شیعہ : اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن

ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏نومبر 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212


    شیعہ: اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن

    شیعہ کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کی کوشس کی ہے۔ وہ مسلمانوں کے چھپے ہوئے دشمن ہیں اس لحاظ سے وہ خارجی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ ان کی بنیاد ہی اسی لیے ڈالی گئی تھی کہ اسلام کو اندر سے تباہ و برباد کیا جائے۔آیئے تاریخ کی روشنی میں ان کی بعض کرتوتوں کا جائزہ لیتے ہیں جس سے ان کے اسلام دشمن ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔

    · ذو الحجہ 35 ھ / جون 656ع میں تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفان ذو النورین کو شہید کرنے والے لوگ عبد اللہ بن سبا کے پیروکار تھے جس نے شیعہ کی داغ بیل ڈالی ۔

    · 297 ھ / 909ع میں جب تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے خلافت عباسیہ کو ماننے سے انکار کیا اور خود خلافت کے قیام کا اعلان کیا وہ مغرب کی پہلی شیعی عبیدی حکومت تھی اور اس کا پہلا حاکم عبید اللہ بن حسین المہدی تھاجس نے اپنے کو مسلمانوں کا خلیفہ اعلان کیا ۔ اس طرح سے تاریخ میں پہلی بار اسلام کا اتحاد پارہ پارہ ہوا۔

    · ابو طاہر سلیمان بن حسن جنابی قرمطی جس نے 317 ھ /930 ع میں مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور اہل مکہ سمیت تیس ہزار حاجیوں کو خانہ کعبہ کے اردگرد قتل کیا۔ مسلمان عورتوں اور بچوں کو قید کیا۔خانہ کعبہ کے دروازہ کو اکھاڑ لیا اور حجر اسود کو نکال کے اپنے ساتھ لے گیا وہ بھی شیعہ تھا۔

    · چوتھی صدی ہجری/ دسویں صدی عیسوی میں بغداد پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرنے والے,خلافت بنو عباسیہ کو کمزور کرنے والے اور خلیفہ و خلافت سے کھلواڑ کرنے والے بنو بویہ بھی شیعہ تھے۔

    · 10 رمضان 485ھ / 14 اکتوبر 1092ع میں مشہور سلجوقی وزیر نظام الملک کو قتل کرنے والا شخص باطنی شیعہ تھا۔

    · 17 ذو القعدۃ 529 ھ / 29 اگست 1135 ع میں عباسی خلیفہ المسترشد باللہ کو قتل کرنے والے اور پھر اس کا مثلہ کرنے والے شیعہ تھے۔

    · 570ھ و 571 ھ /1174-1175 ع میں شیعہ نے دوبار سلطان صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے کی کوشس کی۔

    · 656 ھ/1258ع میں بنوعباسی خلافت کو ختم کرانے والے دو شیعہ مؤید الدین بن علقمی اور نصیر الدین طوسی تھے۔

    · یورپ میں عثمانی خلافت کے فتوحات کو روکنے والی حکومت کوئی اور نہیں صفوی شیعی حکومت تھی ۔

    · رجب 1218 ھ / اکتوبر 1803 ع میں درعیہ کی مسجد طریف میں پہلی سعودی سلطنت کے دوسرے سربراہ امام عبد العزیز بن محمد بن سعود کو عصر کی نماز میں بحالت سجدہ قتل کرنے والا شخص عثمان عراق کے شہر نجف کا رہنے والا شیعی تھا۔

    · 6 شوال 1170ھ/23 جون 1757 ع میں سراج الدولہ کے ساتھ اور28 ذو القعدۃ 1213 ھ/ 4 مئی 1799 ع میں ٹیپو سلطان کے ساتھ غداری کرنے والے میر قاسم و میر صادق شیعہ ہی تھے۔

    · ایران جو ایک شیعی ملک ہے وہاں پر سنی مسجد بنانے پر پابندی ہے جبکہ دیگر ادیان والوں کی عبادت گاہوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔اور ابھی حال ہی میں ایران کے دار السلطنت طہران میں موجود واحد سنی مسجد کو شوال 1436ھ / جولائی 2015 ع میں ڈھانے والے شیعہ ہی ہیں۔

    · حال ہی میں یمن میں آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے حوثی شیعہ ہیں جن کی وجہ سے آج یمن آگ کی جنگ میں جل رہا ہے۔ شیعوں نے یمن پر قبضہ کر لیا تھا لیکن سعودیہ کی بروقت مداخلت نے شیعی سازشوں کو ناکام بنادیا۔ ان شاء اللہ جلد ہی سعودیہ اور اس کے حلیف ممالک کی فتح ہوگی۔

    شیعی جرائم کے یہ چند نمونے ہیں جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیے ہیں ورنہ ان کے ظلم و جرائم کی داستان تو بہت لمبی ہے۔جو کتابوں کے علاوہ آجکل انٹرنٹ پر بھی متوفرہے۔جو لوگ تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں ان کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ بہت مفید ہوگا۔

    صفحات مشرقۃ من التاریخ الاسلامی ڈاکٹر علی محمد الصلابی , دوسری جلد , ص 71 سے ۷۷ دیکھیے جس کا عنوان ہے جرائم العبیدیین فی الشمال الافریقی۔

    دولۃ السلاجقۃ و بروز مشروع اسلامی لمقاومۃ التغلغل الباطنی و الغزو الصلیبی ڈاکٹر علی محمد الصلابی اس کتاب کے آخر میں ص ۶۰۱ سے 604 تک ان حکمرانوں , علماء اور قاضیوں کی فہرست ہے جن کو شیعہ نے صرف چھٹی صدی ہجری میں قتل کیا یا ان پر جان لیوا حملہ کیا۔

    معلوم ہوا کہ شیعہ اسلام اور مسلمانوں کے بہت بڑے دشمن ہیں ۔انھوں نے ہر دور اور ہر زمانہ میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کے اور مسلمان نام رکھ کے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے ۔ دشمنوں کا ساتھ دیاہے اور اندر ہی سے اسلام اور مسلمانوں کے بیخ کنی کی کوشس کی ہے۔ان کی مثال منہ سے رام رام بغل میں چھری کی طرح ہے۔ لہذا میری رائے میں ان سے کسی خیر اور بھلائی کی امید رکھنابالکل بیکار ہے۔اور آخر میں میں یہ بھی عرض کر دوں کہ صرف نام رکھ لینے سے کوئی مسلمان نہیں ہوجاتا ہے ۔قلبی تصدیق , اسلامی عقیدہ اور عمل ضروری ہے۔اس کی روشنی میں میری ایک تجویز ہے وہ یہ کہ اگر اس زمانہ کے اہل سنت و جماعت کے تمام گروہوں و مسلکوں کے بڑے علماء اور فقہاء کسی جگہ جمع ہوکے شیعہ کے تمام مذہبوں اور فرقوں کا تفصیلی مطالعہ کرکے کوئی متفقہ فیصلہ کرلیں اور ان کے بارے میں کوئی آخری فتوی جاری کردیں تو یہ امت کے اوپر بہت بڑا احسان ہوگا ۔ اور تمام مسلمانوں کا شیعہ کے بارے میں نقطہ نظر بھی ایک ہو جائے گا۔اور مسلمان ان کے شر و خطرہ سے ہوشیار ہو جائیں گے۔میری رائے میں شیعہ کے بہت سارے فرقوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے خصوصا وہ فرقے جو صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں۔ام المؤ منیں حضرت عائشہ پر تہمت لگاتے ہیں ۔قرآن میں تحریف کے قائل ہیں اور امین وحی حضرت جبرئیل کو خائن قرار دیتے ہیں۔وغیرہ نعوذ باللہ۔ایسے فرقوں کے کافر ہونے میں کیا شک ہے۔ اب وقت آگیا ہےکہ جلد از جلد اس بارے میں فیصلہ کر لیا جائے ۔ مزید تاخیر دن بدن مزید خسارہ کا باعث ہوگی ۔

    ختم شد۔الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • متفق متفق x 3
  2. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    217
    بہت خُوب!
    ان کا اصل چہرہ لوگوں کو ضرور دکھانا چاہیے۔
    اللہ آپ کے قلم میں برکت دے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    948
    جزاک اللہ!
    المیہ تو یہ ہے کہ کلمہ گو مسلمانوں کا ایک کثیرطبقہ شیعی افکارسے متاثر ہے اور آئے دن ہمیں اس کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں، ہمارے ادب، تاریخ، معاشرت، غرضیکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں انہوں نے اپنے مخصوص نظریات غیرمحسوس طریقے سے داخل کر دئیے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  4. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    آپ کی بات بالکل بجا ہے ۔ اسی لیے میں نے لکھا کہ شیعہ کے بارے میں پوری امت کی طرف سے ایک متفقہ فتوی جاری ہونا چاہیے تاکہ مسلمان دھوکہ میں نہ رہیں اور روز برز کا جھگڑا بھی ختم ہوجائے۔
     
    Last edited: ‏جنوری 9, 2017
    • متفق متفق x 2
  5. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    در حقیقت مصیبت یہی ہے کہ اکثر لوگ ان کے سیاہ کارناموں سے نا واقف ہیں ورنہ انھوں نے مسلمانوں پر بے انتہا ظلم ڈھائے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  6. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    217
    یہ شیعہ ہم سب کے لیے ایک "ٹیسٹ" یعنی فتنہ ہے۔
    اور کوئی بھی فتنہ ہوتا ہی اس لیے ہے کہ مسلمان اور منافق کی پہچان ہو سکے۔
    کھوٹے اور کھرے کی پہچان ہو سکے۔
    اصل اور نقل علیحدہ علیحدہ ہو جائیں۔
    اور مقصد ہر ایک مسلمان کا یہی ہے کہ مرتے وقت وہ اپنے ایمان کو ساتھ لے جائے۔
    ایمان کے بغیر نہ جائے۔ ورنہ انجام ہمیشہ کے لیے خراب ہو سکتا ہے۔
    '
    آپ جیسے لوگ ایک نعمت سے کم نہیں جو کہ لوگوں کو اس فتنہ سے آگاہ کر رہے ہیں۔
    اور اردو مجلس کا شکریہ کہ وہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ہم ایسے تمام فتن سے مسلمان قوم کو آگاہ کریں۔
    آپ اپنے اچھے کام کو جاری رکھیے گا۔
    ہمارا کام تو بس دیا جلانا ہے۔ باقی اللہ کی مرضی کہ یہ روشنی کہاں تک جائے گی۔
    اللہ کرے کہ اس "چور" کی ماں چھری تلے آئے۔
    '
    جی ہاں!

    '
    '
    ایران
    '
    وہی اس ساری بدمعاشی کا منبع ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    آپ نے حوالہ طلب کیا ہے۔ یہ تو بہت مشکل ہے کیونکہ بات بہت پرانی ہے۔ اس وقت کی بات ہے جب میں جامعہ سلفیہ بنارس میں زیر تعلیم تھا۔ اور شاید آپ جانتے ہوں کہ اسلامی مدارس میں زیر تعلیم طلباء کو خطابت کی مشق کروائی جاتی ہے۔چنانچہ ایسے ہی ایک خطابتی مجموعہ کا میں ہیڈ تھا اور میرا کام موضوع وغیرہ کا انتخاب کرنا تھا۔ لہذا ایک بار موضوع تلاش کرتے ہوئے ایک میگزین میں میری نظر اس ھیڈنگ پر پڑی جو میں نے اپنے مجوعہ کے لیے اختیار کرلیا۔گر چہ بعض طلباء خفا بھی ہوئے کہ اس موضوع پر مواد دستیاب نہیں ہے ۔ جہاں کہیں نظر پڑ گئ وہی متعین کردیا وغیرہ پھر بھی موضوع میں نے نہیں بدلا۔ اس پر تقریبا 25 سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے ۔لہذا حوالہ یاد نہیں ہے۔

    لیکن میں آپ سے ایک بات اور کہنا چاہوں گا کہ یہ ایک حقیقت اور سچائی ہے لہذا اس کے حوالہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ شیعہ کا اس قرآن پر ایمان ہی نہیں ہے ۔ وہ اس کے تحریف کے قائل ہیں۔قرآن کی تعلیم ان کے نصاب تعلیم میں شامل ہی نہیں ہے تو وہ پھر کہاں سے حافظ ہو جائیں گے۔ اور ایک سوال بھی ہے کہ کیا آپ نے کسی شیعہ قاری کا نام سنا ہے؟ کیا بازار میں شیعہ قاریوں کی کیسٹیں دستیاب ہیں ؟ کیا شیعہ کے یہاں تحفیظ کےمدارس ہیں؟ اور مان لیجیے کہ اگر دوچار حافظ ہیں بھی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائیگا کیونکہ شاذ کا اعتبار نہیں کیا جاتا ہے۔ شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  9. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    948
    شکریہ محترم ڈاکٹرصاحب بہت ہی عمدہ بات پتہ چلی ہے، شیعہ کے خلاف ایک اچھی دلیل ملی ہے کہ کہاں ان کے قرآن دانی کے دعوے اور کہاں یہ حقیقت کہ نوحے اور مرثیے تو بہت یاد ہیں لیکن قرآن نہیں،
    جزاک اللہ خیرا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. أبو مجاهد

    أبو مجاهد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2016
    پیغامات:
    57
    جزاك الله خيرا-اس لئے شیخ اسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے کہا کہ:رفيديا یہودیوں کے گدھوں ہیں، وہ ہر فتنہ کو ان پر سوار "[المنھاج سنت 1 / 20-21]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں