مصلحت پسندی یا منافقت

Bilal-Madni نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏نومبر 20, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,460
    اج امت مسلمہ کی غلامانہ ذہنیت یا مصلحت پسندی کی وجہ سے ہم جس فتنہ کا شکار ہے اس کا حل اللہ کے نبی کی سیرت میں جہاد فی سبیل اللہ کی صورت میں نظر اتاہے اس سے بھاگنے کو مصلحت پسندی نھیں منافقت کہتے ہیں،افسوس اج کا مسلمان جہاد کو فساد اور نفاق کو مصلحت کا نام دے کر خاموش ہےاور اس کا فائدہ خارجی اٹھا رہے ہیں مسلمان ملک کفار اور خارجیوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو رہے ہیں اور حکمران امت مسلمہ کفار کی اپنی جلائی ہوئی اگ میں جلنے پر صفایاں دیتے پھر رہے ہیں کے ہم تو اپ کے غلام ہے اپ مسلمانوں پر جتنی مرضی بمباری کر لے ہمیں کوئی اتراض نہیں، اس منافقت کا کیا جواب دے کے اللہ کو اج شام،عراق،کشمیر،افغانستان،برما کے مسلمانوں پر ہوتے ظلم پر جس طرح ہم عملی اقدامات نھیں کر رہے کل یہ اگ ہر ملک تک پھیل جائے گی اور کوئی مسلمان ملک محفوظ نھیں رہے گا "اللہ کے نبی نے فرمایا ایک وقت آئے گا کفار مسلمانوں پر ایسے ٹوٹ پڑے گے جیسے کھانے پر بھوکے ٹوٹ پڑتے ہے اس کی وجہ مسلمانوں کا دنیا سے محبت کرنا اور موت سے بھاگنا ہو گا " الله هم سب كو فتنه نفاق سے محفوظ رکھے اور اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کی توفیق دے آمین
     
    • متفق متفق x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,595
    فتنہ کا علاج صرف جہاد فی سبیل اللہ کی صورت میں نکالنا یا خلافت کی صورت میں ۔ یہ رائے شریعت کی رو سے درست معلوم نہیں ہوتا ۔ جبکہ احادیث میں ہے کہ فتن کے زمانے میں ان فتنوں سے دور رہنا اور اپنے آپ کو اور گھروالوں کوہرقسم کے فتنوں سے بچانے کا حکم ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 2
  3. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,460
    شیخ میں نے جس فتنہ کا ذکر کیا ہے وہ کفار کی طرف سے مسلم ملکوں پر حملوں سے متعلق ہے اور نبی صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں کفار کا مقابلہ اس صورت میں میدان جنگ میں جا کر کیا گیا ہے اور مسلم حکومتوں کو اگر میدان جنگ میں نکلنا قبول نھیں تو کفار کا ہمنوا بھی نہ بنے مگر ان کی بزدلی کی وجہ سے تکفیری فتنہ بھی مسلط ہو گیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,595
    جب تک مسلمان اندرونی فتنے میں مبتلا نا ہوں ۔ بیرونی فتنہ اثر نہیں کرتے ۔ کفار کے فتنے اپنوں کے پیدا کیے گئے فتنوں کا نتیجہ ہیں ۔ اور یہ اس وقت ختم ہو سکتے ہیں ۔ جب تک مسلم حکومتوں کے اندر فتنوں پر کنٹرول نہیں کرلیا جاتا ۔ ایسی صورت میں کفار سے جہاد کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,150
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,595
    کسی مصلحت کے تحت کفار سے صلح یا تعاون جائز ہے ـ آپ ﷺ کی زندگی میں ہی ایسی کئی مثالیں مل سکتی ہیں ـ یہود سے صلح اور صلح حدیبیہ کا واقعہ قابل ذکر ہیں ـ اگر کوئی مسلم حکومت فتنوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کسی دشمن اسلام سے صلح کرلیتی ہے تو یہ شرعا جائز ہے ـ یادرہے کہ اصل فتنہ وہی ہے جس کی خبر آپ ﷺ نے دی ـ کافروں کی ظلم و زیادتی ہمیشہ سے رہی ہے ـ یہ کوئی نئی بات نہیں ـ صبر و ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,713
    غلامانہ ذہنیت اور مصلحت ایک نہیں ہو سکتی ہے
    جو اپنے نفس کا غلام بنے اس کی غلامانہ ذہنیت ہو سکتی ہے
    جو اپنی محدود سوچ کا غلام ہو اس کی غلامانہ ذہنیت ہوسکتی ہے
    جو کسی کے ڈر سے غلامی کرتا ہے اس کی غلامانہ ذہنیت ہو سکتی ہے
    حالات کا مکمل جائزہ لے کر مشوروں کے بعد تمام کے حق میں سب سے بہتر فیصلہ لینے کو مصلحت کہا جاتا ہے جو جذباتی فیصلوں سے بہتر ہوتا ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,460
    ٰکفار سے معاہدہ اللہ کے نبی نے جنگ لگنے سے پہلے ہی کرے ہےمدینہ میں ان کی بد عہدی پر صبر نھیں جواب دیا ہے ۔اللہ کے نبی کی سیرت سے کفار کے جنگ کے ارادے کے پیش نظر ہی تبوک کا غزوہ پیشں ایا تھا اج کے دور میں فتنہ مسلم ممالک میں کفار ہی کے پیدا کردہ ہے ان کو ختم کرنا ہے تو ان کے بنانے والوں کو پکڑنا ہو گا پتے کاٹ کاٹ کر گزارہ نھیں ہو گا جڑ کاٹنے کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔۔داعش ،تحریک طالبان ،بوکوحرام ان سب کے پیچھے کفار کا ہاتھ ہےجو اکثر مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے کبھی اگر ان کے ہاتھوں کوئی کافر ماراجائے تو غم نھیں منانا چاہئے مسلم حکمرانوں کو
     
  9. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,460
    شام میں لڑائی رافضی اور مسلم کی ہے جس کو کفار نے اپنے مقصد کیلئے استعمال کرنا چاہا ہے مگر اب یہ ان کے گھر تک پہہنچ گئی ہے عرب ممالک نے بھی سنی گروہوں کو پیسہ دیا عراق اور شام میں لڑنے کیلئے مگر یہ مسئلہ اب ہاتھ سے نکل گیا ہے ان کے اللہ مسلم حکمرانوں کو غلطیوں سے سیکھنے کی توفیق دے امین
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,150
    مسلمان حکمران جنگ، صلح، معاہدے وغیرہ کا فیصلہ کرتے ہیں تویہ ان کا اجتہاد ہے جس میں ان کو غلط کہا جا سکتا ہے ان پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن ان کے اسلام اور نیت میں شک کرنا یا ان سے بغاوت کرنا غلط ہے۔ انن کی اطاعت اور ان کے لیے دعا کرنا ہمارا فرض ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں