ايک اور امريکی منصوبہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اگست 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکہ کی جانب سے پاکستان میں مخلوط نسل کی مکئی کے بیج کی پیداوار کا آغاز


    اسلام آباد (۱۷فروری ِ ۲۰۱۶ء)__ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے آج یہاں نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں پاکستانی تحقیقی اداروں اور نجی شعبہ کو مکئی کی نئی اقسام کے بیج فراہم کئے۔نئی اقسام کی مکئی کی نشاندہی اور فراہمی یوایس ایڈ کے ایگریکچرل انوویشن پروگرام نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے تعاون سے کی ،جس کا مقصد پاکستان میں معیاری قسم کی مخلوط مکئی کے بیج کی پیداوار بڑھانے کے عمل کو مہمیز دینا ہے۔


    یوایس ایڈکے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے اِس موقع پر اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان ملک بھر میں کاشتکاروں کے روزگار کو بہتر بنانے اورکروڑوں پاکستانیوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک تک زیادہ رسائی کا مشترکہ نصب العین رکھتے ہیں اور جب امریکہ اور پاکستان مل جل کر کام کرتے ہیں تو پاکستان میں زراعت کے شعبہ اور دیگر میدانوں میں ترقی اور خوشحالی کے اہداف حاصل کرتے ہیں

    راولاکوٹ، آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک کسان محمد صادق نےکہا کہ یہ بیج آنے والے کئی برسوں تک میری فصل کے معیار کو بہتر بنائیں گے۔ میں پاکستان کی زرعی ترقی میں اعانت پر امریکی عوام کا مشکور ہوں۔

    یوایس ایڈ کا ایگریکچرل انوویشن پروگرام۳۰ ملین ڈالر مالیت کا چار سالہ پروگرام ہے جو گندم، مکئی ، چاول ، مویشی، پھل اور سبزیوں کے متعلق جدید طور طریقوں کے فروغ کے ذریعہ پیداوار اور آمدن میں اضافے کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ آج تقسیم کئے گئے مکئی کے بیج خشک سالی اور گرمی کی شدت سے مزاحمت کرنے والی تیار کی گئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بھی مقابلہ کرتے ہیں اور مٹی میں نائیٹروجن کی کم مقدار میں بھی پیداوار دیتے ہیں۔

    ایگریکچرل انوویشن پروگرام کے بارے میں مزید معلومات کے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں:

    http://aip.cimmyt.org/

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جی ہاں ایساضرورہوگاآپ کہتے ہیں توضرورہوگامیں آپ کورد بھی نہیں کررہاہوں مگرمندرجہ بالابیج ہی ہیں شاید میں صحیح ہوں اگرمیں صحیح نہیں ہوں توتصحیح فرمادیجئے گا ساؤتھ افریقہ نے ان بیجوں کومضرصحت کہہ کرردکردیاہے نیزیورپی یونین نے جی ایم خوراک کی درآمد اور جینیاتی طور افزائش کیے جانے والے آرگینزم ( living organisms) کے ماحول میں چھوڑے جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے مطابق مغربی یورپ کے ستر سے اسی فیصد صارفین اب جی ایم غذا کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔
    http://www.bbc.com/urdu/interactivity/guest/story/2004/06/040626_food_yale_globalization.shtml
    جنیاتی طریقے (جینیٹک انجینئرنگ) کے ذریعے تیار کی جانے والی فصلوں کو جی ایم فصلیں کہا جاتا ہے۔ ان فصلوں کی تیاری کے لئے عام سطح پر مطلوبہ جین ایک جاندار سے دوسرے جاندار میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ مطلوبہ جین منتقل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلے طریقے میں جین گن (آلہ) استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک پودے سے ڈی این اے اپنی تعداد بڑھا لیتا ہے، اس طرح جین منتقل ہو جاتا ہے۔ دوسرے طریقہ میں ایک بیکٹیریم استعمال کیا جاتا ہے جس کی مدد سے پودے میں مطلوبہ جین داخل کر دیا جاتا ہے اور وہ جنیاتی تبدیل شدہ پودا بن جاتا ہے۔
    دنیا کے متعدد ممالک نے جی ایم فصلوں کو اپنایا مگر کہیں اس کے نتائج حوصلہ افزاءاور کہیں نقصان دہ برآمد ہوئے۔ 2004ء میں آسٹریلیا، ارجنٹائن، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، چائنہ، کولمبیا، جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، میکسیکو، فلپائن، رومانیہ، انگلینڈ، ساﺅتھ افریقہ، امریکہ، ہنگری، آسٹریا اور یوراگوئے نے بی ٹی فصلوں کو اپنایا مگر آج ان میں سے دیگر بائیو ٹیکنولوجی کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں۔ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، ہنگری اور بلغاریا جیسے ممالک بی ٹی فصلوں کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں۔
    اب جس ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکہ ہمیں مکئی کی فصل اگانے میں مدددے رہاہے اسے اس نے خودترک کردیاہے ویسے بھی امریکہ کی عادت ہے وہ اپنی ترک کی ہوئی چیزیں ہمیں اورہم جیسے دیگرممالک کو فروخت کرتاہے
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    خیبر پختونخوا اور فاٹا سے تعلق رکھنے والی ۱۸۵ دائیوں کے لئے امریکی تربیت

    اسلام آباد (۱۸ فروری ِ ۲۰۱۶ء)__ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) پاکستان کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے خیبرپختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی اُن ۱۸۵ خواتین کو آج یہاں مبارکباد دی جنہوں نے دائیوں کے لئے تربیت کا ڈیڑھ سالہ کورس مکمل کیا۔ اس پروگرام کے لئے امریکہ نےمالی اعانت فراہم کی۔

    مشن ڈائریکٹر گرورک نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ صحتمند خاندان ایک صحتمند قوم کی بنیاد ہوتا ہے اس لئے انہیں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ امریکہ اس پروگرام اور دیگر منصوبوں کے ذریعہ پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرکے پاکستان کے صحت کے شعبہ کو مضبوط کر رہا ہے۔

    اس پروگرام کے دوران تربیت حاصل کرنے والی دائیوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ کس طرح وہ چاہتی ہیں کہ زچہ و بچہ کی شرح اموات کوکم کیا جائےاورمقامی سطح پر صحت سے متعلق دیگر مسائل حل کئے جائیں۔ اپنی تربیت کے دوران جو یو ایس ایڈ کے ٹریننگ فار پاکستان پروگرام کے تحت فراہم کی گئی، شرکاء نےمقامی سطح پر زچگی کے وقت مدد، نارمل ولادت اور خطرات سے بروقت آگاہی سے متعلق تربیت حاصل کی تاکہ مریضہ کو بروقت مرکز صحت تک بھیجا جا سکے۔

    یو ایس ایڈ کےتقریباِ چونتیس ملین ڈالر مالیت کے ٹریننگ فار پاکستان پروگرام کے تحت توانائی، معاشی ترقی، زراعت، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوںمیں تربیت دی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت مئی ۲۰۱۷ء تک یو ایس ایڈ چھ ہزار پاکستانیوں کو تربیت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان کے شعبہ صحت میں یو ایس ایڈ کی سرگرمیوں کے بارے میں مزید جاننے کے لئے مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر جائیے :

    www.usaid.gov/pakistan/health


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    آپ کہہ رہے ہیں توٹھیک ہوگاامریکہ نے بڑااچھا کام کیاپھراگریہ صحیح ہے تو!!!!!!!!!
    مگرامریکہ جوخیبرپختونخواہ میں ڈرون حملے کررہاہے اس کاذکرآپ کرناکیوں بھول گئے کیا وہ اپنی پرانی پالیسی پرعمل پیراتو نہیں کہ پہلے ایک علاقے میں بمباری کرے پھر اسی علاقے میں ڈبل روٹی بھی پھینک دے کیامجھے یاددلاناہوگاکہ امریکہ نے صدام حسین کے دورمیں عراق میں میزائل فائر کیا جس میں لکھا تھا Ramadan 's Gift
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  5. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    کيا آپ ايمانداری سے يہ سمجھتے ہيں کہ امريکہ اور پاکستان کی حکومتوں کے درميان کسی بھی قسم کے سفارتی يا عملی تعلقات موجود ہوتے اگر ہم واقعی دانستہ بغير کسی منطق اور وجہ کہ پاکستانی شہريوں کو نشانہ بنا کر ان کے قتل عام ميں ملوث ہوتے؟

    دونوں ممالک کی سول اور فوجی قيادت کيونکر وسائل کے اشتراک، فوجی سازوسامان کی ترسيل اور اس کے ساتھ ساتھ اينٹيلی جينس، تربيت اور حکمت عملی کے تبادلے کے عمل ميں شراکت دار کی حيثيت سے شامل ہو سکتی ہے اگر آپ کے غلط الزام کے مطابق ايک فريق انتہائ ناقابل فہم انداز ميں معصوم شہريوں کو نشانہ بنا رہا ہے؟

    ميں واضح کر دوں کہ امريکی حکومت بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے کے درپے ہرگز نہيں ہے۔ میں نے يہ بات بارہا

    کہی ہے کہ دانستہ عام شہريوں کی ہلاکت سے امريکہ کو فوجی، سياسی اور اسٹريجک سطح پر نا تو کوئ فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نا ہی يہ طرزعمل ہماری قدروں سے ميل کھاتا ہے۔

    آپ يہ چاہتے ہيں کہ میں اس بحث کے ايک پہلو پر توجہ مرکوز رکھوں اور باقی جہتوں کو نظرانداز کر دوں۔ ليکن کسی بھی موضوع پر تعميری اور سہل حاصل گفتگو کے لیے يہ ضروری ہوتا ہے کہ آپ دونوں جانب کے فريقین کے نقطہ نظر اور حقائق کو سامنے رکھيں تا کہ مسلۓ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ آپ کو اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ بے گناہ انسانی جانوں کے ضياع پر اپنے غم و غصے کا اظہار کريں۔ ليکن اس ضمن میں حتمی راۓ قائم کرنے سے پہلے آپ کو يہ بات بھی مدنظر رکھنی ہو گی کہ عالمی برادری بشمول امريکی اور پاکستانی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے نتيجے میں کتنے بے گناہ انسانوں کو بچانا ممکن ہو سکا۔

    ذرا تصور کريں کہ وہ تمام دہشت گرد جو پاکستان کے اندر گرفتار يا ہلاک کيے جا چکے ہيں، اگر ان کے خلاف کوئ کاروائ نہ کی جاتی اور وہ آج بھی بلا روک ٹوک پاکستان کے اندر کم سن بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکميل کے ليے خود کش حملہ آور بنانے میں مصروف ہوتے اور پاکستان کے اہم شہروں ميں بغیر کسی روک ٹوک کے دہشت گردی کرنے کے لیے آزاد ہوتے تو اس کے نتيجے ميں کتنے اور معصوم پاکستانی شہری لقمہ اجل بنتے۔ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ان دہشت گردوں کو بلا روک ٹوک اپنی کاروائياں جاری رکھنے کی اجازت دينا دانشمندانہ فيصلہ گردانا جا سکتا ہے؟

    باوجود اس کے کہ امريکہ اور پاکستان کے مابين بعض معاملات پر بحث اور باہم اہميت سے متعلق طريقہ کار کے حوالے سے نقطہ نظر ميں اختلاف موجود ہے ليکن اس کے باوجود ہم مشترکہ مقاصد کے حصول اور پاکستان سميت خطے کی مجموعی سيکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے ليے مل کر کام کرنے کے ليے پرعزم ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکی اور پاکستانی حکام کی جانب سے نیشنل بائیو کنٹرول لیبارٹری کا افتتاح

    اسلام آباد (۳ ِ مارچ ، ۲۰۱۶ء)__ امریکی محکمہ زراعت کی نائب منتظم برائے بیرونی زرعی خدمات جوسلین براؤن نے آج قومی زرعی تحقیقاتی کونسل میں نیشنل بائیو کنٹرول لیبارٹری کا افتتاح کیا۔ امریکی حکومت نے اس لیبارٹری کے لئے فنی معاونت و سازوسامان فراہم کئے ہیں۔ یہ لیبارٹری کسانوں کو اپنی فصلیں زرعی کیڑوں سے محفوظ رکھنے میں مدد کرنے کے لئے زرعی تحقیق کا کام انجام دے گی۔

    ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر جوسلین براؤن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لیبارٹری نئی ٹیکنالوجیز اور تحقیقی صلاحیتیں متعارف کرانے کے لئے امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں اور اداروں کی مشترکہ کوششوں کی ایک شاندار مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبارٹری کی تحقیقی کاوشوں سے کسانوں کو ضرررساں کیڑوں پر قابو پانے، کیڑوں پر قابو پانے کے لئے کیمیکلز کے استعمال میں کمی اور پاکستانیوں کے لئے محفوظ غذائی رسد میں مدد ملے گی۔

    سینٹر فار ایگریکلچر اینڈ بائیوسائنس انٹرنیشنل (کیبی) کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر بابر باجوہ اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے قائم مقام چیئرمین ڈاکٹر ندیم امجد نے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر براؤن کے ساتھ ملکر فیتہ کاٹنے کی تقریب میں شرکت کی۔

    امریکی محکمہ زراعت پاکستان کے زرعی شعبے کو مستحکم بنانے کے لئے بین الاقوامی اور پاکستانی اداروں کے ساتھ اشتراک کررہا ہے۔ اپنے دورہ پاکستان کے دوران امریکی محکمہ زراعت کی ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر جوسلین براؤن نے سینٹر فار ایگریکلچر اینڈ بائیوسائنس انٹرنیشنل، اقوام متحدہ کے خوراک کے عالمی پروگرام اور قومی زرعی تحقیقاتی کونسل کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کے زرعی شعبے میں اہم پیش رفت اور جاری اشتراک پر بات چیت کی۔

    امریکی محکمہ زراعت کی نائب منتظم برائے بیرونی زرعی خدمات جوسلین براؤن نے ،جنہوں نے ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۰ء تک پشاور میں این ڈبلیو ایف پی زرعی یونیورسٹی میں ایک امن رضاکار کے طور پر خدمات انجام دیں، کہا کہ اُنہیں پاکستان واپس آنے اور مشکل زرعی مسائل حل کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی مشترکہ کاوشوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی سفیر کی جانب سے پانی، توانائی وخوراک کی سلامتی کے متعلق کانفرنس کا افتتاح

    اسلام آباد (۱۶ فروری، ۲۰۱۶ء)__ امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال اور نسٹ کے ریکٹر انجینئر محمد اصغر نےآج نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں پانی ،توانائی و خوراک کی سلامتی کے باہمی تعلق کے بارےمیں کانفرنس کا افتتاح کیا۔اس کانفرنس کا مقصددنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں، آبادی میں اضافہ، معاشی ترقی اور پانی ، توانائی و خوراک کے بڑھتے ہوئے استعمال کے اثرات کے بارے میں تبادلہ خیال اور ان مسائل کے ممکنہ حل تلاش کرنا ہے۔

    سفیر ڈیوڈ ہیل نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانی ، توانائی اور خوراک زندگی کے تین بنیادی ضروریات ہیں اور یہ ضروری اجزاء ایک پیچیدہ عمل کے ذریعہ ہم تک پہنچتے ہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیاں اِس عمل کو متاثر کررہیں ہیں۔ اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمیں مل جل کر نت نئے خیالات، نئے اشتراک ِکار اور جدت پر مبنی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

    دوروزہ کانفرنس میں حکمت عملی وضع کرنے والے ماہرین، سائنس دان اور نجی کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیات پانی ، توانائی اور زراعت کے درمیان تعلق کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ شرکاء ان حل کے بارے میں غور وخوض کریں گے جن سےخوراک ، پانی اور توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے واضع سرکار ی پالیسیاں تشکیل دینے اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔یہ کانفرنس دونوں ملکوں کے درمیان پانی، توانائی اور خوراک کی سلامتی کے کلیدی شعبوں میں جاری اس تعاون کی عکاسی کرتی ہے جو صدر باراک اوبامہ اور وزیر اعظم نوازشریف نے اکتوبر ۲۰۱۵ء میں ہونے والی ملاقات طے پایا تھا۔

    انجینئر محمد اصغر نے کہا کہ پانی اور خوراک کی سلامتی ایسے بین الاقوامی معاملات سے نمٹنے کے لئے سرحدوں پار تعاون کی اہمیت کو کم نہیں کیا جاسکتا ۔یہ وہ مسائل ہیں جو سرحدوں سے ماوریٰ ہیں اور ان کے حل سے تمام لوگ استفادہ کرسکتے ہیں چاہے وہ کہیں بھی رہتے ہوں۔

    امریکہ اورپاکستان توانائی کے شعبہ میں تعاون اور قدرتی گیس اور آلودگی سے پاک توانائی کے ماخذ جیسا کہ شمسی توانائی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی ، جیو تھرمل اور ہائیڈرو انرجی کے شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کو ترغیب دینے کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ دونوں ملکوں نے دسمبر میں پیرس میں اکیس ملکوں کی موسمیاتی تبدیلی کے متعلق کانفرنس میں ایک سمجھوتے پر زور دیا تھااور آلودگی سے پاک توانائی کے لئے اشتراک اور تزویراتی مذاکرات کے ذریعہ مشترکہ طورپر سرگرم ِ عمل ہیں۔

    پانی ، توانائی اور خوراک کی سلامتی کی مشترکہ کانفرنس کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں:

    http://www.nust.edu.pk/INSTITUTIONS/Schools/SCEE/Institutes/NICE/Events/Pages/WEF-Conf.aspx

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    بچوں میں پڑھنے کی عادتوں کو فروغ دینے سے متعلق یو ایس ایڈ گرانٹس کی کامیاب تکمیل

    اسلام آباد (۱۰ مارچ ، ۲۰۱۶ء)__ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) نے ابتدائی عمر سے ہی بچوں میں پڑھنے کی عادت اور مہارت پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کے لئے ۱۸ چھوٹی گرانٹس کی کامیاب تکمیل پر ایک تقریب منعقد کی۔

    یو ایس ایڈ پاکستان ایجوکیشن آفس کی ڈائریکٹر نتاشہ ڈی مرکن نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں کمیونٹی کی سطح پر پڑھنے کی سرگرمیوں کے لئے گرانٹس کے لئے غیر معمولی درخواستیں ریکارڈ تعداد میں موصول ہوئیں۔ ان گرانٹس سے والدین کو ایسی سرگرمیوں میں شریک کرنے میں مدد ملی، جن سے بچوں کی پڑھنے کی صلاحیتیں مستحکم ہوں گی اور بچوں کی تفریحی اور زندگی بھر سیکھنے کی جستجو کے لئے پڑھنے کی عادت کو فروغ ملے گا۔

    یو ایس ایڈ پاکستان ریڈنگ پراجیکٹ کے تحت فراہم کی جانے والی ان گرانٹس کے تحت تین ماہ پر محیط سرگرمیوں کے لئے معاونت فراہم کی گئی۔ یونیورسٹی ٹاؤن، کراچی میں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول نے اساتذہ اور والدین کی ملاقاتوں کا اہتمام کیا، والدین کو کہانی سنانے جیسی سرگرمیوں میں شریک کیا اور اپنی گرانٹ کے ذریعے ایک ینگ ریڈر پرائز قائم کیا۔

    گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کی ہیڈ ٹیچر مسرت خان نے کہا کہ اس سرگرمی کے بعد ہمارے اسکول میں بچوں کے اندراج میں نمایا ں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے والدین ہمیں بتاتے ہیں کہ بچے اب صبح جلدی اٹھتے ہیں اور بہت لگن کے ساتھ اسکول جاتے ہیں۔

    یو ایس ایڈ کے فنڈ سے چلنے والے پاکستان ریڈنگ پراجیکٹ کے تحت پورے پاکستان میں صوبائی اور علاقائی تعلیمی محکموں کو بنیادی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں میں پڑھنے کی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لئے معاونت کی جاتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں امریکی معاونت کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کیجئے۔

    https://www.usaid.gov/pakistan/education

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکہ سے اختلافات چین کے بھی ہیں جاپان کے چین سے چین کے تائیوان سے امریکہ کے میکسیکو سے اختلافات ہیں مگر انہوں نے ایک دوسرے سے تجارتی اورسفارتی تعلقات بہرحال رکھے ہیں یورپ کے بھی مختلف حوالوں سے امریکہ سے شکایات ہیں مگر آج کی دنیا میں بہرحال تعلقات مطلقانہیں توڑے جاتے ہیں بلکہ اب توامریکہ نے ایران سے بھی تعلقات بہتربنالیئے ہیں ۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تویہ بات میڈیا میں بھی موجود رہی ہے کہ اپنے شہریوں کو مارنے کا لائسنس خود پاکستانی حکومت نے امریکہ کودیااوریہ لائسنس امریکہ نے وصول کیاخیر یہ بات توطے ہے کہ امریکہ اپنے مفاد کیلئے کسی کابھی خون پانی کی طرح بہاسکتاہے اس میں نہ اسے کوئی عار ہے اورنہ کسی عالمی قانون کی پرواہ۔

    لارڈ میکالے نے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک تقریر کی تھی ذراپڑھ لیں

    "میں انڈیاکے طول وعرض میں گیامیں نے وہاں ایک بھی بھکاری اورچورنہیں دیکھاجتنی خوشحالی،اخلاقی اقداراورمہارت میں نے وہاں دیکھی ہے میں نہیں سمجھتاکہ ہم کبھی اس ملک کوفتح کرسکتے ہیں تاآنکہ ہم انکی ریڑھ کی ہڈی توڑدیں جوکہ انکی روحانی اور ثقافتی میراث ہے،تومیں یہ مشورہ دوں گا کہ ہمیں انہیں (یعنی انڈینزکو)باورکراناہوگاکہ انکی تعلیم سے بہتر ہماری انگریزی تعلیم ہے اس طرح ہم انہیں زیرِ نگین کرسکتے ہیں۔

    میکالے کی طویل تقریر کا یہ اقتباس مسلمانان پاکستان کے لیئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ اس نے مسلم کا لفظ استعمال نہیں کیالیکن جو کچھ اس نے بیان کیا اس کا موضوع ہندو نہیں مسلمان ہے کہ جس کی علمی اساس اور علمی ذخیروں سے وہ خائف تھا۔ مسلمانوں کے تہذیب وتمدن اور علمی اثاثوں کو مٹانے کے لیئے یہ ساری منصوبہ بندی کی گئی۔ اس نے کھل کر کہا کہ مسلمانوں کا دیرینہ نظام تعلیم اور ثقافت انگریز کے فاتح ہونے میں رکاوٹ ہیں۔ لھذا اس نے نظام تعلیم اور ثقافت اسلامی کی تبدیلی پر زور دیا۔ انگریز ی زبان کی ترویج کے لیئے تمام نصاب تعلیم انگریزی زبان میں اور اس میں مواد بھی فرنگی کے نظریات و ثقافت پر مبنی نافذ کرنے کی پالیسی بنائی گئی ۔ اسی پالیسی کے تحت مسلمانوں کے اعلی تعلیمی ادارے اور جامعات بند کردی گئی۔ تعلیمی اداروں کے لیئے وقفت زمینیں اور دیگر اثاثے بحق سرکار ضبط کرلیئے گئے۔ اسکے مد مقابل دنیا کی تاریخ میں پہلے مرتبہ بحکم سرکار مجوزہ نصاب مسلط کیا گیا اور اسکے فارغ ہونے والوں کو حسب درجات سرکاری ملازمتیں دینے کے معیار مقر رکردیئے۔ ان اداروں سے مسلم ثقافت اور عربی، فارسی زبانوں کو رخصت کردیا گیا۔

    آج بھی اس میکالے کےمنصوبے پرعمل ہورہاہے اوراگست 2002 میں نینسی جے پال نامی ایک خاتون کوپاکستان میں امریکہ کا سفیر بناکربھیجااس نے پاکستان میں دوبرس کام کیا امریکہ نے اسے تین ٹاسک دیئےجس میں اولین ترجیح پاکستان کے نصاب تعلیم میں تبدیلی دوسراکام حدودآرڈیننس کاخاتمہ یا ترمیم اورتیسراکام توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی یاخاتمہ امریکی سفیر نے اس کے لئے لابنگ کی میڈیا سے لیکر حکمرانوں تک سب کوتیارکیا نیز اس کام کے عوض حکومت کوتین ارب اسی کروڑ کی خطیر بھی دی جس کے بعد جناب مشرف کا بیان آیا کہ پاکستان اوربھارت کانصاب تعلیم یکساں ہوناچاہئے۔
    امریکہ اگر تعلیم کے شعبہ میں پاکستان کی کوئی مدد کررہاہے تواس کے پیچھے اس کے مقاصد وہی میکالے والے ہیں جس پر عمل درآمد بڑی شدمد سے ہورہاہے اب پتہ نہیں کہ کب ہمیں اس کاادراک ہوگا۔
    ولیم بلم لکھتاہے کہ امریکہ کے ہاتھ لاکھوں بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں امریکی سی آئی اے نے پوری دنیا میں ناپسندیدہ افراد اور رہنماؤں کے قتل کی سازش تیارکی جسے کانگریس نے بھی خفیہ رکھا۔
    نیلسن منڈیلانے سی آئی اے کی وجہ سے 28 سال جیل میں گزارےامریکہ نے نائن الیون کابہانہ بناکرافغانستان میں حملہ کیامگرنائن الیون کے ذمہ داروں کاافغانستان سے تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔
    آپ لکھتے ہیں کہ
    مگرسچائی یہ ہے کہ امریکہ نے عراق، افغانستان اور ذرا پیچھے مڑکر دیکھیں تو ویت نام میں جس بر بریت کا مظاہرہ کیا یہ ممالک تو کیا پوری دنیا ان مظالم کو نہیں بھول سکتی اور نہ امریکہ اپنے ان سیاہ کارناموں کو تاریخ سے مٹاسکتا ہے۔عراق میں امریکی بمباری نے جس طرح عراق کو دہلا کر رکھ دیا تھا آج بھی وہ ان اثرات سے آزاد نہیں ہو سکا ہے عراق پر برسائے گئے بارود کی مقدار اور شدت ہیرو شیما پر گرائے گئے امریکی ایٹم بم سے سات گنا زیادہ تھی جو صرف مفروضوں کی بنیاد پر برسایا گیا اور اس میں سے 93% بارود انتہائی سفاکی سے آزادانہ طور پر گرایا گیا باقی 7% گائیڈڈ میزائل میں سے بھی امریکی مہارت کی بنا پر 25% خطا ہوئے اس بارود نے لاکھوں سول عراقی زندہ جلا دیئے اور اس سے بھی بڑا نقصان اور جرم اس وقت ہوا جب عراقی بچے اور بڑے مختلف موذی اور متعدی بیماریوں میں مبتلا ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیضہ، ٹائیفائڈ اور ہیپٹائٹس جیسی وباؤں نے عراقیوں کو مزید عذاب میں مبتلا کیا ان کے روزگار کے مواقع ختم کر کے بھوک اور ننگ میں مرنے کا پورا پورا بندوبست کیا گیا معاشی طور پر بھی اس ملک کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا اور وحشت اور بر بریت کا یہ سارا کھیل عراقی تیل کی خاطر کھیلا گیا اور عراق پر کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگانے والے امریکہ نے خود وہاں ہر طرح کا غیر قانونی اسلحہ استعمال کیا جن میں کیمیائی ہتھیار بھی کھلے عام استعمال کیے گئے مزید اس نے Fuel Air Explosive یعنی جلا کر مار دینے والا اسلحہ اور نیپام بم بھی بے دریغ استعمال کیے اور کلسٹر بموں سے بھی عام عراقیوں کے ٹکڑے اڑا دیے گئے۔
    افغانستان میں بھی انسانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا اور خود کو انسانیت کا علمبردار کہنے والے اس دہشتگرد نے یہاں کی معصوم اور نہتی آبادی کو جس طرح بھون اور کاٹ کر رکھ دیا وہ بھی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے امریکہ ہٹلر کے گیس چیمبرز کا ذکر تو کرتا ہے لیکن خود اُس سے بڑھ کر جنگی جرائم کا مرتکب ہوا۔ اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب اُس نے 8000 افغانی ایک کنٹینر میں بھرے اور ان قیدیوں پر احسان کرتے ہوئے اُس میں ہوا کے لیے سوراخ بنانے کے لیے اُس بھرے ہوئے کنٹینر پر فائر کیے یوں کچھ قیدی تو ہوا کے حصول کے نظر ہو گئے اور باقی ہوا اور خوراک کی کمی سے شہید ہو کر تین ہزار روحیں امریکی شغل میلہ کی نظر ہو کر جسموں سے آزاد ہو گئیں اور اجتماعی قبر میں بغیر کسی پوسٹ مارٹم یا طبی معائنے کے دفن کر دی گئیں۔
    یہ میں نہیں خود دی ٹائمز لکھتاہے کہ امریکی فوجی تین ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کنڑ کے گاوئں غازی خان گئے اور وہاں نو طلبا کو شہید کر دیا ان معصوم بچوں میں سے آٹھ چھٹی جما عت کے طلبا تھے۔
    ڈیلی ٹائمز لکھتاہے 12 فروری 2010 کو گردیز میں خطابہ کے مقام پر اُس نے ٹارگٹ کر کے دو حاملہ خواتین دو بچوں اور ایک نوجوان لڑکی کو مار ڈالا پہلی بار نیٹو افواج نے کسی ایسی حرکت کی ذمہ داری قبول بھی کر لی۔
    نیویارک ٹائمز جیسے متعصب اور مسلم مخالف اخبار نے اعتراف کیا کہ 21 مارچ سے 21 اپریل 2010 تک 173 معصوم شہری افغانستان میں امریکی درندگی کا نشانہ بنے۔
    ابھی تومیرے پاس اتناوقت نہیں ہے ورنہ میں آپ کے ایک ایک پوائنٹ کاجواب دیتامگرمیں نے چیدہ چیدہ آپ کے نکات پر آپ کوجواب دیاہے ورنہ امریکہ کے ایسے بھیانک کارنامے لکھتے لکھتے شاید میرے بالوں میں سفیدی آجائے مگرانکل سام کے کارناموں کی داستان ختم نہ ہو۔
     
    Last edited: ‏مارچ 17, 2016
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکی سفارتخانہ کی جانب سے ’’دی لیڈرز سمٹ ‘‘میں علاقائی رابطے کا فروغ

    اسلام آباد (۱۷ مارچ ، ۲۰۱۶ء)__ امریکی سفارتخانہ کے ناظم الامور جوناتھن پریٹ نے "دی لیڈرز سمٹ" میں علاقائی معاشی روابط کے ثمرات اور پاکستان کیلئے امریکی اعانت کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ اس ایک روزہ کانفرنس کے انعقاد میں "نٹ شیل فورم "اور جنگ میڈیا گروپ جیسے اداروں نے تعاون کیا ۔ کانفرنس میں ،جس کا موضوع "دی بگ ری تھنک" تھا ، جدت طرازی، قیادت، توانائی، ثقافت، تنوع، کاروباری حکمت عملی اور بحران سے نمٹنے کے انتظام سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

    ناظم الامور جوناتھن پریٹ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی روابط کے حوالے سے ہم نے ایک ایسی حکمت عملی وضع کی ہے جو پڑوسی ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دے گی اور ان کےباہمی تعلقات کو بہتر بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر خطہ بہتر کاروباری تعلقات سے منسلک ہو جائے تو ہمیں امید ہے کہ اس سے سیاسی تعلقات میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

    جوناتھن پریٹ نےمزید کہا کہ امریکہ اور پاکستان نے علاقائی روابط اور ادغام کو فروغ دینے کیلئے مشترکہ طور پر متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں سڑکوں کی تعمیر نو اور کسٹمز کی چیک پوسٹوں کو توسیع دینا شامل ہے۔ جوناتھن پریٹ نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ذریعےتعلیم ، تبادلہ پروگراموں اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں بھی مل کر کام کررہے ہیں۔

    تیسری سالانہ لیڈرز سمٹ میں ، جس کا اہتمام امریکی سفارتخانہ کے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام میں شرکت کرنے والے پاکستانی محمد اظفر احسن نے کیا تھا، کاروباری رہنماؤں، سرکاری حکام اور ماہرین تعلیم سمیت تقریباً ۵۰۰ شخصیات نے شرکت کی۔ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے قائم مقام مشن ڈائریکٹر جیمز پیٹرز نے بھی کانفرنس میں اظہار خیال کیا، جس میں انہوں نے قیادت، اخلاقیات اور معاشرے سے متعلق امور پر توجہ مرکوز کی

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  11. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اس حقیقت سے کوئ انکار نہيں ہے کہ ہم ان بے رحم مجرموں کا تعاقب پوری استقامت اور تندہی سے کر رہے ہيں جو دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا کر انھيں قتل کر رہے ہيں۔ يہ ہمارا واضح کردہ ايجنڈا اور ہدف ہے۔ ليکن اس کاوش ميں ہم تنہا نہیں ہيں۔ ہميں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی مکمل حمايت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی تائيد اور تعاون بھی حاصل ہے۔ اس تناظر ميں يہ دعوی کہ ہم پاکستان میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہيں، اس ليے بھی درست نہيں ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر سيکورٹی کے امور کے لیے کلی طور پر خودمختار ہے۔ ہم پاکستان کی حکومت کی درخواست پر ہی فوجی امداد، لاجسٹک سپورٹ اور وسائل کی شراکت داری کے صورت ميں تعاون اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔

    ميں نے متعدد بار يہ واضح کيا ہے کہ پاکستان کے عام شہری ہمارا ہدف ہرگز نہيں ہیں۔ بدقسمتی سے يہ القائدہ، ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک تنظیموں کا خود بيان کردہ نصب العين ہے۔ خطے میں ہماری کاروائ ان عناصر کے خلاف ہے جو بچوں کو خود کش حملہ آور بنا کر معصوم شہريوں کا قتل عام کر رہے ہيں۔ لیکن ہماری کوششيں پاکستان کی حکومت، سول اور فوجی انتظاميہ کی مرضی کے بغير ہرگز نہيں ہیں۔

    ميں پاکستان کے فورمز پر شدت کے ساتھ پيش کيے جانے والے اس غلط تاثر اور غیر متوازن دليل سے واقف ہوں جس کے تحت يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا مسلۂ نہيں ہے اور پاکستانی شہری اپنی سرزمين پر محض امريکہ کی جنگ لڑ رہے ہيں، جس کا مقامی آبادی کو کوئ فائدہ نہيں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے واقعات نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ ہميں اس حقيقت کو ماننا پڑے گا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت نہ صرف يہ کہ پاکستانی معاشرے کو گہنا رہی ہے بلکہ اس کی جڑيں اب قبائلی علاقوں سے نکل کر شہروں تک پہنچ چکی ہيں۔

    دہشت گرد تنظيموں کی قيادت کے بيانات اور عوامی موقف کے برعکس، امريکہ اور اس کے شہری دہشت گردی کی اس مہم کے واحد ہدف ہرگز نہيں ہیں۔ حقائق اس سے بالکل مختلف ہيں۔

    پاکستان ميں وہ سينکڑوں خود کش حملے جن کی بدولت معاشرے کی بنياديں ہل کر رہ گئ ہيں، ان میں کتنے امريکی شہری ہلاک ہوۓ ہيں؟ اسی طرح افغانستان ميں دانستہ اور بلاتفريق بے گناہ شہريوں کی ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گرد صرف امريکہ ہی کے خلاف حالت جنگ ميں نہيں ہیں۔

    ايک متوازن اور تعميری تجزيے کے لیے ضروری ہے آپ امريکہ کی دہشت گردی کے خلاف ايک ايسی کوشش کے حوالے سے تنقيد پر ہی بضد نہ رہيں جس ميں حکومت پاکستان سميت اقوام متحدہ کے ممبران کی اکثريت شامل ہے بلکہ دہشت گردی کے اس عفريت کا قلع قمع کرنے کی ضرورت کو بھی ملحوظ رکھيں جس سے تمام سياسی اور مذہبی افکار سے منسلک پوری دنيا کے پرامن شہريوں کے ليے يکساں خطرہ ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  12. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اصل معاملہ کسی مخصوص مدرسہ يا مذہبی مقطبہ فکر سے متعلق تنظيم کو بدنام کرنا يا موردالزام قرار دينا نہيں ہے۔

    ہمارے خدشات وہی ہيں جن کا اظہار خود حکومت پاکستان اور پاکستانی کی تمام اہم سياسی جماعتوں کی جانب سے کيا جا چکا ہے۔ کسی بھی مدرسے، سکول، سياسی يا مذہبی پليٹ فارم کو کم سن بچوں کی برين واشنگ کر کے خودکش حملوں يا کسی مخصوص گروہ کے خلاف متشدد کاروائيوں کے ليے استعمال نہيں کيا جانا چاہيے۔

    مثال کے طور پر اس ويڈيو ميں ارشد نامی لڑکے کی درناک کہانی ديکھيں جسے برين واش کر کے خودکش حملے کے ليے تيار کيا گيا اور اسے بھی ايک مدرسے سے ہی بھرتی کيا گيا۔



    وہ سکول، مدرسے اور پليٹ فارم جو دنيا ميں کہيں بھی اس قسم کی خون ريزی اور موت کے ايک نا ختم ہونے والے سلسلے کا موجب بنتے ہيں، انھيں اپنی کاروائياں جاری رکھنے کی اجازت نہيں دی جا سکتی۔ اس قسم کی سوچ کے خلاف کوشش نا کرنا بالآخرسينکڑوں بے گناہوں کی موت کا سبب بھی بنتا ہے اور پورے معاشرے کو اجتماعی طور پر ان مجرموں کے شرانگيز اور عدم روادری پر مبنی تشہيری مواد کی قيمت چکانا پڑتی ہے جو خودکش حملہ آوروں کی ان "فيکٹريوں" کو چلا رہے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  13. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جہاں تک سياسی قتل کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں آپ کی توجہ سال 1976 ميں امريکی صدر فورڈ کی جانب سے ايشو ہونے والے سرکاری حکم نامے 11905 کی جانب دلواؤں گا جس ميں امريکہ کی خارجہ ممالک ميں معلوماتی سرگرميوں کی وضاحت کر دی گئ ہے۔ "معلوماتی سرگرميوں پر قدغن" نامی سيکشن ميں امريکی صدر فورڈ نے سياسی قتل پر مکمل پابندی کا حکم نامی جاری کيا تھا۔ "سياسی قتل پر پابندی" کے سيکشن 5 جی ميں واضح درج ہے کہ "امريکی حکومت کا کوئ ملازم کسی بھی صورت ميں کسی سياسی قتل ميں اور کسی سياسی قتل کی سازش ميں شريک نہيں ہو گا۔"

    سال 1976 سے ہر امريکی صدر نے صدر فورڈ کے "سياسی قتل پر پابندی" کے اس حکم نامے کو برقرار رکھا ہے۔

    سال 1978 ميں صدر کارٹر نے اينٹلی جينس کے نظام کو ازسرنو تشکيل دينے کے ليے سرکاری حکم نامہ جاری کيا۔ اس حکم نامے کے سيکشن 503-2 ميں "سياسی قتل پر پابندی" کی شق کو برقرار رکھا گيا۔

    سال 1981 ميں صدر ريگن نے سرکاری حکم نامہ 12333 جاری کيا جس ميں "سياسی قتل پر پابندی" کو برقرار رکھا گيا۔

    http://www.fas.org/irp/crs/RS21037.pdf


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  14. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    فلوجہ ميں معذور بچوں کی پيدائش کا الزام

    يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ امريکی حکومت اور فوج کے خلاف اس قسم کا الزام لگايا گيا ہے۔ ليکن اس طرح کے الزامات کا آپ جب بھی تنقیدی جائزہ ليں اور ان رپورٹس پر تحقيق کريں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ ان کی بنياد غلط تاثرات، ناقابل اعتبار ذرائع اور ايسے اعداد وشمار پر مبنی ہوتی ہے جسے غیر جانب دار حوالوں سے تحقيق اور تفتيش کے عمل سے نہيں گزارا جاتا۔ يہی وجہ ہے کہ کسی بھی آزاد اور غیر جانب دار اتھارٹی بشمول اقوام متحدہ اور خود عراق کی اپنی حکومت نے ان الزامات پر کوئ توجہ نہيں۔ بلکہ عراق ميں صحت سے متعلق حکام نے تو اعداد وشمار کی مفصل تحقيق کے بعد ان کہانيوں کو غلط قرار ديا ہے۔

    اس ميں کوئ شک نہيں کہ انٹرنيٹ پر اس حوالے سے بچوں کی کئ دردناک اور ہولناک تصويريں بھی پوسٹ کی جاتی ہيں۔ ميں نے ايسی تصاوير ديکھی ہیں جن کا مقصد غیر انسانی طريقوں اور غلط معلومات کے ذريعے لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر ايک مخصوص سياسی ايجنڈے کی تشہير کرنا ہوتا ہے۔ مردہ بچوں کی ہيبت ناک تصاوير جن ميں وہ پيدائشی بيماريوں ميں مبتلا ہوں شائع کر کے يہ تاثر ديا جاتا ہے کہ يہ بچے عراق ميں پيدا ہوۓ ہیں۔ ان تصاوير کے بعد الزامات کی ايک لسٹ ہوتی ہے جن ميں يہ باور کروايا جاتا ہے کہ ان بچوں کی بيماری کا ذمہ دار امريکہ ہے جس نے مبينہ طور پر عراق میں کيمياوی ہتھياروں کا استعمال کيا۔

    سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ ان تصاوير سے آپ مذکورہ ذرائع، درست تاريخ اور اصل واقعات کا تعين نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان تصاوير کو پوسٹ کرنے والے اس حوالے سے کوئ مستند معلومات فراہم کرتے ہیں۔ دوسری بات يہ ہے کہ يہ تصاوير ايک ايسی بیماری کے حوالے سے ہوتی ہيں جو پوری دنيا ميں پائ جاتی ہے اور اسے "کونجينیٹل انامليز" يا "برتھ ڈی فيکٹس" کا نام ديا جاتا ہے۔ يہ بيماری خاصی پرانی ہے اور دنيا کے بے شمار ممالک ميں اس کی مثالیں نہ صرف حاليہ بلکہ ماضی بعيد میں بھی موجود ہیں۔

    عراق خاص طور پر فلوجہ کے علاقے ميں اس بيماری کے وجود سے انکار ممکن نہيں ہے کيونکہ يہ ايک عمومی طبی مرض ہے۔ ليکن اس مخصوص علاقے ميں اس بيماری سے متعلق کيسوں کی تعداد ميں اضافے کو بعض عناصر اپنے مخصوص ايجنڈے کے ليے استعمال کرتے ہیں۔ ہم اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہيں کہ صدام حسين نے دانستہ بہت سے عراقی ہسپتالوں ميں ادويات کی فراہمی روک دی تھی تا کہ بے شمار نوزائيدہ بچوں کے اجتماعی جنازوں کے مناظر کے ذريعے اقوام متحدہ کی جانب سے اس وقت لگاۓ جانے والی پابنديوں کے خلاف عوام کی راۓ کو تقويت دی جا سکے۔ ميڈيا کے بے شمار اداروں کی جانب سے يہ رپورٹ کيا گيا تھا کہ صدام نے بغداد کی سڑکوں پر اس مقصد کے حصول کے لیے بچوں کے بےشمار جعلی جنازوں کا اہتمام کيا تھا۔

    "برتھ ڈی فيکٹس" کے کيسز عراق، سعوی عرب، يورپی ممالک اور خود امريکہ ميں بھی موجود ہیں۔ اس میں کوئ شک نہیں کہ کچھ عوامل ايسے ہو سکتے ہيں جن کی بنياد پر کسی ايک علاقے يا ملک ميں ايسے کيسوں کی تعداد دوسرے علاقے کی نسبت کم يا زيادہ ہو سکتی ہے ليکن اس ضمن ميں کسی ايک مخصوص وجہ کا تعين نہيں کيا جا سکتا۔ مثال کے طور پر اگر ہم عراق ميں ان وجوہات کا تعين کرنا چاہیں تو اس ضمن ميں صحت عامہ کے ناقص انتظامات، ادويات کے غلط استعمال، سيوريج کا بوسيدہ اور ناکارہ نظام اور پينے کے پانی کے نظام ميں نقائص اور ديگر کئ عوامل شامل ہيں۔ يہ اور ديگر کئ جینيٹکس پر مبنی عوامل ہيں جن کی وجہ سے "برتھ ڈی فيکٹس" کے کيسز سامنے آ سکتے ہیں۔

    اصل حقیقت يہ ہے کہ اس قسم کے اداريے لکھنے والے اور راۓ دينے والے لکھاری ايسا کوئ ثبوت فراہم نہیں کرتے جس سے يہ ثابت ہو کہ امريکہ اس بيماری کے حوالے سے قصوروار ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  15. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    دل توچاہتاہے آپ کے اٹھائے ہوئے ایک ایک نکتہ کاجواب دوں مگرمیری مصروفیات ایسی ہیں کہ میں ایسا نہیں کرپارہاہوں اس لئے سب کانہ سہی مگر کچھ اہم نکات جوآپ نے اٹھائے ہیں ان کے جواب حاضر خدمت کرتاہوں۔
    اس کا جواب میں لکھتاہوں مگرآپ کہیں گے کہ یہ باتیں مستند نہیں ہیں اورجوباتیں آپ پیش کررہے ہیں وہی صحیح ہیں اورمستندہیں خیرآپ خودحوالے دیکھیں اورفیصلہ کریں۔
    سب پہلی بات کہ دنیا کاپہلاجہادی لٹریچرکہاں ترتیب دیاگیایہ لٹریچرپاکستان یاافغانستان میں ترتیب نہیں دیاگیاہے یہ لٹریچر جامعہ نیبریسکا اوماہا (امریکہ) میں ترتیب دیاگیاہے نیبریسکاامریکہ کی ریاست ہے اور اوماہااس کاشہر ہے اوریہ جامعہ دنیاکاسب سے بڑامدرسہ ہے۔
    [​IMG]
    اورجہادی لٹریچرپہلی دفعہ امریکہ کی اس یونیورسٹی میں ترتیب دیاگیایہاں پرامریکی حکومت نے ملینز آف ڈالرزخرچ کئےاورکتابیں بنائیں اورشفٹ کیں پاکستان یہ کام 1980۔81 میں شروع کیاگیااورنائن الیون کے تھوڑاپہلے تک یہ کام جاری رہاہے۔اس دورانئے میں کروڑوں کتابیں شفٹ ہوئی ہیں۔یعنی کہ وہ کتابیں توجوانتہاپسندی اورتشددپسندی پرمبنی تھیں وہ پاکستان یاافغانستان یاپھرسعودی عرب میں نہیں لکھی جارہیں تھیں بلکہ وہ امریکہ میں لکھی جارہی تھیں اورپاکستان کے ذریعے افغانستان جارہی تھیں۔آپ کہیں گے کہ یہ بات جھوٹ ہےتویہ جھوٹی بات میں نہیں کہہ رہاہوں ایک آرٹیکل جوکہ 2002 کی شروع میں پبلش ہوااسوقت افغان طالبان کی حکومت گرائی جاچکی تھی اورکرزئی کی حکومت قائم ہوگئی تھی آرٹیکل تھا The Jihad School Book Scandleاوراسکاعنوان ہے کہ 20 سال تک امریکہ کیوں انتہاپسندی پرمنبی کتب افغانستان میں بھیجتارہا۔واضح کردوں یہ کالم کسی پاکستانی یاپھرکسی مسلمان نے نہیں لکھاہے یہ کالم جیرڈ عزرائیل نے لکھاہے اور9 اپریل 2002میں یہ کالم شایع ہواہے۔یہ کالم واشنگٹن پوسٹ کاحوالہ دیتاہے۔
    ایک اورکالم جوکہ امریکی رسالے میں شایع ہواتھاAre All Terrorist Muslms? Hardlyاس کاکالم نگاربھی امریکی ہے اس میں موصوف نے کچھ عیسائی دہشت گردوں اورنسل پرستوں کی کچھ فہرست مرتب کی ہے جودہشت گردی میں ملوث ہیں۔
    نمایاں دنیاکے مسلم دہشت گردوں کاکھرااگرآپ ڈھونڈیں تووہ آپ کومغربی ممالک سے ملتانظرآئے گادنیامیں تومشہورکردیاگیاہے کہ پاکستان دہشت گردی کیلئے جنت بن گیاہے جبکہ برطانیہ دنیامیں انتہاپسندی کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہے۔ایک شخص جوکہ امریکہ جیل گوانتاناموبے میں تھااوروہاں سے 2003 یا2004 میں نکل کےاس نے پاکستان تحریک طالبان نامی تنظیم بنادی وہ عبداللہ محسود تھااسے امریکہ نے رہاکرکے افغان حکومت دے دیاجہاں اسے تیارکیاجاتاہے پھرپاکستان بھیج دیاجاتاہے جہاں وہ چینی انجینئرزکاقتل کردیتاہے۔
    نیویورک ٹائمزلکھتاہے کہ داعش یورپ سے جہادی بھرتی کررہاہے سوال یہ ہے کہ وہ یہ کام کیسے کررہے ہیں اوروہ کیوں پکڑے نہیں جارہے ہیں اورجان واکر لنڈجوکہ انگریزہے اوریورپ سے آکریہ القاعدہ کاحصہ بن گیاسوال یہ ہے کہ کیسے؟
    ٹھیک ہے میں آپ کی بات مان لیتاہوں اب ذرابی بی سی( 11 جولائی, 2004) کی ہی خبرپڑھ لیں
    عراق کی نئی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کو فوری طور پر مطلوب ادویات کے لیے فنڈز دے۔
    توچلیں صدام نے جان بوجھ کرادویات کی فراہمی روک دی تھی اب توصدام نہیں ہے اورامریکی کاسہ لیس حکومت ہے تب بھی ادویات کی کمی کیوں ہے اوریہ خبربھی اسوقت بی بی سی میں ہی آئی ہے۔جواب مرحمت فرمادیجئے گا۔
    دل توچاہتاہے آپ کے اٹھائے ہوئے ایک ایک نکتہ کاجواب دوں مگرمیری مصروفیات ایسی ہیں کہ میں ایسا نہیں کرپارہاہوں اس لئے سب کانہ سہی مگر کچھ اہم نکات جوآپ نے اٹھائے ہیں ان کے جواب حاضر خدمت کرتاہوں۔
    اس کا جواب میں لکھتاہوں مگرآپ کہیں گے کہ یہ باتیں مستند نہیں ہیں اورجوباتیں آپ پیش کررہے ہیں وہی صحیح ہیں اورمستندہیں خیرآپ خودحوالے دیکھیں اورفیصلہ کریں۔
    سب پہلی بات کہ دنیا کاپہلاجہادی لٹریچرکہاں ترتیب دیاگیایہ لٹریچرپاکستان یاافغانستان میں ترتیب نہیں دیاگیاہے یہ لٹریچر جامعہ نیبریسکا اوماہا (امریکہ) میں ترتیب دیاگیاہے نیبریسکاامریکہ کی ریاست ہے اور اوماہااس کاشہر ہے اوریہ جامعہ دنیاکاسب سے بڑامدرسہ ہے۔
    [​IMG]
    اورجہادی لٹریچرپہلی دفعہ امریکہ کی اس یونیورسٹی میں ترتیب دیاگیایہاں پرامریکی حکومت نے ملینز آف ڈالرزخرچ کئےاورکتابیں بنائیں اورشفٹ کیں پاکستان یہ کام 1980۔81 میں شروع کیاگیااورنائن الیون کے تھوڑاپہلے تک یہ کام جاری رہاہے۔اس دورانئے میں کروڑوں کتابیں شفٹ ہوئی ہیں۔یعنی کہ وہ کتابیں توجوانتہاپسندی اورتشددپسندی پرمبنی تھیں وہ پاکستان یاافغانستان یاپھرسعودی عرب میں نہیں لکھی جارہیں تھیں بلکہ وہ امریکہ میں لکھی جارہی تھیں اورپاکستان کے ذریعے افغانستان جارہی تھیں۔آپ کہیں گے کہ یہ بات جھوٹ ہےتویہ جھوٹی بات میں نہیں کہہ رہاہوں ایک آرٹیکل جوکہ 2002 کی شروع میں پبلش ہوااسوقت افغان طالبان کی حکومت گرائی جاچکی تھی اورکرزئی کی حکومت قائم ہوگئی تھی آرٹیکل تھا The Jihad School Book Scandleاوراسکاعنوان ہے کہ 20 سال تک امریکہ کیوں انتہاپسندی پرمنبی کتب افغانستان میں بھیجتارہا۔واضح کردوں یہ کالم کسی پاکستانی یاپھرکسی مسلمان نے نہیں لکھاہے یہ کالم جیرڈ عزرائیل نے لکھاہے اور9 اپریل 2002میں یہ کالم شایع ہواہے۔یہ کالم واشنگٹن پوسٹ کاحوالہ دیتاہے۔
    ایک اورکالم جوکہ امریکی رسالے میں شایع ہواتھاAre All Terrorist Muslms? Hardlyاس کاکالم نگاربھی امریکی ہے اس میں موصوف نے کچھ عیسائی دہشت گردوں اورنسل پرستوں کی کچھ فہرست مرتب کی ہے جودہشت گردی میں ملوث ہیں۔
    نمایاں دنیاکے مسلم دہشت گردوں کوکھرااگرآپ ڈھونڈیں تووہ آپ کومغربی ممالک سے ملتانظرآئے گادنیامیں تومشہورکردیاگیاہے کہ پاکستان دہشت گردی کیلئے جنت بن گیاہے جبکہ برطانیہ دنیامیں انتہاپسندی کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہے۔ایک شخص جوکہ امریکہ جیل گوانتاناموبے میں تھااوروہاں سے 2003 یا2004 میں نکل کےاس کے پاکستان تحریک طالبان نامی تنظیم بنادی وہ عبداللہ محسود تھااسے امریکہ نے رہاکرکے افغان حکومت دے دیاجہاں اسے تیارکیاجاتاہے پھرپاکستان بھیج دیاجاتاہے جہاں وہ چینی انجینئرزکاقتل کردیتاہے۔
    نیویورک ٹائمزلکھتاہے کہ داعش یورپ سے جہادی بھرتی کررہاہے سوال یہ ہے کہ وہ یہ کام کیسے کررہے ہیں اوروہ کیوں پکڑے نہیں جارہے ہیں اورجان واکر لنڈجوکہ انگریزہے اوریورپ سے آکریہ القاعدہ کاحصہ بن گیاسوال یہ ہے کہ کیسے؟
    ٹھیک ہے میں آپ کی بات مان لیتاہوں اب ذرابی بی سی( 11 جولائی, 2004) کی ہی خبرپڑھ لیں
    عراق کی نئی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کو فوری طور پر مطلوب ادویات کے لیے فنڈز دے۔
    توچلیں صدام نے جان بوجھ کرادویات کی فراہمی روک دی تھی اب توصدام نہیں ہے اورامریکی کاسہ لیس حکومت ہے تب بھی ادویات کی کمی کیوں ہے اوریہ خبربھی اسوقت بی بی سی میں ہی آئی ہے۔جواب مرحمت فرمادیجئے گا۔
    العربیہ 09 ستمبر 2009کی خبرہے کہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مشاہدات کا بھی حوالہ دیا. اگرچہ کارٹر نے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے غیر انسانی سلوک کو نسل کشی قرار نہیں دیا لیکن وہ 2006ء میں شائع ہوئی اپنی کتاب ''نسلی امتیاز نہیں، امن'' میں صہیونی ریاست کی پالیسیوں کو نسل پرستانہ قرار دے چکے ہیں. توسیاسی قتل پرپابندی لگانے والے کارٹر اسرائیل کے فلسطینیوں کے ساتھ نسل کشی کومستردکرتے ہیں۔
    انسانی حقوق کے علمبردار امریکی صدر جمی کارٹر جس کا دعویٰ کہ انساتی حقوق اس کی خارجہ پالیسی کی روح ہو نگے، انڈونیشیا کے معاملے میں اپنے دعوے کے خلاف کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔جب اس نے مشرقی تیمور اور جاوا کے علاقوں میں قتل عام کی مہم میں سوہارتو کی مدد کی تھی۔
    اچھاواقعی توخودبی بی سی 21 فروری, 2005 لکھتاہے کہ
    وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز نے کہا ہے کہ امریکہ کی حکومت انہیں قتل کرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ’اگر مجھے مارا گیا تو اس کی ذمہ داری جس شخص پر ہوگی اس کا نام جارج بُش ہے‘۔
    حقیقت یہ ہے کہ وائرسوں اور جراثیم پر مشتمل حیاتیاتی ہتھیاروں کے ذریعے مخالفین کو ختم کرنا امریکی خفیہ اداروں کا قدیم چلن ہے۔ جراثیمی ہتھیار امریکی فوج اور سی آئی اے کے انتہائی خفیہ مشترکہ منصوبے ’’مکنا ٹومی‘‘ (Mkanatomi) کی بدولت وجود میں آئے۔ یہ منصوبہ اتنا خفیہ ہے کہ انٹرنیٹ جیسی لامحدود دنیا میں بھی اس کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

    مکناٹومی کا مقصد ایسے وائرس اور جراثیم (بیکٹریا) دریافت کرنا تھا جو انسانوں کو معذور بنائیں یا ہلاک کر ڈالیں۔ نیز ایسے آلات بھی ایجاد کرنا تھا جو ان جراثیمی ہتھیاروں کو باحفاظت اور چوری چھپے ٹارگٹ تک پہنچا سکیں۔ اس انسانیت دشمن منصوبے کے خالقوں میں بدنام زمانہ تعصب پسند امریکی ڈاکٹر، کورنیلئس پی رہوڈز بھی شامل تھا۔

    ڈاکٹر کورنیلئس ایک امریکی تحقیقی طبی ادارے، راک فیلر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل انویسٹی گیشنز سے وابستہ تھا۔ 1930ء میں اُسے ایسے وائرس و جراثیم ڈھونڈنے کی ذمے داری سونپی گئی جو انسانوںمیں سرطان (کینسر) پیدا کردیں۔ اس امریکی ڈاکٹر نے تجربات کے لیے پورٹوریکو کے تیرہ باشندوں کو بھی شامل تحقیق کرلیا۔

    جب ڈاکٹر کورنیلئس نے ان تیرہ انسانوں میں کینسر پیدا کرنے والے حیاتیاتی ایجنٹ داخل کیے، تو وہ 1931ء میں مرگئے۔ یاد رہے، اس وقت تک پورٹوریکو میںامریکا سے آزادی حاصل کرنے کی خاطر تحریک چل پڑی تھی۔ تحریک آزادی کا قائد پیڈرو البوینر تھا۔ (یاد رہے، پورٹوریکو اب بھی امریکا کی نو آبادی ہے، حالانکہ نومبر 2012ء میں اس مجمع الجزائر کے باشندے آزادی کے حق میں ووٹ دے چکے۔)

    1931ء کے وسط میں پیڈروابوینر کے ہاتھ ڈاکٹر کورنیلئس کا چشم کشا خط لگا۔ یہ خط ڈاکٹر نے اپنے ایک دوست کو لکھا تھا۔ اس میں درج تھا:
    ’’میں پورٹوریکنوں (باشندوں)سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ وہ دنیا کے سب سے گندے، سست ترین، نفرت انگیز اور شیطان نما انسان ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ انھیں صفحۂ ہستی سے مٹا دوں۔ اسی لیے میں ان میں سرطان پیدا کرنے والے ’’ایجنٹ‘‘ چھوڑ رہا ہوں۔‘‘

    اس خط نے پورٹوریکو میں ہنگامہ برپا کردیا۔ پیڈروالبوینر نے اِسے امریکی استعمار کی بدترین نشانی قرار دیا۔ اس نے خط لیگ آف نیشنز اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھجوایا۔ تاہم امریکی حکومت اثرورسوخ کے باعث معاملہ دبانے میں کامیاب رہی۔

    ڈاکٹر کورنیلئس نے خط کی بابت دعویٰ کیا کہ یہ محض ایک مذاق تھا۔ تاہم آنے والے وقت نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر نے وہی لکھا جو اس کے دل میں تھا۔ 1950ء میں امریکی حکومت نے بغاوت کا الزام لگا کر پیڈرو ابوینر کو گرفتار کیا اور امریکا بھجوا دیا۔

    1952ء یا 1953ء میں امریکی محکمہ دفاع اور سی آئی اے کے مالی تعاون سے مکناٹومی منصوبے کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر کورنیلئس اب دیگر امریکی سائنس دانوں کے ساتھ جراثیمی ہتھیار بنانے میں مصروف ہوگیا۔ تجربات میں امریکی جیلوں میں بند قیدی بھی استعمال ہوئے۔ اور ان قیدیوں میں پیڈرو البوینربھی شامل تھا۔

    دوران تجربات ڈاکٹر کورنیلئس نے پورٹوریکن تحریک آزادی کے راہنما کو حیاتیاتی مادوں اور شعاع ریزی کا نشانہ بنایا اور یوں خط افشا کرنے پر پیڈرو سے بدلہ لیا۔ ان تجربات نے پیڈرو کی صحت خراب کردی اور جلد جھلسا ڈالی۔ پھر 1956ء میں اس پر فالج کا حملہ ہو گیا اور وہ اذیت ناک حالات برداشت کرتا چل بسا۔ پیڈرو کی داستان یہ عیاں کرتی ہے کہ امریکی حکومت مفادات کی اسیر ہے اور اپنے مفاد کی خاطر آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے اعلیٰ اصولوں کو بھی خیرباد کہہ ڈالتی ہے۔

    امریکی شہر فریڈرک میں فورٹ ڈیٹرک نامی امریکی فوج کا ایک بڑا مرکز واقع ہے۔ مکناٹومی اور حیاتیاتی ہتھیار بنانے والے دیگر امریکی منصوبے مثلاً ڈورک (Dork) اور اوفن/چِک وٹ (Often/Chickwit) اسی مرکز میں 1943ء تا 1969ء جاری رہے۔ اس مرکز میں امریکی فوج اور سی آئی اے سے وابستہ چوٹی کے سائنسی ماہرین مصروف کار رہے۔
    ان منصوبوں کے ذریعے امریکی ماہرین نے نت نئے جراثیمی، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار ایجاد کیے۔ مثلاً بوٹولینم(Botoulinum)زہر جو انسانی جسم میں پہنچ کر جان لیوا غذائی سمیت(فوڈ پوائزننگ)پیدا کرتے ہیں۔ پھر کینسر پیدا کرنے والے ایسے وائرس پیدا کیے گئے جو بذریعہ ہوا انسان کے منہ میں داخل ہوسکیںا ور ایسے جراثیم جو جانوروں سے ’’چھلانگ‘‘ لگا کر انسانوں سے جاچمٹیں۔

    1972ء میں امریکی صدر، رچرڈنکس نے حیاتیاتی ہتھیاروں کی روک تھام والے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر دیے۔ یوں امریکیوں کے لیے علی الاعلان جراثیمی ہتھیار بنانا ناممکن ہوگیا۔ لیکن سی آئی اے نے خفیہ مراکز میں اپنی تحقیق جاری رکھی۔

    1975ء میں واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد طاقتور امریکی سینٹ نے ’’چرچ کمیٹی‘‘ کے نام سے ایک تفتیشی ادارہ بنایا۔ اس کے ذمے یہ چھان بین کرنا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ تبھی سی آئی اے افسران نے اپنے خفیہ منصوبوں کے متعلق کچھ اہم تفصیلات بتائیں۔ یہ تفصیل بھی عوام سے پوشیدہ رکھی گئی مگر کچھ باتیں ضرور منظر عام پرآگئیں۔

    مثال کے طور پر انکشاف ہوا کہ سی آئی اے ایسا زہر تخلیق کرچکی ہے جو انسان کے اندر پہنچ کر ہارٹ اٹیک (حملہ قلب) کا باعث بنتا ہے۔ امریکی ماہرین کی جدت دیکھیے کہ انھوں نے زہر کو ننھے منے ڈارٹ یا سوئی کی شکل میں منجمد کردیا۔ یہ ڈارٹ پھر پستول سے فائر کیاجاتا ہے اور بڑی تیزی سے انسانی جسم میں جاگھستا ہے۔

    جب ڈارٹ انسانی جسم میں داخل ہوتا، تو انسان کو یہی لگتا کہ کسی مچھر نے اُسے کاٹا ہے۔ ڈارٹ گھسنے کی جگہ بس ننھا منا سا سرخ نشان بن جاتا۔ جسم میں پہنچتے ہی زہریلا ڈارٹ پگھل کر خون میں شامل ہوتا اور فی الفور ہارٹ اٹیک کا سبب بنتا۔ اس زہر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنا کوئی نام و نشان نہیں چھوڑتا، چناںچہ جدید مشینوں سے پوسٹ مارٹم بھی اِسے دریافت نہیں کرسکتا۔ یوں کوئی نہیں جان پاتا کہ یہ دراصل قتل ہے۔

    خفیہ ہتھیار بنانے والے سی آئی اے کے ماہر ، چارلس سینسینی نے چرچ کمیٹی کو بتایا کہ عموماً یہ زہریلا ڈارٹ چھتری کی نوک میں نصب پستول سے فائر کیا جاتا۔ چونکہ یہ ڈارٹ آواز پیدا کیے بغیر خارج ہوتا لہٰذا کسی کو اس کی بابت پتا نہ چلتا۔ شکار کو نشانہ بنا کر قاتل اطمینان سے چھتری لپیٹتا اور چل دیتا۔

    کئی امریکی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ صدر جان کینیڈی کو بتاریخ 22نومبر 1963ء اسی چھتری گن سے قتل کیا گیا۔ اس ضمن میں وہ دو ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اوّل قتل کی وڈیو فلموں سے عیاں ہے کہ گولیاں چلنے سے قبل ہی گاڑی میں بیٹھے صدر کینیڈی اچانک بے ہوش سے ہوگئے۔ ان کی مٹھیاں بھینچ گئیںاور سر‘ کندھے اور بازو سخت ہو گئے۔ دوم بعدازاں مقتول کی گردن میںایک ننھا نشان پایا گیا۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مخالف جان کینیڈی کو پہلے چھتری گن سے نشانہ بنایا اور پھر گولیاں بھی چلوا دیں تاکہ وہ کسی صورت بچ نہ سکے۔

    سی آئی اے ماہرین نے انسان میں ہارٹ اٹیک پیدا کرنے کا ایک اور نادر طریق کار دریافت کیا۔ اس کی بنیاد ہمارے عصبی نظام پر ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی ہر دھڑکن دماغ کے ساتھ تال میل رکھتی ہے۔ اگر کسی انسان کے قلب پر مائکرو ویو شعاع ڈالی جائے، تو یہ تال میل بگڑ جاتا ہے اور فوراً ہارٹ اٹیک جنم لیتا ہے۔ یہ طریق کار بھی سی آئی اے نے امریکا کے مخالفین کو مارنے کے لیے اپنایا۔

    امریکا کے دشمنوں کو راہ سے ہٹانے کا تیسرا طریقہ ان میں سرطان پیدا کرنے والے وائرس چھوڑنا ہے۔ یاد رہے، لیبارٹری تجربات سے ثابت ہوچکا کہ بذریعہ انجکشن صحت مند جانوروں میں سرطان وائرس داخل کیے جائیں تو وہ اس موذی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ بھی بعینٖہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ جیسے ہی یہ وائرس انسانی جسم میں داخل ہوں، اپنا کام شروع کردیتے ہیں۔ انتہائی تجربہ کار ماہر امراض سرطان ہی یہ دریافت کر پاتا ہے کہ یہ کسی انسان میں مرض ’’درآمد کنندہ‘‘ ہے۔

    امریکی خفیہ ایجنسی پچھلے 60برس میں درج بالا طریقوں سے امریکی استعمار اور جنگ جوئی کے مخالفین کو قتل کرچکی ہے۔ سی آئی اے نے سرطان کے وائرس سب سے پہلے جیک روبی کے جسم میں داخل کیے۔ یہ وہی امریکی ہے جس نے صدر کینیڈی کے قاتل، لی ہاروے کو گولی مار کر ہلاک کرڈالا تھا۔

    جیک روبی یقینا صدر کینیڈی کے قاتلوں کو جانتا تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) میں اہم بیان دے گا۔ لیکن بیان دینے سے قبل ہی سرطان کے باعث چل بسا۔ سرطان نے اچانک اس پر حملہ کیا، بڑی تیزی سے پھیلا اور اُسے قبر کے اندر پہنچا دیا۔

    غیر ملکی سربراہوں میں سی آئی اے کے ایجنٹوں نے سب سے پہلے صدر کانگو، اگو سٹینو نیٹو پر ’’وائرس حملہ‘‘ کیا۔ صدر نیٹو امریکی استعمار کا سخت مخالف تھا۔ حتیٰ کہ اس نے امریکی چودھراہٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے سوویت یونین اور کیوبا سے ہاتھ ملالیا تھا۔ 1979ء میں اچانک صدر نیٹو سرطان کا نشانہ بنا اور چند ہی ماہ میں چٹ پٹ ختم ہوگیا۔ اس کی عمر صرف 56سال تھی۔

    چلی کے سابق صدر، ایڈورڈ فری کو بھی سرطان کا شکار بنا کر امریکا نے اپنی راہ سے ہٹایا۔ صدر فری سی آئی اے کے متعین کردہ حاکم، جنرل پنوشے کا سخت مخالف تھا۔ امریکیوں نے 1981ء میں اُس کے بدن میں خطرناک وائرس داخل کیے اور اگلے ہی سال وہ دنیاسے رخصت ہوگیا۔

    بیماریوں کے وائرس و جراثیم
    سی آئی اے نے افراد کو ہی نہیں پورے پورے ملکوں کو نشانہ بنایا۔ 1981ء کے موسم بہار میں اچانک ڈینگی بخار نے کیوبا پر حملہ کردیا۔ چند ماہ میں پچھتر ہزار مریض ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ روزانہ دس ہزار مریض ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے لگے۔ اس سے قبل کیوبا میں 1944ء میں ڈینگی کے کچھ مریض سامنے آئے تھے۔

    بعدازاں انکشاف ہوا کہ امریکی فوجی طیاروں نے کیوبا پہ حیاتیاتی حملے کے ذریعے ڈینگی بخار پھیلایا۔ اور اس مہم میں کیوبا میں موجود سی آئی اے کے ایجنٹوں نے بھی حصہ لیا۔ امریکیوں نے بعدازاں کیوبا میں سوائن فلو بھی پھیلانے کی کوششیں کیں تاکہ امریکا دشمن ملک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔

    پچھلے سال یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ پاکستان میں سی آئی اے کے ایک تجربے کی بدولت ڈینگی بخار پھیلا۔ ہوا یہ کہ 1979ء میں امریکا نے لاہور میں ایک تحقیقی مرکز باعنوان’’ملیریا اریڈیکیشن سینٹر‘‘کھولا۔ اس کا ناظم مشہور امریکی ڈاکٹر، ڈیوڈ نالین کو بنایا گیا۔

    یہ سینٹر دراصل سی آئی اے کا خفیہ مرکز تھا۔ وہاں افغانستان میں تعینات سوویت فوج میں ڈینگی اور زرد بخار پھیلانے والے وائرسوں پر تجربات ہونے تھے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نے بغرض تجربات گرین ٹائون کے چار غریب باشندوں کی خدمات حاصل کرلیں۔ ان میں پھر ڈینگی بخار کے وائرس بذریعہ انجکشن داخل کیے گئے۔

    جون 1980ء میں چاروں نوجوان بیمار ہو کر اسپتال جاپہنچے۔ تب پاکستانی صحافیوں کی تحقیق سے افشا ہوا کہ ملیریا سینٹر میں تو پاکستانیوں کو گنی پگ (Guinea Pig) کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے اور تبھی یہ بات بھی سامنے آئی کہ سی آئی اے سوویت فوجیوں میں ڈینگی و زرد بخار کے وائرس و جراثیم پھیلانا چاہتی ہے۔ چنانچہ بعدازاں اقوام متحدہ اور سوویت یونین کے شدید دبائو پر پاکستانی حکومت نے ملیریا اریڈیکیشن سینٹر بند کردیا۔ لیکن دوران تجربات نہ صرف ڈینگی بخار کے وائرس پاکستانیوں میں داخل ہوئے بلکہ اُسے پیدا کرنے والا مچھر بھی پاکستان میں متعارف ہوگیا۔ اس پورے واقعے کی تفصیل انگریزی ہفت روزہ ویو پوائنٹ نے اپنی یکم جون 1980ء کی اشاعت میں بیان کی ہے۔

    سی آئی اے اپنے ملک میں ’’وسل بلوئروں‘‘ اور حکومت مخالف شخصیات کو بھی ہارٹ اٹیک یا سرطان کے ذریعے قتل کرنے میں ملوث رہی ہے۔ مثلاً منرو کو سرطان کے ذریعے مارا گیاجو صدر کینیڈی کے قتل میں ملوث تھا۔ مارلین منرو بھی قتل ہوئی جو شاید کسی راز سے واقف ہوچکی تھی۔ صحافی مارک پٹ مین ہارٹ اٹیک سے چل بسا۔ یہ صحافی امریکی حکومت پر سخت تنقید کرتا تھا۔

    سی آئی اے کے کرتوت
    پچھلے دو عشروں میں یکے بعد دیگرے لاطینی امریکا کے بعض ممالک میں امریکا مخالف حکمران برسراقتدارآگئے۔ انھوں نے پھر جنوبی امریکا میں امریکی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے خلاف محاذ بنالیا۔ تب سی آئی اے نے ان امریکا مخالف حکمرانوں کو ہارٹ اٹیک یا سرطان میں مبتلا کرکے راہ سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔
    امریکیوں کا پہلا شکار ارجنٹائن کا سابق صدر، نیسٹور کرچز بنا۔ کرچز 2003ء تا 2007ء اپنی مملکت کا سربراہ رہا۔ اسی دوران کرچز نے ارجنٹائن میں غربت کا خاتمہ کیا اور اُسے خوشحال ملک بنا دیا۔ 2007ء میں سی آئی اے نے اس کے جسم میں خطرناک وائرس داخل کردیا، لہٰذا کرچز کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ اسی سال اس کی بیگم، کرسٹینا کرچز ارجنٹائن کی نئی صدر منتخب ہوئی۔ بچارہ کرچز بیماری کی تکالیف اٹھاتا ہوا 2011ء میں چل بسا۔

    دسمبر2011ء ارجنٹائنی حکومت نے اعلان کیا کہ صدر کرسٹینا کرچز گلے کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ تاہم بعدازاں حکومت نے تردید کر دی، شاید اس لیے کہ کہیں ملک میں بے چینی اور افراتفری نہ پھیل جائے۔ صدر کرسٹینا بھی شوہر کی طرح امریکی و برطانوی استعمار کی سخت مخالف ہیں۔

    اکتوبر میں ایک اور امریکا مخالف راہنما، برازیلی صدر لولاڈاسلوا گلے کے سرطان میں مبتلا پائے گئے۔ صدر لولا 2002ء تا 2011ء صدر رہے۔ نو سال کے دوران انھوں نے برازیل کو دنیا کی نمایاں معاشی طاقت بنادیا۔ خوش قسمتی سے صدر لولا کا علاج کامیاب رہا اور اب وہ 2015ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

    2011ء میں صدرلولا کی جگہ دیلما روسیف برازیل کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔ یہ بھی امریکی پالیسیوں کی شدید مخالف ہیں۔ سی آئی اے نے انھیں بھی نہ بخشا اور 2009ء میں اِن کے جسم میں سرطان کا وائرس چھوڑنے میں کامیاب رہی۔ تاہم دیلما روسیف نے بھی بر وقت علاج کرا لیا اور یوں صحت مند ہوگئیں۔ انھیں سینے کا سرطان تھا۔

    اکتوبر 2012ء میں کولمبیا کا صدر، جوان سانتوس پروسٹیٹ سرطان میں مبتلا پایاگیا۔ صدر جوآن کولمبین باغیوں سے امن مذکرات کرنا چاہتا تھا، جبکہ امریکی حکومت اِس امر کی مخالف تھی۔ جب صدر جوآن نے امریکا کی کٹھ پتلی بننے سے انکار کیا، تو اس پر بھی وائرس کا حملہ کردیا گیا۔ وہ اب علاج کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

    لاطینی امریکا کے حکمرانوں میں ونیزویلا کا صدرہی سب سے بدقسمت رہا۔ جون2011ء میں دنیا والوں پر منکشف ہوا کہ وہ سرطان کا نشانہ بن چکا۔ پھر اس کا کیوبا میں کئی ماہ علاج ہوا مگر وہ جانبر نہیں ہوسکا۔ یوں سی آئی اے دنیا میں شاید اپنے سب سے سخت ناقد کو بذریعہ سرطان ہٹانے میں کامیاب رہی۔

    سابق کیوبن صدر، فیدل کاسترو نے ہیوگو شاویز کو امریکیوں سے خبردار رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ موصوف خود بھی سی آئی اے کے کئی حملوں سے بال بال بچا اور اب تک زندہ ہے۔ اسی نے صدر شاویز کو کہا تھا:

    ’’شاویز ہوشیار اور محتاط رہو۔ یہ (امریکی) جدید ترین ٹیکنالوجی بناچکے۔ تم بہت بے پروا ہو۔ دھیان رکھو کہ تم کیا کھاتے ہو…اور وہ (امریکی) کیا کھلاتے ہیں…بس ایک ننھی سی سوئی درکار ہے، وہ نجانے تمھارے اندر کیا چھوڑ دیں۔‘‘
     
  16. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ تاثر بالکل غلط ہے کہ امريکی حکومت اپنے شہريوں کی جانب سے دہشت گردی کی کسی بھی کاروائ کو نظرانداز کرتی ہے۔ ہماری جانب سے ايسی کسی بھی معلومات پر فوری کاروائ کی جاتی ہے جس کی بنياد پر کسی گروہ يا فرد کی جانب سے دہشت گردی کی کسی بھی ممکنہ کاروائ کو روکا جا سکے، اور اس ضمن ميں افراد کی شہريت، ان کی سياسی وابستگی يا ان کے مذہب کی کوئ تفريق نہيں رکھی جاتی۔

    داعش جيسی دہشت گردی تنظيموں تک کسی بھی قسم کے وسائل کی روک تھام اور ان گروہوں ميں افراد کی بھرتی کے عمل کو روکنے کے ليے ہماری جانب سے بے شمار وسائل صرف کيے گۓ ہيں اور يہ کوششيں امريکہ سميت دنيا کے کئ ممالک ميں کی گئ ہيں۔ يہی نہيں بلکہ ہم خطے ميں اپنے شراکت داروں اور عالمی اتحاديوں کے ساتھ تعاون ميں وسعت کے ساتھ ساتھ اشتراک عمل کو بھی بڑھا رہے ہيں تا کہ اس بات کو يقينی بنايا جا سکے کہ داعش کسی بھی ملک سے افراد کو بھرتی نا کر سکے۔

    علاوہ ازيں ہم نے نۓ قوانين بھی تشکيل ديے ہيں،پہلے سے موجود قواعد کے دائرہ کار کو بھی وسيع کيا ہے اور اپنی عوام ميں داعش کی جانب سے بھرتی کے طريقہ کار کے حوالے سے شعور بيدار کرنے کے ليے بھی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ پھر ہماری جانب سے ہر اس شخص يا گروہ کو قانون کے کٹہرے ميں لانے کے ليے اقدامات بھی کيے گۓ ہيں جو داعش کو کسی بھی قسم کی مدد يا تعاون فراہم کرنے کے جرم کے مرتکب ہو‎ۓ ہيں۔

    اگر آپ ايسے چند امريکی يا مغربی شہريوں کے حوالے دے رہے ہيں جنھوں نے داعش ميں شموليت اختيار کی ہے اور اس بنياد پر ہمارے ارادے يا ہماری کوششوں کی افاديت کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہيں تو پھر تو اسی معيار يا ميرٹ کے اعتبار سے آپ کو ان درجنوں امريکی شہريوں پر بھی نظر ڈالنی چاہيے جنھيں متعلقہ امريکی حکام کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران گرفتار کيا گيا ہے۔

    جن امريکی شہريوں کو گرفتار کيا گيا ہے ان پر دہشت گردوں کو اسلحے سميت سازوسامان فراہم کرنے اور اس ضمن ميں منصوبہ بندی کے الزامات لگا‎ۓ گۓ ہيں۔ ان ميں اکثر ملزمان امريکی شہری ہيں۔ ايسے سولہ امريکی شہری بھی ائرپورٹ سے گرفتار کيے گۓ جو داعش کی صفوں ميں شامل ہونے کی غرض سے سفر کے ليے تيار تھے۔

    سينٹر آن نيشنل سيکورٹی ايٹ فورٹھم لاء کے مطابق مارچ 2014 سے 58 مرد اور ايک خاتون پر اس حوالے سے باقاعدہ فرد جرم عائد کی جا چکی ہے کہ انھوں نے داعش کو کسی بھی حوالے سے مدد يا تعاون فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ حاليہ مہينوں ميں ايسے کيسوں کی تعداد ميں بتدريج اضافہ ہوا ہے۔ صرف اس سال 42 کيسز امريکی عدالتوں ميں پيش کيے گۓ ہيں۔

    درج ذيل گراف اور ويب لنکس امريکہ بھر ميں گرفتار کيے جانے والے امريکی شہريوں کے اعداد وشمار اجاگر کرتے ہيں جو اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کے ليے ناقابل ترديد ثبوت ہيں کہ امريکی حکومت ايسے امريکی شہريوں کے خلاف کاروائ کرنے سے گريزاں يا ناکام ثابت ہوئ ہے جو داعش ميں شامل ہونے کے متمنی ہيں۔

    http://blog.nj.com/njv_guest_blog/page/isis_in_new_jersey_map.html


    http://s29.postimg.org/9cl9wjyw7/Screenshot_2016_04_01_14_54_56.jpg

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    http://s24.postimg.org/sulh4j7f9/USDOTURDU_banner.jpg
     
  17. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اگر آپ 80 کی دہائ ميں افغان عوام کی مدد کرنے کے امريکی فيصلے کے حوالے سے ميری گزشتہ پوسٹس پڑھيں تو ان ميں واضح طور پر يہ باور کروايا گيا ہے کہ ماضی ميں ديکھتے ہوۓ اس حوالے سے يقينی طور بحث کی جا سکتی ہے کہ افغانستان اور پاکستان ميں متعلقہ حکام کی جانب سے جو طريقہ کار اور حکمت عملی اختيار کی گئ تھی، وہ ان قدروں سے مطابقت نہيں رکھتی تھی جن کا پرچار امريکی حکومت دنيا بھر ميں کرتی رہی ہے۔

    ليکن يہ کہنے کے باوجود اس حقيقت کو بھی رد نہيں کيا جا سکتا کہ ہر چيز کو اس کے درست تناظر ميں ديکھا جانا چاہيے۔ 80 کی دہائ ميں افغانستان پر سويت افواج کا قبضہ ہو چکا تھا۔ ملک حالت جنگ ميں تھا اور لاکھوں کی تعداد ميں افغان باشندے پاکستان ميں پناہ لينے پر مجبور تھے۔ پوری قوم کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا تھا اور آزادی کے حصول کی تڑپ افغان معاشرے ميں شدت سے سرايت کر چکی تھی جس کی جھلک اس دور کی ثقافت، ادب اور سياسی و معاشرتی بحث ميں جا بجا نظر آتی ہے۔

    يہ کوئ اچنبے کی بات نہيں ہے کہ مسلح جہاد کی ترغيب اور ملک کے طول وعرض ميں نوجوانوں کے اذہان کو مخصوص رنگ ميں ڈھالنے کی حکمت عملی مقامی حکام کی ترجيح رہی ہو۔

    مثال کے طور پر ہم سب پاکستان کی مايہ ناز گلوکارہ نورجہاں کے جذبات سے بھرپور ان گانوں سے آشنا ہيں جو انھوں نے 65 اور 71 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران سرحدوں پر پاک افواج کے حوصلے بلند کرنے کے ليے خصوصی طور پر تيار کيے تھے۔ آج اگر کوئ ان نغموں اور مکالموں کو ان کے تناظر اور پس منظر اور اس دور کے قومی مزاج اور مجموعی اجتماعی سوچ سے الگ کر کے پڑھے تو يقينی طور يہ خيال ابھرے گا کہ ايک ہمسايہ ملک کے خلاف غير ذمہ دارانہ اور جارحانہ رويے کی ترغيب دی جا رہی ہے۔

    اس دور ميں امريکی حکومت کے فراہم کردہ وسائل کا افغانستان اور پاکستان ميں متعلقہ حکام کی متعين کردہ پاليسيوں کی عمل داری ميں استعمال کيا جانا عين ممکنات ميں سے ہے۔ ليکن امريکی حکومت نے کبھی بھی ايسی پاليسی اختيار نہيں کی تھی جس کا مقصد ايسے دہشت گردوں کی تياری تھا جو دانستہ جانتے بوجھتے عوام پر اپنا تسلط قائم کرنے کے ليے بے گناہ شہريوں کو قتل کرتے پھريں۔

    آپ کی دليل کا بنيادی نقطہ اس سوچ پر مبنی ہے کہ 80 کی دہائ ميں تيار کی جانے والی نصابی کتب ہی گويا موجودہ دور کے عالمی دہشت گردوں کو پروان چڑھانے کا سبب بنی تھيں۔ دلچسپ امر يہ ہے کہ اگر آپ واقعی پوری ايمانداری سے اس بات پر يقين رکھتے ہيں تو پھر اسی کسوٹی پر آپ کو افغانستان ميں حاليہ امريکی حکومتوں کی مثبت کاوشوں کو بھی تسليم کرنا چاہیے کيونکہ آج کی حقيقت تو يہ ہے کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد ميں نصابی کتب افغانستان بھجوائ جا رہی ہيں جس کا مقصد افغانستان کی آئندہ نسل کو تعليم کے زيور سے آشنا کرنا ہے۔

    اس ضمن ميں مارچ 162002 کو سابق امريکی صدر بش کا اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران ديا گيا ايک بيان پيش ہے

    "اور سال کے اختتام تک ہم 10 ملين نصابی کتب افغانستان ميں بچوں کے ليے بھجوائيں گے۔ يہ نصابی کتب طالب علموں کو عدم رواداری اور شدت پسندی کی بجاۓ برداشت اور انسانی قدروں کا احترام کرنا سکھائيں گی۔"

    http://www.c-spanvideo.org/program/169177-1

    اسی طرح اوماہہ ورلڈ ہيرالڈ ميں ايک کالم سے ليا گيا اقتتباس

    "جنگ اور ظلم کی راکھ سے جديد اور صحت مند افغان معاشرے کی تشکيل کے عمل کے ليے اميد کی ايک کرن موجود ہے کيونکہ يونيورسٹی آف نبراسکا کے حکام پڑوس ملک پاکستان ميں اپنے چھاپہ خانوں ميں نصابی کتب کی تياری ميں مصروف ہيں۔ اور يہ سب کچھ يو ايس ايڈ کی جانب سے دی گئ 5۔6 ملين ڈالرز کی امداد کے سبب ممکن ہو سکا ہے۔"

    دہشت گردی گروہوں کی جانب سے کی جانے والی متششد کاروائيوں کے ليے تاريخ کے اوراق ميں سے جواز تلاش کرنے اور تمام تر ملبہ امريکہ کے سر ڈالنے کے ليے نت نئ تاويليوں کی بجاۓ آج کے دور کے زمينی حقائ‍ق اور اعداد وشمار پر توجہ مرکوز رکھيں۔

    طالبان کے دور حکومت ميں افغانستان ميں صرف 900000 طالب علم تھے اور خواتين کو تعليم کی اجازت نہيں تھی۔ آج 7 ملين طالب علم افغانستان ميں زير تعليم ہيں جن ميں سے 2 ملين براہراست يو ايس ايڈ کے مرہون منت ہيں اور 37 فيصد طالبات بھی زير تعليم ہيں۔ يو ايس ايڈ کے زير انتظام 52،000 اساتذہ کو تربيت دينے کے علاوہ 3695 کلاس رومز کا اجراء کيا گيا ہے جن ميں 52،504 بچوں کو تعليم دی جا رہی ہے جن ميں 65 فيصد بچياں شامل ہيں۔ تعليم کے اعلی اداروں کو مستحکم کرنے کے ليے يو ايس ايڈ نے افغان پرفيسروں کو ماسٹرز ڈگری کے حصول کے ليے معاونت فراہم کی اور تعليم کے معيار کو بہتر بنانے اور جديد خطوط پر استوار کرنے کے ليے کئ مختصر مدت کے کورسز کا بھی اہتمام کيا گيا ہے۔ يو ايس ايڈ کے سپورٹ پروگرامز کے ذريعے افغانسان کے نوجوانوں اور بالغوں کو تکنيکی تعليم سے بھی روشناس کروايا جا رہا ہے تا کہ وہ ايک پرامن معاشرے کی تشکيل ميں اپنا فعال کردار ادا کر سکيں۔



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  18. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ کس طرح ممکن ہے کہ ايک طرف تو امریکہ پاکستان میں ڈینگی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور دوسری جانب پاکستان میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کر رہا ہے؟

    ميں اس سلسلے میں کچھ حقائق اور اعداد و شمار فراہم کرنا چاہوں گا۔ مالی سال 2010 ء کے دوران، امریکی حکومت نے پاکستان میں صحت کے متعلق درپيش خطرات سے نمٹنے کے لئے 221 ملين ڈالر خرچ کيے۔ جس سے نۓ حفاظتی ٹیکوں

    اور ويکسينيشن کی فراہمی کو يقينی بنايا گیا، متعدی اور دیگر بیماریوں پر اعداد و شمار کا جمع کرنا، ان کی تشریح اور عمل درآمد کرنے ميں حکومت پاکستان کی مدد کرنا، انسانی وسائل کی منصوبہ بندی اوران کی صلاحیت کو بہتر بنانا، لاجسٹک اور بنیادی طبی سامان کی حصولی کے نظام ميں بہتری لانا اس امدادی پيکج کا حصہ ہے۔

    امریکی حکومت اکتوبر 2005ء میں شمالی پاکستان ميں آنے والے زلزلے کے بعد امداد اور تعمیر نو کے سلسلے ميں سب سے آگے رہا۔ دیگر عطیہ دہندگان کے ساتھ مل کر امريکہ نے 2.6 ملین زندہ بچ جانے والے لوگوں کے لئے طبی امداد اور سماجی حمایت فراہم کے ساتھ ساتھ ان کی آباد کاری میں مدد کی۔

    يہ قابل غور بات ہے کہ ضرورت مند اور بيمار لوگوں کی مدد کرنے کے بجاۓ کچھ عناصر ان بے بنیاد الزامات پر اپنی توجہ مرکوز کيے ہوۓ ہيں کہ امریکہ ڈينگی کو پاکستان میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ حقيقت يہ ہے کہ قدرتی طور پر ڈینگی کو حیاتیاتی جنگ کے طور پر استعمال کرنا ممکن ہی نہیں ہے يہ مرض صرف مچھر کاٹنے کی وجہ سے ہی پھیلتا ہے۔ یہ آسانی سے پھیلنے والا جراثيم نہيں ہے مثال کے طور پر ہوا میں بوندوں کے ذریعے پھيلاؤ جو کہ حياتياتی جنگ کے ليے ضروری ہوتا ہے۔

    ڈينگی دنیا بھر ميں ویکٹر سے پيدا ہونے والی وائرل بیماری ہے، يہ Aedes مچھر جس ميں کوئ ايک بھی ڈينگی وائرس ہو، کے کاٹنے کی وجہ سے انسان کے جسم میں منتقل ہوتی ہے۔ يہ بيماری دنیا کے ابر آلود اور نیم ابر آلود عالقوں میں پائ جاتی ہے۔ يہعلامات متاثرہ مچھر کے کاٹنے کے بعد 3-14 دن ظاہر ہوتی ہیں، ڈينگی بخار نومولود بچوں، کمسن بچوں اور با لغوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ورلڈ ہيلتھ ارگنائزیشن کے تخمينے کے مطابق دنیا میں 2.5 ارب افراد جو کہ دنیا کی آبادی کا ایک تہائ سے زائد ہے ايسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں ڈینگی کے خطرات کا احتمال رہتا ہے ۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  19. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    محسود کو 2001 کے آخر ميں افغانستان کے جنوب سے گرفتار کر کے گوانتاناموبے لايا گيا تھا جہاں وہ مارچ 2004 تک قيد رہا۔ رہاہی پانے کے بعد اس نے پاکستان ميں جنوبی وزيرستان کے علاقے ميں محسود قبيلے ميں ايک عسکری گروہ کی قيادت سنبھال لی۔ رہاہی پانے کے بعد محسود برملا اس بات کا اظہار کرتا رہا کہ اس نے امريکی حکام کو دھوکے ميں رکھا کہ وہ افغانی نہيں بلکہ پاکستانی ہے۔ اکتوبر 2004 ميں محسود ہی کے ايما پر دو چينی انجينيرز کو اغوا کيا گيا۔ ان انجينيرز کی بازيابی کی کاروائ کے دوران 5 عسکريت پسند اور ايک چينی انجينير ہلاک ہوگۓ ليکن محسود اس واقعے ميں محفوظ رہا۔ جولائ 2007 ميں محسود نے پوليس کے گھيرے ميں آنے کے بعد ايک دستی بم سے اپنی جان لے لی۔


    http://www.nytimes.com/2007/07/25/w...r=2&adxnnl=1&oref=slogin&adxnnlx=&oref=slogin


    http://www.dawn.com/2007/04/30/top1.htm


    http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/3745962.stm


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  20. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مندرجہ بالا بات کے ساتھ آپ نے مزید تفصیل کے ساتھ اس قسم کی بات کی ہے اور ایک سائٹ این جے کا حوالہ دیا ہے جس کے نیچے تین اخبارات اوردیگر چیزیں چلتی ہیں جسے ایڈوانسڈ پبلیکیشنز کہاجاتاہے جو کہ تین بھائیوں کا ہے

    Samuel Irving Newhouse, Sr.

    Donald Newhouse

    Samuel Irving Newhouse, Jr.

    اور یہ تینوں یہودی ہیں اب ان یہودیوں کے ان اخبارات اور سائٹ کا حوالہ دے کر آپ اپنی بات بھی کررہے ہیں اورشاید انہیں مستندبھی سمجھ رہے ہیں اگرآپ ایساکررہے ہیں توآپ کی مرضی ہے۔
    اسی این جے کاحوالہ دے کر آپ نے مندرجہ بالا بات کی ہے یہ بات میں نہیں کہہ رہاہوں نہ ہی کوئی مسلمان کہہ رہاہے سابق فوجی سربراہ ’’لیفٹینٹ جنرل مائیکل فلائن ‘‘نے کہاہے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش جو شام وعراق میں انسانیت سوزجرائم کا ارتکاب کررہے ہیں امریکہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی موردوجود میں آیا ہے ۔

    انہوں نے 2003 ءمیں امریکی صدرجارج ڈبلیو بش کی قیادت میں عراق پر حملے کو ایک زبردست غلطی سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ اسی جنگ کی وجہ سے بدنام زمانہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نےجنم لیا ہے۔

    یہ خبر بھی میری نہیں ہے بی بی سی نیوز 13 اگست 2014کی خبر ہے یہ وسطیٰ بیروت میں دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے ایک لبنانی اہلکار کہتے ہیں: ’مشرقِ وسطیٰ میں کانسپریسی تھیوریز ہمارے خون میں شامل ہیں۔‘

    اہلکار کا اشارہ اس افواہ کی جانب تھا کہ عراق میں داعش یا دولتِ اسلامیہ نامی شدت پسند گروہ کے پیچھے امریکی ہاتھ ہے اور اس کا اعتراف سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اپنی کتاب ’ہارڈ چوئسز‘ میں کیا ہے۔

    خود ہیلری کلنٹن سابق امریکی صدر کلٹن کی اہلیہ ،امریکی وزیرخارجہ اور نئے صدارتی اتخابات کیلئے امیدوار اپنی کتاب میں اس حقیقت کوتسلیم کررہی ہیں۔
    خود امریکی کہتے ہیں میں اپنی طرف سے بات نہیں کررہاہوں کارٹر دور کے مشیر برائے قومی سلامتی برزنسکی اپنے انٹرویو میں، اور رابرٹ گیٹس اپنی کتاب میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سوویت یونین کا افغانستان میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اسے امریکہ نے افغانستان میں کھینچا تھا۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے واشنگٹن میں 1962ءسے لے کر 1986ءتک سفیر رہنے والے اور چھ امریکی صدور کے ساتھ کام کرنے والے اناطولی دوبرینن بھی 1995 میں امریکہ سے شائع ہونے والی اپنی کتاب میں بھی یہی بات کہہ چکے ہیں۔

    شاید آپ نے میری اوپر دی ہوئی پوسٹ نمبر 35نہیں پڑھی ہےجس میں ،میں نے نبراسکا یونیورسٹی کے بارے میں لکھا ہےاگرنہیں پڑھی تومیں یہاں دوبارہ لکھ دیتاہوں شاید اس بار پڑھ لیں دنیا کاپہلاجہادی لٹریچرکہاں ترتیب دیاگیایہ لٹریچرپاکستان یاافغانستان میں ترتیب نہیں دیاگیاہے یہ لٹریچر جامعہ نیبریسکا اوماہا (امریکہ) میں ترتیب دیاگیاہے نیبریسکاامریکہ کی ریاست ہے اور اوماہااس کاشہر ہے اوریہ جامعہ دنیاکاسب سے بڑامدرسہ ہے۔
    [​IMG]
    اورجہادی لٹریچرپہلی دفعہ امریکہ کی اس یونیورسٹی میں ترتیب دیاگیایہاں پرامریکی حکومت نے ملینز آف ڈالرزخرچ کئےاورکتابیں بنائیں اورشفٹ کیں پاکستان یہ کام 1980۔81 میں شروع کیاگیااورنائن الیون کے تھوڑاپہلے تک یہ کام جاری رہاہے۔اس دورانئے میں کروڑوں کتابیں شفٹ ہوئی ہیں۔یعنی کہ وہ کتابیں توجوانتہاپسندی اورتشددپسندی پرمبنی تھیں وہ پاکستان یاافغانستان یاپھرسعودی عرب میں نہیں لکھی جارہیں تھیں بلکہ وہ امریکہ میں لکھی جارہی تھیں اورپاکستان کے ذریعے افغانستان جارہی تھیں۔آپ کہیں گے کہ یہ بات جھوٹ ہےتویہ جھوٹی بات میں نہیں کہہ رہاہوں ایک آرٹیکل جوکہ 2002 کی شروع میں پبلش ہوااسوقت افغان طالبان کی حکومت گرائی جاچکی تھی اورکرزئی کی حکومت قائم ہوگئی تھی آرٹیکل تھا The Jihad School Book Scandleاوراسکاعنوان ہے کہ 20 سال تک امریکہ کیوں انتہاپسندی پرمنبی کتب افغانستان میں بھیجتارہا۔واضح کردوں یہ کالم کسی پاکستانی یاپھرکسی مسلمان نے نہیں لکھاہے یہ کالم جیرڈ عزرائیل نے لکھاہے اور9 اپریل 2002میں یہ کالم شایع ہواہے۔یہ کالم واشنگٹن پوسٹ کاحوالہ دیتاہے۔

    اب یہ مدرسہ جس نے افغانستان میں جہادی لٹریچر مہیاکیایہ اب افغانی نصاب کی نوک پلک سنوارے گا

    . میرکیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب

    اُسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں