بہایئت کو پہچانئے از ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ۔ یونی کوڈ پراجیکٹ

اعجاز علی شاہ نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏اگست 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    السلام علیکم

    یہ کتابچہ بہت پہلے خرید کے رکھا ہوا ہے اس پر ان شاء اللہ یونی کوڈ کا کام کرنا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بہائیت کو پہچانئے

    اہتمام وتقدیم
    ڈاکٹر محمد لقمان سلفی
    ناشر: دارالداعی للنشروالتوزیع ۔ الریاض
    تاریخ اشاعت: 1426ھ - 2005
    صفحات: 40​
     
    Last edited: ‏اگست 13, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324


    یہ کتاب
    1. بہائی تحریک کے سیاہ چہرہ سے پردہ ہٹانے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔
    2. یہ تحریک انیسویں صدی میں صہیونی سازش کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی، جس کا مرکزی مقام آج بھی تل ابیب ہے۔
    3. یہ تحریک ابتدا میں مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے اسلام میں ایک تجدیدی تحریک کی حیثیت سے متعارف کرائی گئی ، لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد اس کے شیطانوں نے اپنے چہروں سے نقاب اتاردیا، اور بدشت بہائی کانفرنس میں اس کی ایک بدنامہ زمانہ فاجرہ رکن "قرۃ العین" نے اعلان کردیا کہ اسلام سے ان کی تحریک کا کوئی تعلق نہیں ہے ، کیونکہ اسلام ایک فرسودہ مذہب ہوچکا ہے۔
    4. اس کے باوجود اسلام سے وابستہ بہت سے سادہ لوح لوگ اسے ایک اسلامی تجدیدی تحریک سمجھتے ہیں، جو بہرحال ایک خطرناک فکر ہے۔
    5. اس کتاب کے ذریعہ اس یہودی تحریک کو پہچانئے، اور دیگر مسلمان بھائیوں کو بھی خبردار کیجئے۔
    ناشر​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    فہرست مضامین
    • تقدیم
    • فرقے کی تشکیل
    • علی محمد شیرازی کے متضاد دعاوی
    • بدشت کانفرنس
    • شاہ کی حکومت پھندہ کستی ہے اور باب کیلئے سزائے موت طے کرتی ہے
    • باب کو بچانے کیلئے روسی سفیر کی کوششیں
    • قرۃ العین کی گرفتاری اور بغداد میں جلاوطنی
    • بابی مذہب سے بہائی مذہب کی طرف
    • باب کے پیرووں میں باہمی اختلاف
    • حسین ماز ندرانی عکہ میں
    • حسین ماز ندرانی اپنا نیا فرقہ وضع کرتا ہے
    • حسین ماز ندرانی کی کتابیں اور رسائل
    • الاشراقات
    • مجموعہ الواح
    • تاب الاقدس
    • کتاب کی تضادبیانیوں اور دروغ بافیوں کی مثالیں
    • اپنے بیٹے عباس کو اپنا جانشین مقرر کرنے کے بعد حسین ندرانی کی موت
    • قیادت کے سوال پر بھائیوں کے درمیان تنازعہ
    • عباس "عبد البہاء" کے زمانے میں بہائی مذہب
    • "عبد البہاء" اور اس کے مرید یہودیوں کو اجتماع میں دعوت دیتے ہیں
    • عباس "عبد البہاء" کے بعد بہائی مذہب
    • بہائی مہینوں کے نام
    • خاتمہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  5. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    تقدیم
    الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ و بعد:
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دنیا کی رہنمائی کیلئے مبعوث ہوئے اور اسلام کا ظہور ہوا، اسی وقت سے یہودیوں اور صہیونیوں نے اسلام سے دشمنی اور اس کی بیخ کنی کی ٹھان لی۔ سیرت النبی کی کتابوں میں بروایت صحیح ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے جب ہجرت کرکے قبا پہنچے اور مدینہ آنے سے پہلے وہاں بنی عمرو بن عوف والوں کے پاس تقریبا چودہ دن قیام کیا۔ ان ایام میں بہت سے لوگ مدینہ سے آآ کر آپ سے ملتے رہے۔ یہودیوں کے مشہور قبیلہ بنی نضیر کا سردار حیی بن اخطف بھی اپنے بھائی ابویاسر کے ساتھ آپ کو دیکھنے کیلئے آیا۔ وہاں شام تک رکارہا، اور حالات کا جائزہ لیتاتھا۔ اور جب اسے یقین ہوگیا کہ یہی وہ آخری نبی ہے جس کی بشارت تورات میں دی گئی ہے، تو وہاں سے مکمل ںحوست ومایوسی کی تصویر بنا اپنے گھر واپس آگیا۔
    ام المومنین صفیہ بنت حیی ان احطب رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ میں اپنے باپ حیی کی چہیتی بیٹی تھی، جب دونوں بھائی واپس آئے، تو میں نے دیکھا کہ ان کی حالت بدبختی ومایوسی کے بوجھ تلے نہایت ناگفتہ بہ تھی۔ میں نے سنا، میرا چچا میرے باپ سے پوچھ رہا تھا، کیا یہی وہ نبی ہے ؟ میرے باپ نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! چچا نے پھر پوچھا: کیا آپ کو یقین ہوگیا ہے اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں؟ میرے باپ نے کہا: ہاں، چچا نے پھر پوچھا: پھر آپ کے ذہن میں اس کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟ میرے باپ نے کہا: اللہ کی قسم؟ جب تک زندہ رہوں گا، اس سے عداوت ودشمنی کرتا رہوں گا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں روئے زمین پر رہنے والے ہر یہودی و صہیونی کا یہی خیال رہا ہے، ان سے عداوت ان کی شرست میں داخل ہے۔ اللہ کے ان بدترین بندوں نے ہمیشہ ہی اسلام کی بیخ کنی کرنا اپنی اپنی زندگی کی اولین مہم بنالی، ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک اسلام کے خلاف جتنی بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں اور جتنی سازشوں نے جنم لیا، ان کے پیچھے اللہ کے یہی ملعون بندے کام کرتے رہے، ایسی تمام ہی تحریکیں دراصل یہودی تحریکیں تھیں، سب کے پیچھے انہی کا ذہن کارفرما رہا، یہی مختلف ناموں سے کام کرتے رہے، لیکن حقیقت ان کی ایک ہی تھی کہ وہ تحریکیں عالمی یہودیت وصہیونیت کی خدمت کرتی رہیں، اور ان کے اشارے پر اسلام کے خلاف سازشیں کرتی رہیں۔
    انہی صہیونی تحریکوں اور سازشوں میں سے انیسوی صدی میں جنم لینے والی تحریک "بہائیت"بھی ہے۔ جس کا مرکزی مقام تل ابیب میں ہے۔ اس کی داغ بیل بھی روس کے یہودیوں نے ڈالی تھی، جو ایران کے روسی سفارت خانہ میں کام کرتے تھے۔ اور ان میں سے بعض نے اپنے صہیونی مقاصد کی خدمت کیلئے اسلام قبول کرلینے کا اعلان کردیا۔ اور مسلمان بن کر اس خطرناک پودے کی آبیاری کرتے رہے، یہاں تک کہ یہ مذہب ایک منظم گروہ کی شکل میں ابھر کر دنیا والوں کے سامنے آیا، اور اس کے زعماء نے بدشت کانفرنس میں اعلان کردیا کہ اسلام ایک فرسودہ دین ہے، جس میں انسانیت کیلئے کوئی خیر نہیں، اوراس مذہب کی ایک مشہور رکن سلمی جو ایک شیعی باپ کی فاحشہ بیٹی تھی، اور جسے اس مذہب باطل کے شیطانوں نے قرۃ العین طاہرہ کا لقب دے رکھا تھا، اور جو اپنے زمانہ کی ایک مشہور خطیبہ تھی، اس کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے اس نے اعلان کیا کہ اس مذہب باطل نے عورتوں کو بالخصوص پابند سلاسل بنا رکھا ہے۔ اس کی آزادی چھین لی ہے۔ عورت کو تو اللہ نے اس لیے پیدا کیا ہے کہ اس سے ہرمرد بغیر کسی تفریق کے متمتع ہو، اور اس سے اپنی شہوانیت کی پیاس بجھاتا رہے۔ عورت ایک پھول ہے جسے سونگھنے کیلئے بنایا گیا ہے، اور جس پر ہر شخص کا بغیر تفریق حق ہے۔ علی ہذا القیاس اسی طرح کی باتیں اس کانفرنس میں کی گئیں اور اعلان کردیاگیا کہ اب اسلام کیلئے سرزمین پر کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    اسلام کے خلاف اس خطرناک سازش کو مزید سمجھنے اور اس کو پروان چڑھانے والے شیطانوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے، بہائی مذہب کی بنیاد کیسے پڑی، اس کے مشہور کارکنان کون لوگ تھے، اور اس کے اغراض ومقاصد کیا تھے، ان باتوں کی تفصیل جاننے کیلئے اس کتابچہ کا بغور مطالعہ کیجئے، اور اسلام کے خلاف اس صہیونی سازش کے برگ وبار کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ اللہ تعالی ہم سب کو دین اسلام پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
    آپ کاخیرخواہ: ڈاکٹر محمد لقمان السلفی
    7-3- 1426 ھجری​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کیلئے ہیں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔ درود وسلام ہو سید المرسلین، خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کی آل و اولاد پر، ان کے صحابہ پر اور ان تمام لوگوں پر جنہوں نے ان کی پیروی کی اور ان کے نقش قدم پر چلے، قیامت کے دن تک۔
    بہائی مذہب دین کے اصول اور قواعد کے قطعی خلاف ہے اور تمام الہامی مسلکوں سے اختلاف رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی سازش ہے جسے فریمیسن تحریک اور بین الاقوامی صیہونی تحریک کے پیرووں نے مرتب کیا اور لوگوں کو اسلام کے صحیح راستے سے بہکاوے، اسلامی عقائدکی بیخ کنی اور اسلامی قانون اور اسلامی نظام کی موقوفی کے ذریعے اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کے حصول کے لیے روسی جاسوسوں نے اس کی اشاعت کی۔ بہائی مذہب کا راست مقصد مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو مٹانا، ان کو ان کے الہامی اصولوں، شاندار روثے اور اخلاق کریمانہ سے منحرف کرنا ہے تاکہ فلسطین میں یہودیوں کیلئے ایک قومی وطن کے قیام کیلئے موافق ماحول تیار کیا جاسکے اور دنیا میں مذہبی انحراف، اختلاف اور انتشار پھیلایا جاسکے جیسا کہ "منشورات دانشوران صہیون" میں کہا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    فرقے کی تشکیل
    1231 ھ کے قریب عراق میں کربلا کے مقام پر ایک غیر معروف شخص کا ظہور ہوا جس کے مولد ومنشا اور حسب ونسب کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ البتہ کچھ لوگوں کو یاد تھا کہ وہ کبھی پادری رہ چکا تھا۔ وہ اپنا نام کاظم الرشتی بتاتا تھا۔ رشت ایران کا ایک گاوں ہے۔ حالانکہ رشت کے باشندے اس سے بالکل ناواقف تھے۔
    اس شخص نے شیعہ فرقے کی ایک شاخ اثنا عشری (بارہ امامی فرقہ) کے عقیدے کا مطالعہ کیا اور خود کو اسی عقیدے کے ایک متبحر عالم کے طور پر پیش کیا۔ اسی عقیدے سے اس نے مہدی منتظر اور باب مہدی کا تصور اخذکیا۔ اس نے ایک ایسے شخص کی تلاش شروع کی جس کے ذریعے وہ اپنے تمام مقاصد کو پورا کرنے کیلئے اسے باب کا لقب دے سکے۔ اس لیے وہ واعظ بن بیٹھا اور اس طرح اس نے کچھ کمزور عقیدہ اور منحرف طبع لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا جو اس کے شاگرد ہوگئے۔
    ان شاگردوں میں سب سے نمایاں شاگرد تھا حسین بشروئی۔ بشرویہ مضافات خراسان میں ایک گاوں تھا۔ حسین اپنی ریاکاری، چالاکی، مکاری اور تلون مزاجی کیلئے مشہور تھا۔ اس لیے سازشیوں نے اسے اس طور پر تربیت دینی شروع کی کہ وہ ان کے مکروہ جرائم کو عملی جامہ پہناسکے۔ اس مقصد سے اسے کاظم الرشتی کا کبیر التلامیذ کہا گیا اور باب الباب کے لقب سے نوازا گیا۔
    شاگردوں کے گروہ میں ایک حقیقی طور سے خطرناک فرد بھی شامل تھا۔ یہ شاگرد ایک عورت تھی جو اثنا عشری فرقے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا نام فاطمہ اور عرفیت ام سلمی تھی۔ یہ صالح القزوینی کی لڑکی تھی جو اسے زریں تاج کے نام سے پکارتا تھا کیوں کہ اس کے بال سنہرے تھے۔ اس کی شادی نوجوانی میں ہی ایک قریبی عزیز سے کردی گئی تھی۔ لیکن یہ اپنے شوہر کو ناپسند کرتی تھی اور اسے چھوڑ چکی تھی۔ کیونکہ یہ صالح کی اکلوتی اولاد تھی، اس لیے اس نے بھی اسے شوہر کے پاس جانے کیلئے مجبور نہیں کیا۔ اس نے کاظم الرشتی سے سلسلہ خط وکتابت شروع کیا جس نے کافی گرم جوشی سے جواب دیا، کیونکہ وہ اس کے اغراض کیلئے بالکل موزوں تھی۔ اس نے اپنے پیغاموں میں اسے قرۃ العین کے نام سے پکارا اور بعد میں اسے کربلا آنے کی دعوت بھی دی ، لیکن وہ خود اس کی آمد سے پہلے ہی 1259 ھ میں فوت ہوگیا۔
    کربلا میں اس کا استقبال حسین بشروئی اور الرشتی کے دیگر تلامذہ نے کیا۔ اسلام سے برسرعام دست برداری اور عورتوں کے سلسلہ میں اشتراک کے اصول کے مطالبہ میں وہ اپنے سبھی ساتھیوں سے زیادہ سرگرم ہوگئی۔ جب اس نے الرشتی کے کچھ شاگردوں کے ساتھ اپنے اس مطالبہ کا برسر عام عملی مظاہرہ کیا تو اسے "الطاہرہ" کا لقب بخشا گیا۔
    الرشتی کے شاگردوں میں علی محمد رضاشیرازی نامی ایک شاگرد بھی تھا۔ وہ شیراز میں 1235 ھ (1819ء) میں پیدا ہوا۔ اس کے باپ کا انتقال لڑکپن میں ہی ہوگیا تھا۔ اس لیے اس کی پرورش اس کے ماموں کی سرپرستی میں ہوئی۔ اس نے معصومانہ طور سے اسے الرشتی کے ایک شاگرد کی اتالیقی میں دے دیا۔ کچھ عرصہ بعد اس کا ماموں اسے بندرگاہ بوشہر لے گیا جو کویت کے مقابل خلیج کے ساحل پر واقع ہے۔ یہاں اس نے بھانجے کیلئے ایک تجارتی اسٹور قائم کردیا، لیکن اس نے دیکھا کہ اس کا نوجوان بھانجہ اثنا عشری عقیدے سے ہٹ رہا تھا اور اس پر اکثر وبیشتر دماغی فتور کے دورے پڑا کرتے تھے۔ اس کی عمر 20 برس کی تھی کہ اس کے ماموں نے اسے صحت و عقیدے کی بحالی کلئے کربلا بھیجنے کا ارادہ کیا۔ الرشتی کے شاگردوں نے اس سے واقفیت پیدا کی اور اسے اپنے مرشد کے پاس لے گئے۔ الرشتی نے اس کے ذہن میں یہ خیال بٹھانا شروع کیا کہ ظہور مہدی کا زمانہ قریب ہے ، اور پھر اپنے ہی کچھ لوگوں کے ذریعے عیارانہ طور سے اس کے دل و دماغ میں یہ خیال قائم کردیا کہ وہ باب ہے۔
    الرشتی کے مرنے کے بعد علی شیرازی شیراز چلا گیا ۔ اس لیے حسین بشروئی نے شاگردوں کی تلمیذ کیلئے قرۃ العین کو الرشتی کا جانشین مقرر کیا۔ اس نے اپنے شاگردوں میں سے محمد علی بار فروشی نامی ایک طاقت ور شخص کو منتخب کرکے اسے "القدس" کا لقب دیا۔
    اس کے بعد بشروئی شیراز چلا گیا اور علی محمد شیرازی سے جاملا تاکہ اس کی سادہ لوحی اور خام خیالی کا فائدہ اٹھا سکے۔ اس نے اس کے دل میں یہ خیال جمادیا کہ وہ جلد ہی ایک ہم شخصیت بننے والا ہے اور یہ کہ اس کے مرشد الرشتی نے اسے بتادیا تھا کہ شیرازی باب ہوسکتا ہے۔ بشروئی نے باب الباب بننے کی پیشکش بھی کی۔ وہ برابر شیرازی کو پھسلاتا رہا، یہاں تک کہ 5 جمادی الاول 1260 ھ (1844 م) کو اس نے اپنے باب المہدی ہونے کا اعلان کردیا۔ اس وقت اس کی عمر 25 برس تھی۔
    حسین بشروئی نے بڑی عجلت سے الرشتی کے بقیہ شاگردوں میں ظہور باب کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے باب الباب ہونے کا بھی۔
    بعد میں ظاہر ہوا کہ اس فرقے کے محرکوں میں کنیازد الگور کی نامی ایک روسی جاسوس بھی شامل تھا جو کہا جاتا ہے کہ تہران کے روسی سفارت خانے میں مترجم تھا۔ بظاہر اس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ عربی اور فارسی کا مطالعہ کرنے کے بعد الرشتی کی وعظ کی مجلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتا تھا۔ اس درمیاں میں وہ اسلامی ملک کی سرزمین میں یہ ملعون پودا بھی لگارہا تھا۔ اس فرقے میں متعدد لوگوں کی شمولیت میں اس نے اہم کردار ادا کیا ۔ یہی وہ شخص تھا جس نے حسین علی مازندرانی کو اس مذہب کی قبولیت پر آمادہ کیا اور بعد میں اسے الوہیت کا دعوی کرنے اور البہاء کا لقب اختیار کرنے پر اکسایا تاکہ اپنی اغراض پوری کرنے کیلئے اسے آلہ کار بنایا جاسکے۔ یہی وہ جاسوس تھا جس نے متذکرہ حسین علی مازندرانی کے سوتلیے بھائی یحیی مازندرانی کو اس مذہب میں داخل کیا اور اسے "صبح ازل" کا لقب دیا۔
    اپنے خود نوشت تذکرے میں جو 1924 سے 1925 ء میں روسی مجلہ "الشرق" میں شائع ہوا، کنیازد الگورکی لکھتاہے:
    قصہ مختصر! " میں حسب الحکم ماہ ستمبر میں شیخ عیسی لنکرانی کے نام سے ایک بزرگ شخصیت کے لباس میں کافی رقم لے کے ساتھ روس سے آستانہ مقدسہ(عراق میں واقع نجف اشرف اور کربلائے معلی کی زیارت گاہوں) کیلئے روانہ ہوا"۔
    آگے وہ کہتا ہے: "میرے مکان کے قریب سید علی محمد نامی ایک شیرازی طالب علم رہتا تھا۔ میں نے اس سے گرمجوشی کے ساتھ دوستی کا اظہار کیا اور ہم دونوں گہرے دوست بن گئے۔ میں اکثر اس کے یہاں جاتا اور ہم دونوں ساتھ مل کر حشیش پیتے۔ وہ ایک ابن الوقت اور ڈھل مل یقین شخص تھا"۔
    یہی جاسوس آگے چل کر اپنے تذکرے میں کہتا ہے:
    "ایک بار تبریزی طالب علم نے سید کاظم الرشتی سے اس کی تدریسی مجلس میں سوال کیا:
    صاحب الامر کہاں ہے ؟ اس وقت کس جگہ کو اس کی موجودگی کا شرف حاصل ہے ؟سید کاظم نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم۔ اس جگہ کو۔ یعنی جہاں اس وقت یہ مجلس ہورہی تھی ، اس کی موجودگی کا شرف حاصل ہوسکتا ہے، لیکن میں اسے نہیں جانتا"۔ یہ جاسوس بیان کرتا ہے کہ وہ کس طرح علی محمد رضا کے دل میں یہ خیال جماتا رہا کہ وہی "المنتظر" تھا، یہاں تک کہ حسین بشروئی کی کوششوں کی بدولت اسے اس کا یقین ہوگیا اور اس نے اپنے باب ہونے کا اعلان کردیا۔ وہ کچھ ان نصیحتوں کا ذکر بھی کرتا ہے جو وہ اس باب کو کیا کرتا تھا: "متلون نہ بنو کیوں کہ اچھا یا برا جو کچھ بھی تم کہتے ہو لوگ اس پر یقین کرتےہیں۔ جو کچھ تم ان سے کہتے ہو وہ اس کو قبول کرتے ہیں چاہے تم کسی عورت کی شادی خود اسی کے بھائی سے جائز قرار دے دو"۔ کیونکہ سید بڑی توجہ کے ساتھ اور ہمیشہ ہی یہ تقریریں سنتا تھا، وہ اپنا دعوی پیش کرنے کیلئے بے صبری سے آرزو مند ہوگیا۔
    عراق سے ایران کیسے پہنچا، یہ بیان کرنے کے بعد روسی جاسوس کہتا ہے : "وہاں مرزا حسین علی (البہاء) اس کا بھائی مرزا یحیی (صبح ازل) اور مرزا رضا (باب) اور ان کے کچھ اور ساتھیوں نے ازسر نو میرے یہاں آنا شروع کیا، لیکن وہ سفارت خانہ میں داخلہ کیلئے ایک چھوٹے دروازے کا استعمال کرتے تھے، جو عموما بہت کم استعمال کیا جاتا تھا اور مردوں کو غسل دینے کی جگہ کو جانے والی سڑک کے قریب تھا"۔
    بعد میں روسی جاسوس کا روسی سفیر سے جھگڑا ہوگیا اور اسے واپس روس بلالیا گیا۔ اس بارے میں ہو کہتا ہے : "اس مدار المہام نے میرے تمام دوستوں اور ساتھیوں کے وظیفے بند کردئیے، یہاں تک کہ مرزا حسین علی ، اس کا بھائی یحیی، اور مرزا علی رضا اور کئی دوسرے لوگوں کے بھی وظیفے بند کردئیے گئے جو خفیہ طور سے یہ وظیفے وصول کرتے تھے۔ اس طرح وظیفے بند کرکے اس نے میری تعمیر کی ہوئی پوری عمارت منہدم کردی اور جو کام میں نے کئے تھے ان سب کو الٹا کردیا اور جو کچھ میں نے بُنا تھا اسے ادھیڑ کر رکھ دیا"۔
    آگے چل کر وہ مزید کہتا ہے : "ہر مہینے مجھے اپنے تہران دوستوں کے خطوط موصول ہوتے جو ہمیشہ ہی مجھے ایران آنے کی دعوت دیتے تھے۔ کچھ "پیٹ کے بندے" تو مجھے بطوں کے(گوز اسٹیو)، تہجیں بلو اور بلو فسیخان کی دعوت کا لالچ دے کر ورغلاتے، لیکن ان سب کی دوستی اور محبت کا اظہار صرف حصول دولت کیلئے تھا"۔
    جب روسی حکومت اس کی ایران واپسی کی مصلحت کے بارے میں بالکل مطمئن ہوگئی تو اس نے تحریر کیا: "مرزا حسین علی مجھ تک کچھ اہم عرضداشتیں پہنچانے کیلئے اس کمرے میں آنے والا سب سے پہلا شخص تھا"۔ پھر وہ کہتا ہے: "رمضان قریب الختم تھا اور میں اپنے کچھ معتمد لوگوں کو جاسوسی کی تربیت دے رہا تھا، لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جو مرزا حسین علی اور اس کے بھائی یحیی کی طرح اس کام کیلئے موزوں ہو"۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    علی محمد شیرازی کے متضاد دعاوی
    حسین بشروئی کے ورغلانے اور روسی جاسوس کنیاز دالگورکی کی ریشہ دانیوں کی بدولت علی محمد شیرازی نے اعلان کردیا کہ وہ مہدی المنتظر کا باب تھا۔ اس کے بعد وہ خفیہ طور سے شیراز سے بوشہر پہنچ گیا۔ ادھر بشروئی نے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ اس نے باب کو خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہے، اور لوگوں سے اس کی پیروی کرنے کیلئےکہا۔ وہ لوگ جنہوں نے اس کی پیروی قبول کی ـبابیـ کہلائے۔
    اس کے بعد بشروئی نے اسے باب المہدی سے خود مہدی بناڈالا اور اسے قائم الزماں کا لقب دیا۔ بشروئی نے گاوں گاوں اور شہر شہر گھوم کر سرگرمی کے ساتھ اعلان کیا کہ القائم کا ظہور ہوگیا ہے، لیکن اس نے باب یا المہدی کو سرکاری افسروں سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ کون ہے اور کہا ں ہے۔ اس اثنا میں میں محمد علی بار فروشی نامی شخص ، جسے علی بسطامی نے "قدوس"کا لقب دیا تھا اور یحیی دارابی نامی ایک تیسرا شخص، جس کا لقب الوحید تھا، جاکر اس سے ملے۔ اب اس مذہب کے پرووں میں 17 مرد اور ایک عورت تھی جو اس گروہ میں قرۃ العین کے نام سے مشہور تھی ۔ یہ سب لوگ بوشہر پہنچے جہاں ان کا نیا قائد باب مقیم تھا۔ یہ اس سے ملے۔ اب ان کی تعداد اپنے قائد سمیت 19 ہوگئی تھی۔ اس لیے اس نے سال کو 19 مہینوں میں تقسیم کرنا طے کیا اور ہر مہینے میں 19 دن رکھے اور 5 جمادی الاول 1260 ھ کے دن کو ، جبکہ اس نے اپنے دعوی کا اعلان کیا تھا سال کا پہلا دن مقرر کیا۔ پھر اس نے کچھ بے ربط ، من گھڑت ، لغو اور مہمل کلمات جمع کئے اور ان پر اپنے نئے باب کی بنیاد رکھی اور اس مجموعے کو"البیان" کا نام دیا۔ باب نے اسی پر بس نہیں کیا اور بعد میں اپنا خیال تبدیل کرکے مہدی ہونے کا دعوی کرنے کے بجائے اس نے یہ دعوی کیا کہ اس میں سبھی رسولوں اور نبیوں کا حقیقی ظہور ہوا تھا۔ اس نے دعوی کیا کہ جب حضرت نوح مبعوث ہوئے تو وہ نوح تھا، جب موسی مبعوث ہوئے تو وہ موسی تھا، جب حضرت عیسی مبعوث ہوئے تو وہ عیسی تھا اور جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو ہو محمد تھا۔ پھر اس نے دعوی کیا کہ وہ یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو یکجا کررہا ہے اور اس کے قول کے مطابق ان میں آپس میں کوئی فرق نہیں تھا پھر اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ محمد خاتم النبیین تھے اور قرآن پڑھنے کی ممانعت کردی۔ پھر اس نے دعوی کیا کہ خدا اسے کے جسم میں حلول کیا تھا اور یہ کہ وہ ایک مکمل ترین انسانی جسم تھا جس میں حقیقت الہیہ نے اپنا جلوہ دکھایا تھا۔ اور یہ وہی تھا جس نے اپنے کلمہ سے تمام چیزوں کی تخلیق کی تھی۔ اس نے پانچوں وقت کی نمازیں اور جمعہ کی نماز موقوف کردی اور نماز جنازہ کے سوا ہر باجماعت بند کرادی۔ اس نے حکم دیا کہ جنابت کے بعد مکمل غسل طہارت لازمی نہیں اور یہ کہ قبلہ (جس طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں) یا تو وہ گھر ہے جہاں وہ شیراز میں پیدا ہوا یا وہ گھر جس میں وہ خود اور اس کے پیر رہتے تھے۔ حج کے بجائے ان گھروں کی زیارت کی جاتی تھی ۔ روزہ کا حکم طلوع آفتاب سے غروف آفتاب تک ایک بابی مہینہ یعنی 19 دن کیلئے تھا جس کا اختتام مجوسی تہوار نیروز کے دن ہوتا تھا۔ اس نے اپنے پیرووں کو اجازت دی کہ روزوں کا مہینہ شروع ہونے سے 5 دن پہلے وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی طرح کی شہوانی خواہشات کی تکمیل سے لطف اندوز ہوسکتے تھے۔ اس نے زکاۃ کی شرح مال کا پانچواں حصہ مقرر کی۔ اس نے گیارہ سال کی عمر میں عورتوں اور مردوں پر شادی لازمی قرار دی اور حکم دیا کہ شادی کی واحد شرط مرد اور عورت کی باہمی رضامندی ہوگی۔ طلاق، اس کے مطابق 19 بار دہرائی جاسکتی تھی۔ مطلقہ عورت کیلئے عدت کی مدت 19 دن مقرر کی گئی۔بیوہ کی شادی کی اجازت دیاب (خون بہا) کی ادائیگی اور 95 دن کی عدت کی مدت پوری کرنے کی شرط کے ساتھ دی گئی۔ عورتوں کیلئے پردہ ممنوع قرار دیا گیا۔ اس نے حکم دیا کہ ناپاکی کا کوئی وجود نہیں ۔ اس نے حکم دیا کہ مردوں کو کانچ یا چکنے سنگ مرمر کی قبر میں دفنایا جائے اور مردوں کے داہنے ہاتھ میں ایک انگوٹھی ہونی چاہیے جس پر "لبیان"کا فقرہ منقش ہو۔ طلوع آفتاب کے وقت لوگوں کی ایک گھنٹہ اس کی طرف منہ رکھنا چاہیے۔
    یہ ان متضاد احکامات میں سے صرف چند ایک ہی ہیں جو کسی بھی طبع کیلئے کراہت انگیز ہیں اور عقل سلیم کیلئے ناقابل قبول ہیں اور جو عالم انسانیت کو انتشار اور ابتری کے علاوہ اور کچھ پیش نہیں کرتے۔
    جب اس کے ایجنٹوں نے ظہور قائم الزماں کی خبر کی تشہیر کیلئے گاوں اور قصبوں میں گھومنا شروع کیا تو علماء شیراز بابیوں پر اس قدر برافروختہ ہوئے کہ شیراز کے گورنر حسین خان نے ان کو گرفتار کرکے ان کے ٹخنوں کی رگیں کاٹ کر ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا۔ پھر اس نے حکم دیا کہ باب کو بو شہر سے شیراز لایا جائے۔ جب اسے گورنر کے سامنے پیش کیا گیا، وہ فورا زمین بوس ہوگیا ، اس نے اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیا اور خوف کی وجہ سے کانپنے لگا۔ گورنر نے اس کو تھپڑ لگائے، اس کے چہرے پر تھوکا اور اسے قید میں ڈال دیا۔ پھر گورنر کو خیال آیا کہ اس کی ذاتی آزمائش کی جائے ۔ اس نے اسے اپنے سامنے پیش کئے جانے کا حکم دیا ۔ جب باب اس کے سامنے لایاگیا تو گورنر نے بظاہر اس سے اپنے برتاو کیلئے اظہار تاسف کیا۔ باب نے وعدہ کیا کہ جب پوری دنیا اس کی اطاعت گزار ہوجائے گی تووہ اسے سلطنت عثمانیہ کا سلطان بنا دے گا، لیکن جب باب نے محل میں علماء کا اجتماع دیکھا تو سخت متعجب ہوا، لیکن گورنر نے اسے یقین دلایا کہ وہاں علماء کا یہ اجتماع اسے اپنی دعوت کے اعلان کا موقع دینے کیلئے کیا گیا تھا۔ یہ یہ کہ جو کوئی بھی بے اعتباری ظاہر کرے گا اسے سزائے موت دی جائے گی۔
    باب دھوکا کھا گیا اور بے خوفی کے ساتھ علماء کی مجلس میں شریک ہوا۔
    اس نے علماء سے ان الفاظ میں خطاب کیا: " آپ کے رسول نے اپنی میراث کے طور پر سوائے قرآن کے اور کچھ نہیں چھوڑا۔ یہ لو "کتاب البیان" اسے پڑھو، یہ تمہیں قرآن سے زیادہ فصیح اور بامحاورہ معلوم ہوگی"۔
    علماء کو"البیان" میں بے حیائی، مذہب سے غیر مبہم دست برداری اور فاش لسانی غلطیوں کے سوا کچھ نہ ملا۔ جب علماء نے اس کی توجہ لسانی غلطیوں کی طرف مبذول کرائی تو باب نے غلطیوں کے لیے وحی کو مورد الزام ٹھہرایا جس کی وجہ سے نزول میں غلطیاں رہ گئیں۔ گورنر نے اسے ان الفاظ میں سرزنش کی: "تم نے اللہ کا رسول ہونے اور خاتم النبیین پر افضلیت رکھنے کا دعوی کرنے کی جرات کیسے کی جب کہ تم خود اپنے خیالات صحیح طور سے پیش کرنے کے بھی نا اہل ہو"۔ پھر گورنر کے کارندوں نے اسے الٹا لٹکا کر اس کو کوڑے لگائے۔ اس پر اس نے اعلان کیا کہ ان نے اپنی دعوت منسوخ کی اور پھر اسے ایک بد ہیبت گدھے پر سوار کرا کے بازار میں گھمایا پھرایا گیا۔ اس کے بعد اسے واپس شیراز کی جیل میں بھیج دیا گیا۔
    اس وقت وہاں منوچہرخاں ار منی نامی ایک دوسرا روسی جاسوس بھی تھا۔ جس نے روسی حکومت کی ہدایت پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس پر شاہ ایران کی بہت عنایات تھیں۔ شاہ نے اس پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے اصفہان میں سلطنت کا نمائندہ مقرر کیا تھا۔ کنیازدالگور کی کی شہہ پر منوچہر خان نے باب کو جیل سے چھڑانے کا انتظام کیا اور اصفہان فرار ہونے میں اس کی مدد کی، جہاں وہ چار مہینے تک منو چہر کے گھر میں چھپا رہا۔ منو چہر کے فوت ہونے پر گورکین خان اس کا جانشین مقرر ہوا۔ اس نے باب کو آزادی کے ساتھ محل میں گھوتے پھرتے دیکھا تو شاہ ایران کو مطلع کیا ۔ شاہ نے اسے جلاوطن کرکے آذربائیجان میں ماکوکے قلعہ میں قید کردیا۔
     
  9. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بدشت کانفرنس
    روسی جاسوس کنیازدالگورکی نے اپنے تذکرہ میں بیان کیا ہے کہ باب کی گرفتاری کے بعد اس نے کیا کیا۔ وہ کہتا ہے : "مرزا حسین علی اس کے بھائی مرزا یحیی اور باب کے دوسرے پیرووں کے ذریعے میں نے باب کی گرفتاری کی خوب شہرت دی۔" یہ مرتد نمائندے جن کی تعداد 18 تھی ایک جگہ جمع ہوئے اور آپس میں طے کیا کہ ان سبھی لوگوں کو جنہوں نے ان کا مذہب قبول کرلیا تھا ایک کانفرنس میں جمع کیا جائے جو خراساں اور مازندران کے درمیان نہر شہر ود پر واقع بدشت نامی مقام پر ہوگی۔ کانفرنس کے خاص محرک یہ لوگ تھے۔ حسین بشروئی ، باب الباب ، محمد علی بار فروشی القدوس، ام سلمی ، قرۃ العین اور حسین علی مازندرانی (جس نے بعد میں البہاء کا لقب اختیار کیا) کانفرنس کا مقصد بظاہر باب کو جیل سے چھڑانے کے طریقے اور وسائل تلاش کرنا تھا، لیکن اصل مقصد اسلامی اعتقادات کی تنسیخ کا اعلان کرنا تھا۔
    جب یہ لوگ مقررہ جگہ پر جمع ہوئے تو جلد ہی یہ طے ہوگیا کہ انہیں باب کی جیل سے رہائی اور نجات کیلئے بھرپور کوشش کرنی ہوگی۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ ہر جگہ نمائندے بھیجے جائیں اور جو شخص بھی ان کی دعوت پر لبیک کہے اسے قلعہ ماکوجاکر باب سے ملاقات کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہیں چاہیے کہ اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ رشتہ داروں اور دوستوں کو لے جائیں، وہ ماکو کے مقام پر باہمی ملاقات کیلئے متفق ہوگئے تاکہ جب وہاں جم عفیر ہوجائے تو وہ شاہ محمد سے باب کی رہائی کی درخواست کریں، اگر ان کی درخواست نامنظور ہوجائے تو پھر بجبر باب کو چھڑایا جائے۔ یہاں قرۃ العین نے ان سے خطاب کیا، ان کے پرشوق جذبہ کو ابھارا اور اپنے مذہب کی اصل تصویر پیش کی۔ اس نے کہا:
    " دوستو اور ساتھیو، غور سے سنو ! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ باب کے ظہور کی بدولت محمدی شریعت کے احکام اب منسوخ ہوچکے ہیں۔ حالانکہ نئے بابی احکام ابھی ہم تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ نماز، روزہ ، رکاۃ اور محمد کے بتائے ہوئے سبھی اشغال بالکل لغو اور باطل ہیں۔ صرف جاہل و غافل لوگ ہی ان سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ہمارا مرشد باب ملکوں کو فتح اور لوگوں کو مسخر کرے گا اور دنیا کے ساتوں آباد خطے اس کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔ وہ روئے زمین پر موجود تمام مذاہب کو متحد کردے گا، یہاں تکہ کہ صرف ایک مذہب رہ جائے گا اور وہی سچا مذہب ہوگا۔ اور یہ ہوگا اس کا نیا مذہب اور اس کے جدید احکام، اسی لیے میں تم سے کہتی ہوں ، اور جو کچھ میں تم سے کہتی ہوں وہ بالکل سچ ہے ، آض دن کوئی ضابطہ نہیں ، کوئی احکام نہیں ، کوئی ممانعت نہیں ، کوئی سرزنش نہیں ۔ وحدت سے نکل کر کثرت میں آو اور ان پابندیوں کو توڑ ڈالو جو تمہیں تمہاری عورتوں سے دور رکھتی ہیں۔ انہیں بھی اعمال وافعال میں شریک کرو، طویل فرقت کے بعد ان کی قربت حاصل کرو۔ انہیں خلوت سے جلوت میں لاو، وہ اس زندگی کا پھول ہیں۔ پھولوں کو توڑ کر سونگھنا ہی چاہیے کیوں کہ ان کی تخلیق اسی لیے کی گئی ہے کہ ان سے ہم آغوشی کی جائے اور انہیں سونگھا جائے۔ ان کے سونگھنے والوں کی تعداد کیسے اور کتنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے ۔ پھول توڑ کر جمع کئے جاتے ہیں اور اپنے پیاروں کو تحفہ اور سوغات کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں "۔
    "مال و دولت جمع کرنا اور دوسروں کو اس مال سےلطف اندوز ہونے سے محروم رکھنا تمام گناہوں کی اصل اور تمام وبالوں کی جڑ ہے۔ تم میں سے جو غریب ہوں ان کو امیر بنادو، اپنی بیویوں کو اپنے دوستوں سے الگ نہ رکھو کیوں کہ آج نہ کوئی ممانعت ہے ، نہ سزا ، نہ پابندی، نہ احکام اور نہ کوئی رکاوٹ، سو اس زندگی کا لطف اٹھالو کیوں کہ موت کے بعد کچھ نہیں"۔
     
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    کانفرنس کا خاتمہ
    کانفرنس کے خاتمہ کے بعد اس کے شرکاء خفیہ طور سے منتشر ہوگئے۔ بشروئی خراسان چلا گیا قرۃ العین اور بار فروشی نے مازندران کا رخ کیا۔ حسین علی مازندرانی تہران کو چلا۔ انہوں نے طے کیا کہ حتی الامکان زیادہ سے زیادہ پیرووں کو اکٹھا کرنے کے بعد سب ماکو میں ملاقات ہوں گے، تاکہ باب کو جیل سے نکالا جاسکے۔
     
  11. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    شاہ کی حکومت پھندہ کستی ہے اور باب کیلئے سزائے موت طے کرتی ہے
    جب بابیوں کی سرکشی شدت اختیار کرگئی تو ایرانی حکومت اور مذہبی علماء سخت ناراض ہوئے۔ شاہ ایران نے ولی عہد ناصر الدین کو جو کہ تبریز میں تھا حکم دیا کہ باب کو جیل سے نکال کر علماء کی عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اس پر مقدمہ چلایا جائے۔ باب نے کچھ لیت ولعل کے بعد کتابوں کا جو اس سے منسوب تھیں، مصنف ہونے اور ایک نئے مذہب کے موجود ہونے کا اعتراف کرلیا۔ علماء کے اس سوال کا کہ اس دین اسلام میں کیا خامی پائی اور اس خامی کو کس طرح دور کیا، اس مکار کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، علماء نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا کہ وہ کافر و مرتد تھا چنانچہ حکومت نے اس کے ارتداد کیلئے سزائے موت طے کی۔
     
  12. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    باب کو بچانے کیلئے روسی سفیر کی کوششیں
    باب کو اس کے ایک پیرو کے ساتھ جیل سے نکال کر باہر لایا گیا، تاکہ تبریز کے ایک عام چوراہے پر اس کو سزائے موت دی جاسکے۔ چوراہا لوگوں سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا جو اس مرتد کو سزائے موت دئیے جانے کا منظر دیکھنے کیلئے وہاں جمع ہوگئے تھے۔ روسی قونصل فائرنگ دستہ کے کمانڈر کے پاس پہنچا اور باب کو بچانے کیلئے اسے بھاری رشوت کی پیشکش کی۔
    باب اور اس کے پیرو کو ایک اونچے کھمبے سے رسیوں کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا۔ دیکھنے والے اس پر لعنت ملامت کررہے تھے اور سزائے موت دینے میں جلدی کرنے کیلئے اصرار کررہے تھے۔ روسی قونصل بھی ان کے درمیان نقش حیرت بنا کھڑا تھا۔ سپاہیوں نے 800 گولیاں داغیں جن میں سوائے ایک کے سبھی گولیاں باب کے پیروں کے جسم میں پیوست ہوگئیں۔ اس ایک گولی نے جو خطا ہوگئی تھی اسی رسی کو کاٹ ڈالا جس کے ساتھ باب کھمبے سے باندھا ہوا تھا۔ گولیوں کا دھواں چھٹا تو لوگوں نے دیکھا کہ گولیوں سے چھلنی ہوا باب کا پیرو کھمبے کی جڑ میں ڈھیر تھا اور گولی کے ذریعے رسی کٹ جانے کی وجہ سے باب بچ کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ کچھ سپاہیوں نے ، جوباب کو پہچانتے تھے لیکن اپنے کمانڈر کی نیت سے بے خبر تھے ، باب کو دیکھا اور اسے گولیوں سے بھون ڈالا۔ یہ دیکھ کر روسی قونصل غش کھا گیا اور اس کی آنسو بھری آنکھوں نے سازش کا راز فاش کردیا۔ باب کی لاش جنگلی جانوروں کا لقمہ بننے کیلئے ایک کھائی میں پھینک دی گئی۔
    "الکواکب الدریہ فی تاریخ ظہور بابیہ والبہائیہ" نامی کتاب کے مطابق ، جو کسی بابی کی ہی تصنیف ہے اور 1343 ھ میں قاہرہ سے طبع ہوئی ، روسی قونصل نے اپنی حکومت کو بھیجنے کیلئے باب کی لاش کا فوٹو لیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    قرۃ العین کی گرفتاری اور بغداد میں جلاوطنی
    گورنمنٹ نے قرۃ العین کو گرفتار کرکے بغداد میں جلاوطن کردیا جہاں وہ شبل الکاظمی کے گھرمیں مقیم ہوئی، لیکن چونکہ اس نے کاظمی کے عقائد خراب کرکے اس کا رجحان بابی مذہب کی طرف کردیا اس لیے بغداد کے گورنر نجیب پاشا نے اسے وہاں سے ہٹ کر بغداد کے مفتی اور مشہور "تفسیر" کے مصنف شہاب الالوسی کے یہاں انہیں کی نگرانی میں رہنے کا حکم دیا۔
    لیکن جب بشروئی باب الباب نے مسلح بغاوت شروع کی اور بابیوں کی سرکشی بڑھ گئی اور انہوں نے باب کو سزائے موت دینے کی پاداش میں خود شاہ ایران کو قتل کرنے کی کوشش کی تو شاہ نے بھی نہایت سخت جوابی اقدام کیا اور انہیں نیست ونابود کرنے کی ٹھان لی۔ ان کی کثیر تعداد ماری گئی قرۃ العین بھی ان لوگوں میں شامل تھی جنہیں 1265-1264 ھ (1882ء) میں ختم کردیا گیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بابی مذہب سے بہائی مذہب کی طرف
    باب کے قتل کے بعد روسیوں نے اس کے پیرووں میں سے اس کا جانشین منتخب کرنے کی کوشش کی۔ روسی جاسوس کنیازدالگورکی اپنے تذکرہ میں تحریر کرتا ہے: "میں نے تہران میں اس کے قتل کے بارے میں سنا۔ اس لیے میں مرزا حسین علی البہاء اور کچھ دوسرے لوگوں کو جنہوں نے باب کو نہیں دیکھا تھا کچھ شور و غوغا کرنے پر اکسایا۔ کچھ مذہبی جنونیوں نے شاہ ناصر الدین پر گولی چلادی جس کے نتیجہ میں گورنمنٹ نے حسین علی البہاء اور میرے کچھ معتمد لوگوں سمیت بہت سے لوگوں کو گرفتار کرلیا۔ میں نے ان کا دفاع کیا اور بڑی مشکلوں کے بعد ہم ان کی معصومیت اور بے گناہی ثابت کرسکے۔ مجھ سمیت سفارت خانہ کے ملازمین نے شہادت دی کہ یہ لوگ بابی نہیں تھے۔ اس طرح ہم ان کی جان بچانے میں کامیاب ہوسکے اور انہین بغداد بھجوادیا۔ میں نے مرزا حسین علی سے کہا: اپنے بھائی مرزا یحیی کو "المنتظر" بنادو اور اسے وہ شخص جسے خدا ظاہر کرے گا، پکارو۔ اسے کسی سے بات نہ کرنے دو اور تم خود اس کے سرپرست بن جاو۔ میں نے اس توقع کے ساتھ کہ کچھ نہ کچھ کرسکوں گا ان لوگوں کو کافی بڑی رقم دی۔" آگے چل کر کردالگورکی کہتا ہے: "بعد میں میں نے اس سے اس کے بیوی بچوں، رشتہ داروں اور سبھی قریبی لوگوں کو بھی بغداد میں اس کے پاس بھجوادیا تاکہ اس کے پیچھے یہاں کوئی بھی ایسی ہستی نہ رہ جائے جس کے بارے میں اسے فکر ہو۔ ۔۔ بغداد میں انہوں نے کچھ صورتیں بنائیں اور اس کے لیے ایک کاتب وحی مقرر کیا۔ میں نے ان کے لیے ایک پیغام اور باب کی کچھ کتابیں بھی بھیجیں جنہیں میں نے ترتیب دی تھی اور ان میں کہیں کہیں ترمیمات بھی کی تھیں۔ میں نے ان سے ان کتابوں کی بہت سی نقلیں تیار کرنے کے لیے کہا۔ وہ ہر ماہ کچھ لوحیں تیار کرتے اور انہیں ان لوگوں کو بھیج دیتے جو باب کے فریب میں آگئے تھے، تہران کے روسی سفارت خانہ کے کاموں میں یہ فرض بھی داخل تھا کہ لوحیں تیار کرے اور بابی مذہب کی خبر گیری بھی کرے"۔
    دالگورکی مزید کہتا ہے: "روسی حکومت اس پورے عرصے میں ان کی پشت پناہی کررہی تھی۔ اس نے ان کے لیے ایک مسکن اور پناہ گاہ بھی تعمیر کی۔۔۔ حقیقتا ہمارے سوا یہ فرقہ امداد اور سہارا ڈھونڈ بھی کہاں سکتا تھا"۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    باب کے پیرووں میں باہمی اختلاف
    حسین علی ماز ندرانی نے بغداد میں سکونت پذیر ہونے کے بعد ایران سے فرار ہو کر عراق آنے والے بابیوں کی قیادت سنبھالنے کیلئے راستہ ہموار کرنا شروع کیا، لیکن ان کے ایک گروہ کو اس کی قیادت قبول نہ تھی۔ انہوں نے اس کے بھائی یحیی مازندرانی کو اپنا قائد بنایا۔ جو لوگ ایران میں چھپے پھر رہے تھے، انہوں نے دونوں میں سے کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ اس طرح بابی تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے جن میں سے ہر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار تھا۔ شاہ ایران نے محسوس کیا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ بابی اس کی حدود سے دور بغداد میں مقیم تھے۔ پھر بھی وہ اس کی حکومت کے لکے سخت خطرہ بن سکتے تھے۔ اس لیے اس نے عثمانی خلیفہ سے درخواست کی کہ انہیں بغداد سے ملک بدر کردیا جائے۔ عثمانی خلیفہ نے یہ درخواست منظور کرلی اور حسین ویحیی مازندرانی اور ان کے پیرووں کو استنبول میں جلاوطن کرنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ ۱۲۸۱ ھ (۱۸۶۴ء) میں پیش آیا۔
    جب انہیں ملک بدر کئے جانے کیلئے نجیب پاشا کے باغ میں جمع کیا گیا تو حسین مازندرانی نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اعلان کیا کہ وہ ہی "الموعود" تھا جس کی آمد کا پیش خیمہ باب تھا۔ اور یہ کہ ظہور باب کا مقصد ہی یہ تھا کہ لوگوں کو بہاء اللہ کے ظہور کیلئے تیار کیا جائے، جیسے ہی یہ لوگ استنبول پہنچے، ایرانی سفیر نے درخواست کی کہ انہیں کہیں دور دراز کے مقام پر بھیجا جائے۔ چنانچہ چار مہینے بعد انہیں ایڈریانوپل بھیج دیا گیا۔ یہاں دونوں بھائیوں کے درمیان اختلاف بہت بڑھ گئے۔ یحیی کے پیرو "ازلی" کہلاتے تھے کیوں کہ اس کا لقب "صبح ازل" تھا اور حسین کے پیرو "بہائی" کہلائے کیوں کہ اس نے بہاء اللہ کا لقب اختیار کیا تھا۔
    حسین نے اپنے بھائی یحیی سے پیچھا چھڑانے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ اس نے اسے زہر دینے کی کوشش کی اور جب اس میں ناکامی ہوئی تو اس کے قتل کی کوشش کی گئی۔ یحیی نے شدومد کے ساتھ اپنے بھائی کی مذمت کرنی شروع کی، اسے "عصیاں" اور "گئوسالہ" پکارنا شروع کیا۔ ایک باس اس نے اپنے ایک پیرو کو لکھا کہ وہ "الصبح" تھا اور خدا اس میں حلول کرگیا تھا۔ اور کہا: "جو کچھ ہم نے تمہارے لیے ظاہر کیا ہے اسے لے لو اور مضبوطی کے ساتھ اسے پکڑلو اور "عصیاں" سے دور بھاگو تاکہ تم پر رحم کیا جاسکے۔ اللہ کا نور دیکھنے کے بعد جن لوگوں نے گئوسالہ کا انتخاب کیا وہ یقینا اصنام پرست ہیں۔" عثمانی حکومت نے ایک پیرووں کو دوسرے کی جاسوسی پر مامور کردیا۔

     
    Last edited: ‏ستمبر 16, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    حسین مازندرانی عکہ میں
    حسین مازندرانی عکہ پہنچنے پر چار مہینے تک جیل میں بند رہا، لیکن فریمیسن اور صہیونی تحریک اس کی مدد کو پہنچی اور اس کے نئے مذہب کی دعوت کی تشہیر کے لیے اسے بے حساب روپیہ پیسہ دیا۔ لہذا چار مہینے پورے ہونے سے پہلے ہی اسے جیل سے رہا کردیا گیا۔ آزادی حاصل ہوتے ہی اس نے اپنے بھائی کے ان پیرووں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا منصوبہ بنایا جو عثمانی حکومت نے اس پر جاسوسی کے لیے مسلط کردئیے تھے۔ اس نے رات کے وقت ان سب کو برچھیوں اور چھروں سے قتل کرڈالا۔ حکومت کو سبھی بہائیوں کو عکہ میں ایک کیمپ میں رکھنا پڑا، لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کو مع اہل وعیال ایک دلکش مکان میں اور اس کے پیرووں کو ایک دوسرے مکان میں متنقل کردیا گیا۔ اسے مہمانوں سے ملاقات اور گفتگو کی بھی اجازت دے دی گئی۔
     
  17. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    حسین مازندرانی اپنا نیا فرقہ وضع کرتا ہے
    حسین مازندرانی نے پہلے دعوی کیا کہ وہ باب کا متولی تھا اور کا یا "القائم" کا جانشین تھا پھر اس نے دعوی کیا کہ وہ خود "القائم" تھا۔ پھر کہا کہ وہ مسیح تھا۔ بعد میں اس نے یہ دعوی کیا کہ وہ نبی تھا، لیکن اس نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ یہاں تک پہنچا کہ خدائی کا دعوی کربیٹھا۔ اس نے کہا کہ وہ آسمانوں اور زمین کا خدا ہے اور یہ کہ حقیقت الہیہ اس میں حلول کرکے کمال بدیہی کو پہنچی۔ صیہونیت نے اسے اس کا لقب بہاء اللہ فراہم کیا جو کتاب زبور میں بیان کیا گیا ہے: آسمان "اللہ کی شان و شوکت" (بہاء اللہ) بیان کرتے ہیں۔ لہذا اس نے یا صیہونیوں نے دعوی کیا کہ وہ شان وشوکت (البہاء) تھا، اور یہ کہ وہ اللہ کا اکمل ترین مظہر تھا اور یہ کہ وہ ہر زمانہ کے لیے "الموعود" تھا، اور یہ کہ اس کا ظہور ساعت کبری تھا، اس کا کھڑا ہونا قیامت تھا، اس سے متعلق ہونا جنت تھا اور اس کی نافرمانی دوزخ۔ بابی مذہب کا جو مسئلہ بھی اس کے موافق نہیں تھا وہ اس نے منسوخ کردیا۔
     
  18. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    حسین مازندرانی کی کتابیں اور رسائل
    اپے بغداد میں قیام کے دوران حسین نے ایک کتاب لکھنی شروع کی تھی جس کا نام رکھا تھا "الایقان"۔ اس کتاب کی تصنیف کا مقصد یہ تھا کہ باب کے مہدی ہونے اور خود اپنے بارے میں اس کے جو دعاوی تھے ان کو مسلمہ حیثیت دی جاسکے۔ اور اس کتاب کی تصنیف کا سبب خود اس کے قول کے مطابق یہ تھا کہ اس کے ماموں نے حقیقت باب کے بارے میں اس سے سوال کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ شروع میں اس نے اس کتاب کا نام "نسخہ خال" رکھا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ کتاب بدرجہ مجبوری لکھی تھی اور یہ کہ اس موضوع پر لکھنا اس کے خیال کے مطابق گناہ عظیم تھا۔ اس سلسلہ میں وہ کہتا ہے:"جناب کے تئیں فرط محبت کے سبب یہ توضیح کی گئی ہے"ْ۔ پھر وہ کہتا ہے: "یہ بندہ ۔بذات خود۔ ایسے موضوعات میں مشغولیت کو گناہ عظیم و نافرمانی کبیر خیال کرتا ہے"۔
    (غور کیجئے کہ اس نے خود کو "بندہ" بیان کیا ہے، لیکن بعد میں وہ یہ بھول گیا اور اللہ ہونے کا دعوی کر بیٹھا) الایقان 1352 ھ میں مصر میں طبع ہوئی۔ اوعر اس تمام تضاد بیانی اور دروغ بافی کے باوجود جو اس میں بھری ہوئی ہے، بہائی دعوی کرتے ہیں کہ تمام انبیاء و مرسلین کے صحیفے اس میں شامل ہیں۔ پھر بھی دونوں بدبخت بھائی حسین اور یحیی مازندرانی "الایقان" کے دعویدار ہیں۔ دونوں ہی مدعی ہیں کہ یہ کتاب ان کی تصنیف ہے۔ یحیی نے قبرس میں دعوی کیا کہ اس نے یہ کتاب فارسی میں تحریر کی تھی جبکہ حسین کا قول ہے کہ یہ اس پر بذریعہ وحی نازل ہوئی۔
     
  19. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    الاشراقات
    اس سے منسوب تصنیفوں مین سے کچھ رسائل کا ایک مجموعہ ہے جسے "الاشراقات" کہتے ہیں۔ اس کا ایک ترجمہ 1443 ھ (کتاب میں غلطی ہے شاید اصل تاریخ 1343ھ ہے) میں مصر میں طبع ہوا۔ یہ محض کچھ حکایات اور ان شکایات وغیرہ کا مجموعہ ہے جو اس کو اپنے بھائی یحیی کی مخالفت کی وجہ سے تھیں۔

    مجموعہ الواح
    جن کتابوں کو بہائی الہامی بتاتے ہیں ان میں الواح کا یہ مجموعہ بھی شامل ہے۔ یہ کتاب 1338 ھ میں مصر میں طبع ہوئی۔
    اس کتاب کے صفحہ 121 پر"وہ ہی بلند ترین افق سے دیکھنے والا ہے" نامی لوح میں وہ عبدالوہاب نامی شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: "اے عبدالوہاب! اگر تم میری ندائے شیریں میں اور میرے اعلی قلم کے چرچراہت میں کشش محسوس کرو تو کہو: الہی الہی !۔۔۔۔۔۔۔۔ اے میرے اعلی قلم زبان فصیح کو زبان نورانی میں تبدیل کردے"۔
     
  20. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    کتاب الاقدس
    بہائیوں میں اس کتاب کو سب سے اعلی مقام حاصل ہے۔ حسین نے یہ کتاب اپنے پیرووں کے مسلسل اصرار پر، جو اسے اپنا رب اور اللہ سمجھتے تھے، اپنی زندگی کے آخری ایام میں فوت ہونے سے کچھ عرصہ قبل عکہ میں لکھی تھی۔ انہوں نے اس سے کہا کہ وہ ایسی کتاب لکھ دے جو ان کے اپنے رب کی عبادت کا طریقہ بتائے۔اس نے اپنے بیٹے عباس کے تعاون سے، جسے "عبد البہاء" کہا جاتا تھا، کچھ مہمل اور مضحکہ خیز من گھڑتیں، اکاذیب، خرافات اور واہمات اکٹھی کیں اور انہیں اس کتاب میں جمع کردیا جس کا نام حسین مازندرانی نے "الاقدس" رکھا اور دعوی کیا کہ یہ کتاب جملہ کتب سابقہ اور احکام کو فسخ کرتی تھی۔ یہ کتاب سب سے پہلے 1349ھ (1931ء) میں بغداد کے الادب پریس میں طبع ہوئی۔ یہ درمیانی سائز کے 53 صفحات پر مشتمل تھی، اس کے آخری صفحہ پر یہ عبارت درج ہے: "اللہ المقتدر، العزیز، المختار کے عہدہ میں تحریر شدہ"۔ مصنف قرآن کی نقالی کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ایک آیت کے کسی حصہ کو دوسرے آیت کے کسی حصے کے ساتھ جوڑ دیتا ہے یا اپنی طرف سے ایسے انداز میں کچھ اضافہ کرتا ہے جو خود مصنف کو شرمادے اور مصنف کی قرآنی زبان سے لاعلمی کے ناقابل تردید ثبوت کے طور پر نمایاں نظر آئے۔
    ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف کا اولین مقصد حسین مازندرانی کی الوہیت وربوبیت کو تسلیم کرانا، فلسطین میں ایک یہودی قومی وطن کے قیام کی دعوت دینا اور صیہونیت کی تبلیغ کرناتھا۔ اس نے اسلامی شریعت کی منسوخی کے لیے بہائیوں کے واسطے کچھ احکام بھی مقرر کئے۔ مثال کے طور پر، اس نے حکم دیا کہ نماز میں 9 رکعتیں ہونی چاہیئں، بغیر یہ بتائے کہ کس طرح، اور یہ کہ قبلہ ادھر ہوگا جہاں حسین مازندرانی ہوگا یا عکہ یا حیفہ ہوگا۔ اس نے نماز جنازہ کے سوائے ہر باجماعت نماز بند کرادی۔ اس نے حکم دیا کہ حائضہ کو 95 بار صفائی کے بعد پاکی حاصل کرنی چاہیے اور یہ کہ مسافر کے لیے صرف ایک ہی سجدہ کافی ہے۔ اور اسی طرح کے احکامات جو کہیں باب کے احکامات سے متفق تھے اور کہیں مختلف۔
    اس نے ان لوگوں پر بڑے سخت حملے کئے جو "البیان" کی پیروی کرتے تھے جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ باب کی تصنیف تھی۔
    کیونکہ یہ کتاب بہائیوں کے لیے دین ک حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس کی تضاد بیانیوں، دروغ بافیوں، دعووں اور ساتھ ہی صیہونی دعوت کی مثالیں پیش کرنا ضروری اور عین مصلحت ہے۔ چونکہ یہ کتاب پیراگرافوں پر مشتمل ہے۔ اس طریقہ سے مصنف نے قرآنی آیات کی نقالی کی کوشش کی ہے۔ اور حاشیہ پر پیراگرافوں کے نمبر دئیے گئے ہیں (کل 416 پیراگراف ہیں) ہم نے بھی درج ذیل پیراگرافوں میں سے ہر ایک پیراگراف کے سامنے اصل کتاب میں مندرجہ نمبردیا ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں