لفظ "إِلٰهَ" کا مطلب عربی لُغت کے مطابق کیا کیا ہے

انجینئر عبدالواجد نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اکتوبر، 4, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    218
    لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله
    لفظ "إِلٰهَ" کا لفظی مطلب عربی لُغت کے مطابق کیا کیا ہے؟
    "إِلٰهَ" کسے کہتے ہیں؟ ایک "إِلٰهَ " کن کن صفات کا حامل ہوتا ہے؟
    براہ مہربانی جتنے بھی ممکنہ مطالب موجود ہیں، وہ یہاں اس تھریڈ کے جواب میں لکھ دیں۔

    اگر کوئی ایسا تھریڈ پہلے سے ہی موجود ہے کہ جس میں اس موضوع پر گفتگو موجود ہے تو پھر براہ مہربانی اُس تھریڈ کا لنک مہیا کر دیجیے۔
    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,326
  3. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,471
    مولانا دوست محمد ہزاروی مرحوم اپنی تقریر میں الہ کا معنی مشہور نحوی سیبویہ کی زبانی بیان فرمایا کرتے تھے.~
    معنئ الٰہ گفت سیبویہ
    یولحون باالحوائج من لدیہ
    الہ اس ہستی کو کہا جاتا ہے جسے حاجات و مشکلات میں پکارا جائے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    218
    (نوٹ: یہ میں نے کسی اور فورم سے کسی اور کے لکھے تھریڈ سے کاپی اور پیسٹ کیا ہے)

    الہ کون: آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ، زندگی اور موت دینے والا

    قل يا ايها الناس انی رسول الله اليكم جميعا الذی له ملك السمٰوٰت والارض لا الٰه الا هو يحيی ويميت (الاعراف: 158)

    (اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔

    الہ کون: جس پر توکل کیا جائے، توبہ قبول کرنے والا

    قل هو ربی لا الٰه الا هو عليه توكلت واليه متاب (الرعد: 30)

    کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی الہ نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

    الہ کون: علم والا

    انما الٰهكم الله الذی لا الٰه الا هو وسع كل شيء علما (طه: 98)

    تمہارا للہ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی الہ نہیں، اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے

    الہ کون: زرق دینے والا

    هل من خالق غير الله يرزقكم من السماء والارض لا الٰه الا هو (فاطر: 3)

    کیااللہ کےسواکوئیاورخالق(اوررازقہے)جوتمکوآسماناورزمینسےرزقدے۔اسکےسواکوئی الہنہیںپستمکہاںبہکےپھرتےہو؟

    الہ کون: بادشاہی والا، عبادت کے لائق

    ذٰلكم الله ربكم له الملك لا الٰه الا هو فانىٰ تصرفون ( الزمر: 16)

    یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی (ملکیت) ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟

    الہ کون: ہمیشہ زندہ ، عبادت کے لائق، جس کو پکارا جائے

    هو الحی لا الٰه الا هو فادعوه مخلصين له الدين (المؤمن:65)

    وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔

    الہ کون: زندگی اور موت دینے والا،پالنے والا

    لا الٰه الا هو يحيی ويميت ربكم ورب آبائكم الاولين ( الدخان: 8)

    اس کےسواکوئی الہ نہیں (وہی)جلاتاہےاور(وہی)مارتاہے۔وہی تمہارااورتمہارےباپ داداکاپروردگارہے

    الہ کون: عالم الغیب و الشھادۃ

    هو الله الذی لا الٰه الا هو عالم الغيب والشهادة ( الحشر: 22)

    وہی اللہ ہےجسکےسواکوئی الہ نہیں پوشیدہاورظاہرکاجاننےوالاہے

    الہ کون: مشرق و مغرب کا رب، کارساز

    رب المشرق والمغرب لا الٰه الا هو فاتخذه وكيلا ( المزمل: 9)

    مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اس کے سوا کوئی الہ نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

    الہ کون: عبادت کے لائق، جس کا ذکر کیا جائے

    اننی انا الله لا الٰه الا انا فاعبدنی واقم الصلاة لذكری ( طه: 14)

    بےشک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی الہ نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھا کرو

    الہ کون: ہر چیز کا خالق

    ذٰلكم الله ربكم خالق كل شيء لا الٰه الا هو فانىٰ تؤفكون ( المؤمن: 62)

    یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو؟

    الہ کون: مشکل کشا

    فنادىٰ فی الظلمات ان لا الٰه الا انت سبحانك انی كنت من الظالمين ( الانبياء: 87)

    آخراندھیرےمیں( اللہ کو)پکارنےلگےکہ تیرےسواکوئی معبودنہیں بے شک میں ہی ظالمین میں سے ہوں

    مچھلی کے پیٹ سے نجات دینا والا ایک ہی الہ ہے اسی لیے یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا۔
    ام من خلق السمٰوٰت والارض وانزل لكم من السماء ماء فانبتنا به حدائق ذات بهجة ما كان لكم ان تنبتوا شجرها ء اله مع الله بل هم قوم يعدلون (النمل: 60)
    بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے
    یہاں الہ کے یہ اوصاف بتائے گئے ہیں:
    آسمانوں اور زمین کا بنانے والا
    بارش برسانے والا
    زمین سے چیزوں کا پیدا کرنے والا
    ان تمام اوصاف پر غور کریں تو ایک بات واضح نظر آئے گی کہ مخلوق میں سے کسی میں یہ قدرت نہیں وہ آسمان اور زمین بنا سکے، بارش برسا سکے یا زمین سے کھیتی یا درخت اگا سکے۔ یہ کام اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ ان کو مافوق الاسباب امور کہتے ہیں۔ آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سوال کیا ہے:ءاله مع الله کہ کیا تم لوگ اللہ کے علاوہ بھی کسی کو الہ مانتے ہو جو یہ سب کچھ کرسکے۔ بتایا جارہا ہے کہ ایسا کرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
    ام من جعل الارض قرارا وجعل خلالها انهارا وجعل لها رواسي وجعل بين البحرين حاجزا ء اله مع الله بل اكثرهم لا يعلمون (النمل: 61)
    بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ اللہ نے بنایا) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے۔
    اس آیت میں الہ کے یہ اوصاف بتائے گئے ہیں:
    زمیں کو پیدا کرنے کے بعد اس کو برقرار رکھنے والا
    زمین میں پانی جاری کرنے والا
    اس پر پہاڑوں کا بوجھ ڈال کر اسے برقرار کرنے والا
    دریاؤں اور سمندروں کو ملنے سے روکنے والا
    یہاں بھی وہی بات ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو یہ سب کام انجام دے سکتی ہے۔ یہ صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی میں نہیں ہیں۔ کسی اور کے لیے یہ ماننا اللہ کے ساتھ الہ ماننا ہے یعنی اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے۔
    امن يجيب المضطر اذا دعاه ويكشف السوء ويجعلكم خلفاء الارض ءاله مع الله قليلا ما تذكرون (النمل: 62)
    بھلا کون بے قرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو
    اس آیت میں الہ کے یہ اوصاف بتائے گئے ہیں:
    مشکل گھڑی میں جس کو پکارا جائے
    پکارنے والی کی پکار سننے والا
    مشکل کشا یعنی سختی اور پریشانی کو دور کرنے والا
    زمین پر خلیفہ بنانے والا
    بے قرار کی پکار کو سننا اور اس کی تکلیف کو دور کرنا، زمین میں خلیفہ بنانا یہ سب بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کرنے والی ہے۔ اس کے سوا کسی کے لیے ماننا اس کے ساتھ الہ ماننا ہے۔
    امن يهديكم في ظلمات البر والبحر ومن يرسل الرياح نشرا بين يدي رحمته ءاله مع الله تعالى الله عما يشركون۔ (النمل: 63)
    بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بتاتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں)۔ (یہ لوگ) جو شرک کرتے ہیں اللہ (کی شان) اس سے بلند ہے
    اس آیت میں الہ کے یہ اوصاف بتائے گئے ہیں:
    دریاؤں اور خشکیوں میں رہنمائی کرنے والا
    ہوا چلانے پر قادر
    یہ صفات بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی میں نہیں ہیں۔ مخلوق میں سے کسی میں ان اوصاف کو ماننا اس کی صفتوں میں شریک ٹھہرانا ہے جس کو شرک فی الصفات کہتے ہیں اور عام طور پر لوگ اسی شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مشرک بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو ایک ہی مانتا ہے لیکن اس کی صفات میں وہ بہتوں کو شریک کرتا ہے۔
    ولله الاسماء الحسنى فادعوه بها وذروا الذين يلحدون في اسمائه سيجزون ما كانوا يعملون (سورۃ الاعراف: 180)
    اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں، تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے۔
    حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں (مستدرک حاکم)۔ وہ سارے نام اللہ کے صفاتی نام ہیں یعنی اس جل و علا کی صفات بیان کرتے ہیں۔
    سورۃ نمل کی مذکورہ بالا آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات بیان کرنے کے بعد کہا گیا:
    تعالى الله عما يشركون
    (یہ لوگ) جو شرک کرتے ہیں اللہ (کی شان) اس سے بلند ہے
    یعنی اوپر بیان کیے گئے تمام امور اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ماننا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔ ان آیتوں کے بعد کی آیت یوں ہے:
    امن يبدا الخلق ثم يعيده ومن يرزقكم من السماء والارض ءاله مع الله قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين (النمل: 64)
    بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا۔ پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو
    اس آیت میں الہ کے یہ اوصاف بتائے گئے ہیں:
    تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا
    موت کے بعد دوبار زندہ کرنے والا
    رزق دینے والا
    یہ صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی میں نہیں ہیں۔
    مذکورہ آتیوں میں جتنے امور بتائے گئے ہیں یہ سب اللہ کی قدرت کے مظہر ہیں جو کسی بھی مخلوق کی قدرت سے باہر ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,326
    لفظ الہ کے معنی "رب" کے ہیں..انگلش میں god کہتے ہیں. زمانہ جاہلیت میں لات کے نام سے طائف کے قریب ایک بت ہوا کرتا تھا. جس کی مشرکین عبادت کرتے تھے . مشرکین نے لات کو الہ سے مشتق کیا. لفظ "الہ" فقط ایک نام ہے. کسی قسم کے معنی سے خالی ہے. اس لیے اس کے مقابلے اللہ عزوجل نے اپنے لیے اسماء "اللہ اور الرحمن" مختص کیے. یہ کمال اوصاف کے حامل نام ہیں. کفار نے اعتراض ان ناموں پر کیا تھا
    قال اللہ تعالی.

    قل ادعوا الله أو ادعوا الرحمن أيا ما تدعوا فله الأسماء الحسنى( الاسراء)
    اللہ کے نام سے پکارو یا الرحمن سے. یہ اللہ کے اچھے نام ہیں..
    اسی طرح یہ بھی اعتراض تھا..
    أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
    "یا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے"
    اس آیت میں اللہ عزوجل کو معبود برحق کے اثبات کے ساتھ جن خودساختہ خداؤں کی نفی گئی ہے. ان سب کو "الہ" کہ کر مخاطب کیا گیا ہے
    https://www.almaany.com/ar/dict/ar-en/الاله/
    لفظ" الہ " اللہ کے اسمائے حسنی میں شامل نہیں ہے. واللہ اعلم..
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,326
    لفظ "الہ" اللہ کے اسماء حسنی میں شامل نہیں. قرآن میں، کلمہ توحید وغیرہ میں ہرجگہ "الہ" جھوٹے خداؤں کی نفی کے لیے استعمال ہوا ہے، اللہ نے خود کو اسمائے حسنی. اللہ، الرحمن،.. جیسے کمال اوصاف کے حامل، کسی قسم کے نقص و شرک سے پاک ناموں سے ذکر کیا ہے. اس لیے اللہ کو" الہ" کہنا صحیح نہیں.اس تحریر میں بھی جہاں "الہ" لکھا ہے..اگر اس کو "اللہ" سے بدل دیا جائے تو پھر معنی و مفہوم صحیح ہو گا. ورنہ نہیں.
     
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,403
    میرے خیال میں "الی" کے ساتھ "ہو" کی ضمیر کے ساتھ "الہ" اسم اشارہ ہے جس کی طرف نسبت کر کے پکارا جائے اسی کے لئے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,326
    آیات میں الہ کے معنی مفہوم واضح ہیں. ضمیر منفصل کیساتھ. اردو زبان میں آلہ کون. مشکل کشا! کمال نہیں،نقص ہے جیسا کہ تفاسیر میں سلف سے نقل ہوا ہے.اس لیے صحیح یہی معلوم ہوتا ہے، اللہ کون.یا کون اللہ؟ مشکل کشا حاجت روا ،الخ.
     
    • مفید مفید x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں