" یہاں میں اپنے ایک اور ہمدرد کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ان کا نام نذیر احمد تھا۔ وہ کسی بنک میں کیشیر تھے، ان کی قابلیت کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی پیریڈ میں کوئی استاد موجود نہ ہوتے تو طلباء خود انہیں رہ نمائی کی دعوت دیتے۔ وہ تاریخ جیسی مشکل کتاب کا سبق بلا تکلف ذہن نشین کروا دیتے تھے۔ ہم سب کو یقین تھا کہ وہ یونیورسٹی میں اول آئیں گے۔ اس زمانے میں نتیجہ مقررہ وقت پر نکلتا تھا۔ نتیجے کی تاریخ داخلہ فارم پر لکھی ہوتی تھی۔ نتیجہ اورینٹل کالج کی بیرونی دیوار کے تختہ سیاہ پر چار بجے چسپاں کر دیا جاتا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنا نتیجہ دیکھنے کے بعد اول سے آخر تک ان کا نام تلاش کیا، مجھ سے پہلے کچھ اور ساتھی بھی تلاش کر چکے تھے۔ انہوں نے کہا وہ ناکام ہوگئے۔ سب چکرا گئے کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کا خط (ہینڈرائٹنگ) اس قدر خراب تھا کہ ان کے لیے خود بھی اپنی تحریر پڑھنا مشکل تھا۔ یہی بدخطی ناکامی کا سبب بنی تھی۔" حافظ نذر احمد بحوالہ سرگزشت ایام حافظ نذر احمد ترتیب و تدوین: سفیر اختر
یہ تو ایک ذہین انسان کے پرچے دیکھنے والے ممتحن کی سفاکی ہے۔ خط کتنا بھی برا ہو، اچھے ممتحن کو اتنا پتہ چل جاتا ہے کہ لکھنے والا کتنے پانی میں ہے۔ مجھے اپنی ایک طالبہ یاد ہے جس کا خط بہت خراب تھا، مشقی مقالے(اسائنمنٹ) اور مڈٹرم دیکھنے کے بعد بھی میں نے اس سے کہا کہ صاف لکھنے کی کوشش کریں، فائنل میں جب بھی اس کا پرچہ سامنے آتا میں اسے اور نیچے کر دیتی کہ اسے آخر میں دیکھوں گی۔ آخر میں اسے دیکھا اور حیرت کی بات کہ اس کے 85٪ سے زائد مارکس تھے۔ (مارکس کی اردو کیا ہوتی ہے؟) مجھے یقین ہے کہ اس کے لکھے ہوئے بعض الفاظ سمجھ آجاتے تو شاید میں اسے 90 فی صد بھی دے دیتی۔
اللہ کا شکر ہے میری ہینڈ رائٹنگ کی بہت لوگوں نے تعریف کی ہے(سوائے اردو کے، جسے دیکھ کر میں خود بھی حیران رہتا ہوں کہ کس بے چارے نے لکھا ہوگا)
ہمارے اساتذہ اور والد صاحب مرحوم نے بچپن میں تختی پر لکھائی کی مشق کروائ..الحمدللہ خوشنویسی اور خطاطی بھی مسمانوں کا ورثہ ہے.پہلے دور کے مدارس یہ فن بھی سکھاتے تھے.کمپیوٹر کی آمد سے یہ فن اور انفرادی لکھائی بھی بہت متائثر ہوئ.قلم /ہولڈر جس میں کٹی ہوئي نب ہوتی تھی اور تختی ناپید ہوکر رہ گئے ہیں.
جی سفاکی تو ہے لیکن استاد بے چارہ بھی کیا کرے اسے اپنی آنکھیں پھوڑنی پڑیں تو! بہرحال اتنی سختی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ خط کی وجہ سے نمبروں پر فرق پڑے۔ پھر بھی اکثر اساتذہ برے خط والوں کو نمبر کھینچ کر ہی دیتے ہیں۔ ذاتی تجربہ ہے : ( بورڈ کے امتحانات میں اکثر ہوتا ہے۔ لیکن اعلیٰ تعلیم میں ایسا کم ہوتا ہے۔