ايک اور امريکی منصوبہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اگست 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اگر اسامہ بن لادن ايبٹ آباد کے کمپاؤنڈ ميں موجود نہيں تھا تو پھر آپ ان کی بيويوں کے بيانات کے حوالے سے کيا کہيں گے جو اسی عمارت ميں موجود تھيں؟

    اگر يہ بھی آپ کو مطمن کرنے کے ليے کافی نہيں ہے تو پھر اس حقيقت کا کيا کريں کہ القائدہ سے وابسطہ ميڈيا کے تمام نشرياتی ادارے اور ويب سائٹس پر بھی اس کی تصديق کی گئ اور القائدہ کے موجودہ قائد ايمن الظواھری کا براہ راست بيان بھی ريکارڈ پر موجود ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  2. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکہ جيسے جمہوری معاشرے ميں نا تو يہ کوئ غير معمولی بات ہے اور نہ ہی انہونی کہ کچھ ايسے افراد خاص طور پر صحافتی پيشے سے متعلق يہاں پر فعال ہيں جو نا صرف يہ کہ حقائق پر سوال اٹھاتے ہيں بلکہ اپنے مخصوص سياسی نظريات اور سوچ کی بنياد پر متبادل خيالات يا يہاں تک کہ بنی بنائ کہانيوں کا بھی سہارا ليتے ہيں۔

    آزاد ميڈيا، صحافی، لکھاری اور عام شہری اپنی سوچ کی تشہير ميں آزاد ہيں اور اپنے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی بنياد پر مفروضوں کی تشکيل پر بھی امريکہ ميں کوئ قدغن نہيں ہے۔ اسی طرح ہر شخص اپنی مخصوص جانب داری، سياسی وابستگی اور ذاتی پسند اور نا پسند کی بنياد پر اپنی آراء کی تشہير ميں بھی مکمل آزاد ہے۔

    تاہم ميں چاہوں گا کہ ايسے افراد کی راۓ کو بنياد بنا کر اپنی سوچ کو پختہ نا کريں جو شواہد فراہم کرنے کی بجاۓ سياسی بيان بازی اور جذباتيت کو ترجيح ديتے ہيں۔ اعداد وشمار اور ناقابل ترديد زمينی حقائق کو مدنظر رکھيں۔

    مثال کے طور پر عرب اور مغربی ميڈيا ميں گزشتہ ہفتے کی اہم خبروں ميں سے ايک امريکی فوجی کی ہلاکت کی تھی جو داعش کے خلاف دوسروں کی جان بچاتے ہوۓ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بيٹھا۔

    http://www.cnn.com/2016/05/03/politics/us-service-member-killed-iraq-mosul/


    اب اس خبر کی روشنی ميں اس الزام اور دليل کو پرکھيں۔ کيا آپ واقعی ايمانداری سے يہ سمجھتے ہيں کہ اگر داعش ہمارے ايماء پر کاروائياں کر رہی ہے تو کيا ہمارے فوجی کو نشانہ بنايا جاتا؟ اگر لگاۓ جانے والے الزامات کے مطابق داعش واقعی خطے ميں ہمارا "اثاثہ" ہے تو پھر ايک ايسی تنظيم کے خلاف فوجی کاروائیاں کرنے اور اپنے وسائل وقف کر کے ہميں کيا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جو مبينہ طور پر خطے ميں ہمارے مفادات کے ليے کام کر رہی ہے؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امريکی حکومت پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر دراندازی کے واقعات سے پوری طرح آگاہ بھی ہے اور اس پر تشويش کا اظہار بھی کرتی ہے، جن کے نتيجے ميں دونوں طرف اموات ہوئ ہيں۔ ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی حکومت اس بات پر مکمل يقين بھی رکھتی ہے اور اسے تسليم بھی کرتی ہے کہ دہشت گردی کا عفريت سرحدوں کی دونوں جانب معصوم افراد کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس سے نبردآزما ہونے کے لیے دونوں ممالک کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر ميں ہمارے ليے يہ غير منطقی اور نقصان دہ امر ہو گا کہ ہم کسی ايک فريق کا ساتھ ديں يا بے مقصد الزام تراشی کريں جس کا واحد فائدہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کو ہو گا۔ ہماری پوری توقع اور اميد ہے کہ دونوں ممالک مل کر اس بات کو يقینی بنائيں گے کہ مستقبل ميں اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں۔

    ميں ياد دہانی کروا دوں کہ سال 2011 ميں امريکہ نے افغانستان اور پاکستان کی جانب سے سرحدوں پر واقعات کی جانچ کے لیے ایک مشترکہ عسکری ورکنگ گروپ کی تشکيل کے فيصلے کی بھرپور حمايت کی تھی۔


    http://www.sify.com/news/us-backs-p...ing-group-news-international-lhmlEmbffjb.html

    يہ کوئ خفيہ امر نہيں ہے کہ امريکہ، پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف لڑائ ميں باہمی شراکت دار ہيں اور اس ضمن ميں معاشی امداد کی منتقلی اور عسکری سازوسامان تک رسائ اس تعاون کا لازمی جزو ہے۔

    پاکستان کی فوج اور حکومت نے بارہا اس بات کا اعادہ کيا ہے کہ سرحدوں کے آر پار دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے ليے امريکہ، پاکستان اور افغانستان کے مابين باہم کاوشيں اور جدوجہد جاری رہے گی۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امریکی سفیر اور وزیراعلیٰ سندھ نے جناح اسپتال کراچی میں میٹرنٹی وارڈ کا افتتاح کیا

    کراچی۔ پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں 62 کروڑ 80 لاکھ روپے کی لاگت سے بننے والے نئے میٹرنٹی وارڈ کا افتتاح کیا جو کی مالی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ (USAID) یو ایس ایجنسی برا ئے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ

    نئے میٹرنٹی وارڈ میں 120 بستروں کی گنجائش ہے جب کہ پرانے وارڈ میں 80 بستروں کی گنجائش تھی۔ یو ایس ایڈ اس سے پہلےمیڈیکل سینٹر میں زچہ بچہ وارڈ کی تعمیر کے لیے 35 کروڑ 60 لاکھ کی امداد دے چکا ہے ،جس کا افتتاح دسمبر 2012 میں کیا گیا تھا۔

    امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ‘‘امریکا اور پاکستان بڑے مسائل جیسے صحت کی بہتر سہولیات تک رسائی کے حل کے لیے برسوں سے مل کر کام کررہے ہیں، یہ عمارتیں ہماری مستقل شراکت کی نشانیاں ہیں۔’’

    سندھ کے وزیر صحت ڈاکٹر جام مہتاب ڈہر، امریکی قونصل جنرل برائن ہیتھ اور یوایس ایڈ کے صوبائی ڈائریکٹر کریگ بک نے بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ نےنئے میٹرنٹی وارڈ کا انتظام چلانے کے لیے ٹبا فاؤنڈیشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے۔

    صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان اور امریکا کی مل کر کام کر نے کی طویل تاریخ ہے۔

    یو ایس ایڈ، جناح اسپتال اور انڈیانا یونیورسٹی کے اشتراک سے 1959ء میں ‘‘بیسک میڈیکل سروسز انسٹی ٹیوٹ’’قائم کیا گیا تھا جو پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم فرا ہم کرنے پہلا ادارہ تھا۔

    اس سال جنوری میں بھی امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل اور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے یو ایس ایڈ کی مالی مدد سے بننے والے جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا افتتاح کیا تھا جہاں اب روزانہ سینکڑوں مریضوں کا علاج ہوتا ہے،جب کہ امریکی حکومت کے تعاون سے چلنے والے ایک طبی مرکز کے ذریعے 2012ء سے اب تک 5 لاکھ سے زائد خواتین اور بچے طبی سہولیات حاصل کرچکے ہیں۔

    امریکی حکومت کے پاکستان میں صحت کے منصوبوں سے متعلق مزید معلومات کے لیے یوایس ایڈ کی ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے۔

    http://www.usaid.gov/pakistan/health.


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,367
    Fawad صاحب
    سال سے امریکی منصوبہ کادفاع کررہے ہیں ـاور کئی فورمز پر انہیں روزی روٹی کی اجازت ہے ـ اس لئے جاری رکھیں ـ جہاں تک منصوبہ کی بات ہے وہ تو بہت حد تک خاک میں مل چکا ہے ـ
     
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سید امام عبدالعزیز الشریف کو مصر کی ''الجہاد'' تنظیم کا بانی شمار کیا جاتا ہے سید امام کہتے ہیں کہ الظواہری بین الاقوامی دروغ گو (جھوٹا) ہے۔ایمن الظواہری، القاعدہ تنظیم کی نمبر دو شخصیت ایک ''بین الاقوامی دروغ گو'' ہے۔
    اب جو القاعدہ کا بانی شخصیت میں سے ایک ہے وہ الظواہری کوجھوٹاکہتاہے اب آپ اسے حجت مانتے ہیں جسے اس کے اپنے جھوٹاکہتے ہیں تو پھر کیا کہنے۔
    سڈنی سمِتھ جو مسلمان نہیں ہیں اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ لوگوں کو شک ہے کہ اسامہ بن لادن کو واقعی مار دیا گیا ہے یا نہیں۔سڈنی سمتھ تقلّبِ تنازعات کے بین الاقوامی ادارے سرچ فار کامن گراؤنڈ میں کمیونیکیشنز ایسوسی ایٹ ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے۔
    توسوالات میں نہیں خود مغربی لوگ بھی اٹھا رہے ہیں بی بی سی لکھتا ہے ہرش کا دعویٰ ہے کہ اسامہ بن لادن چھ سال سے پاکستانی خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کی قید میں تھے اور پھر انھیں ایبٹ آباد میں ایک نام نہاد چھاپہ مار کارروائی میں امریکیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی بنیاد پر مسٹر ہرش کہتے ہیں کہ امریکی اہلکار اس کارروائی کے بارے میں جو کچھ بتا رہے ہیں وہ کسی ’طلسماتی دنیا‘ کی کہانی ہے۔
    کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
    وقت کی کمی کے باعث صرف اہم نکات کاجواب آپ کو ارسال کررہاہوں۔
     
  7. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اچھا تو یہ نیوز بھی ذرا پڑھ لیں
    امریکا کے آفس آف انسپکٹرجنرل ( او آئی جی) کی ایک آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا کا ’’ پاک انفو‘‘ سسٹم صحیح کام نہیں کر رہا اور اور غلط اطلاعات فراہم کر رہا ہے، یہ سسٹم واشنگٹن کی اسلام آباد کیلئے سویلین امداد کا ڈیٹا اکٹھا اور سٹور کرتا ہے، پاک انفو طاہر کرتا ہے کہ گورنمنٹ ٹو گورنمٹ امدادی پراجیکٹس کیلئے مجموعی طور پر 1.8 ارب ڈالر کی امداد تسلیم کی جا چکی ہے جبکہ یو ایس ایڈز پاکستان گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کی آڈٹ رپورٹ کیمطابق فوئینکس( ایک اورڈیٹا بیس) تقریباً 1.4 ارب ڈالر بتاتا ہے ، او آئی جی اس بات کی آڈٹ کرتا ہے کہ امریکی امداد لینے والا ملک پاکستان امداد سے لوگوں کی معاشی حالت میں بہتری لا رہا ہے ۔
    مخصوص ایریا میں استحکام لا رہا ہے عوام کیلئے روزگار اور تعلیم کے مواقع پیدا کر رہا ہے ،مزید براں امداد کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں، تقریباً 1.4 ارب ڈالر کی تسلیم شدہ امداد میں سے اب تک گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اسسٹنس کی مد میں 96 کروڑ کی ادائیگی ہو سکی ہے ، پاک انفو پراجیکٹ ڈیٹابیس اس حوالے سے غلط اطلاعات دے رہا ہے ، پاکستان کی اکنامک آفیئرز ڈویژن جو ڈیمانڈ یا اب تک کی ادائیگی کے اعدادوشمار دیتا ہے امریکی سفارتخانہ اس سے زیادہ ادائیگی ہی بتاتا ہے ، فونیکس ستپارہ ڈیم پراجیکٹ کیلئے 26 ملین ڈالر کی فنڈنگ شو کرتا ہے جبکہ پاک انفو صرف 19 ملین ڈالر شو کرتا ہے، پھر ایک منصوبے کے آغاز اور تکمیل کی تاریخوں میں بھی فرق ہے ، مثلاً سندھ میں میونسپلٹی سروسز پروگرام کا پہلا عملدرآمد معاہدہ جنوری 2011 میں سائن ہوا دوسرا اپریل 2012 میں ہوا، تاہم پاک انفو آغاز کی تاریخ جنوری 11 ء کی بجائے فروری 12ء ظاہر کرتا ہے۔
     
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    بی بی سی لکھتا ہے
    حکومت پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر مشتبہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے باڑ اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کے فیصلے پرکابل اس کے حق میں نہیں ۔ اب اس کی مخالفت کوئی نئی بات نہیں۔
    توامریکہ کیوں افغانستان کونہیں کہتاکہ پاک افغان سرحد پر باڑھ لگاکر اس سرحد کوسیل کردوتاکہ دہشت گردوں کاآناجانابندکیاجاسکےاورامن قائم کیاجاسکے ؟

     
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    وقت کی کمی کے باعث صرف اہم نکات کاجواب آپ کو ارسال کررہاہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اس بارے ميں شک وشہبہ يا ابہام کی کوئ گنجائش نہيں ہے کہ اسامہ بن لادن کو ايبٹ آباد کے ايک کمپاؤنڈ ميں مئ 2 2011 کو ايک ايسے حملے ميں ہلاک کر ديا گيا تھا جس کی بازگشت پوری دنيا ميں سنی گئ تھی۔ اس بات کی تصديق نا صرف يہ کہ حکومت پاکستان اور مقامی انتظاميہ کی جانب سے متعدد بار کی گئ بلکہ خود اسامہ بن لادن کی بيوياں جو درحقيقت اس واقعے کی چشم ديد گواہ ہيں، وہ بھی واقعات کے تسلسل سے انکاری نہيں ہيں۔

    اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ اس حوالے سے ايک علمی اور فکری بحث کی جا سکتی ہے کہ بن لادن کی موت کے بعد مزید کيا اقدامات کيے جا سکتے تھے۔ ليکن يہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنيا کے سب سے مطلوب شخص کے حوالے سے روز کے معمول سے ہٹ کر ايک مخصوص صورت حال تھی۔ صورت حال ميں مزيد پيچيدگی اس وجہ سے بھی تھی کيونکہ اسامہ بن لادن کے آبائ ملک سعودی عرب نے بھی ان سے لاتعلقی کا اعلان کر رکھا تھا جس کا واضح مطلب يہ تھا کہ وہ ايک ايسا عالمی دہشت گرد تھا جس کا سرے سے اپنا کوئ ملک ہی نہيں تھا۔

    اسامہ بن لادن کی لاش کو افغانستان لے جايا گيا تا کہ ڈی اين اے کے ذريعے شناخت کا عمل مکمل کيا جا سکے۔ اس کے بعد اسلامی روايات کے عين مطابق ان کی لاش کو غسل دے کر بحريہ عرب ميں نامعلوم مقام پر سمندر کے حوالے کر ديا گيا۔

    اس حوالے سے کوئ شک نہيں رہ جانا چائيے کہ بن لادن کی موت کی رسومات کے حوالے سے حتمی فيصلہ سازی سے قبل متعلقہ ماہرين اور اہل علم سے مشاورت کی گئ تھی اور اسلامی رسومات اور روايات کا پورا پاس رکھا گيا تھا۔

    جيسا کہ ہم سب جانتے ہيں کہ اسلامی قوانين ميں مردے کو جلد از جلد دفنانے کی ترجيح دی جاتی ہے۔ جو آپريشن کيا گيا تھا اس کی مخصوص نوعيت کے پيش نطر کچھ اقدامات کا اٹھايا جانا بھی ضروری تھا۔ امريکی حکام کی يہ کوشش تھی جو محدود مدت ميسر تھی اسی دوران تمام اہم امور مکمل کر ليے جائيں۔

    اسامہ بن لادن کی لاش کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنا اور اس ضمن ميں حائل کاروائ اور ديگر ضروريات کو پورا کرنے کی صورت ميں غير معينہ تاخير رکاوٹ بن جاتی۔ اس مخصوص صورت حال ميں متعلقہ حکام نے يہی فيصلہ کيا کہ لاش کو سمندر کے حوالے کر دينا ہی مناسب ترين حل ہے۔

    جيسا کہ ميں نے پہلے بھی کہا کہ ماضی ميں جھانکتے ہوۓ اور واقعات کا تنقيدی تجزيہ کرتے ہوۓ يقينی طور پر يہ بحث کی جا سکتی ہے کہ اس ضمن ميں مزيد کيا اقدامات اٹھاۓ جا سکتے تھے۔ ليکن حتمی فيصلہ واقعات کے تسلسل اور اس وقت کی مخصوص صورت حال کے پس منظر ميں کيا گيا تھا۔

    اس فيصلے کے حوالے سے بحث اپنی جگہ ليکن اس کو بنياد بنا کر يہ تاثر دينا کہ امريکی حکومت اسامہ بن لادن کی لاش کو سمندر ميں غرق کر کے کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی، ناقابل فہم بات ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  11. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اسکی لاش دنیا کوکیوں نہیں دکھائی گئی۔
    اتنااچھاسلوک کیابن لادن کی لاش کے ساتھ توکیاامریکہ ہرلاش کے ساتھ ایساہی تاریخی سلوک کرتاہے مثلاً
    عراقی اور امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ امریکی اور عراقی فوجوں کی ایک مُشترکہ کارروائى میںشمال کے شہر تکریت کے قریب عراق میں القاعدہ کے دو سب سے سینئر لیڈر مارے گئے۔ابو ایّوب المصری اور ابو قمر البغدادی دونوں کولاشوں کوعراقی ٹی وی میں دکھایاگیا۔ وی اواے نیوز اپریل 19, 2010
    امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت نے صدام کی پھانسی کی وڈیوبنائی اس پر امریکہ کیا کہتاہے
    صدام حسین کے ساتھیوں کو پھانسی دینا عراق کا اندرونی معاملہ ہے ۔بی بی سی جنوری 2007
    یہ اصول قذافی کی لاش پرکیوں نہیں اپنایاگیا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس پر دکھائی جانے والی ایک ویڈیو میں قذافی کی خون میں لت پت نعش زمین پر پڑی ہوئی دکھائی گئی ہے، جسے قومی عبوری کونسل کی فورسز نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔وی اواے نیوز اکتوبر 20, 2011
    مگراسامہ کی لاش کے ساتھ امریکہ کاایسا حسن سلوک بعید ازقیاس ہے اس کا جواب یاتوامریکہ دے سکتاہے یاپھر شاید آپ۔
    کیامیں پوچھ سکتاہوں کہ یہ بات ناقابل فہم کیسے ہے؟
    امریکہ اسلامی قوانین کی پاسداری کرتاہے یہ ایک اچھی بات ہے مگر جب سریبرینیتسا میں 12، 13 جولائی 1995ء کو سرب افواج نے اس شہر پر قبضہ کیا اور ایک ہی دن میں آٹھ ہزار مردوں اور لڑکوں کا قتل عام کیا۔ اس کے علاوہ علاقہ سے جان بچا کر بھاگنے والے ہزاروں افراد کی بیشتر تعداد مسلمان علاقے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ قتل عام شہر میں اقوام متحدہ اور نیٹو (NATO) افواج کی موجودگی میں ہوا جو اس پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ( International Criminal Tribunal for the former Yugoslavia۔ICTY)
    ان مسلمانوں کے کفن دفن کاانتظام امریکہ نے کیساکیامجھے ضروربتائیے گا۔اس کے علاوہ افغانستان میں عراق میں جوسینکڑوں مسلمان اپنے بمبارطیاروں کے ذریعے امریکہ نے ماردیئے ان کے کفن دفن کاانتظام امریکہ نے کیساکیامجھےضروربتائیے گا۔عراق سے لیکر شام افغانستان اورپاکستان کے خیبر پختون خواہ میں جن لوگوں کومردوں میں امریکہ نے بدل دیاانکا کفن دفن انکل سام نے کیساکیامجھے یہ بھی بتائیے گا۔
    انہی مخصوص حالات اورواقعات کے تسلسل کوصرف مشرقی مورخ ہی نہیں سمجھناچاہ رہے ہیں بلکہ مغربی مورخ بھی سمجھناچاہتے ہیں۔ناجانے امریکہ اسے کب سمجھائے گایاپھراس کے لئے بھی کسی جولیااسانج کی لیکس کا انتظارکرناپڑے گاشاید۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ان کا بیان کہاں ہے بلکہ یہ گواہ اب کہاں ہیں؟
    ڈان نیوز کی خبرکے مطابق اسامہ کی بیواؤں کو گزشتہ سال سعودی عرب بے دخل کرنے سے قبل پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔
    اتنی اہم گواہان کوامریکہ نےپاکستان کے حوالے کردیاکیوں؟
    اب یہ سب بیگمات کہاں ہیں؟
    امریکہ نے اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کااتناڈھنڈوراکیوں نہیں پیٹاجبکہ وہ ابھی حال ہی میں ملااخترمنصورکی بلوچستان میں ہلاکت کوپوری دنیا میں کیش کررہاہے تواسامہ کے معاملے میں امریکہ کی یہ پراسرار خاموشی کیوں؟
     
    Last edited: ‏مئی 25, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک کے زیر اہتمام تین روزہ

    بین الاقوامی کانفرنس میں تعلیم کے مستقبل کا جائزہ

    اسلام آباد ( ۲۳ جولائی، ۲۰۱۶ء)__ پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک نے اکیسویں صدی میں تعلیم کے مستقبل کا جائزہ لینے کے لئے ایک تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح آج ایک مقامی ہوٹل میں کیا۔ امریکی حکومت کے تعاون سے چلنے والے تبادلہ پروگراموں کے دو سو سے زائد سابق شرکاء پورے پاکستان اور جنوبی ایشیاء سے اس کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد میں جمع ہوئے ہیں، جس کا انعقاد اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانہ اور پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

    ورکشاپس، پینل مباحثوں، کلیدی تقاریر اور مقامی آبادیوں کی خدمت کی سرگرمیوں کے باضابطہ آغاز کے لئے کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین اور یونیورسٹی آف کراچی کے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر عطاء الرحمن اور ایچ ای سی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مختار احمد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں اساتذہ، منتظمین، پالیسی ساز، سماجی کارکنان اور ترقیاتی کارکنان سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تعلیمی ماہرین نے اپنے تجربات اور علم کا تبادلہ کرنے کے لئے شرکت کی، جس سے انہیں اپنے مقامی لوگوں کی بہتر خدمات کرنے میں مدد ملے گی۔

    کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہونے کی حیثیت سے آپ نوجوان پاکستانیوں کو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء سے کہا کہ چاہے آپ ایک استاد ہوں، منتظم ہوں، قانون ساز ہوں یا ترقیاتی کارکن ہوں، آپ کی خدمات پاکستان کے تعلیمی شعبے کی بہتری کے لئے کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ آپ کے عزم اور آپ کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے ۲۰۱۵ء میں قائم کردہ امریکہ۔ پاکستان نالج کوریڈورکے تحت جس سے تحقیق، جدت اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلیمی تبادلہ کو فروغ ملے گا، تعلیمی تعاون کو وسعت دینے کے لئے صدر اوبامہ اور وزیر اعظم نواز شریف کےعزم کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے فلبرائیٹ پروگرام کے ذریعے ۱۲۵ کی تعداد تک پی ایچ ڈیز کے لئے فنڈز کی فراہمی کے لئے ۲۵ ملین ڈالر کے حکومت پاکستان کے عزم کو بھی سراہا۔

    امریکہ پاکستانی شہریوں کے لئے تبادلہ پروگراموں میں ہر سال تقریباً ۴۰ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا ہے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ پروگراموں میں شرکت کے لئے ہر سال ۱۳۰۰سے زائد پاکستانیوں کو امریکہ بھیجتا ہے۔ پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک ایسے طلبہ اور پیشہ ورانہ افراد کا ایلومنائی نیٹ ورک ہے ،جنہوں نے امریکی حکومت کے تعاون سے چلنے والے تبادلہ پروگراموں میں شرکت کی۔ پاکستان بھر میں ۱۹ ہزار سے زائد ایلومنائی کے ساتھ پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک کا شمار دنیا کے بڑے ایلومنائی نیٹ ورکس میں ہوتا ہے۔

    پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک پاکستان بھر میں باقاعدگی کے ساتھ سرگرمیوں کا انعقاد کرتا ہے، جن میں خدمات کے منصوبے، قائدانہ تربیت، گول میز مباحثے اور مقامی آبادیوں کی خدمت کی سرگرمیاں شامل ہیں۔

    پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک اور کانفرنس کے بارے میں مزید جاننے کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    http://www.facebook.com/pakalumni

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

    [​IMG]
     
  14. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی سفارتخانہ کے ای ٹیچر پروگرام کو وسعت دی جائے گی

    اسلام آباد ( ۲۶ ِجولائی، ۲۰۱۶ء)__ پاکستان بھر سے ای ٹیچر پروگرام کے ۲۵ سابق شرکاء نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تربیتی نشست میں انگریزی زبان کے اساتذہ کے لئے امریکی سفارتخانہ کے ای ٹیچر پروگرام کو وسعت دینے کے متعلق بات چیت کی ۔ اُنہوں نے پاکستان میں انگریزی زبان کی مہارتوں کے لیے وسیع پیمانے کے اوپن آن لائن کورسز کو استعمال کرنے اور فروغ دینے کی تربیت بھی حاصل کی ۔

    امریکی سفارتخانہ کی ریجنل انگلش لینگویج آفیسر جین میک آرتھر نے کہا کہ ہم اپنے ای ٹیچر پروگرام کا حجم جو ۲۰۱۶ء میں اڑتیس اساتذہ پر مشتمل تھا، دوگنا کرکے ۲۰۱۷ء میں ۷۵ سے زیاد ہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اِس ورکشاپ سے ہمیں پروگرام کے سابق شرکاء کی آراء حاصل کرنے کا ایک قابل ِقدرموقع میسر آیا۔ انہوں نے کہا کہ اُنہیں امریکی تبادلہ پروگراموں کے سابق شرکاء کی پرائمری اسکولوں سے جامعات کی سطح تک پورے پاکستان میں انگر یزی سکھانے کے اس اقدام میں کامیابی کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی اور اُنہیں امید ہے کہ اوپن آن لائن کورسز جیسے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے مزید طلبہ تک پہنچا جاسکے گا۔

    اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز میں انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد راشد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ای ٹیچر ورکشاپ نے ہمیں دیگر پاکستانی ای ٹیچر الومینائی سے بالمشافہ ملاقاتوں اورایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع فراہم کیا ۔ اس سے ہمیں اپنی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مستقبل میں باہمی تعاون کی منصوبہ بندی میں بھی مدد ملے گی۔

    امریکی سفارتخانہ نے ۲۰۰۶ء سے اب تک سینکڑوں پاکستانی اساتذہ کو امریکی جامعات کے ذریعے آن لائن گریجویٹ سطح کے انگریزی زبان کے آٹھ ہفتے کے تدریسی کورسز کی تکمیل کے لئے ای ٹیچر پروگرام کے تحت مکمل وظائف فراہم کئے ہیں۔ ای ٹیچر پروگرام کے بارے میں مزید جاننے کے لئے د رج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کیجئے۔

    https://exchanges.state.gov/non-us/program/AE-E-Teacher-Program

    امریکی محکمہ خارجہ کی اعانت سے چلنے والے انگریزی زبان کے دیگر پروگراموں کے بارے میں آگہی کے لئے مندرجہ ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کیجئے۔

    AmericanEnglish.state.gov

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

    [​IMG]
     
  15. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی تبادلہ پروگراموں کے پاکستانی شرکاء کی انجمن کے تعاون سے اسکاؤٹس کیمپ کا انعقاد


    اسلام آباد ( ۲۲ ِاگست، ۲۰۱۶ء)__ امریکی تبادلہ پروگراموں میں شرکت کرنے والے پاکستانیوں کی انجمن پاکستان۔یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک نے پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ ملکر شکر پڑیاں پارک، اسلام آباد میں ایسوسی ایشن کے ہیڈکوارٹرز میں پاکستانی بوائے اسکاؤٹس کے لئے ۱۹ سے ۲۱ ِاگست تک ایک تین روزہ لیڈرشپ کیمپ کا انعقاد کیا۔


    امریکی سفارتخانہ کے قونصلر برائے امور عامہ اور ایگل اسکاؤٹ روب رینز نے افتتاحی تقریب میں پاکستانی اسکاؤٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائدانہ صلاحیتیں، ٹیم ورک ، بیرونی سرگرمیوں کےبنیادی طورطریقے، ابتدائی طبی امداد اور شہری ذمہ داریوں کے حوالے سے مہارتیں برسوں تک آپ اور دوسروں کی زندگیوں میں اہم تبدیلیاں لائیں گی۔


    راب رینز نے پاکستانی نوجوانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے اقدامات پر بوائے اسکاؤٹس کی چیف کمشنر اور بلوچستان اسمبلی کی اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی کاشکریہ ادا کیا۔ بوائے اسکاؤٹس کی چیف کمشنرامریکی حکومت کے اولین پیشہ ورانہ تبادلہ پروگرام انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی) میں شرکت کرچکی ہیں۔


    لیڈرشپ کیمپ میں اسکاؤٹس نے ابتدائی طبی امداد، کھیلوں، دریافتوں اور زندگی کی بقاء کے طریقوں سمیت متعدد مہارتوں سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ پاکستان بوائے اسکاٹس ایسوسی ایشن کے نیشنل سیکریٹری زاہد محبوب اور امریکی تبادلہ پروگراموں کے سابق شرکاء سمیت مختلف قائدین نے اسکاؤٹس کی رہنمائی کی۔


    امریکہ اور پاکستان میں اسکاؤٹنگ کی مضبوط روایت ایک قدرِ مشترک ہے ۔ دونوں ملکوں میں مشترکہ طو رپر تیس لاکھ سے زائد اسکاؤٹس ہیں جو ایک ہی طرح کی مہارتیں اور اقدار سیکھ رہے ہیں۔


    پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک ایسے طلبا وطالبات اور پیشہ ورماہرین کی انجمن ہے جنہوں نے امریکی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والے تبادلہ پروگراموں میں شرکت کی۔ پورے پاکستان میں ایسے ۲۰ ہزار سے زائد شرکاء کے ساتھ پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک دنیا کے بڑے ایلومنائی نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔ پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک باقاعدگی کے ساتھ پاکستان بھر میں سرگرمیوں کا انعقاد کرتا ہے، جن میں سماجی خدمات کے منصوبے، قائدانہ تربیت کی فراہمی، گول میز مباحثے اور علاقے کے لوگوں کی بہبود کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ پاکستان۔ یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک کے بارے میں مزید جاننے کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    http://www.facebook.com/pakalumni


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

    [​IMG]
     
  16. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ویسے تواسی نشست میں آپ سے پہلے بھی گفتگو ہوچکی ہے اورجیسا کہ میں نے پہلے آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ اگر میرے پاس وقت ہوتاتومیں آپ کے ہرنکتے کا جواب دیتا مگر وقت نہ ہونے کے سبب میں ایسا نہیں کرپارہاہوں جیسا کہ اس وقت بھی آپ کے تمام نکات پر میں حرکت ِ قلم کرنے سے معذور ہوں اسلئے صرف آپ کے ایک نکتے کومنتخب کرکے جواب دینے کی جسارت کررہاہوں امید ہے میری یہ جسارت آپ کو بری نہیں لگے گی۔
    امریکہ ہمارے تعلیم کوبہتر کرنے کیلئے بڑافکرمند ہے یہ جان کرمجھے نہایت خوشی ہوئی مگر پھر میں سوچتاہوں کہ ان ماہرین کاکیا کروں جوکہتے ہیں کہ بعض ماہرین کے خیال میں اس کی وجہ تعلیمی نظام ہے۔ امریکی تعلیمی نظام میں تعلیم کا خرچہ زیادہ تر ٹیکسوں سے اور بقیہ حصہ حکومتی خزانے سے ادا کیا جاتا ہے۔ اس لئے امیر علاقوں اور غریب علاقوں کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔
    تو میرے دوست امریکہ کہیں اپنے ہاں کی طبقاتی تعلیم کا اجراء توکہیں ہمارے ہاں نہیں کررہاہے جس کا مظہر ہمیں پاکستان میں نظر بھی آتاہے جس کے متعلق اکثر میں اپنے میڈیا میں بھی سنتاہوں کہ امیر کیلئے تعلیم الگ اور غریب کیلئے تعلیم الگ۔پاکستان کوای تعلیم کی چکاچوند سے خیرہ کردینے والا امریکہ اپنے ملک میں کتنی عملی تعلیم پرزوردیتاہے ذرا چوہدری محمد یوسف کی داستانِ حیات ’’نقش بر آب‘‘ کے ایک باب کا موضوع ہے:’’ مطالعاتی دورۂ امریکہ‘‘۔ میں ملاحظہ کریں ۔
    میں نے لبک سکول ڈسٹرکٹ کاایک ہفتے کادورہ کیا۔ اِس دوران ۱۶ ؍ تعلیمی اداروں کا معاینہ کیا جن میں ایلیمنٹری، جونئیر ہائی، سینئر ہائی ، معذور اور مجرم بچوں کے ادارے شامل تھے۔ وہ پروجیکٹ بھی دیکھا جس میں طلبا کا نفسیاتی علاج کیا جاتا ہے۔ تعلیم بالغاں کے ادارے بھی میرے مشاہدے میں آئے۔ جن اداروں کے ساتھ ایگروٹیک یونٹ تھے، ان کا مشاہدہ فارم پر جا کر کیا۔ وہاں عام ضلع کو کاؤنٹی کہتے ہیں۔ ایک کاؤنٹی میں کئی سکول ڈسٹرکٹ ہیں۔ ایک سکول ڈسٹرکٹ عموماً ۱۰×۱۰ میل کا ہوتا۔ ایک کاؤنٹی میں سات سکول ڈسٹرکٹ تھے۔ سکول ڈسٹرکٹ کاؤنٹی سے چھوٹے اِس لیے رکھے گئے کہ انتظام و انصرام میں آسانی رہے۔ وہاں سکول ایڈمنسٹریشن کا طریق کار ہم سے یکسر مختلف ہے۔ بارہویں جماعت تک تعلیم عوامی ہاتھوں میں ہے جس کا انتظام سکول ڈسٹرکٹ بورڈ کرتا ہے ۔
    مطلب خود امریکہ اپنے ملک میں توتعلیم بالغاں تک ایک ڈسٹرکت میں 10ضرب 10 میل تک کا ایک اسکول بناتا ہے لیکن پاکستان کو انٹرنیٹ پر تعلیم پر ٹرخارہا ہے امریکہ کی تعریف کیلئے سچ پوچھیں مجھے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔اسی کتاب میں پڑھیں کہ امریکہ کیسے اپنے طلباء جسمانی تربیت کیلئے بھی نظام بناتا ہے جو کہ ای ٹیچنگ کے ذریعے توناممکن ہے : طلبا کی جسمانی تربیت کا اہتمام ہر سکول ڈسٹرکٹ میں ڈائریکٹر تربیت جسمانی کرتا ہے۔ ہر سکول کے ساتھ جمنیزیم موجود ہے جہاں اِن ڈور گیمز کا اہتمام ہے ۔ کھلی فضا میں وسیع کھیل کے میدان بھی ہیں۔ ہر سکول میں جسمانی تربیت کے دو اُستاد تھے۔ ایک مرد طلبا اور دوسرا طالبات کے لیے۔ سکول میں تیراکی کے لیے تالاب بھی نظرآئے، جہاں تیراکی کے لیے طلبا اورطالبات کے الگ الگ اوقات تھے۔ سکولوں میں پڑھائی اور کھیل کے اوقات ساتھ ساتھ چلتے ہیں جبکہ یونیورسٹی میں کھیلیں شام کو ہوتی اور گراؤنڈ بھر جاتے ہیں۔ ہر سکول ڈسٹرکٹ کے دفتر میں رابطہ افسر ہوتا ہے جو سکول ڈسٹرکٹ کی کارکردگی ریڈیو اور ٹی وی پر نشر کرنے کا ذمے دار ہے۔
    اب ذرا آئی اواین کی رپورٹ بھی پڑھ لیں کہ ایسی تعلیم کا دارومدار انٹرنیٹ پر ہے اگر کسی وجہ سے انٹرنیٹ کا دورانیہ ڈسٹرب ہوجائے توطلباء کی تعلیم کا سلسلہ بھی منقطع ہوجائے گااور اس وقت اسکے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہوگا۔(آئی اواین ،Weaknesses of Online Learning)
    توبحث کانچوڑ یہ ہوا کہ پاکستان کو ای ایجوکیشن کی چکاچوند سے خیرہ کردینے والا امریکہ اپنے ملک میں عملی تعلیم پر کتنازوردے رہا ہے اور ہمیں کیاکہہ رہا ہے اپنے کچھ انچ کے مانیٹر کے سامنے بیٹھواور ایک معیاری تعلیم حاصل کرو۔واقعی امریکہ کی تعریف کرنی پڑے گی کہ وہ اگر زہر بھی بیچتاہے تومیٹھاکرکے بیچتاہے۔
     
  17. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکی امداد پاکستانی قوم کی تقدير بدل سکتی ہے۔ يہ توقع بھی حقيقت پر مبنی نہيں ہے کہ امريکہ پاکستان کو کوئ ايسا نظام دے سکتا ہے جس کی بدولت پاکستان کو درپيش تعليم، بجلی، خوراک اور صحت سے متعلق تمام مسائل حل کيے جا سکتے ہيں۔ اس ضمن ميں فيصلہ کن کردار اور ذمہ داری پاکستانی عوام، ان کے منتخب قائدين اور پارليمنٹ ميں موجود ان افراد کی ہے جو قانون بناتے ہيں۔ اسی مقصد کے لیے انھيں ووٹ ڈالے جاتے ہيں۔

    امريکی امداد کا مقصد ذرائع اور وسائل کا اشتراک اور ترسيل ہے جس کی بدولت ممالک کے مابين مضبوط تعلقات استوار کيے جا سکيں۔ عالمی سطح پر دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ باہمی مفاد کے ايسے پروگرام اور مقاصد پر اتفاق راۓ کیا جاۓ جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ اسی تناظر ميں وہی روابط برقرار رہ سکتے ہيں جس ميں دونوں ممالک کا مفاد شامل ہو۔ دنيا ميں آپ کے جتنے دوست ہوں گے، عوام کے معيار زندگی کو بہتر کرنے کے اتنے ہی زيادہ مواقع آپ کے پاس ہوں گے۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوۓ امداد کے عالمی پروگرامز دو ممالک کے عوام کے مفاد اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے ليے ايک دوسرے کی مشاورت سے تشکيل ديے جاتے ہيں۔

    آپ کی آراء سے يہ تاثر ملتا ہے کہ گويا امريکی حکومت کی جانب سے کئ برسوں پر محيط جو مدد اور تعاون فراہم کيا گيا ہے وہ کسی طور قوم کو خود انحصاری کے بنيادی فلسفے سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر امريکہ کی پاليسيوں اور سوچ زبردستی مسلط کرنے کا سبب بھی ہے۔

    کچھ باتوں کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ امريکہ سميت دنيا کا کوئ بھی ملک حکومت پاکستان اور متعلقہ عہديداروں کو ان کی مرضی کے برخلاف اس بات کے ليے مجبور نہيں کر سکتا کہ وہ محض مخصوص نظام چاہے وہ تعليم سميت کسی بھی شعبے سے متعلق ہی کیوں نا ہوں، امدادی پيکجز، ترقيانی منصوبے اور مالی مفادات وصول کريں۔ کن منصوبوں کو حتمی منظوری دی جانی ہے، کتنی امدادی رقم، سازوسامان، مہارت اور وسائل تک رسائ کی اجازت دی جانی ہے اور ملک ميں ان کی ترسيل کے ليے کيا طريقہ کار اور عمل وضع کيا جانا ہے، وہ فيصلے ہيں جو پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مکمل تعاون کے بعد ہی کيے جاتے ہيں۔ يو ايس ايڈ يا کسی بھی دوسری سرکاری يا غير سرکاری اين جی او کے پاکستان ميں دائرہ کار کی مکمل اجازت کا اختيار پاکستان کے جمہوری طور پر منتخب قائدين کے پاس ہوتا ہے

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  18. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    آپ کی بات کا حاصل یہ ہےکہ پاکستان کی حکومتیں خودمختار ہوتی ہیں آ پکی اس سادگی پر میں آپ کو کیاکہوں کیا آپ کو پتہ نہیں کہ 2008 سے 2013 تک حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تمام مال ومتاع اور اکائونٹس یورپ کے ملکوں میں ہیں انکی اولادیں یورپ میں پڑھی ہیں وہیں زندگی گزارتی ہیں اور اب صدر آصف زرداری امریکہ کوفریاد کرتے ہیں کہ مجھے ملک میں واپس لانے کیلئے کردار اداکروپاکستان کی حکومت پردبائو ڈالو اسی طرح نواز شریف جوموجودہ وزیر اعظم ہے اس کے اثاثے بھی امریکہ اور یورپ میں موجود ہیں موصوف کاپانامہ کااسکینڈل اب تک زد عام ہے اور اپنا علاج کرانے بھی لندن گئے تھے ۔یہ ہمارے حکمران بقول آ پ کے
    کمال کی بات ہے پاکستان اورخودمختارملک ہے اچھاکب سے ہم توغلام ہیں امریکہ کے امریکی امداد پرگزاراکرنے والے ہم کب سے خودمختارہوگئے۔واقعی نیم حکیم خطرہ جاں
     
  19. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    آصف علی زرداری اگر پاکستان کے صدر بنے تھے تو اس کی وجہ يہ تھی کہ ان کی پارٹی نے 2008 فروری کے عام انتخابات ميں سب سے زيادہ ووٹ حاصل کيے تھے۔ يہ ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے۔ اس حقيقت کا "بيرونی ہاتھ" اور "مغربی آقاوؤں کی سرپرستی" سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ جن لوگوں نے پاکستان کے دوردراز علاقوں اور لاڑکانہ اور نواب شاہ کے ديہاتوں ميں جا کر ووٹ ديے تھے، وہ امريکی نہيں بلکہ پاکستانی تھے۔ آصف زرداری 18 فروری کے اليکشن سے قبل پاکستان پيپلز پارٹی کی قيادت سنبھال چکے تھے جس کا مطلب يہ ہے کہ عوام اس بات سے واقف تھے کہ ان کی پارٹی کی کاميابی کی صورت ميں ان کے پاس اس بات کا اختيار ہو گا کہ وہ اپنی مرضی سے نۓ صدر کے ليے اميدوار نامزد کريں۔

    جہاں تک امريکی حکومت کی جانب سے ان کی حمايت کا سوال ہے تو يہ ياد رہے کہ امريکی حکومت نے 90 کی دہائ ميں پاکستان کے بہت سی سياسی جماعتوں اور سياسی اتحادوں کی حمايت کی ہے جس ميں پيپلز پارٹی اور مسلم ليگ دونوں شامل ہيں۔

    اسی طرح امريکہ کی جانب سے پرويز مشرف کی حمايت کے حوالے سے بھی کافی کچھ کہا جاتا ہے ليکن تاريخی حقيقت يہ ہے کہ پرويز مشرف کو آرمی چيف مقرر کرنےسےلےکر صدر بنانے تک اور صدرکی حيثيت سےان کےاختيارات کی توثيق تک پاکستان کی تمام سياسی پارٹيوں اور ان کی قيادت نےاپنا بھرپور کردار ادا کيا ہےاسکے باوجود تمام سياسی جماعتوں کا يہ الزام کہ پرويزمشرف امريکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے برسر اقتدار رہے ہيں، جذباتی بحث کا موجب تو بن سکتا ہے ليکن يہ حقيقت کے منافی ہے۔ يہ امريکہ نہيں بلکہ پاکستانی عوام کے منتخب کردہ سياسی قائدين پر مشتمل پارليمنٹ تھی جس نے انھيں 5 سال کے ليے صدر منتخب کيا تھا۔

    امريکہ سياسی، معاشی اور سفارتی سطح پر ايسے بہت سے ممالک سے باہمی دلچسپی کے امور پر تعلقات استوار رکھتا ہے جس کی قيادت سے امريکی حکومت کے نظرياتی اختلافات ہوتے ہيں۔

    جہاں امريکہ کے ايسے ممالک سے روابط رہے ہيں جہاں آمريت ہے، وہاں ايسے بھی بہت سے ممالک ہيں جہاں جمہوريت يا اور کوئ اور نظام حکومت ہے۔

    يہ ايک غير منطقی دليل ہے کہ امريکہ دنيا کے کسی بھی ملک سے روابط قائم کرنے کے ليے پہلے وہاں کا حکومتی اور سياسی نظام تبديل کرے يا ايسا حکمران نامزد کرے جو عوامی مقبوليت کی سند رکھتا ہو۔ يہ ذمہ داری اس ملک کے سياسی قائدين اور عوام کی ہوتی ہے اور کوئ بيرونی طاقت اس ضمن ميں فيصلہ کن کردار نہيں ادا کر سکتی۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  20. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی سفارتخانہ کا خواتین پولیس افسران کیلئے پانچ بسوں کا عطیہ


    امریکی سفارتخانہ کے بین الاقوامی انسداد منشیات ونفاذ قانون امور (آئی این ایل) کی ڈائریکٹرکیٹی سٹانہ نے ایک تقریب میں نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس کے انسپکٹر جنرل شوکت حیات کو دو لاکھ ۷۵ہزار ڈالر مالیت کی پانچ منی بسیں فراہم کیں۔ اس امداد کی بدولت پاکستان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس (این ایچ اینڈ ایم پی) کی ۲۰۰ خواتین افسران کو گھروں سے اُن کے دفاتر اوراین ایچ اینڈ ایم پی ٹریننگ کالج شیخوپورہ تک ٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب ہوجائے گی ۔


    آئی این ایل کی ڈائریکٹر کیٹی سٹانہ نے چار اگست کو منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ اینڈ ایم پی خواتین اُن کوششوں میں سرفہرست ہے جن کا مقصدخواتین افسران کو پولیس سروس میں شامل کیا جائے اور یہ واحد پولیس کا محکمہ ہے جس نے ان کوششوں کے لیے صنفی حکمت عملی وضع کی ہے ی۔ہ تمام کاوشیں قابل تعریف ہیں۔انسپکٹر جنرل شوکت حیات نے آئی این ایل کی پاکستان میں پولیس کے محکمہ میں بطور سرفہرست اشتراک کار بھی تعریف کی ۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس کی اعانت کو بھی سراہا اور کہا کہ منی بسوں کے علاوہ، آئی این ایل نے اُن کے محکمہ کو ۵۰۰ عدد باڈی آرمر، ۵۰ اسپیڈ چیک کیمرے اور ۴۵ موٹر سائیکلیں بھی فراہم کی ہیں۔


    بین الاقوامی انسداد منشیات ونفاذ قانون امور (آئی این ایل) اس وقت ۹۰ ممالک میں جرائم ،بدعنوانی ، منشیات کے حوالے سے جرائم کا سدباب، پولیس کے محکموں میں اصلاح اور برابری و احتساب کی بنیاد پر قانون و عدلیہ کے نظام کے فروغ کیلئے سرگرم ہے۔


    آئی این ایل کے بارے میں مزید جاننے کیلئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں:


    http://www.state.gov/j/inl/.


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں