تفسیر سعدی سے خوشہ چینی (سورہ الفیل ، سورہ قریش)

عبد الرحمن یحیی نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏دسمبر 10, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    2,319
    تفسیر سورۃ الفیل
    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
    أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ﴿١﴾ أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ ﴿٢﴾ وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ﴿٣﴾ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ ﴿٤﴾ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ ﴿٥﴾
    کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ (1) کیا ان کے مکر کو بےکار نہیں کردیا؟ (2) اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے (3) جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے (4) پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا (5)
    کیا آپ نے اللہ تعالٰی کی قدرت،اس کی عظمت شان ، اپنے بندوں پر اس کی رحمت ،اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمد ﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا ،کہ اللہ تعالٰی نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ جنھوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ پس اس کے لیے انھوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے ۔ وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لیکر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے ۔ اللہ تعالٰی نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے،یعنی متفرق غول جو کھنگر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ پس پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور انھوں نے دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا اور وہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے اور وہ یوں ہوگئے جیسے کھایا ہوا بھس۔ اللہ تعالٰی ان کے شر کے لیے کافی ہوگیا اور اس نے ان کی چال کو انھی پر لوٹادیا۔ ان کا یہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ ﷺپیدا ہوئے۔ پس یہ واقعہ آپ کی دعوت کی بنیاد اور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ پس اللہ تعالٰی ہی کی حمدوثنا اور اسی کا شکر ہے۔
     
    انا اورمریم جمیلہ نے اس کا شکریہ ادا کیا
  2. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    2,319
    تفسیر سورة قريش
    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
    لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ ﴿١﴾ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ﴿٢﴾ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ ﴿٣﴾ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ ﴿٤﴾
    قریش کے مانوس کرنے کے لئے (1) (یعنی) انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے۔ (اس کے شکریہ میں) (2) پس انہیں چاہئے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں (3) جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا (4)

    بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ماقبل سورت سے ہے،یعنی ہم نے اصحاب الفیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش،ان کے امن،ان کے مصالح کی درستی،تجارت اور کسب معاش کے لیےسردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالٰی نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کردیا جنھوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا ۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی۔یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے، قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے ، اس لیے اللہ تعالٰی نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا ۔ فرمایا :فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ ''پس وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں ۔'' یعنی اس کی توحیدبیان کریں اور اس کے لیے عبادت خالص کریں۔ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ '' جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن و امان دیا۔'' رزق میں کشادگی،خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ تعالٰی کے شکر کی موجب ہے،اے اللہ ! اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے ۔ اللہ تعالٰی نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل و شرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ وہ تو ہر چیز کا رب ہے۔​
     
    عائشہ اورانا نے اس کا شکریہ ادا کیا

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں