ايک اور امريکی منصوبہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اگست 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ايک جانب تو يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ امريکی حکومت اتنی بااثر، طاقتور اور عيار تھی کہ روس کو افغانستان ميں سازش کے ذريعےجنگ ميں دھکيل ديا گيا تا کہ ايک دوردراز ملک ميں اپنے پرانے دشمن کو شکست دی جا سکے۔ ليکن پھر اس راۓ کا بھی اظہار کيا جاتا ہے کہ امريکہ افغانستان ميں طالبان کی حکومت کے قيام کے فيصلے کے مخالف تھا اور ايک سيکولر نظام کے قيام کا متمنی تھا۔ ليکن حقيقت تو يہی ہے کہ طالبان 1995 سے 2001 تک طالبان افغانستان ميں برسراقدار رہے۔ طالبان پر يوں تو بے شمار الزامات لگ سکتے ہيں ليکن سيکولر ہونے کا "الزام" يقینی طور پر ان پر نہيں لگايا جا سکتا ہے۔ يہ کيسے ممکن ہے کہ انتہائ طاقتور اور با اثر امريکہ جس نے اپنی عياری اور چالاکی سے روس جيسی سپر پاور کو ايک جنگ ميں ملوث کر ديا، وہ ايک مسلح گروہ کو اپنی مرضی کے خلاف افغانستان ميں حکومت کی تشکيل سے نہيں روک سکے۔

    اسی مناسبت سے ميں چاہوں گا کہ اس وقت کے آئ ايس آئ کے چيف جرنل حميد گل کا موقف بھی سنيں جو انھوں نے کچھ برس قبل ايک انٹرويو ميں بيان کيا تھا۔ انھوں نے برملا اس بات کا اعتراف کيا تھا کہ يہ پاکستان تھا جس نے اس وقت کی صورت حال کے حوالے سے امريکہ کو استعمال کيا تھا۔

    آپ ان کا يہ انٹرويو اس ويب لنک پر سن سکتے ہيں۔

    http://pakistankakhudahafiz.wordpress.com/2009/06/14/loud-clear-episode-3-hamid-gul/

    انھوں نے اپنے انٹرويو ميں يہ واضح کيا کہ يہ پاکستانی افسران ہی تھے جنھوں نے يہ فيصلہ کيا تھا کن گروپوں کو اسلحہ اور ديگر سہوليات سپلائ کرنا ہيں۔ انٹرويو کے دوران انھوں نے يہ واضح الفاظ ميں کہا کہ "ہم نے امريکہ کو استعمال کيا"۔

    يہ کسی امريکی اہلکار کا بيان نہيں بلکہ شايد پاکستان ميں امريکہ کے سب سے بڑے نقاد کا ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  2. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    واقعات کا تسلسل، عالمی خدشات اور مختلف عالمی فورمز پر کی جانے والی بحث جو سال 2003 ميں فوجی کاروائ کے فيصلے پر منتہج ہوئ ان مظالم کی وجہ نہيں ہے جو آج آئ ايس آئ ايس عراقی عوام پر ڈھا رہی ہے اور زبردستی اپنی سوچ اور مرضی عام عوام پر مسلط کرنے پر بضد ہے۔ اگر آئ ايس آئ ايس کوئ ايسی تنظيم ہوتی جو خطے ميں امريکی موجودگی کے نتيجے ميں ردعمل کے طور پر وجود ميں آئ ہوتی تو پھر اس منطق کے تحت تو اس تنظيم کا وجود سال 2011 ميں اس وقت ختم ہو جانا چاہیے تھا جب امريکی افواج نے سيکورٹی کے معاملات عراقی عوام کے منتخب جمہوری نمايندوں کے حوالے کر کے علاقے سے مکمل طور پر انخلاء کر ليا تھا۔

    مگر ہم جانتے ہيں کہ صورت حال يہ نہيں ہے۔ اس گروہ کو تو تقويت ہی اس وقت ملی تھی جب امريکی افواج خطے سے نکل چکی تھيں۔ عراق ميں ہماری موجودگی کے حوالے سے آپ کا سوال اور دليل موجودہ صورت حال کے تناظر ميں غير متعلقہ ہو جاتی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکی سفیر کامعذور افراد کیلئےسرگرم کارکنوں کی کوششوں کو خراج تحسین

    اسلام آباد (۱۵ ِاپریل، ۲۰۱۶ء)__ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام (اسٹیپ) کے زیر اہتمام اسلا م آباد میں منعقد ایک کانفرنس کے دوران سماجی کارکنوں کی جانب سے معذور خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی اعانت کیلئے کوششوں کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی۔

    امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے خطاب کے دوران کہا کہ ہمارا اسٹیپ کے ساتھ اشتراک ِکار کا مقصد معذور خواتین کیلئے وسائل کے حوالے سے آگہی بڑھانا ہے، تربیت کے ذریعے خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور عوام میں جسمانی معذور افراد کےحقوق بارے میں شعوربیدارکرنا ہے۔

    امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے اس بات کی تائید کی کہ معذور خواتین کی برابری کی بنیاد پر شرکت کو ہر جگہ یقینی بنایا جا رہا ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے ہم حل کر سکتے ہیں اورہمیں لازمی طورپرایسا کرنا چاہیے۔اس کانفرنس میں،جس کا انعقاد امریکی سفارتخانہ کی مالی اعانت سے کیا گیا ، پاکستان بھر سے سماجی کارکنوں نے شرکت کی اوراس میں معذور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے اقدامات پر غور کیا گیا۔ کانفرنس میں دیرپا ترقی کے اہداف اور ترقی میں صنف اورمعذوری کے کردار کے حوالے سے مباحثے کا بھی اہتمام کیا گیا ۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی سفارتخانہ اور انڈس انٹریپرونرز کے تعاون سے کاروباری تربیت کے پروگرام

    "اسٹارٹ اپ کپ ۲۰۱۶ء" کا افتتاح


    اسلام آباد( ۱۷ اپریل ، ۲۰۱۶ء) __ امریکی سفارتخانہ اور انڈس انٹرپیرونرز کی مقامی شاخ کے تعاون سے اسٹارٹ اپ کپ ۲۰۱۶ء کا افتتاح کیا گیا جو ملک گیر سطح پر کاروباری ماڈل کے حوالے سے ایک مقابلہ ہے۔ اسلام آباد کے علاقہ سے لگ بھگ تین سو افراد کا ایک مقابلے کے عمل کے ذریعہ انتخاب کیا گیا جنہوں نے اپریل ۱۶ تا ۱۷ تک کاروبار تشکیل دینے کے حوالے سے ایک ورکشاپ میں شرکت کی۔ یہ ان متعدد ورکشاپوں کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی جس کا انعقاد آنے والے ہفتوں کے دوران لاہور، کراچی اور فیصل آباد میں کیا جائے گا۔

    ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی بہترین۲۵ٹیموں کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ اسلام آباد کے شعبہ امور عامہ کے منسٹر قونصلر جیف سیکسٹن نے کہا کہ اسٹارٹ اپ کپ جیسے مقابلے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کاروباری افراد کی مدد کی جائے تاکہ وہ دنیا کی مشکل ترین مسائل کا حل تلاش کر سکیں۔انہوں نے شرکاء سے خطاب کے دوران کہا کہ آپ پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ہیں اور اپنے کاروبار کے آغاز کے ذریعے آپ نا صرف روزگار کے مواقعوں کو وسعت دے رہے ہیں بلکہ ملازمتیں ڈھونڈنے والوں کیلئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

    پروگرام کے چھ ماہ کے دوران پاکستان بھر سے ۵۰۰ کے لگ بھگ اسٹارٹ اپ کو "بلڈ ا ے بزنس" ورکشاپس کے ذریعے باقاعدگی سے تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ ان افراد کو کامیاب کاروبار کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرنے میں مدد کی جائے۔پہلی تین بہترین سٹارٹ اپ حکمت عملی کی حامل ٹیموں کو بالترتیب دس لاکھ،سات لاکھ پچاس ہزار اور پانچ لاکھ روپے کی انعامی رقوم فراہم کی جائے گی۔

    پاکستان میں اسٹارٹ اپ کپ ۲۰۱۶ درحقیقت ۲۰۱۴ اور ۲۰۱۵ کے کامیاب مقابلوں کے انعقاد کا تسلسل ہے اور پاکستان میں کاروباری مراکز کے درمیان اشتراک کار کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں ان میں سے وویمن انٹر پیرونرز سنٹر آف ریسورسز، ایجوکیشن، ایکسس اینڈ ٹریننگ فار اکنامکس امپاورمنٹ (ڈبلیو ای سی آرای اے ٹی ای) اسلام آباد، لاہوریونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس (ایل یو ایم ایس) سنٹر فار انٹر پیرونرز، لاہور میں قائم حکومت معاونت سے چلنے والا انکیوبیٹر پلان نائن، اور کراچی میں قائم ٹیکنالوجی انکیوبیٹر،"دی نیسٹ آئی ، او" شامل ہیں۔

    سٹارٹ اپ کپ اور ان مراکز کے درمیان اشتراک کار اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ نئے شروع ہونے والے کاروبار خصوصی توجہ، اعانت، تربیت اور ضروری ہدایات کی بدولت دیرپا ترقی کے اہداف حاصل کر سکیں۔امریکی سفارتخانہ کے مختلف منصوبے پاکستانی کاروباری افراد کومالی وسائل تک رسائی،پیشہ وارانہ تعلیم اور کاروباری ماحول کے فروغ میں اعانت کرتے ہیں۔

    اسٹارٹ اپ کپ پاکستان کے بارے میں مزید جاننے کیلئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

    http://pakistan.startup.com/


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی تشکیل کواس لئے نہیں روک سکے کہ اس کی افغانستان میں دلچسپی نہیں رہی تھی یہ میں نہیں کہہ رہاہوں
    Gust Avrakotos اس مشن میں اہم ترین سی آئی اے ایجنٹ تھے، جنہوں نے خودکار اسلحہ، ٹینک شکن مشین گنیں اور سیٹیلائٹ نقشے پاکستان سے افغان عسکریت پسندوں تک پہنچائے جبکہ چارلی ولسن ان معاملات تک رقم کی فراہمی یقینی بنانے والی امریکی کانگریس کی کمیٹی کے اہم رکن تھے۔
    امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے تسلیم کیا ہے کہ چارلی افغان عوام کے لئے مسلسل جدوجہد کررہے تھے اور خبردار کرچکے تھے کہ جنگ سے تباہ حال ان لوگوں کو اس طرح نہ چھوڑا جائے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آج امریکہ کو طالبان کے ہاتھوں میں موجود اسی اسلحے کا سامنا ہے جو انہیں دو عشرے قبل دیا گیا تھا۔
    یہ میں نہیں خود امریکہ وزیردفاع تسلیم کررہاہے کہ افغانستان کویوں مطلب نکل جانے کے بعدتنہانہ چھوڑاجائے۔چونکہ امریکہ نے ایسا کیاتووہاں طالبان آکے بیٹھ گئے امریکہ نے افغان امورمیں کسی دلچسپی کامظاہرہ سوویت فوج کے جانے کے بعدنہ کیا۔ہیلری کلنٹن کی اس تقریر کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جس میں انہوں نے اقرار کیا کہ امریکہ نے سویت افواج کے مقابلے اور سرد جنگ کے دوران نہ صرف مجاہدین کے گروہ تیار کروائے، ان کی فنڈنگ کی اور جنگ ختم ہونے پر انہیں چھوڑ کر اپنا راستہ بدل لیا۔
    اچھاتویہی حمیدگل امریکہ کے بارے میں کیاکہتاہے وہ بھی پڑھ لیں "آج ملک جس گرداب میں پھنس چکا ہے ہمیں اس میں امریکہ اور مشرف نے پھنسایا"نوائے وقت 20 اپریل ,2016
    کیا آپ حمید گل صاحب کی یہ بات مانیں گے یقینا نہیں مانیں گے۔آپ نے جس انٹرویوکالنک مجھے دیاہے اس میں موصوف فرماتے ہیں کہ امریکہ نے جو امداددی وہ کم تھی البتہ یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ایک مقدس جہاد کیلئے امریکی مدد درکار ہی کیوں تھی، چاہے کم یا زیادہ؟
    داعش امریکہ کی پیداوارہے یہ میں نہیں کہہ رہاہوں خودامریکی کہہ رہے ہیں امریکہ میں کالج کی ایک طالبہ نے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جیب بُش کو داعش کے حوالے سے آڑھے ہاتھوں لیااور کہا کہ دولت اسلامیہ آپ کے بھائی سابق صدر بش نے بنائی۔طالبہ اور سابق صدر جارج بش کے چھوٹے بھائی جیب بُش کے درمیان یہ تکرار ریاست نیواڈا کے شہر رینو کے ٹاؤں ہال میں ہوئی، امریکی طالبہ کی خبر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیوں میں شائع‏ ہوئی ہے۔طالبہ اور سابق صدر جارج بش کے چھوٹے بھائی جیب بُش کے درمیان یہ تکرار ریاست نیواڈا کے شہر رینو کے ٹاؤں ہال میں ہوئی، جہاں وہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی مہم پر آئے تھے۔یونیورسٹی آف نویڈا کی19 سالہ طالبہ ایوی زیڈرک جیب بش کے قریب پہنچیں اور سوالات ملا مکالمہ شروع ہوگیا،ایوی نے کہا کہ دولت اسلامیہ عراق میں امریکی مداخلت کا شاخسانہ ہے ۔طالبہ نے سابق صدر بش کے بھائی جیب بش کو کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ آپ کے بھائی صاحب نے بنائی تھی۔
    اس تنظیم کاسربراہ ابوبکربغدادی امریکہ اوراسرائیل کاایجنٹ ہے یہ بھی میں نہیں کہہ رہاہوں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن نے انکشاف کیا ہے
    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایڈ ورڈ اسنوڈن کا کہنا تھا کہ سی آئی اے اور برطانیہ کے انٹیلی جنس ادارے نے بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ مل کر ایک دہشت گرد تنظیم بنائی جو کہ دنیا بھر کے شدت پسندوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے اور اس پالیسی کو ’’ دی ہارنیٹز نیسٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اسنوڈن کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا مقصد تمام دنیا کے لئے بڑے خطرات کو ایک جگہ اکٹھا کرنا تھا تاکہ انھیں ایک جگہ سے کنٹرول کیا جا سکے اور عرب ممالک میں انتشار پھیلایا جا سکے۔

    سابق سی آئی اے اہلکار نے کہا کہ داعش سربراہ ابو بکر البغدادی کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ذریعے سے انتہائی سخت فوجی تربیت دلوائی گئی۔ فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ البغدادی کو بولنے میں مہارت کی تربیت بھی دی گئی تاکہ وہ دنیا بھر کے دہشت گردوں کو اپنے بیان سے متاثر کر سکے۔ اسنوڈن نے کہا کہ تینوں ممالک کے نزدیک صیہونی ریاست کی حفاظت کے لئے اسرائیل کی سرحدوں کے قریب ایک دہشت گرد تنظیم ضروری ہے۔

    Crethiplethi.com ایک آن لائن میگزین ہے جو کہ 2009ء سے مشرقی وسطیٰ،اسرائیل،عرب دنیااورجنوب مغربی ایشیاء وغیرہ کی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔20نومبر2015ء کوThe Historical Root’s and Stages in the Development of ISISکے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس ساری صورتحال کو یوں بیان کیاگیا ہے

    ‘عراق میں امریکیوں نے نوری المالکی کی قیادت والی شیعی اور قوم پرست جمہوری طرزِ حکمرانی کی حمایت کی تاہم اس دور میں تاریخی لحاظ سے عراق پر (برسوں سے قابض)سنی آبادی کوحکومت سے باہررکھاگیا کیونکہ وہ (عددی اعتبار سے)اقلیت میں تھے’۔عراق میں القاعدہ کے قیام سے لیکرداعش تک کے مراحل کو اس رپورٹ میں چاردرجوں میں تقسیم کیاگیا ہے ‘عراق اور شام میں القاعدہ اورآئی ایس آئی ایس کا قیام چارمرحلوں میں مکمل ہوا’۔

    1:پہلا مرحلہ(06-2004ء): پہلے مرحلے میں عراق میں ابوموصاب الزرقاوی کی قیادت میں القاعدہ کی شاخ کا قیام عمل میں آیا جس نے امریکہ اور اتحادی فوجیوں اور شیعہ آبادی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی پہلا مرحلہ اس وقت اختتام پزیر ہواجب (القاعدہ کے راہنما)ابوموصاب الزرقاوی جون 2006ء کو امریکہ کے فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے۔

    2:دوسرا مرحلہ(11-2006ء):دوسرے مرحلے میں’عراقی اسلامی امارات’یعنی آئی ایس آئی کا قیام عمل میں آیا۔آئی ایس آئی نے دوسری دہشتگرد تنظیموں کے لئے چھتری کا کام دیا جس نے امریکہ، اسکے اتحادیوں اور اہلِ تشیع کے خلاف گوریلا حملوں کوجاری رکھاامریکہ کی موجودگی اور ان کے عسکری حرکات نیز اس دورکے کامیاب خارجہ وداخلہ پالیسی جس میں سارے طبقوں بشمول سنی عراقیوں کو بھی ساتھ لیاگیاتھا کی وجہ سے آئی ایس آئی کمزوررہی۔

    3:تیسرامرحلہ(2012سے جون 2014ء): اس دوران اسلامی امارات برائے عراق یعنی آئی ایس آئی نے خود کو مستحکم بنادیا اوراپنا نام تبدیل کرکے اسلامی امارات برائے عراق و شام یعنی آئی ایس آئی ایس رکھ دیا۔جب سن 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کا انخلاء ہوگیا تو داعش مزید مضبوط ہوگئی۔ ٹھیک اسی دوران افریقہ اور مشرقیِ وسطیٰ کے مسلمان اکثریتی ممالک میں عرب بہارکے نام پر آمریت مخالف تحریک شروع ہوئی تو شام بھی اسی تحریک کے زیرِاثر آگیا، اور شامی ریاست خانہ جنگی کی لپیٹ میں آئی ۔جس کی وجہ سے داعش کو وہاں بھی اپنے پاؤں جمانے کا موقع ملا جنہوں نے النصراء فرنٹ کے نام سے شام میں اپنی شاخ قائم کی۔

    4:چوتھامرحلہ(جون 2014ء کے بعد):داعش کو عسکری فتوحات میں ڈرامائی کامیابی:اس مرحلے میں داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو فتح کیاجبکہ مشرقی شام کے مختلف حصے بھی داعش کے قبضے میں آئے،جہاں حکومتی مرکزیعنی الرقہ پر قبضہ کرلیا اس کامیابی کے بعد داعش نے اسلامی امارات آئی ایس یا اسلامی خلافت کے باقاعدہ قیام کا اعلان کردیا جسکی قیادت داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کررہے ہیں سمتبر 2014ء کو امریکہ نے داعش کے خلاف بھرپورمہم کا آغاز کیا”۔
     
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مجھے معلوم ہے کہ اس خبرکوآپ ردکردیں گے پھربھی لکھتاہوں کہ 18 جولائی 2015 کی ایکسپریس نیوزکی خبرہے کہ
    دور جدید میں مشہور ہے کہ عبداللہ محسود اور ابوبکر البغدادی امریکا کے ایجنٹ ہیں۔یہ دونوں طویل عرصہ امریکیوں کی قید میں رہے۔اس دوران امریکی خفیہ ایجنسی،سی آئی اے نے انھیں خرید لیا۔چناںچہ وہ استعماری ایجنڈے کے مطابق کام کرنے لگے۔ عبداللہ محسود نے پاکستانی طالبان کی بنیاد رکھی اور اکلوتی اسلامی ایٹمی طاقت کو کمزور کرنے کی سازشیں کرنے لگا۔اسے را و موساد کی مدد بھی حاصل تھی۔ ابوبکر البغدادی داعش کا رہنما بنا اور عراق،شام،ترکی ،اردن ،کویت ،سعودی عرب وغیرہ میں فساد کھڑا کر دیا۔یہ صورت حال دیکھ کر اسرائیل بہت خوش ہے۔
    وکی پیڈیاکی خبرہے کہ پاکستانی خفیہ حکام کو شک ہے کہ بیت اللہ محسود کا گروہ، دراصل نام نہاد جہادی، پاکستان مخالف گروہ ہے جسے عالمی خفیہ دشمن ایجنسیوں (سی آئی اے، را اور موساد) کی طرف سے زبردست حمایت حاصل ہے۔ اس کے بھائی عبداللہ محسود کو امریکہ نے گوانتانامو بے سے پراسرار طور پر آزاد کر دیا جس کے فوراً بعد اس نے پاکستان آ کر کئی چینی انجینئیروں کو اغوا کر لیا جو اس کے امریکی جاسوس ہونے کا ثبوت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ابن عادل

    ابن عادل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 17, 2008
    پیغامات:
    79
    برادر زبیراحمد اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اتنا کچھ تحقیقی و تنقیدی مواد مہیا کرنے پر آپ مبارک باد کے لائق ہیں ۔فواد صاحب تو رزق حلال کے لیے کوشاں ہیں ۔ ہم انہیں بھی ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اتنے انہماک ، ایمانداری اور دلجمعی کے ساتھ ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ اور اپیل کرتے ہیں کہ ہماری صرف یہ امداد کردیں کہ ہمارے ارباب حل و عقد میں بھی یہی امریکی جذبہ یعنی خلوص ، محنت اور اپنے وطن سے محبت پیدا کردیں ۔ یقین جانیں ہم اپ سے کچھ نہ لیں گے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    بے گھر اور خوارک کی کمی کے شکار افراد کوراشن کی فراہمی کیلئے

    امریکہ کی جانب سے۲۰ ملین ڈالر کی اعانت

    امریکی حکومت نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے تقریباً ۱۲ لاکھ افراد، ۷۵ ہزار متاثرین زلزلہ اور پاکستان میں غذائیت کی کمی کاشکار ایک لاکھ ۵۳ ہزار ۵ سو خواتین اور بچوں کو خوراک کی فراہمی میں معاونت کے لئے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ذریعے حال ہی میں ۲۰ ملین ڈالر فراہم کئے ہیں۔

    یہ نئی امریکی معانت اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے زیر انتظام فراہم کی جائے گی، جو حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ تقریباً چالیس ہزارمیٹرک ٹن گندم کو غذائیت سے بھرپور مقوی آٹے میں تبدیل کرے گا۔ اس کے علاوہ، ڈبلیو ایف پی ان افراد کو غذائیت کی فراہمی کے لئے ۹ ہزار میٹرک ٹن سے زائد خصوصی غذائی اشیاء تقسیم کرے گا۔

    یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے کہا کہ امریکی حکومت غذائیت کی کمی کے خطرے کاشکار عورتوں، مردوں اور بچوں کی محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ انسانی ہمدردی کی بنیادپر امداد اور انسانی ترقی میں معاونت کے لئے پاکستان کے ساتھ دیرپا بنیاد وں پر کام کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔

    یو ایس ایڈ کی ۲۰ ملین ڈالر کی یہ اعانت "ٹوئیننگ پروگرام" کے لئے فراہم کی جانے والی رقم کا حصہ ہے جو حکومت پاکستان، ڈبلیو ایف پی اور بین الاقوامی امدادی اداروں کا مشترکہ پروگرام ہے۔ اس پروگرام کے تحت حکومت پاکستان کی جانب سے عطیہ کردہ گندم کو غذائیت سے بھرپور مقوی آٹے میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے بے گھر ہونے والے افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ امدادی اداروں کی رقوم کو گندم کی پسائی، گندم کے آٹے کو غذائیت سے بھرپورمقوی بنانے، اسے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے، اس کی نقل و حمل اور تقسیم کی لاگت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یو ایس ایڈ اس ‘‘ٹوئیننگ پروگرام’’ کے لئے رقم فر اہم کرنے والا سب سے بڑا بین الاقوامی ادارہ ہے، اس تازہ ترین معاونت کے بعد یو ایس ایڈ کی اس پروگرام کے لئے ۲۰۱۳ء سے اب تک مجموعی معاونت ۷۵ ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  9. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    کچھ راۓ دہندگان کے ليے يہ بہت سہل ہوتا ہے کہ کسی بھی ايسی خبر کی تشہير شروع کر ديتے ہيں جس سے ان کی پہلے سے طے شدہ سوچ اور واقعات کی حوالے سے سمجھ بوجھ کو مزيد تقويت ملتی ہے اور پھر ان کو بنياد کر باقی تمام شواہد کو نظرانداز کر ديا جاتا ہے۔ اگر کيمپ بوکا ميں البغدادی کی موجودگی کی رپورٹس کچھ افراد کے نزديک ايک ناقابل ترديد ثبوت ہے کہ اسے عالمی منظرنامے پر روشناس کروانے ميں کسی بھی پہلو سے امريکہ ذمہ دار ہے تو پھر ميں چاہوں گا اس رپورٹ پر بھی ايک نظر ڈالیں جس ميں يہ واضح کيا گيا ہے کہ سال 2009 ميں کيمپ سے نکلتے ہوۓ اس نے وہاں کے نگرانوں کو کن الفاظ ميں دھمکی دی تھی۔

    ISIS Leader: ‘See You in New York’

    http://www.thedailybeast.com/articles/2014/06/14/isis-leader-see-you-in-new-york.html

    ايک ايسا قيدی جو اپنی اسيری کی مدت پوری ہونے کے بعد ان عہديداروں کو دھمکی دے رہا ہے جنھوں نے اسے قید کيا تھا، اس سے يہ توقع ہرگز نہيں کی جا سکتی کہ آج وہ خطے ميں ہمارے ايجنڈے کی تکميل کے ليے اپنی جان خطرے ميں ڈالنے کے ليے تيار ہو جاۓ گا۔ اور يقينی طور پر ہمارے جنگی طياروں کی جانب سے اس کے محفوظ ٹھکانوں پر مسلسل بمباری اور اس کے ظالمانہ تسلط سے علاقے کے لوگوں کو نجات دلانے کے ليے اپنے اسٹريجک اتحادوں کو وسائل کی فراہمی اور مکمل تعاون ايسے اقدامات ہرگز نہيں ہيں جن کی بنياد پر البغدادی اپنے اس بدترين دشمن کے اشاروں پر عمل کرنا شروع کر دے گا جس پر حملے کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے۔

    يہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ کچھ راۓ دہندگان جو سال 2009 ميں البغدادی کو رہا کرنے پر امريکہ کو ہدف تنقيد بناتے ہيں اور اس کے تمام مظالم کے ليے ہميں ذمہ دار سمجھتے ہيں، انھی افراد سے اگر گوانتاناموبے کے حوالے سے بات کی جاۓ تو وہ اپنی ہی دليل کو بالکل الٹ ديتے ہيں اور انتہائ جذباتی انداز ميں امريکی
    حکومت پر اس حوالے سے زور ديتے ہيں کہ وہاں موجود تمام قيديوں کو غير مشروط رہائ ملنی چاہيے۔

    امريکی حکومت کی کبھی بھی يہ خواہش يا کوشش نہيں رہی کہ دانستہ عالمی سطح پر دہشت گردوں کو متعارف کروايا جاۓ۔ ان افراد کو کيمپ بوکا، گوانتاناموبے اور ديگر مراکز ميں قيد کرنے کا مقصد ہميشہ يہی رہا ہے کہ عام شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کیا جاسکے اور مجرموں کو کيفر کردار تک پہنچايا جاۓ۔ يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ ان ميں سے اکثر افراد کو اس وقت گرفتار کيا گيا تھا جب وہ عراق اور افغانستان ميں مسلح کاروائيوں ميں ملوث پاۓ گۓ تھے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG] [​IMG]
     
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ امريکی فوج نے بيت اللہ محسود کی گرفتاری کے لیے اگست 2007 ميں 50 ہزار ڈالرز کا انعام رکھا تھا جسے امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ نے مارچ 25 2009 کو بڑھا کر 5 ملين ڈالرز کر ديا تھا۔

    امريکی سيکرٹری آف اسٹيٹ اس طرح کے انعام کے اعلان کا صرف اسی صورت ميں مجاز ہوتا ہے جب کسی ايسے شخص کی گرفتاری کے ليے معلومات درکار ہوں جو يا تو اپنے اعمال، منصوبہ بندی، سازش، امداد يا ترغيب کے ذريعے امريکی املاک يا افراد کے خلاف عالمی دہشت گردی کی کاروائ ميں ملوث ہو۔ بيت اللہمحسود پر انعام کا اعلان اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ امريکی حکومت اسے ايک دہشت گرد اوراپنے شہريوں کے ليے براہراست خطرہ سمجھتی تھی۔

    اگر آپ گزشتہ چند برسوں کے دوران بيت اللہ محسود اور ان سے وابستہ ترجمان کے بيانات پڑھيں تو آپ پر يہ واضح ہو جاۓ گا کہ ان کی جانب سے تواتر کے ساتھ امريکہ کی حدود کے اندر دہشت گردی کی کاروائيوں کی دھمکی موجود تھی۔

    مارچ 2009 سے ايک مثال

    http://www.longwarjournal.org/archives/2009/03/baitullah_mehsud_tak.php

    يہ بيانات صرف امريکی اور مغربی ذرائع ابلاغ پر ہی نہيں بلکہ پاکستانی ميڈيا پر بھی موجود ہيں۔

    امريکی حکومت کو اسے زندہ رکھنے يا اس کی تنظيم کو کسی قسم کی مدد فراہم کرنے کے نتيجے ميں کوئ فوجی يا علاقائ مفاد نہيں تھا۔ بيت اللہ محسود کی تنظيم سرحد کے دونوں اطراف پاکستانی اور نيٹو افواج پر کئ براہراست حملوں کی ذمہ دار ہے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  11. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    درج ذیل میں جواب ملاحظہ کریں
     
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مندرجہ بالا جولنک آپ نے دیاہے وہ دراصل مائیکل ڈیلی کے کالم سے اقتباس ہے جس کے متعلق نکولس سٹکس لکھتاہےکہ موصوف جعلی قتل کی جعلی نیوزبناتے پکڑاگیاہے جس کے باعث انہیں مذکورہ بالانیوزپیپر سے نکال باہرکردیاگیامگراسکاسیاسی اثرورسوخ بہت ہے جس کے باعث اسےدوبارہ نوکری پررکھ دیاگیامائیک برائون موصوف کوتسلیم شدہ جھوٹاکہتاہے۔گاکرلکھتاہےکہ نیویارک کےشرابی ترین صحافیوں میں ان موصوف کانام آتاہے۔میں اگرغلط ہوں تصحیح کردیجئے گاایسےجھوٹے شخص کے کالم کاحوالہ دے کرآپ یہ ثابت کرنےکی کوشش کررہے ہیں داعش امریکہ کی پیداوارنہیں ہےلازمی طورپرناقابل قبول ہے۔
    داعش کےمتعلق خودمغربی میڈیاکاایک بڑاچینل سی سی این کےسیکیورٹی شعبہ کےتجزیہ نگارپیٹربرگین نےمضمون لکھاکہ داعش سابق صدرجارج بش جونئیرکی پالیسی کی وجہ سے وجودمیں آئی ۔ یہی بات میں درج بالاپوسٹ نمبر45میں بھی لکھی ہے۔یہی نہیں امریکہ کے ممتازمصنف اور تجزیہ نگار ڈاکٹر کیون بیرٹ پریس ٹی وی ویب سائٹ پر شایع اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں کہ "داعش کا مشن اسلام کو مسخ کرنا،فرقہ ورانہ فسادات بھڑکانااورمشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیداکرکے عالم اسلام میں امریکہ مداخلت کیلئے راہ ہموارکرناہے۔"
    بیرٹ یہیں تک نہیں رکتے آگے لکھتے ہیں کہ "سابق القاعدہ کمانڈرنبیل نعیم نے داعش کو امریکی پیداوار اور خلیج فارس کی کٹھ پتلی قراردیاہے جب داعش کوامریکہ تربیت دیتاتھاتب وہ امریکی میرین کے نگران تھے نعیم مزید کہتاہے کہ داعش کی فنڈنگ امریکہ کررہاہے اوراسکے دہشت گرد تل ابیب کے اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔"ویٹیرنس ٹوڈے کاانکشاف ہے کہ ابو بکر البغدادی ایک یہودی ہے اوراسکا اصل نام ایلیاٹ شمعون ہے۔دنیابھر کے پرنٹ میڈیانے اسے نمایاں طور پر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا۔
    امریکہ نےایساکیوںکیاجبکہہفت روزہ ” ٹائم “لکھتاہے کہ تاہم وہ امریکہ کے خلاف بیت اللہ محسود کے کسی بھی جرم کو ثابت نہیں کر سکی۔ اخبارکےمطابق بیت اللہ محسودپرامریکہ کےخلاف جرم ثابت نہیں ہوااگرنہیں ہواتوانعام کیوں رکھاگیا؟کیوں؟
    موصوف کےدوساتھیوں قاری ذین الدین محسود اور حاجی ترکستان نےاقرارکیاہے کہ بیت اللہ محسود کے بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے تعلقات ہیں اور وہ ان کا ایجنٹ ہے۔
    http://www.vblinks.urdumajlis.net/showpost.php?p=147802&postcount=1
    http://www.vblinks.urdumajlis.net/showpost.php?p=147872&postcount=2
    http://pakistankakhudahafiz.wordpress.com/2009/06/18/israel-india-backing-mehsud-ex-ttp-commander/
    http://abclive.in/abclive_global/baitullah_mehsud_an_american_agent_told_haji_turkistan_baetani.html
     
  13. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکی حکومت کسی بھی ايسی تنظیم کو کسی بھی قسم کی سپورٹ کيونکر فراہم کرے گی جو عراق ميں کئ برسوں تک ہماری افواج کی جانب سے کی گئ مثبت پيش رفت کو ملياميٹ کرنے کے درپے ہے۔ علاوہ ازيں اب آئ ايس آئ ايس دہشت گردی پر مبنی ايک ايسی خودکفيل اور مضبوط تنظیم کی شکل اختيار کر چکی ہے جو ناصرف يہ کہ عراق بلکہ خطے ميں ہمارے اہم اتحاديوں کے لیے بھی خطرہ ہے

    جہاں تک آئ ايس آئ ايس کی مبينہ مدد کے حوالے سے الزام کا تعلق ہے تو اس تنظيم کی جانب سے حاليہ پروپيگنڈہ ويڈيوز کا ايک سرسری جائزہ ليں جن ميں وہ امريکہ کے خلاف حملے کرنے، وائٹ ہاؤس ميں اپنے جھنڈے گاڑنے اور دنيا بھر ميں ہمارے شہريوں کو نشانہ بنانے کی دھمکياں دے رہے ہيں اور پھر مجھے يہ بتائيں کہ امريکی حکومت کيونکر اپنے ہی ٹيکس دہندگان کے پيسوں کو ايسی تنظيم کو مستحکم کرنے کے ليے خرچ کرے گی۔

    حتمی تجزيے ميں تشدد کی حاليہ لہر اور آئ ايس آئ ايس جيسی تنظيم کے ابھرنے کے عمل کے ليے امريکی حکومت کو اس ليے موردالزام قرار نہيں ديا جا سکتا کيونکہ سال 2011 ميں عراق کی منتخب جمہوری حکومت کی جانب سے امريکی افواج کو عراق ميں اپنے قيام ميں توسيع کی اجازت ہی نہيں دی گئ تھی۔ امريکی افواج کے انخلاء کے بعد عراق کی فعال اور خودمختار حکومت ہی اب عراق کے معاملات کے ليے ذمہ دار ہے۔

    اور ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ امريکی حکومت نے مئ 14 2014 کو آئ ايس آئ ايس کو ايک دہشت گرد تنظیم قرار دے ديا تھا۔

    يہ رہا اس فيصلے سے متعلق ويب لنک

    http://www.state.gov/r/pa/prs/ps/2014/05/226067.htm


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  14. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکی حکومت نے ہميشہ يہ موقف اختيار کيا ہے کہ ہم اپنے اسٹريجک اتحاديوں بشمول افغانستان اور پاکستان کے ايک "مشترکہ دشمن" کے خلاف برسرپيکار ہيں۔ آپ بے شمار اردو فورمز پر مختلف موضوعات پر ميری آراء سے يہ تصديق کر سکتے ہيں کہ ہمارا تسلسل کے ساتھ يہی موقف رہا ہے کہ خطے ميں ہماری مشترکہ کاوشيں اور دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کا قلع قمع کرنے کے ہمارے حتمی ہدف کا مقصد ہی يہ ہے کہ صرف امريکی شہريوں کو ہی نہيں بلکہ مہذب دنيا کے عام شہريوں کی سيکورٹی اور تحفظ کو يقينی بنايا جاۓ۔

    افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی مسلسل سپورٹ اور ہماری مشترکہ کاوشيں اس حقيقت کو واضح کرتی ہيں کہ ہمارے اتحادی اور فريقين ان دہشت گرد گروہوں کے تعاقب کے ضمن ميں ہمارے عزم ميں شامل بھی ہيں اور ان کو تسليم بھی کرتے ہيں جو شہريت کی تفريق سے قطع نظر سينکڑوں بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہيں۔

    ٹی ٹی پی کے کوائف اور ان کی جانب سے برسوں پر محيط مظالم کی فہرست پر ايک سرسری سے نگاہ سے ہی شک و شہبہ کا شکار کوئ بھی اس حقيقت پر قائل ہو جاۓ گا کہ يہ تنظيم صرف پاکستانيوں پر ہی حملوں اور ان کے قتل عام ميں ملوث نہيں ہے بلکہ درجنوں امريکيوں کی ہلاکت کے ليے بھی ذمہ دار ہے۔

    اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ ٹی ٹی پی ايک عرصے سے حکومت پاکستان کے خلاف بغاوت کی مرتکب ہو رہی ہے ليکن يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ اس تنظيم اور اس کی قيادت نے ايسے کئ بڑے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور اس ضمن ميں منصوبہ بندی اور سپورٹ بھی فراہم کی ہے جن کے نتيجے ميں متعدد امريکی شہری ہلاک ہوۓ ہيں۔

    مئ 1 2010 کو ٹی ٹی پی نے نيويارک کے مقام ٹائمز اسکوائر ميں ايک کار بم دھماکے کی کوشش کو تسليم کيا، جو فنی خرابی کے باعث پھٹ نا سکا۔ اگر يہ بم پھٹ جاتا تو نيويارک کے بے شمار شہريوں کی ہلاکت اور اس سے بھی کہيں زيادہ کے زخمی ہونے کا احتمال تھا۔

    ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان سے باہر ايک اور اہم حملہ دسمبر 30 2009 کو کامبيٹ آؤٹ پوسٹ چيپ مين ميں کيا گيا۔ ٹی ٹی پی نے جارڈن کے ايک جہادی کو بھيجا جس کے بارے ميں سی آئ اے کا خيال تھا کہ وہ اس وقت کے القائدہ کے نمبر 2 ليڈر ايمن الظواھریکے حدود واربعہ کے بارے ميں معلومات فراہم کرے گا۔ ليکن طالبان کے تہرے ايجنٹ نے بيس پر پہنچنے کے بعد خودکش جيکٹ سے خود کو اڑا ديا جس کے نتيجے ميں سی آئ اے کے 7 عہديدار، ايک سيکورٹی اہلکار اور جارڈن کی انٹيلیجينس کے ايک افسر ہلاک ہو گۓ۔ بعد ميں منطر عام پر آنے والی ايک ويڈيو ميں ٹی ٹی پی کے ليڈر کو خودکش حملہ آور کے ساتھ ديکھا گيا جس ميں وہ حملے کی منصوبہ بندی کے بارے ميں فخر سے بات چيت کر رہے تھے۔


    اس کے بعد امريکہ نے تحريک طالبان پاکستان کو ايک بيرونی دہشت گرد تنظيم قرار دے کر اس کی قيادت کو دہشت گرد قرار ديا۔ اس ضمن ميں امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی جانب سے جو بيان جاری کيا گيا اس ميں ٹی ٹی پی کو القائدہ سے منسلک قرار ديا گيا۔

    "تحريک طالبان پاکستان اور القائدہ کے درميان ايک مضبوط رشتہ قائم ہے۔ ٹی ٹی پی، القائدہ سے نظرياتی رہنمائ ليتی ہے جبکہ القائدہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر پختون علاقوں ميں محفوظ ٹھکانوں کے ليے ٹی ٹی پی پر انحصار کرتی ہے۔"


    "فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 27, 2016
  15. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,847
    السلام علیکم.
    محترم فواد صاحب.
    انسانی تصویر سے گریز فرمائیں اور قواعد کا خیال رکھیں. آپ کے کمنٹس سے تصویر کو حذف کر دیا گیا ہے۔
    شکریہ.

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    واقعی ایساہے توکیسے
    یہباتیں اس وقت سچ ثابت ہوگئیں جب امریکہ اور اسرائیل کے ملٹری ایڈوائزرز کو عراق میں گرفتار کرلیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ ان کے روابط داعش کے ساتھ ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چار افراد جن کا تعلق اسرائیل اور امریکہ سے ہے کو داعش کو مدد کرنے اور داعش کو مدد دینے کا الزام ہے۔ عراقی خبر رساں ادارے تین افراد کے پاس سے امریکی اور اسرائیلی پاسپورٹ ملا ہے جبکہ چوتھے ملزم کے پاس سے خلیج فارس عرب ملک کا پاسپورٹ برآمد ہوا۔ ان افراد کو شمالی عراق کے صوبے ننواہ سےگرفتار کیا گیا۔(روزنامہ پاکستان 08 مارچ 2015)
    آپ سےمحض پروپیگنڈہ کہیں گے مگرپھربھی پڑھ لیں
    ترکی کے معروف اخبار ینی شفق(Yeni Safak)نے 12 اپریل کے اپنے شمارے میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اوردہشتگرد تنظیم داعش کے درمیان عراق میں رابطے ہوئے ہیں

    اخبار نے اپنے زرائع سے خبر دی ہے کہ عراق میں عراقی فوج کے کچھ دستوں اور کرد "پیش مرگ فورسز" کے ساتھ ہم آہنگی رکھنے والے سات امریکی عسکری ایڈوائزرزنے داعش کے ایک اہم کمانڈرابواحمد العلوانی سے دو مرتبہ ملاقات کی ہے ۔
    اخبار کے مطابق اس ملاقات میں عراقی فوجی دستے کے ایک کمانڈر اور پیش "مرگ کردفورسز "کے ذمہ دار بھی شامل تھے ۔

    گذشتہ سال نومبر میں موصل کے قریبی علاقے میں ہونے والی اس ملاقات کی عراق کامعروف قبیلہ ’’شَمر‘‘نے سہولت کاری کی تھی جبکہ اس سال فروری میں ہونے والی ملاقات کرکوک صوبے کے ’’الحویجہ ‘‘کے علاقے میں انجام پائی تھی اور اس ملاقات کا سہولت کار ’’جیبور‘‘قبیلہ تھا ۔
    اخبار نے مزید انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے یہ طے تھا کہ اس ملاقات کی سہولت کاری کے لئے الحویجہ کا سب سے بڑا اور موثر قبیلہ ’’تاھی ‘‘کو استعمال کیا جائے گا لیکن تاھی قبیلے کی ترکی کے ساتھ تعلقات کے سبب خطرہ ظاہر کیا گیا کہ معلومات لیک ہوسکتی ہیں
    امریکیوں اور داعش کے درمیان پرانے تعلق سے کسی کو بھی انکار نہیں بلکہ افغانستان کے طالبان کی طرح داعش و دیگر دہشتگرد گروہوں کو امریکہ نے ہی سہولت فراہم کی تھی تاکہ وہ عراق وشام میں اس کے ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچائے،لیکن صورتحال بعد میں کسی حد تک ان کے کنٹرول سے نکل گئی
    داعش کے جس دہشتگرد کمانڈر
    ’العلوانی‘‘ نے امریکیوں سے ملاقات کی در اصل وہ سابق صدامی فوج سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے بار ے میں کہا جارہا ہے کہ موصل میں داعش کے اہم ترین کمانڈر وں میں شمار ہوتا ہے
    اس ملاقات کی وجوہات کچھ یوں بیان کی گئی ہیں

    ان ملاقاتوں کی وجہ ’’بغداد میں امریکی سفارتخانےاور کرد نشین علاقہ اربیل کے کونسل خانے کوملنے والی وہ معلومات ہیں جوکہتی ہیں کہ موصل میں بیٹھے داعش کی 85%تعدادعراقی اور ان میں سابق صدامی فوجی بھی شامل ہیں ‘‘

    اخبار کے مطابق امریکہ نے بعض عراقی سابق صدرصدام سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے بھی رابطے کئے ہیں تاکہ داعش میں موجود صدام نواز افراد کو دیگر افراد سے الگ کیا جاسکے۔
    http://iblagh.com/?p=15247
    اگرایساہے توامریکی ٹی وی کے مطابق اب بھی عراق میں پچاس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں ۔(نوائے وقت 1 مئی ,2016)
    تو شایدامریکی ٹی وی جھوٹ کہہ رہاہے۔
    اچھااوپرکی پوسٹس پرمیں نے اس پر سیرحاصل بحث کی ہے اب آپ کوروس کی طرف سے خبردیتاہوں کہ جرمن ایئرفورس کمانڈر حیران ہوگیاجب اسے پتہ چلا کہ امریکہ داعش کی شام اورعراق کے تیل چوری کرنے کیلئے مددفراہم کرتاہے۔
    http://yournewswire.com/germany-in-total-shock-as-proof-emerges-of-u-s-support-of-isis/
    آپ اس خبرکوبھی ردکردیں۔
    ہوئے تم دوست جسکے دشمن اسکاآسماں کیوں ہو​
    واقعی ایسی بات ہے تو یہ واشنگٹن پوسٹ کی خبرہے کہ ملافضل اللہ (جوپاکستان کومطلوب ہے)مشرقی افغانستان میں روپوش ہے۔
    پاکستان کایہ دشمن کیوں افغانستان میں امریکہ کے ناک کے نیچے پناہ گزین ہے؟
    ماشاء اللہ نظرنہ لگے امریکہ کےان نیک ارادوں کواگرواقعی ایساہے تو وکی پیڈیاکےمطابق 2011میں عراق میں پانچ لاکھ عراقی مارے گئےاور2003سے 2013 تک ایک لاکھ بارہ ہزار سے ایک لاکھ تئیس ہزار تک عراقی جوعام شہری تھے مارے گئے اب آپ کہہ دیں کہ یہ سب داعش کے لوگ تھے یادہشت گرد تھے۔
    یہ واشنگٹن پوسٹ کی خبرہے کہ 2001 سے 2014 تک افغانستان میں 1،4900افغانی مارے گئے ہیں اورپاکستان میں 21،500لوگ مارے گئے ہیں اب آپ کہہ دیں کہ یہ سب دہشت گردتھے۔
    اچھااس تنظیم کی زبان پرآپ کواتنابھروسہ ہےکیاآپ کومعلوم ہے کہ پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان نے کراچی میں گزشتہ روز عاشورہ کے جلوس پربم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروپ کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے بدھ کو کراچی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے گروپ کے ایک ساتھی نے تحریکِ طالبان کی ہدایت پر ماتمی جلوس کو نشانہ بنایا تھا۔تحریکِ طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے کہا کہ طالب کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے ہوسکتا ہے یہ ذمہ داری اپنے گروپ کی طرف سے قبول کی ہو لیکن تحریکِ طالبان کی مرکزی قیادت کا اس بیان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کا حملہ انہوں نے نہیں کیا ہے کیونکہ ان کی تنظیم کا فرقہ وارانہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    ایک ایسی تنظیم جس میں ایک شخص ذمہ داری قبول کرتاہےاوردوسرااسےرد کردیتاہے ایسی تنظیم کی زبان پرآپ بھروسہ کرکےکیامستندخبرپرقیاس کررہے ہیں انکی صداقت کی ایک اورمثال آگے آئے گی۔
    یہ توآپ کہہ رہے ہیں کیاخودامریکی حکام بھی ایساکہہ رہے ہیں جبکہ پاکستانی طالبان کی جانب سے ذمہ داری قبول کی گئی تھی تاہم اس وقت امریکی حکام نے اس دعوے کو غلط قرار دیا تھا تاہم امریکی حکام پاکستانی طالبان کے دعوے پر ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گاڑی خریدنے کیلئے ہائی ٹیکنک کو استعمال کی گئی ہے اور صرف کیش ادائیگی کی گئی باقی کوئی کاغذی کارروائی نہیں کی گئی۔(نوائے وقت 1 مئی 2016)
     
  17. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    یعنی انکے دعووں پرامریکی خودیقین نہیں کرتے ہیں
    اورآپ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  18. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    خطے ميں ہمارے اہم ترين اتحادی ہمارے اپنے فوجی اور علاقائ شراکت دار ہيں، نا کہ دہشت گرد گروہ اور ان کے قائدين جو ہمارے وسائل پر روزانہ حملے کرتے ہيں۔ اگر آپ کو اس ضمن ميں ذرا سا بھی شک ہے کہ امريکی حکومت ان دہشت گرد گروہوں کے قائدين کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائ کے ضمن ميں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر سکتی ہے تو پھر ان تنظيموں کے سابقہ قائدين کی لسٹ پر ايک نظر ڈاليں اور پھر يہ فيصلہ کريں کہ ان کو غير فعال کرنے میں کس نے وسائل، اينٹيلی جنس، تکنيکی معاونت اور سازوسامان فراہم کيا تھا۔

    بيت اللہ محسود کی مثال ديکھ ليں۔ ٹی ٹی پی کا دہشت گرد ليڈر جو سينکڑوں معصوم پاکستانی شہريوں کی ہلاکت کا ذمہ دارتھا آج نا تو زندہ ہے اور نا ہی فعال۔ اسی طرح القائدہ کے تنظيمی ڈھانچے کا جائزہ ليں اور اس کا موازنہ 911 کے واقعات سے پہلے کی صورت حال سے کريں۔ اسامہ بن لادن سميت القائدہ اور طالبان کے دو تہائ سے زيادہ قائدين يا تو مارے جا چکے ہيں يا زير حراست ہيں اور يہ سب کچھ ان عالمی کوششوں کے سبب مکن ہو سکا ہے جن ميں امريکہ نے مرکزی کردار ادا کيا ہے۔

    يقينی طور پر صورت حال يہ نا ہوتی اگر آپ کے الزام کے مطابق ہم ان دہشت گرد افراد کو اپنے اثاثے سمجھتے۔

    اگر اس دليل کو درست تسليم کر ليا جاۓ تو پھر سوال يہ اٹھتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے قائدين اور اس تنظیم سے وابستہ وفادار جنگجو کيونکر ايک ايسے "کٹھ پتلی نچانے والے" مالک کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگائيں گے جو نا صرف يہ کہ خود انھيں ٹارگٹ کر رہا ہے بلکہ وہ حکومت پاکستان کو بھی ہر قسم کے وسائل، لاجسٹک امداد اور جنگی سازو سامان مہيا کر رہا ہے تا کہ ان کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ و برباد کيا جا سکے؟

    کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ٹی ٹی پی يہ جانتے ہوۓ ہمارے ساتھ تعاون کرے گی اور ہمارے اشاروں پر کام کرے گی کہ ہم نے نا صرف يہ کہ اس تنظيم کے قائدین کی گرفتاری پر انعام مقرر کر رکھا ہے بلکہ ہم خطے ميں اپنے اسٹريجک اتحاديوں کے ساتھ مل کر اس امر کو يقینی بنا رہے ہيں کہ اس تنظيم کو اس حد تک غير فعال کر ديا جاۓ کہ وہ کسی قسم کی دہشت گرد کاروائ کرنے کی صلاحيت سے عاری ہو جاۓ؟

    کوئ بھی تعميری ذہن يہ ناقابل ترديد حقيقت ديکھ سکتا ہے۔ ان تنظيموں کا واضح کردہ مقصد اور اس ضمن ميں بے شمار شواہد موجود ہيں۔ غلط تاثرات پر مبنی مبہم سازشی کہانياں ان کے خونی نظريے کو جلا بخشنے کا سبب بنتی ہيں

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  19. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اسکی حقیقت کو ذرا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ پہلے اس بات کو سمجھ لیں کہ امریکہ صرف افغان مجاہدین پر ڈروں حملے کرتا ہے جو پاکستانی علاقوں میں پناہ لیے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ تحریک طالبان پاکستان پر امریکہ صرف خاص خاص موقعوں پر ہی ڈروں حملہ کرتا ہے مثلاً امریکہ نے تحریک طالبان پاکستان پر تین بڑے اور اہم ڈرون حملے کیے جن میں پہلا حملہ مولوی نیک محمد پر کیا گیا کیونکہ اسنے پاکستان کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا تھا بیت اللہ محسود کا معاملہ دوسرا تھا وہ سی آئی اے کا سب سے اہم مہرہ تھا جسنے پہلی بار پاکستان کے خلاف تحریک کو منظم کیا اور اسکے لیے تحریک طالبان پاکستان کا نام اختیار کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے ٹھکانوں کی پاکستان آئی آیس آئی نے کئی بار نشاندہی کی لیکن امریکہ ہر بار اسکو نظر انداز کر دیتا حکیم اللہ محسود اور احسان اللہ احسان ہر بار سیٹلائٹ فون استعمال کرتے ہیں آخر امریکہ اس فون کو ٹریس کیوں نہیں کرتا جیسے اسنے نیک محمد پر سیٹلائٹ فون کے ذریعے حملہ کیا تھا جیسے وہ فلسطین میں ہر بار حماس کی لیڈر شپ کو سیٹلائٹ فون ٹریس کر کے شہید کروا دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور آخر ان سیٹلائٹ فونز کے لیے اکاونٹس کس نے کھول رکھے ہیں؟؟ انکے بل کون جمع کروا رہا ہے؟
    اچھااگرایسی ہی مددامریکہ کررہا ہے توکیوں امریکہ نے پاکستان کا یہ موقف مسترد کردیا کہ حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملہ امن کوششوں کا قتل ہے کیوں امریکی دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر نے ڈرون حملے اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی دفتر خارجہ طلبی کی تصدیق کی تاہم پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے احتجاجی مراسلے اور چودھری نثار کی تنقید پر تبصرے سے گریز کیا۔
    مسٹر گوڈن ڈف نے اپنا ایک آرٹیکل پیش کیا تھا جس کا عنوان تھا:
    YEARS OF DECEIT: US OPENLY ACCEPTS BIN LADEN LONG DEAD

    دھائیاں پہلے یو ایس اے کھلے عام اسامہ بن لادن کی موت کا اقرار کر چکی تھی۔کنزر ویٹو کمانڈر و سابقہ میرین کرنل باب پاپاس کافی سال پہلے کہ چکا تھا کہ بن لادن تورا بورا میں مر چکا ہے۔66 صفحات میں کہیں بھی جنرل مک کرسل نے بن لادن کا ذکر نہیں کیا مگر صرف ملاں عمر کا، اوبامہ نے بھی اپنی اسپیچ ویسٹ پوائنٹ میں کھبی بھی اسامہکا ذکر نہیں کیا۔
    America knew Osama bin Laden died December 13, 2001۔
    امریکہ کو پتہ تھا کہ اسامہ بن لادن 13 دسمبر 2001 میں وفات پاچکا ہے۔
    آپ ان سب رپورٹس کوجسے کسی مسلمان نے مرتب نہیں کیاہے بے شک رد کردیں۔
    دنیا میں یہ کہانی بنائی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی اسلئے جنگ کر رہی ہے کہ امریکہ ڈرون کر رہا ہے ۔ یہ بات کوئی نہیں کرتا کہ ٹی ٹی پی کے حملے اور ڈرونز حملے دونوں ہی سی آئی اے کر رہے ہیں ۔
    پاکستان نے کئی دفعہ ٹی ٹی پی سے بات کرنے کی کوشش کی ۔ سی آئی اے نے ہر دفعہ ان کمانڈرز کو ڈرون کے ذریعے قتل کروا دیا جو پاکستان سے بات کرنا چاہتے تھے ۔
    مولوی نیک محمد کو سی آئی اے کے ڈرون نے قتل کیا ۔
    قاری زین الدین کو ٹی ٹی پی کے ان عناصر نے قتل کیا جو بات چیت نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
    ملا نذیر کو پہلے سی آئی نے ڈرون سے قتل کرنے کی کوشش کی نہیں مار سکے تو خود کش حملے کے ذریعے قتل کروادیا گیا ۔
    اور قاری ولی الرحمن کو سی آئی اے ڈرون نے قتل کیا ۔
    ٹی ٹی پی نے ہمیشہ امریکہ کا نام استعمال کر کے پاکستان کے خلاف جنگ کی ہے لیکن درحقیقت وہ کبھی بھی امریکہ کے خلاف کسی کاروائی میں ملوث نہیں رہے ۔ قاری مسعود نے اپریل 2010 میں یہ اعلان تک کر دیا کہ ٹی ٹی پی امریکہ میں اپنے شہر بنائے گی تاہم اس کو عام طور پر امریکہ کے نام پر حمایت حاصل کرنے کی پالیسی ہی سمجھا گیا ۔
    ٹائم سکوائر میں پکڑے گئے ممکنہ بم حملے کی ذمہ داری انہوں نے قبول کی لیکن اس کو خود امریکیوں نے مسترد کر دیا۔
    تاہم اافغانستان میں سی آئی اے کے چمن پر ہونے والے حملے میں ٹی ٹی پی کا ایک کارندہ ملوث تھا ۔ لیکن اس سی آئی اے سنٹر تک ٹی ٹی پی کارندے کی رسائی اس کو مشکوک بنائی ہے۔ پاکستانی طالبان اور افغان طالبان نے بیک وقت 30 دسمبر 2009 کو افغانستان کے صوبے خوست میں واقع سی آئی اے سنٹر کیمپ چپمان پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ٹی ٹی پی نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں اردن سے تعلق رکھنے والا خودکش بمبار حمام خلیل ابو ملال البلاوی حکیم اللہ محسود کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اس وقت یہ شخص سی آئی اے کا ایجنٹ تھا۔ اس ویڈیو میں بلاوی اعلان کرتا ہے کہ یہ حملہ بیت اللہ محسود کا بدلہ ہے ۔ تاہم بہت سے تجزیہ نگاروں کو شک ہے کہ یہ حملہ ٹی ٹی پی نے اکیلے نہیں کیا تھا۔
    جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان، جن میں افغانی طالبان بھی شامل ہیں، سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکہ کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے ہیں۔ اگرچہ بظاہر امریکہ اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کردیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے ہیں۔جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان ، جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکہ کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے ہیں۔
    روزنامہ نوائے وقت کے مطابق پشاور کار بم دھماکے سے دو روز قبل امریکہ اور بھارت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر سے گریز اور یہاں موجود شہریوں کو نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایات کی تھیں۔ سکیورٹی ماہرین کی جانب سے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی سانحہ سے قبل ان دونوں ممالک کی ہدایات غیرمعمولی امر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کو پاکستان میں ہونیوالی کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کا پہلے ہی علم ہو جاتا ہے۔
    مندرجہ بالاچشم کشاحقائق پڑھنے کے بعدبھی میں اس صورتحال کوکیانام دوں جب آپ کہیں گے کہ
     
  20. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکہ کو ايسے کسی "امن مذاکرات" کو سبو تاز کرنے کی کوئ ضرورت نہيں ہے جو دہشت گردی کی اس لہر کو روک سکيں جس کا شکار صرف پاکستانی ہی نہيں بلکہ دنيا بھر ميں بے گناہ شہری ہو رہے ہيں۔ ليکن ديرپا امن صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب مجرموں کا تعاقب کيا جاۓ اور غير متشدد گروہوں کو قائل کيا جاۓ کہ جائز سياسی عزائم کے حصول کے ليے سياسی پليٹ فارم کا استعمال ہی واحد قابل عمل طريقہ کار ہے۔ يہ سوچ کہ مجرموں کے ساتھ ان حالات ميں غير مشروط معاہدے کيے جائيں جبکہ وہ بدستور اپنے خونی ايجنڈوں پر کاربند ہوں اور پھر ان کے مطالبات بھی تسليم کر ليے جائيں، ديرپا امن کی جانب نہيں بڑھا جا سکتا ہے۔انسانی تاريخ کے ارتقاء ہی سے ايک فعال نظام انصاف کے لیے يہی بنيادی اصول رہا ہے۔

    ايسے فريقين جو ايک تسلیم شدہ قانونی اور سياسی فريم ورک کے اندر رہتے ہوۓ ايسے تنازعات کے حل کے ليے امن مذاکرات اور معاہدے کريں جو سياسی نوعيت کے ہوں تو يقينی طور پر ايسے مذاکراتی عمل ميں کوئ مظائقہ نہيں ہے۔

    ليکن يہاں پر بات ايک ايسے گروہ کی ہو رہی ہے جسے حکومت پاکستان تمام تر ثبوتوں کے ساتھ دہشت گرد تسليم کر چکی ہے اور بار بار کی اپيلوں اور مطالبات کے باوجود وہ اب بھی پاکستان کے شہريوں اور مسلح افواج پر بدستور حملے کر رہے ہيں۔

    ايک طرف تو کچھ راۓ دہندگان فورمز پر امريکہ کو اس بنياد پر ہدف تنقید بناتے ہيں کيونکہ ان کی دانست ميں ہماری پاليسيوں اور اقدامات کی بدولت انسانی جانوں کا زياں ہوا ہے۔ ليکن دوسری جانب دہشت گردی ميں ملوث طالبان اور القائدہ کے ان عناصر سے "امن مذاکرات" کو خوش آئند قرار ديتے ہيں جنھوں نے اپنی واضح کردہ پاليسی اور ايجنڈے کے مطابق ہزاروں کی تعداد ميں بے گناہ شہريوں کو ہلاک کيا ہے۔ ياد رہے کہ يہ وہی دہشت گرد گروپ ہيں حکومت پاکستان کی جانب سے متعدد بار کيے جانے والے مطالبات کے باوجود پچھلے کئ برسوں سے پاکستان کے ہر شہر ميں بے گناہ شہريوں کو بغير کسی تفريق کے قتل کر رہے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں