ پچتھر ملین امریکی ڈالر قیمت کے آرمرڈ پرسنل کیر ئیر بھی مہیا کر یگا۔



    آئی این ایل نوّے سے زائد مما لک میں جرائم، کرپشن، منشیات سے منسلک جرائم کے خاتمے، پولیس کے اداروں کی بہتری، اور ایک شفاف اور جوابدہ نظام کے لیے قوانین اور عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اعانت فراہم کرتا ہے۔


    آئی این ایل سے متعلق مزید جاننے کے لیے ملاحظہ کیجئے:


    http://www.state.gov/j/inl/




    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  9. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    892
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی سفارتخانے کی جانب سے معذور افراد کےلیے ٹیک کیمپ کا انعقاد


    امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے آج معذورافراد کے لیے منعقدہ ٹیک کیمپ میں شرکت کی ، جس میں یہ خصوصی افراد اپنی روزمرہ زندگی میں ٹیکنالوجی کےاستعمال کے متعلق سیکھ رہے ہیں ۔ امریکی سفارتخانے اور اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام (اسٹیپ) کے اشتراک سے منعقدہ اس دو روزہ کیمپ میں ذرائع آمدن اور آگاہی میں اضافے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال، وڈیو فلمسازی اور تدوین ، اور معذور افراد کے لیے تیار کی گئی موبائل ایپس کے استعمال پر مختلف نشستیں منعقد کی گئیں۔


    سفیر ڈیوڈ ہیل نے شرکا ء کو نئی مہارتوں کواپنی زندگیوں کو اجا گر کرنے اور معذوری کے شکار افراد کے حقوق اور آگاہی کے لیے استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔


    امریکی سفیر نے کہا کہ انہیں اُمید ہے کہ شرکا ء کیمپ کے دوران حاصل کی گئی نئی ٹیکنالوجی اور وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی معذور افراد کےلیے اطلاعات، روزگار اور شہری زندگی میں شرکت کے زیادہ مواقع کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔


    امریکی سفارتخانہ رواں ہفتے منعقدہ اس ٹیک کیمپ کے علاوہ پاکستان میں معذوری کے شکار افراد کے لیے متعد د دیگر سرگرمیوں میں بھی معاونت کرتا ہے ۔ امریکی سفارتخانے نے موبیلیٹی انٹر نیشنل یو ایس اے اور اسٹیپ کے اشتراک سے امریکہ میں معذور افراد سے متعلق قانون اوردوسروں کے سہارے کے بغیر آزادانہ زندگی سے متعلق آگاہی کے لیےتبادلے کے پروگرام کے دو گروپس کو امریکہ بھیجا ہے۔


    ٹیک کیمپ کے دوران اسٹیپ کی ڈائر یکٹر پراجیکٹس عابیہ اکرم نے ٹیک کیمپ کے انعقاد اور پاکستان میں معذوری کےشکار افراد کی فلاح کے لیے اعانت پر امریکی سفارتخانے کا شکریہ ادا کیا ۔


    عابیہ اکرم نے کہا کہ اسٹیپ پاکستا ن میں معذوری کے شکار افرا د کے لیے پائیدار تعاون پر امریکی سفا رتخانے کا مشکورہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ کے ذریعے ہم معذوری کے شکار افراد کو اُن وسائل سے روشناس کروا رہے ہیں جن سے وہ اپنی زندگیوں میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ معذوری کے شکار افراد کی پاکستانی معاشرے کے لیے خدمات سے آگاہی بھی فراہم کر سکتے ہیں ۔



    پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے دیگر پروگراموں کے متعلق جاننے کے لیے درج ذیل ویب سائیٹ ملاحظہ کریں۔



    pk.usembassy.gov


    ###

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    892
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    امریکہ کا پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی میں اضافے کے لئے عزم کااظہار

    حکومتِ امریکہ نے تعلیم، معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور صنفی مساوات کے متعلق ایک پینل مباحثے کے دوران پاکستانی خواتین کے لئے ترقی کے مواقع بڑھانے کے عزم کا اظہارکیا۔

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جیری بسن نے یو ایس ایڈ کے فنڈ سے چلنے والے ٹریننگ فار پاکستان پراجیکٹ کے تعاون سے منعقدہ ایک پروگرام میں تعلیم و تدریس، سرکاری اور نجی شعبے اور سماجی بہبود کے اداروں سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ سو شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لئے ایک واضح راستے کے بغیر لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ تعلیم اُن کے مستقبل کے لئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریننگ فار پاکستان منصوبے کے ذریعے یو ایس ایڈ لڑکیوں اور خواتین کے لئے تعلیم اور کام کے مساوی مواقع کی فراہمی کے لئے کام کررہا ہے۔

    پینل مباحثے کی میزبانی کے فرائض یو ایس ایڈ کے تعاون سے چلنے والے پاتھ ویز ٹو سکسیس نیشنل مینٹورنگ پروگرام کی رابطہ کار منیزہ ہاشمی نے کی جبکہ پینل کے شرکاء میں معروف مصور اور فنکار سلیم ہاشمی، مقرر اور پریزنٹر تنزیلہ خان، ٹی وی فنکارہ سیمی راحیل، سماجی کارکن اور بیوٹیشن مسرت مصباح اور ماہر قانون و انسانی حقوق کی کارکن رخشندہ ناز شامل تھیں۔

    ٹریننگ فار پاکستان منصوبہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے انہیں مارکیٹ کی مناسبت سے مہارتوں کے حصول، کام کے مقامات کے لئے انہیں تیار کرنےاور کاروبار و روزگار سے متعلق کوششوں میں تعاون کے ذریعے رسمی و غیر رسمی فنی و تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لئے خیبرپختونخوااور سندھ میں تین ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے۔

    اطلاعات ٹیکنالوجی، کاروبار، قانون، مائیکرو فائنانس، بینکنگ، درس و تدریس، فنون، کھیلوں اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی تیس سے زائد کامیاب اور معروف خواتین نے یو ایس ایڈ کے تعاون سے جاری رہنمائی پروگرام کے تحت تین سو لڑکیوں کے لئے ایک قومی رہنمائی نیٹ ورک میں شرکت کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والی یہ خواتین کامیابی کی راہ میں حائل مشکلات پر قابو پانے اور پیشہ ورانہ ترقی کی راہ ہموار کرنے سے متعلق رہنمائی کے لئے ایک ماہ میں کم از کم دو مرتبہ لڑکیوں اور اُن کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرتی ہیں ۔

    ٹریننگ فار پاکستان منصوبہ ایک کثیر سالہ پروگرام ہے جس کا مقصد تعلیم، توانائی، معاشی ترقی و زراعت، صحت و استحکام اور نظم و نسق کے شعبوں میں تربیت فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت حکومتِ پاکستان کے ترقیاتی اہداف کے مطابق یو ایس ایڈ کے اشتراک ِ کاروں کی صلاحیت میں بہتری لاتے ہوئے تربیت کے وسیع وسائل کو بروئے کار لایاجاتا ہے۔

    یو ایس ایڈ اور پاکستان میں اس کے پروگراموں کے بارے میں مزید جاننے کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    www.usaid.gov/pakistan

    ###

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں