پچھنا لگوانا (حجامہ ) کے حوالے سے ایک غلط فہمی یا حقیقت

ابوعکاشہ نے 'صحت و طب' میں ‏اگست 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    السلام علیکم !

    پچھنا لگوانا یا (عربی میں حجامہ ) کروانا نبی ﷺ کی صحیح احادیث سے ثابت ہے اور سنت ہے ـ

    حدثنا مروان بن شجاع حدثنا سالم الأفطس عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما قال الشفاء في ثلاثة شربة عسل وشرطة محجم وكية نار وأنهى أمتي عن الكي
    (حدیث)

    "ہم سے مروان بن شجاع نے بیان کیا ، ان سے سالم افطس نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شفاء تین چیزوں میں ہے پچھنا لگوانے میں ، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں مگر میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں "

    لیکن ایک غلط فہمی لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ کوئی شخص اگر ایک بار حجامہ کروا لے تو اس کو باربار کروانا پڑتا ہے ـ کیا یہ سچ ہے ؟کسی کو تفصیلات معلوم ہوں تو ذکر کردے ـ جزاکم اللہ خیراـ

    حجامہ کے فوائد اور طریقہ کار پر ایک بلاگ بھی موجود ہے جو چاہے استفادہ کرسکتا ہے ۔
    http://www.alhijamah.com/tib-e-nabvi.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
    • مفید مفید x 1
  2. جمیل

    جمیل ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2009
    پیغامات:
    750
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • مفید مفید x 1
  3. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,849
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ایسی کوئی بھی بات درست نہیں ہے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ جس نے ایک بار حجامہ کروا لیا اس کو بار بار کروانا پڑتا ہے، تاہم میرے ایک جاننے والے ہیں جنہوں نے حجامہ کروایا اور وہ بتاتے ہیں کہ مجھے اس سے اتنا سکون ملا ہے کہ میں ایک سال بعد تقریبا ایک بار حجامہ کروا لیتا ہوں تاکہ طبیعت میں جو طمانیت حجامہ کے بعد محسوس ہوتی ہے اور کو پا سکوں۔
    لیکن مجھے اس کی حاجت کبھی محسوس نہیں ہوئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    ہمارا بھی یہی خیال تھا، لیکن سوال میں شفاء کی امید ہوتی ہے.. جہاں تک ضرورت یا حاجت کی بات ہے، اس کا کوئی تعلق نہیں، پھر بھی کرواتے رہنا چاہیے. جیسا کہ آپ نے ایک مثال بیان کی.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,849
    بالکل صحیح کہتے ہیں
    لیکن کرنے والا بھی کوئی ماہر ہونا چاہئے.
    نہیں تو لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں.

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے ۔ ہمارے ہاں تو ایسے ماہر لوگ موجود ہیں ۔ پاکستان میں ایسے لوگوں کو تلاش کرکے اگر ان تک لوگوں کی رسائی کردی جائے تو اس اندیشہ سے چھٹکارا مل سکتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,849
    لیکن میں نے سنا ہے کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں ماہر لوگ ہیں جیسے اسلام آباد لاہور وغیرہ میں.


    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
  8. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    السلام علیکم!

    جی بھائی، حجامہ کے بارے میں یہ غلط فہمی ہی ہےکہ حجامہ ایک بار کرواو تو بار بار کروانا پڑتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    مزید حجامہ کے بارے میں تحقیق مزید کی تو کچھ باتیں علم میں آئیں، مناسب سمجھا کہ شئیر کرتا چلوں

    • پاکستان میں حجامہ کے اکثر معالج محض واجبی ٹریننگ کے بعد اس 'پیشہ' کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ گرچہ باقاعدہ ٹریننگ یافتہ بھی موجود ہیں لیکن کم ہیں
    • میری ناقص رائے میں حجامہ کرنے کے لیے موضوع ترین وہ شخص ہو گا جو کہ میڈیکل کا بنیادی علم رکھتا ہو، نیز hygiene اور ڈسپوذ ایبل سامان کا خیال رکھتا ہو،
    • مختلف بیماریوں سے واقف اور میڈیکل رپورٹس پڑھنے پر قادر ہو نیز اس نے حجامہ لگانے یا کرنے کا کام ایک ہفتے میں ہی نہ سیکھا ہو بلکہ باقاعدہ ٹریننگ لی ہو
    • سب سے ضروری یہ کے حجامہ کرنے والا اس سلسلے میں وارد ہونے والی احادیث سے واقفیت رکھتا ہو
    • چونکہ حجامہ کرنے والے کے پاس جادو یا جن سے متاثر شخص بھی آ سکتا ہے اس لیے وہ کم از کم دین کی مبادیات پر عمل پیرا، شرعی اذکار کرنے والا اور 'رقیہ الشرعیہ' کو جاننے والا ہو
    • میری ذاتی رائے میں جو نیاequipment آیا ہے حجامہ کے لیے وہ آگ کی مدد سے حجامہ کے cupکو خالی کر نے سے بہتر ہے[​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    مدینہ الرسول ﷺ میں ایک جگہ ڈاکٹریہی equipment استعمال کرتے ہیں ۔ شاید پاکستان میں ابھی آگ کا طریقہ ہو
     
  12. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    پاکستان میں دونوں ہی طریقہ کار مستعمل ہیں، مجھے ذاتی طور پر یہ زیادہ اچھا لگا کہ یہ زیادہ آسان ہے معالج اور حجامہ کروانے والوں کے لیے اور سب کچھ ڈسپوز ایبل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    السلام علیکم

    حجامہ پر آگ والا طریقہ ہی استعمال میں لایا جاتا تھا اور شائد اب بھی ہو، اس پر کناروں والی گڑوی استعمال میں لائی جاتی تھی آگ کچھ نہیں کہتی، آپ چاہیں تو شیشہ کا گلاس لے کر اس پر تجربہ کر سکتے ہیں۔ ایک کاغذ کو آگ لگائیں اور جلدی سے اسے گلاس میں ڈال دیں اور آگ بجنے سے پہلے جلدی سے اپنے بازو پر گلاس کو لگائیں فوراً آگ بجھ جائے گی اور گیس کی وجہ سے آپ کے بازو کا گوشت اس گلاس کے اندر کھینچنا شروع ہو جائے گا۔ پھر بعد میں گلاس کو آرام سے کھینچ کر نکال لیں۔ یہ طریقہ حکمت میں استعمال ہوتا تھا۔ اب یہ کپ آ گئے ہیں جس سے ویکیوم کیا جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ کاغذ کا گولہ بنا کر آگ نہیں لگانی بلکہ کھلے کاغذ کو ایک کنارے سے آگ لگانی ہے اور اسے گلاس میں ڈال کر فوراً بازو پر لگانا ہے۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    السلام علیکم!

    کیابدھ کے دن حجامہ کرواناممنوع ہے؟ اگراس دن اسلامی 17 تاریخ ہو تو پھر بھی ؟
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    سال کے ہر دن کروا سکتے ہیں۔ دنوں کی کوئی قید نہیں۔ بدھ والی حدیث کبار ائمہ کے نزدیک درست نہیں۔
    https://islamqa.info/ar/128170
     
    • مفید مفید x 2
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہ شرط اسلام سے ثابت نہیں ہے۔
    یہاں کچھ حجامہ کرنے والوں نے شرعی اذکار کی کیسٹس چلائی ہوتی ہیں۔ اوپر سے دھونی شریف کا دھواں شریف، کیا روحانی گیانی سماں ہوتا ہے۔ سموک الرجی والے مریض کا دین ہی مشکوک ہو جاتا ہے اگر وہ کہہ دے کہ یہ دھونی پرے کرو۔ بچے ہر بات آسانی سے کہہ دیتے ہیں۔ ایک بچی ماحول دیکھ کر کہنے لگی مجھے تو آپ سب جن لگ رہے ہیں۔
    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حجامہ کے دوران رقیہ شرعیہ کی کیسٹ یا سی ڈی اونچی آواز میں چلانا یا دھونی کا دھواں ہر مریض کے پھیپھڑوں تک پہنچانا کوئی دینی فریضہ نہیں بلکہ اس کے خلاف علماکے فتاوی موجود ہیں جن کا ذکر مجلس پر ایک بار پہلے ہو چکا ہے۔ جو لوگ یہ توہمات فی سبیل اللہ پھیلا رہے ہیں ان سے دردمندانہ گزارش ہے کہ دین کو وہی رہنے دیں جو وہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    جی، بالکل یہ تو خوامخوہ کا تکلف ہے، اس کا حجامہ سے کوئی تعلق نہیں۔
    ---------------------------

    میں نے جو بات کہی تھی کہ "چونکہ حجامہ کرنے والے کے پاس جادو یا جن سے متاثر شخص بھی آ سکتا ہے اس لیے وہ کم از کم دین کی مبادیات پر عمل پیرا، شرعی اذکار کرنے والا اور 'رقیہ الشرعیہ' کو جاننے والا ہو"
    وہ اس تناظر میں تھی کہ میں نے ایک حجامہ کرنے والے کو ایک وڈیو میں دیکھا کہ حجامہ کے عمل کےدوران مریض کے جسم سے جن بولنے لگا، واللہ اعلم (یہ کتنا سچ ہے)۔ اگر حقیقتا کسی کو ایسی صورت حال پیش آئے تواس سلسلے میں کہا تھا کہ وہ اپنا دفاع کرنے پر اور مریض کی بہتر مدد کرنے پر قادر ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن عام حالات میں دیکھا یہ گیا ہے کہ اگر لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ ہو جن یا جادو والا تو کسی جھاڑ پھونک والے کے پاس جاتے ہیں نہ کہ حجامہ کرنے والے کے پاس۔
     
    • مفید مفید x 1
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہ سب پبلسٹی کے طریقے ہیں۔ جن اصل میں بولنے لگیں تو ان سب کے کاروبار الٹائیں جو ان بے چاروں کے نام پر نجانے کس قسم کی خرافات بیچ رہے ہیں۔ سورۃ جن میں جنوں نے یہی کہا ہوا کہ ہمارے جن بھائی کچھ نہیں ہوتے انسان ان کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔ اس کو فارسی میں کہتے ہیں پیر ہوا میں نہیں اڑتا، مرید اس کو اڑا دیتے ہیں۔ دم اور حجامہ والے حضرات خود بھی اونچا اڑتے ہیں اور جنوں کو بھی اڑاتے ہیں۔ جعلی کام جتنا بھی مقبول ہو جائے ایک دن اس کی قلعی کھل جاتی ہے۔ ماضی کی بڑی بڑی "روحانی عملیاتی" کتابوں کی خاک اڑ چکی ہے۔ ان جعلی لوگوں کی حقیقت بھی کھل جائے گی۔ اصل اسلام کی حفاظت اللہ کرے گا۔
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    اس میں قباحت یہ ہے کہ پلاسٹک ویسٹ بہت زیادہ بنتا ہے جو ماحولیات کے لیے خطرناک ہے۔ قدرتی طریقے سے جونک لگا کر حجامہ کرنے والے لوگ کم از کم دنیا کا کوڑا نہیں بڑھا رہے تھے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں