توحید کورس ۔ لیول 1

اعجاز علی شاہ نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏دسمبر 10, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,325
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

    امابعد!
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بندہ ناچیز کسی زمانے میں المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد میں مختلف کورس پڑھتا رہا ہے۔ جو کورس میں نے پڑھا تھا وہ اردو میں تھا پانچ لیول کا تھا۔ سال میں دو لیول ہوتے ہیں۔ اس کورس میں مختلف چیزیں پڑھائی جاتی ہیں جیسے توحید، فقہ، حدیث ، قرآن، سیرت، دعوۃ اور عربی وغیرہ۔
    ان کے کورس کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ بنیادی چیزوں سے یعنی لیول 1 سے شروع ہوتا ہے اور پھر لیول 4 یا لیول 5 (ہر مکتب کا اپنا منشور ہوتا ہے) پر ختم ہوتا ہے۔
    کسی زمانے میں مجھے مکتب کی طرف سےInpage فارمیٹ میں کورس کی تقریبا تمام فائلز ملی تھی۔
    آج اللہ تعالی کی توفیق سے ان فائلز کو کنورٹ کرنا شروع کردیا ہے اور اس کورس سے عامۃ الناس کو فائدہ پہنچانے کیلئے یونی کوڈ پر کام شروع کرلیا ہے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو توحید کی سمجھ بوجھ عطا کرے اور ہمارے ذریعے توحید وسنت کا پیغام پہنچائے۔
    آمین یا رب العالمین!
     
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,325
    کلمہ لا الہ الا اللہ کا معنی اور اس کلمہ کی شرطیں
    لا الہ الا اﷲ جنت کی کنجی ہے اور ایسی کوئی کنجی نہیں مگر اس میں دانت ہوتے ہیں، پس اگر تم ایسی کنجی لیکر آئے جس میں دانت ہیں تو وہ کنجی تمہارے لئے دروازہ کھولے گی ورنہ بصورت دیگر وہ تمھارے لئے دروازہ نہیں کھول سکے گی ، تو آپ جان لیجئے کہ اس مفتاح یعنی لا الہ الا اﷲ کے دانت اس کی شرطیں ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

    (1) العلم بمعناہا (اس کلمہ کے معنی کا علم ہونا) :
    یعنی اﷲ کے علاوہ کسی دوسرے کے برحق معبود ہونے کی نفی کرنا اور صرف ایک اﷲ کے لئے معبود برحق ہونے کو ثابت ماننا۔ اﷲ کا فرمان ہے:
    فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ (سورۃ محمد:19)
    ترجمہ: یعنی تم اس بات کو خوب اچھی طرح جان لو کہ اﷲ کے علاوہ آسمانوں اور زمین میں کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔
    رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
    (من مات وہو یعلم انہ لا الہ الا اﷲ دخل الجنۃ) رواه مسلم
    ترجمہ: جو مر گیا اس حال میں کہ وہ جانتا تھا کہ اﷲ کے سوا کوئی دوسرا حقیقی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔


    (2) الیقین المنافی للشک (ایسا یقین جو شک کے منافی ہو) :
    یعنی اس کلمہ پر بغیر کسی شک کے دل کو یقین کامل حاصل ہو۔ اﷲ کا فرمان ہے:
    إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا (سورۃ الحجرات:13)
    ترجمہ: مومن تو وہ ہیں جو اﷲ پر اور اس کے رسول پر پکا ایمان لائیں پھر شک نہ کریں۔
    اور اﷲ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
    (اشہد ان لا الہ الا اﷲ و انی رسول اﷲ لا یلقی اﷲ بہا عبد غیر شاک فیحجب عن الجنة) رواه مسلم
    ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر صرف ایک اﷲ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اﷲ کا رسول ہوں، جو بندہ بغیر شک کئے ہوئے ان دونوں حکموں کے ساتھ اﷲ سے ملے گا تو وہ جنت میں جانے سے روکا نہیں جا ئے گا۔


    (3) القبول لما اقتضتہ لہذہ الکلمۃ بقلبہ ولسانہ (دل اور زبان سے اس کلمہ کا جو تقاضا ہے اسے قبول کرنا) :
    یعنی اس کلمہ پر بغیر کسی شک کے دل کو یقین کامل حاصل ہو۔ اﷲ کا فرمان ہے:
    اﷲ تعالی مشرکین کے سلسلے میں بطور حکایت بیان فرماتا ہے:
    إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ (35) وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (36) (سورة الصافات)
    ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں۔
    اور اﷲ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
    (أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمد رسول الله، ويقيموا الصلاة، ويؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام، وحسابهم على الله) متفق عليه
    ترجمہ: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اﷲ کا اقرار نہ کر لیں، جس نے یہ اقرار کر لیا اس نے اپنی جان اور مال کی حفاظت کر لی، ہاں مگر جو اس پر اسلام کا حق پہنچتا ہے، اور اس کا حساب اﷲ عز و جل کے اوپر ہے۔

    (4) الإنقیاد و الإستسلام لما دلت علیہ(یہ کلمہ جس پر دلالت کرتا ہے اس پر سر تسلیم خم کردینا اور اسے بجا لانا) :

    یعنی اس کلمہ پر بغیر کسی شک کے دل کو یقین کامل حاصل ہو۔ اﷲ کا فرمان ہے:
    اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
    وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ (سورۃ الزمر:54)
    ترجمہ: تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اسکی حکم برداری کئے جاؤ۔

    (5) الصدق المنافی للکذب (سچائی جو کذب کے منافی ہو) : یعنی وہ اس طرح کہ اس کلمہ کو صدق دل سے کہہ رہا ہو۔

    اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
    الم (1) أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (2) وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ (3) (سورۃ العنكبوت:54)
    ترجمہ: الم۔یا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائیں، ہم انہیں بغیر آزمائیں چھوڑ دیں گے۔ ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا، یقیناًاﷲ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں۔
    رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
    (ما من احد یشہد ان لا الہ الا اﷲ و ان محمدا عبدہ و رسولہ صدقا من قلبہ الا حرمہ اﷲ علی النار) متفق عليه
    ترجمہ: جس انسان نے صدق دل سے یہ گواہی دی کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر صرف ایک اﷲ اور اس بات کی بھی گواہی دی کہ محمد ﷺ اﷲ کے بندے اور رسول ہیں تو اس کو اﷲ تعالی نے جہنم کی آگ پر حرام کر دیا (یعنی وہ نار جہنم میں نہیں ڈالا جائے گا)۔

    (6) الإخلاص (اخلاص کا ہونا) :

    یعنی صالح نیت کی ساتھ عمل کو انجام دینا جس میں شرک کا ادنی بھی شائبہ نہ پایا جائے، اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
    وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (سورۃ البینۃ:5)
    ترجمہ: انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اﷲ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔
    رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
    (اشہد الناس بشفاعتی من قال لا الہ الا اﷲ خلصا من قلبہ او نفسہ) رواہ البخاری
    ترجمہ: لوگوں میں سے میری شفاعت کا مستحق ایسا خوش نصیب ہے جس نے اپنے دل یا نفس سے خلوص کے ساتھ لا الہ الا اﷲ کہا ہوگا۔
    نیز دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا:
    (ان اﷲ حرم علی الناس من قال لا الہ الا اﷲ یبتغی بذلک وجہ اﷲ عزوجل) رواہ مسلم
    ترجمہ: اﷲ تعالی نے جہنم کی آگ پر ایسے انسان کو حرام کر دیا جس نے لا الہ الا اﷲ کو اسلئے کہا تھا کہ اس کے ذریعہ اﷲ عزوجل کی خوشی مطلوب تھی۔

    (7) المحبۃ لہذہ الکلمۃ الطیبۃ ولما اقتضت دللت علیہ ولاہلہا العاملین بہا الملتزمین بشروطہا و بغض ما ناقض ذلک (اس کلمہ سے محبت ہو اور جس چیز پر یہ کلمہ دلالت کرے اور جو اس کلمہ کا مقتضی ہو اس سے محبت ہو نیز اس کلمہ پر عمل کرنے والے اور اس کی تمام شروطوں پر بالالتزام پابندی کرنے والے اور جو چیزیں اس کلمہ کو توڑنے اور نقض کرنے والی ہیں ان تمام چیزوں سے بغض اور نفرت کرنیوالوں سے محبت ہو) :

    یعنی صالح نیت کی ساتھ عمل کو انجام دینا جس میں شرک کا ادنی بھی شائبہ نہ پایا جائے، اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
    اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
    وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ (البقرۃ: 165)
    ترجمہ: بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اﷲ کے شریک آوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اﷲ سے ہونی چاہئے اور ایمان والے اﷲ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔
    رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
    (تلاث من کن فیہ وجد حلاوۃ الإیمان، ان یکون اﷲ و رسولہ احب الیہ من ما سواہما، و ان یحب المرء لا یحبہ الا ﷲ، و ان یکرہ ان یعود فی الکفر بعد اذانقذہ اﷲ منہ کما یکرہ ان یقذف فی النار) متفق علیہ
    ترجمہ: تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جن کے اندر پائی گئیں اس نے ایمان کی حلاوت کو پایا:
    (1) اﷲ عزوجل اور اس کے رسول اس کے نزدیک ساری چیزوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر محبوب ہوں،
    (2) کسی سے محبت صرف اﷲ کی خاطر کرتا ہے،
    (3) جب اﷲ عزوجل نے اس کو کفر سے نکال دیا تو پھر دوبارہ اس میں جانا ایسے ہی ناپسند کرے جس طرح یہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کو جہنم کی آگ میں جھونک دیاجائے۔

    (8) ان یکفر با الطواغیت و ہی المعبودات من دون اﷲ و یؤمن باﷲ ربّاً و معبوداً بحق (تمام طواغیت کا انکار اور انہیں باطل گردانے، اور طواغیت وہی باطل معبودان ہیں جو اﷲ کے علاوہ پوجے جاتے ہیں اور اﷲ پر ایمان لائے کہ وہی ہمارا رب ہی اور وہی ہمارا معبود برحق ہے):

    فرمان باری تعالی ہے:
    لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (سورۃ بقرۃ :256)
    ترجمہ: دین کی بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہو چکی ہے، اس لئے جو شخص اﷲ تعالی کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کر کے اﷲ تعالی پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا،اور اﷲ تعالی سننے والا جاننے والا ہے۔
    اور رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
    (و من قال لا الہ الا اﷲ و کفربما یعید من دون اﷲ حرم مالہ و دمہ) رواہ مسلم۔
    ترجمہ: اور جس شخص نے لا الہ الا اﷲ کہا اور انکار کیا ان چیزوں کا جو اﷲ کی علاوہ عبادت کی جاتی ہیں، تو اس کا مال اور اس کا خون محفوظ ہو گیا۔

     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,325
    محمد رسول اﷲ (ﷺ) کا معنی
    ہمارا ایمان ہے اس بات پر کہ آپ ﷺ اﷲ کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں، لہذا آپ ﷺ نے جو چیزیں ہمیں بتلائی ہیں اور جن چیزوں کی خبر دی ہیں ان کی ہم تصدیق کریں اور جن چیزوں کا آپ ﷺ نے حکم دیا ہے ان کو بجا لائیں اور آپ ﷺ کی اطاعت کریں، اور جن چیزوں سے آپ ﷺ نے روکا اور منع فرمایا ہے ان سے ہم باز رہیں اور انہیں ترک کردیں، اور اﷲ عزوجل کی عبادت آپ ﷺ کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق کریں، نیز ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہونا چاہئے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، اور آپ ﷺ کی رسالت تمام انسانوں اور جنوں کو شامل ہے۔
    • بیشک آپ ﷺ کے فرمودات اور منہیات کو قدر اور عظمت کی نگاہ سے دیکھنا اور آپ ﷺ کے طریقہ کو اپنی زندگی کے لئے لازم پکڑ لینا در حقیقت یہی تو اس کلمہ شہادت کے حقیقی معنی کی صحیح تعبیر ہے۔
    • اور یہی اﷲ سبحانہ و تعالی کے حکم کی سچی پیروی ہے کہ جس نے آپ ﷺ کو ساری کائنات انسانی کے لئے بشیر یعنی خوشخبری سنانے والا اور نذیر یعنی اﷲ کے عذاب سے ڈرانے والا اور اﷲ کے حکم سے لوگوں کو اﷲ کی طرف بلانے والا اور آپ ﷺ کو ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا، اﷲ کے نبی ﷺ کے سلسلے میں ہمارے اوپر کیا واجب ہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
    (1) آپ ﷺ کی تصدیق کریں:
    اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :

    وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ (سورۃ النجم: 3)
    ترجمہ: اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔

    (2) آپ ﷺ کی اتباع کریں:
    اﷲ تعالی کا فرمان ہے:

    قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (سورۃ آل عمران: 31)
    ترجمہ: اے نبی ﷺ! کہہ دیجئے اگر تم اﷲ تعالی سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اﷲ تعالی تم سے محبت کر ے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔
    اﷲ تعالی کا یہ قول:

    لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ(سورۃ الأحزاب :21)
    ترجمہ: یقیناًتمہارے لئے رسول اﷲ میں عمدہ نمونہ موجود ہے۔
    نیز اﷲ کا یہ قول :

    قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ(سورۃ الأعراف:158)
    ترجمہ: اے نبیﷺ! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اﷲ تعالی کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے ،اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، سو اﷲ تعالی پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی اُمی پر جو کہ اﷲ تعالی پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی اتباع کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ۔

    (3) آپ ﷺ کی محبت ہم سب پر فرض ہے:
    اﷲ تعالی کا ارشادہے :

    قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ( سورۃ التوبۃ :24)
    ترجمہ: اے نبی ﷺ! آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اﷲ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اﷲ تعالی اپنا عذاب لے آئے، اﷲ تعالی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
    اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

    (لا یؤمن احدکم حتی احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین) رواہ البخاری۔
    ترجمہ: تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ مجھے اپنے باپ اور اپنے بیٹے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر کہیں زیادہ عزیز ترین نہ سمجھے (یعنی سب سے بڑھ کر مجھ سے محبت کرے)

    (4) آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اﷲ کی عبادت کریں :
    اﷲ کا فرمان ہے :

    وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ (سورۃ النجم: 3)
    ترجمہ : اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔
    اور آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

    ( من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہو رد ) صحیح مسلم۔
    ترجمہ : جس نے دین میں ایسا طریقہ نکالا جس پر چلنے کا ہم نے حکم نہیں دیا ہے تو وہ کام مر دود ہے۔
    نیز فرمان رب ہے :

    مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ (سورۃ النساء :80)
    ترجمہ : اس رسول ﷺکی جو اطاعت کرے حقیقت میں اس نے اﷲ کی فرماں برداری کی ۔

    (5) آپ ﷺ کو کسی طرح کا کوئی غم یا تکلیف ہر گز نہ پہنچائیں:

    ار شاد باری تعالی ہے:

    وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ( سورۃ التوبۃ :61)
    ترجمہ : ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیغمبر کوایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کان کا کچا ہے،آپ ﷺکہہ دیجئے کہ وہ کان تمھارے بھلے کیلئے کے لئے ہے ،وہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ انکے لئے رحمت ہے،رسول اﷲ ﷺکو جو لوگ إیذا دیتے ہیں ان کیلئے دکھ کی مار ہے ۔
    اس ایذا سے مقصود معنوی طور پر وہ سب چیزیں ہیں جن کو یہ کلمہ شامل ہے مثال کے طور پر یہ إیذا رسول اکرم ﷺکی ذات مبارک سے متعلق ہو ، یا جس چیز کو آپ ﷺپر رب العالمین کی جانب سے اتارا گیا ، اس کی تحقیر واستہزا کر کے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچائی جائے ، یا آپ ﷺ کی سنتوں کا مذاق اڑا کر آپ ﷺکو تکلیف دی جائے ، یا آپ ﷺ کے اہل و اقارب کو ایذا دے کر آپ ﷺ کو تکلیف پہنچائی جائے ، یا آپ ﷺ کی پاکباز بیویوں کو جوامہات المومنین ہیں ایذا دیکر آپ ﷺ کو تکلیف پہنچائی جائے ، یا آپ ﷺ کے نیک خو صحابہ رضوان اﷲ علیہم أجمعین کو إیذاد ے کر آپ ﷺ کو تکلیف پہنچائی جائے وغیرہ وغیرہ ۔

    (6) نبی کریم ﷺ پر درود وسلام بھیجنا :
    فرمان رب ذوالجلال ہے :

    إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (سورہ الاحزاب:56)
    ترجمہ : اﷲ تعالی اور اسکے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجواور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو ۔
    سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ہے کہ

    (من صلی علی واحدۃ صلی اﷲ علیہ عشرا) رواہ مسلم ۔
    ترجمہ : جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجی اس پر اﷲ تعالی دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ہے (صحیح مسلم )
    اﷲکے نبی ﷺپردرود بھیجنے کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں ، حضرت کعب بن عجرہ رضی اﷲ عنہ کی حدیث میں ہے ، تم اس طرح سے درود بھیجو

    ( اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی اِبْرَ اھِیْمَ وَعَلَی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اَللَّھُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلَی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّک حَمِیْدٌ مَجِیْد (صحیح البخا ری)
    ترجمہ : اے اﷲ رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آل محمد ﷺ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی إبراھیم پراور آل إبراھیم پر بیشک تو حمد والا بزرگی والا ہے، اے اﷲ برکت نازل فرما محمد ﷺ پراور آل محمد ﷺپرجس طرح تو نے برکت نازل فرمائی إبراھیم پر اور آل إبراھیم پر بیشک تو حمد والا بزرگی والا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں