اسلامی ناول مضر یا مفید؟

عائشہ نے 'ادبی مجلس' میں ‏دسمبر 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,475
    ناولوں کا پتہ نہیں لیکن یہ بحث کافی مفید ہے.نسیم حجازی کے تاریخی ناولوں کی اہمیت اور مفید و مضر پہلؤوں پر بھی کوئ روشنی ڈال دے تو بہتوں کا بھلا ہو جائے گا.

    Sent from my LG-E970 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  2. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    اس بات سے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ڈائجسٹ والوں تک کوئی اچھی تحریر نہ پہنچے۔ جنہیں باقاعدہ ادب کی جستجو ہو انہیں کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے۔ مگر محض ڈائجسٹ پڑھنے والوں کو اچھی کتابوں کی طرف کیسے لایا جائے گا؟
    دعوت دور ہی دور سے کیسے ہو گی۔ اگر ایک وسیع تعداد تک پیغام پہنچانے کا ذریعہ صرف ڈائجسٹ ہے تو کھائی کے قریب جا کر بات کرنا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ : )
    یہ کام آہستہ آہستہ ہی ہوا کرتے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ نمل جیسی کہانیاں پڑھ کر قارئین کا ذوق بہتر ہو رہا ہے۔ جس طرح ہر معاملے میں نمرہ احمد کا معیار باقی فکشن رائٹرز سے بہتر ہے عین ممکن ہے کہ اس وجہ سے 'کمرشل' لکھاریوں کے پڑھنے والوں کی تعداد میں کمی آنے لگے۔
    فلمیں اور ڈرامے تو واضح طور پہ خلافِ شریعت طرز پر بنتے ہیں مگر کتاب بہرحال ایسی چیز نہیں ہے۔
    نمرہ احمد کی تحریر میں خامیاں جو بھی ہوں، اس سے برآمد ہونے والی خیر ان سب پر چھا جاتی ہے۔ جو بھی ہے آپ نے میری چند ایک بنیادی الجھنیں دور کر دیں جس کے لیے میں آپ کی بے حد مشکور ہوں۔ جزاکِ اللہ خیراً کثیراً۔ : ) سو اب مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ نمل پڑھتے ہوئے کن چیزوں کو غلط سمجھنا ہے اور ان میں دلچسپی نہیں لینی۔ اس سے قبل میں ان کے بارے میں شبہ کا شکار تھی مگر اب آپ نے مجھے ٹھوس وجوہات بھی بتا دیں۔ تشکر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    http://www.urdumajlis.net/threads/تاریخی-ناول-،-افادیت-و-نقصانات.22759/
    یہاں بات ہوئی تھی۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    آج میں نے چائے ٹھنڈی کرنے کی ہر سازش ناکام بنا دینے کا عزم کیا ہے مریم! : )
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جو ہمارا سچا خیر خواہ ہے، ہمیں کھائی میں دیکھ کر اتنا بے چین ہو گا کہ سب سے پہلے ہمیں اس سے نکالے گا۔ فرسٹ تھنگ فرسٹ !
    داعی کو اپنی جان اور ایمان کی حفاظت بھی کرنی ہوتی ہے۔ ہم کتنے ہی برس دعوت نہ دے چکے ہوں شیطان پروف نہیں ہوجاتے، اسی لیے ہمیں خود بھی بچنا ہوتا ہے اور بار بار توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے دل کی میل صاف کرنئ ہوتی ہے۔۔ ہو سکتا ہے ڈائجسٹ میں چھپنے والی اپنی اصلاحی تحریر کو دیکھتے دیکھتے خود میں ہی بری تحریروں کے نشے میں مبتلا ہو جاؤں؟ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار یہی ہے کہ وہ آپ سے کہتا ہے تم تو اب میچیور ہو گئے ہو نا، اتنی عمر پاک صاف گزری ہے، اتنی سی برائی تمہیں مائل نہیں کر سکتی، لیکن لوگ میچور ایج میں بھی پھسلتے ہیں اور اس عمر کی چوٹ بچپن کی چوٹ سے زیادہ خطرنا ک ہوتی ہے۔پھر میرے گھر میں ڈائجسٹ آئے گا تو اپنے چھوٹوں سے چھپا کر رکھوں گی؟ کیا وہ پڑھ سکیں گے؟کیا ان کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا؟
    اور کیا میں اپنی اصلاحی تحریر کے ساتھ یہ اعلان چھپوایا کروں کہ دیکھیے میں ڈائجسٹ میں چھپتی ضرور ہوں، اس میں چھپنے کا معاوضہ بھی لیتی ہوں، لیکن خود نہیں پڑھتی! جو لوگ ڈائجسٹ نہیں پڑھتے وہ صرف میری اسلامی ادبی تحریر کی خاطر ڈائجسٹ نہ خریدیں جب تک کہ ہم ڈائجسٹ کا ذوق بلند نہیں کر لیتے۔ : )
    ڈائجسٹ کی مدیرہ آپ کا ٹینٹوا دبا دیں گی کیوں کہ وہ رومینس کا منافع ہی کھاتی ہیں ہر مہینے۔ بینک والے حرام کھائیں تو معتوب اور ڈائجسٹ والے نصف ادیب ہوئے۔
    عمیرہ احمد کے مداح 2005 میں ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے مجھے بہت کھری کھری سنائی تھیں جب میں نے پوچھا کہ پیر کامل کہاں سے اسلامی ناول ہے؟ اب 2015 آ چکا، باتیں واضح ہو چکی ہیں۔ ہاں ڈائجسٹ میں ابھی بھی مسئلہ عظیمہ ہیروئن کی شادی ہے۔ ڈائجسٹ کے ٹائٹل پر ابھی بھی ٹی وی، فلم انڈسٹری کی حسیناؤں کے پوز چھپتے ہیں۔ کیوں کہ پاپ لٹریچر کی کیٹیگری میں جنم لینے والی چیزیں، میگزین میں مطلوبہ پیسہ کمانے کے بعد مزیدپیسے کی خواہش میں سکرین تک ہی پہنچتی ہیں۔ آپ ادبی اصناف کی تقسیم اٹھا کر دیکھ لیجیے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایسی باتیں اپنی نجی مجلسوں میں کرنے پر ملعون کہا تھا۔ اس زمانے میں نجی مجلس کی باتیں ریکارڈ نہیں ہوتی تھیں، فضا میں بکھر جاتی تھیں۔ لیکن پھر بھی منع کیا۔ کتاب کے لفظ باقی رہ جاتے ہیں، تو وہ کیوں منع نہ ہوئی جب اس میں صنفی دلچسپی کی باتیں لکھی ہوں؟ جسے ہم چیپ نہیں سمجھتے کسی کم عمر کا دماغ خراب کرنے کو وہ چند سطریں بھی بہت ہو سکتی ہیں۔
    الحمدللہ یہ اچھی بات ہے۔
    ابھی ہم نے خاص مصنفین کی بات ہی نہیں کی۔ ابھی تو عمومی بات ہو رہی تھی۔ یہاں کچھ اقتباسات آئے تھے جن پر میں نے لکھ دیا تھا کہ یہ غلط ہے، عام زندگی میں بھی لوگوں نے مجھ سے سوالات پوچھے تو انہیں بتایا کہ یہ غلط ہے۔ نام مجھے یاد نہیں رہتے کون سا ناول کس کا تھا۔مثلا:
    -ایک ناول میں قرآن سے فال نکالنے والا طریقہ تھا۔ سوال پوچھنے والی کو بتا دیا تھا یہ طریقہ غلط ہے۔
    -بنو قریظہ کی کسی پہیلی کے متعلق مجھے اتنے سوال ملے تھے کہ مجھے افسوس ہوا۔ قرآن پہیلیوں کی کتاب بھی نہیں ہے۔
    -یہاں ایک اقتباس آیا تھا کہ اچھی لڑکیاں پرفیوم نہیں لگاتیں۔ حل یہ بتایا گیا تھا کہ باڈی اسپرےلگا لو۔ حدیث میں ہر طرح کی خوش بو لگا کر نکلنا حرام ہے۔
    اب یہ کس مصنف کے کس ناول میں ہے یہ سب آپ لوگ بہتر جانتے ہیں۔
    مریم، اہل الحدیث بھیا، عفرا آپ لوگ ہمارے اپنے بچے ہیں، اسی لیے آپ سے یہ سب کہہ رہی ہوں۔یہ اپنی رائے مسلط کرنے کے لیے نہیں، تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کے لیے ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے سوچیں میں کھائی میں گر گئی ہوں۔ آپ کہیں گے یہ آپ کو کیا ہو گیا، یہ آپ کہاں آ گئیں۔ آپ بے چین ہو کر مجھے باہر نکالنے کا ہر ممکن جتن کریں گے اور تب تک سکھ کا سانس نہیں لیں گے جب تک مجھے بچا نہیں لیتے۔ یقین کریں معاشرے میں نیکی کے کام کے لیے مشہور لوگوں سے مجھے ایسی ہی محبت ہے۔ جب آپ سنتے ہیں کہ فلاں انسان اصلاح کا کام کر رہا ہے تو آپ کو قدرتی طور پر اس سے محبت ہوتی ہے کہ وہ نیکی کے لیے معروف ہے۔ پھر جب آپ سنتے ہیں کہ فلاں گانا گانے لگا، فلاں ڈرامہ بنوا رہی ہے، فلاں ڈائجسٹ میں لکھ رہی ہے تو ایک بار آپ کے قدموں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے۔ میں نے ایسے لوگوں کی تحریریں پڑھے بغیر، ان کی خامیوں سمیت ان سے محبت کی کہ یہ بہرحال نیک لوگ ہیں تبھی نیک نام ہیں لیکن پھر یہ درد بھی برداشت کیا کہ وہ لوگ بدل گئے جنہیں ہم چاہتے تھے حالاں کہ ہم شخصیات کے سحر میں مبتلا نہیں ہوئے تھے صرف اللہ کی خاطر ان سے محبت تھی، یہ بھی یاد تھا کہ یہ ہم جیسے انسان ہیں، غلطیاں کر سکتے ہیں۔ ہماری پسندیدہ شخصیات ہمیں جو دکھ دیتی ہیں وہ ہمیں توڑ دیتا ہے، اللہ انہیں بھی اپنی امان میں رکھے اور ہمیں بھی۔ دعوت کا اصل راستہ وہی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا اور ثبت قدمی سے اس پر چل کر دکھایا۔اس طرف کم لوگ آتے ہیں، لیکن اچھے لوگوں کی تعداد بڑھانا ہمارا فرض نہیں، ہمارا فرض ہے درست بات کہتے رہنا۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 14, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  6. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    کونسی وڈیو اور اقتباس ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    کافی دلچسپ بحث ہے ۔ ویسے عین باجی آپ ضرور لکھنے پر غور کریں اور اپنی ایک کتاب ضرور چھپوایے گا : ) ۔
    نمرہ احمد کے ناول پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ عمیرہ احمد شاید آخری ناول نگار تھیں۔ ان سے نصیحت تو کیا حاصل ہونی تھی ۔ توجہ انگریزی ناولوں کی طرف ہوتے ہوتے ایسے ادب پر جا پہنچی کہ ہر طرح کے لٹریچر سے ہی توبہ کر لی۔آخر میں سمجھ یہ آیا کہ والدہ محترمہ بلکل صحیح نصیحت کیا کرتی تھیں جب بھی مجھے ناول پڑھتے ہوئے دیکھتیں کہ " وقت کو کند چھری سے ذبح نہ کرو۔"
    ایسا نہیں ہے کہ فکشن کا کوئی فائدہ نہیں لیکن اس کے نقصانات اتنے ہیں کہ ترک کرنا ہی بہتر ہے۔ تو ناول سے نصیحت حاصل کرنا ، یا یہ سوچنا کہ چونکہ بہت سے لوگ ڈئجسٹ کی لت میں مبتلا ہیں تو شاید ان کا ذوق مطالعہ اسی طرح بہتر ہو جائے کہ انہیں نصیحت آموز باتیں انہی کرداروں کے ذریعے پہنچائی جائیں خوش فہم سا خیال لگتا ہے۔شاید ایک آدھ لوگ نصیحت قبول کر لیں۔جیسا کہ مریم آپ کو بھی ان تحریروں نے متاثر کیا ۔ اور آپ نے اچھی باتیں قبول کیں۔ لیکن اکثریت کہ بارے میں یہ کہنا کہ فکشن کہانیوں کے ذریعے دین کی طرف متوجہ کیا جائے ،تو یہ بس اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات لگتی ہے ۔ جیسا کہ عین باجی نے بھی کہا کہ ان کہانیوں کو اصلاحی اور معاشرتی کہانیاں کہ کر یہ تاثر دینا کہ ان کا مقصد معاشرہ کی اصلاح ہے۔اور حقیقی طور پر دیکھا جائے تو ان کا نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے۔
    ویسے تو عین باجی نے کافی تفصیلی انداز میں ان سب پر بات کی ہے کہ فکشن میں کتنی ہی مفید نصیحتیں بھری ہوں پر اس کا نقصان کیوں زیادہ ہے۔ ایک نظر اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔
    1) یہ بہت عجیب سی بات لگتی ہے کہ کوئی آپ کو فکشن پڑھنے کی ترغیب دیے اور کہے کہ آپ نے پڑھنا ہے تو نمرہ احمد کو ہی پڑھنا ہے اور تفریح کرنی ہے تو اسی جیسے ناولوں سے ہی کرنی ہے ۔ جب کے ساتھ ہی عمیرہ احمد اور دیگر رومانوی لکھاریوں کے ناولز ہوں۔ اور پھر آپ کو پتہ چلے کہ ان پر ڈرامے بھی ہیں۔ آپ چار قدم آگے جاتے ہیں تو آپ کے دوست احباب ان ڈراموں پر تبصرہ بھی کر رہے ہیں اور آپ ان کے درمیان خاموش بیٹھے ہیں۔ ایک اخلاقی فکشن سے رومانوی فکشن اور پھر ڈراموں تک کا سفر زیادہ پرکشش ہے بانسبت فکشن کی دنیا میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر دینی سبق حاصل کر کے قرآن کی طرف متوجہ ہوں۔ ایسی تفریح جس میں ذہن خراب ہونے کے خدشات زیادہ ہوں اور سیدھے راستے پر چلنے کے کم تو ان سے بچنا ہی بہتر ہے۔
    2) پھر ایک دلیل کہ جو لوگ پہلے ہی اپنے ذوق مطالعہ کا بیڑا غرق کر چکے ہوں ۔ان کو کیسے واپس لایا جائے اور یہ کہ نمرہ احمد کے ناولز ان قارئین کے لیے کافی مفید ہوں گے ۔ ان کے لیے بھی وہی بات جو عین باجی نے کہی جو لوگ پہلے ہی کھائی میں انھی تحریروں کی بدولت گر چکے ہیں ۔ان سے ان کی زبان اور ذوق مطالعہ کے مطابق بات کرنا مزید کھائی میں گرانے کے مترادف ہے کچھ عرصہ پہلے میری کسی سے بات ہو رہی تھی فیس بک کے متعلق تو جناب کہنے لگے کہ فیس بک کے بے شمار فائدے ہیں ، سب سے بڑی بات یہ کہ آپ کو ہر طرح کی خبریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں ، یعنی اخبار پڑھنے کی ضرورت نہین رہتی۔ اور پھر فکشن پڑھتے پڑھتے بھی آپ یہ سوچنے لگیں کہ اب باقی کتابوں کی ضرورت نہیں تو یہ ایک اور نقصان ہے۔
    ویسےباقی سب باتیں ایک طرف مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہین آئی کہ ناولز کی ہیروئن اتنی پھرتیلی کیسے ہوتی ہیں ۔ایک منٹ میں گاجر کے حلوہ سمیت چار چیزیں ٹرے میں سجا کر مہمانوں کے سامنے پیش کر دیتی ہیں جنہین اگر ہم بنانے بیٹھیں تو پورا دن لگ جائے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    انا سسٹر بڑی ہمت کی بات ہے کہ وقت نکال کر آپ نے پوری بحث پڑھ ڈالی ـ بہت وقت چاہے کہ اس بحث کو مکمل پڑھا جائے ـ جو کہ فی الحال نہیں ہے ـ بہرکیف یہ تو طے ہے کہ اسلامی ناول کے پسند کرنے والوں نے صبرو تحمل کا مظاہر ہ کرتے ہوئے دفاع کی اچھی کوشش کی : ) لیکن اگر وہ مختصر ذکر کردیں کہ انہیں کیا کیا فوائد حاصل ہوئے ؟ اور کن چیزو ں نے متاثر کیا ؟جو کہ عموما دینی لٹریچر نہیں کرنا پاتا ـ یا قرآن کی تفاسیر یا پھر اہل علم کی کتب اس طریقہ قرآن فہمی سے محروم ہیں ـ اس وضاحت سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ جہاں کمی ہو اس کو دور کیا جائے اور اصلاح کی کوشش کی جائے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  9. touseef752

    touseef752 رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 23, 2014
    پیغامات:
    36
    میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں

    Sent from my GT-I9100 using Tapatalk
     
  10. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    میں بالکل اتفاق کرتی ہوں۔ : )

    یہ بحث کچھ زیادہ ہی کھنچی چلی جا رہی ہے اور ایک ہی بات کو دوبارہ ڈسکس کرنے میں فائدہ کم نظر آ رہا ہے۔ بہر حال میں آپ کے استفسارات کا جواب دینے کی کوشش کروں گی۔

    میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ یہ ناول بنیادی طور پران لوگوں کے لیے ایک بہتر متبادل ہے جو فکشن قسم کا لٹریچر پڑھنے کے عادی ہیں نہ کہ وہ لوگ جن کو اللہ تعالی کی طرف سے اچھی علمی کتب پڑھنے کی توفیق ہے اور جن کو ان میں خاطر خواہ دلچسپی بھی ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ ایسے لوگ نہ ایسی فکشن کو پڑھیں گے نہ ان کا وقت اس طرح کند چھری سے ذبح ہو گا۔ : ) ہم ناول نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہیں لے کر بیٹھتے ہم صرف اسے تفریح کی غرض سے پڑھتے ہیں۔ کیا اسلام میں تفریح منع ہے؟ یقینا نہیں۔ سو تفریح میں بھی ہمیں صحیح اور غلط کا فرق رکھنا ہے۔ اب میرے جیسے عام لوگ ابھی ایمان کے اس درجے پر نہیں پہنچے کہ علمی اور دینی کتب میں ہی ہمیں تفریح حاصل ہو۔ یقینا ہم عام ناولوں میں ہی اپنا فارغ وقت صرف کریں گے۔ نمرہ احمد ہمارے لیے ہوا کا تازہ جھونکا اس لیے ہیں کہ انہوں نے بیشتر لغویات جو کہ ناول کا حصہ ہوتی ہیں ان سے پرہیز کیا ہے اور بہت حد تک صاف ستھرا لکھا ہے۔ ٹھیک ہے ان کی تحریر کی جن خامیوں کی طرف عین باجی نے اشارہ کیا، وہ اپنی جگہ ہیں لیکن مجھے نمرہ احمد کو پڑھنا اس لیے پسند ہے کیونکہ ان کی تحریر سے میں اور میرے جیسے بہت سارے قارئین شر شاید نہ ہونے کے برابر اور خیر کہیں زیادہ حاصل کرتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ آپ ان کے پیج پر موجود کمنٹس سے لگا سکتے ہیں۔
    مجھے بے حد افسوس کے ساتھ یہ ڈس کلوز کرنا پڑ رہا ہے کہ عمیرہ احمد کے ناولوں سے میں نے بھی یہی سفر اختیار کیا تھا مگر پتہ ہے کیا؟ نمل نے مجھے بہت دفعہ یو ٹیوب کھول کر 'شہر ذات' دیکھنے سے باز رکھا ہے۔ یہ تحریک مجھے ہمیشہ قرآن سے کیوں نہیں ملی؟ کیونکہ انسان کی ایمانی حالت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے اور وہ ہر وقت قرآن کا مطالعہ اتنے ہی ذوق و شوق سے نہیں کیا کرتا۔ ترغیبات نفس اکثر صحیح راستے سے بھٹکاتی رہتی ہیں۔ سو اگر قرآن کی طرف واپسی کا راستہ نمل مجھے دکھا ئے تو کیا وجہ ہے کہ میں اسے پسند نہ کروں؟ آپ کہتی ہیں کہ میں اپنی سب دلچسپیوں کو ایک طرف رکھ کر تفسیر ابن کثیر اور اسلامی فقہ اور ایسی دوسری کتابوں کا مطالعہ شروع کر دوں۔ یقینا یہ سب کتب پڑھنا میرا فرض ہے مگر مجھے نہیں لگتا کہ قرآن مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں ذہنی تفریح کے لیے لکھے گئے اور کبھی کبھار پڑھے جانے والے ایک صاف ستھرے ناول سے بھی دور رہوں۔
    ایسی بات ہرگز نہیں ہے ۔ اگر میں ایسی بات سوچوں تو یہ میرے اپنے دماغ کا فتور ہے۔ سب جانتےہیں کہ ناول اصل علم کی جگہ کبھی نہیں لے سکتا۔ نمل نے تو بہت سے لوگوں کےاندر 'دوائے شافی' پڑھنے کا شوق جگایا ہے۔
    یہ تو اب آپ ان ناول نگاروں سے ہی پوچھیں۔ مگر جب ناول میں اس قسم کی ذرا سپر نیچرل چیزوں سے واسطہ پڑتا ہے تو میں یہ سوچتی ہوں کہ بس ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔۔ : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    مجھے چند آیات کی بہت ہی خوبصورت تفسیر معلوم ہوئی۔ مجھے قرآن کی چند آیا ت کا خود سے تعلق سمجھ آیا۔ یہ یاد دہانی ہوئی کہ میں ہر معاملے میں اللہ تعالی سے مشورہ کروں اور قرآن میں مذکور واقعات سے سبق حاصل کروں جیسا کہ نمل کا ایک کردار کرتا ہے۔ یہ بھی یاد دہانی ہوئی کہ ہمارے انبیا اپنے خاندان کے لیے کتنے نرم اور مہربان تھے۔ اور اس طرح کی بہت ساری باتیں۔

    ادبی اور سادہ باتیں میرے دل کو لگتی ہیں اوراگر اسی طرح کوئی بات سمجھائی جائے تو بہت اثر کرتی ہے۔ہم قرآن کی فصیح البیانی اور آسان زبان پر فخرکرتے ہیں۔ تو جب قرآن کے طلبہ اس کی پیروی کرتے ہوئے قصہ کا انداز اختیار کر کے اور سادہ زبان استعمال کر کے دین سکھائیں تو اس میں کیا خرابی ہے؟

    دینی لٹریچر کا مسئلہ یہ ہے کہ عوام الناس کو یہ ثقیل اور خشک لگتا ہے اور تفریح کے چسکے کے باعث طبیعت اس طرف کم ہی آمادہ ہوتی ہے۔ میں بار بار امام ابن القیم کا ذکر کر رہی ہوں مگر بات یہی ہے کہ ڈائجسٹ پڑھنے والی کثیر تعداد کی ان تک کوئی رسائی نہیں تھی ۔ سو اب نمرہ احمد نے جس دلچسپ انداز سے ان کی کتاب سے افادات پیش کیے ہیں، بہت سے لوگ اس کو پڑھنا چاہتے ہیں۔ بفضل تعالی ہمارے علما نے دین سکھانے میں اور قرآن کی تفسیر کرنے میں بہت محنت کی ہے۔ مگر افسوس کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے پڑھنے کے ذوق کو بے کار کہانیوں سے پورا کرنے کی کوشش کی۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ بڑی بڑی کتابوں کے بجائے کہانیاں زیادہ اپیل کرتی ہیں۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے چند لکھاریوں نے جن کو اللہ تعالی نے اپنی کتاب کو سمجھنے کی توفیق بھی دی ہے وہ دوسروں کو اس کی طرف اپنے طریقے سے راغب کر رہے ہیں۔ ان کے بعض نظریات سےچند علما متفق ہیں اور چند غیر متفق۔ لیکن ان کی پڑھنے والی عوام ان کی تحریر کو دلچسپ اور سبق آموز مانتی ہے۔

    نمرہ احمد کہتی ہیں کہ جس دن ہمارے علما نے سادہ زبان میں اپنی بات سمجھانا شروع کر دی میں اسی دن اپنا قلم توڑ ڈالوں گی اور گھر بیٹھ جاؤں گی، لیکن تب تک میں کسی ایسے حکم کی تابع نہیں ہوں جو مجھے ایک مہذب کہانی لکھنے سے روکے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  12. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اس کے تقاضے اور رجحانات بھی سمجھنے ہوں گے. مان لیا کہ ناولز کے اوپر ذکر کردہ نقصانات ہیں لیکن دوسری جانب فوائد بھی ہیں اور اہل قلم کی مجبوریاں بھی.

    طارق اسماعیل ساگر سے ایک بار ملاقات ہوئی. ان کی ایک کتاب ہے پاک بھارت تاریخ اور تعلقات پر. پوچھا کہ دو ہزار پانچ سے آگے کا جائزہ کیوں نہیں لیا. ایک جدید ایڈیشن چھاپیے. فرمانے لگے کیا کریں اس قوم کا ناول تو پڑھ لیتی ہے مگر تاریخ نہیں. ابھی پہلا ایڈیشن ہی نہیں بکا. جب کہ انہی موضوعات پر ناول ہاتھوں ہاتھ بک جاتے ہیں. گویا کہ تاریخ پڑھانے کے لیے بھی ناول لکھنا پڑتے ہیں.
    یہاں بتائیں اب قصور وار کون ہے؟ ناول نگار یا ہماری قوم یا پھر ہم خود؟ جنہوں نے اپنے بچوں کو شروع سے ہی تاریخ کے مطالعہ کی عادت نہ ڈالی نہ کچھ سنایا. نتیجہ یہ کہ جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو بڑھتی عمر کے رجحانات کے ساتھ اپنے ذوق کے مطابق ناولز کی طرف مائل ہوتے ہیں. اگر تاریخی ناولز نہ ہوں تو انہوں نے پھر بھی عشقیہ ناولز پڑھنے ہی ہیں. تو کیا برا اگر ایسی نسل کو تاریخی ناولز پڑھا دئیے جائیں. کم از کم ان کو اسلاف سے کچھ تو رغبت ہو.

    یہ بحث تاریخی ناولز یا اسلامی ناولز پر نہیں بلکہ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی پر ہونی چاہیے کہ دونوں میں سے درست کون سا ہے.
    میرے خیال کے مطابق اگر کسی شخص کو ادب کے زریعے یہ احساس دلادیا جائے کہ ادب برائے زندگی ہی درست ہے تو اس کا ادب برائے ادب کی طرف جانے کا امکان محال ہے

    Sent from my H30-U10 using Tapatalk
     
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    ایک یاددہانی کہ یہ عمومی بحث ہے، جو سب "اسلامی" یا "اصلاحی" ناولز کے بارے میں ہے۔ اسے کسی ایک مصنف یا کسی ایک ناول سے ہٹ کر دیکھا جاے۔
    دیکھا خود پڑھنے والے مانتے ہیں کہ ان کہانیوں میں بہت کچھ مصنوعی ہوتا ہے۔ اب ذرا ۔۔۔ ٹھہر کر ۔۔۔سنجیدگی سے سوچیے۔ جن کا دل سپر نیچرل صنف مخالف میں اٹک جائے ان کا کیا کریں گے؟ آئے دن لڑکیوں کو اپنے میاں سے شکایت رہتی ہے کہ وقت نہیں دیتا،اہمیت نہیں دیتا اس کی وجہ یہ سپر نیچرل ہیرو ہی ہیں جو 24 گھنٹے ہیروئن کے دائیں بائیں ہوتے ہیں لیکن اصل شوہرنے نوکری کرنی ہوتی ہے،سڑکوں کی خاک چھان کر واپس آنا ہوتا ہے، یوٹیلٹی بل جمع کروانے ہوتے ہیں، سبزیاں ڈھونی ہوتی ہیں، وہ آسمان سے نہیں ٹپکا ہوتا اس کے ماں باپ،بہن بھائی بھی ہوتے ہیں، وہ ان سب کو وقت دے گا تو کچھ وقت ہی بیوی کے حصے میں ائے گا لیکن ناول میں تو یہ نہیں ہوتا۔ ناسمجھ لڑکیاں اپنی جگہ درست ہیں تو یہاں ان ہی کے درد میں لکھا گیا ہے۔آپ لوگوں کو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں، مضبوط مطالعہ، گھر میں اچھی کتابیں، والدین کی اچھی تربیت، اعلی تعلیمی اداروں سے تعلیم کی وجہ سے آپ بہت کچھ جانتی ہیں جو ایک عام لڑکی نہیں جانتی۔ اور ہر کوئی اتنا سمجھ دار نہیں ہوتا کہ حقیقت اور فکشن کے فرق سے لڑ سکے۔میڈیا اور اس رومینس کی وبا نے ہمارے معاشرے کو اتنا ہائپر سیکسولائز کر دیا ہے کہ ہر چیز میں عورت کے بغیر کچھ کام نہیں ہو سکتا۔ہر چیز کے اشتہار میں عورت، ہر جریدے کے سرورق پر عریاں عورت، ذلت کی حد یہ کہ حجاب پر ڈرامہ بنے، قرآن پر ناول لکھا جائے تو عریاں عورت کے ساتھ پیش ہو۔
    اور پھر ایسی تصویروں سے سجی کہانی بار بار کسی کم عمر کی نگاہ سے گزرے گی تو نفسیاتی اثر کسی نہ کسی دن ظاہر ہو گا ضرور ہو گا۔ اتنی واہیات تصویر کے ساتھ اسلامی ناول کیا اثر کرے گا؟بھلے نیچے آیت ہے یہ اوپر کیا ہے؟ کسی گھٹیا ماڈل کی تھرڈ ریٹ ادا کی السٹریشن؟ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈائجسٹ چٹخارہ بیچ رہے ہیں اور شریف باعصمت گھریلو لڑکیوں کو یہ غلیظ باڈی لینگویج سکھا رہے ہیں۔ اس میں مصنفین سے بھی پہلے ناشریا پبلشر، ڈائجسٹ کی مدیر، ڈائجسٹ کا السٹریٹر یا مصور سب قصوروار ہیں، سب نشہ بیچ کر کما رہے ہیں، اور ایسی انڈسٹری کو اپنی تحریر سے فائدہ پہنچانا غلط ہے۔
    [​IMG]
    یوں کہیں کہ میرے دل میں بھی اصلاح پسندوں کے لیے ایک نرم گوشہ ہے اسی لیے تھوڑے سے اشارے کو بہت سمجھا لیکن، یہ صرف گوگل امیجز کے نتائج پر نگاہ دوڑائی ہے۔۔ اب آپ خود ہی دیکھیے اوپر بھی ایک جھلک ہے اور ۔۔۔
    یہ ہے قرآن کے متعلق ناول، اس کے ساتھ اس تصویر کا کیا تعلق؟ یہ فحاشی نہیں ہے تو کیا ہے؟
    [​IMG]

    یہ عورت کی تذلیل نہیں؟ ایک 14، 15سالہ لڑکے یا لڑکی کے ذہن پر اس بے ہودگی کا کیا اثر ہوسکتا ہ کوئی تو سوچے۔ اور یہ باتیں اسی کو سمجھ آئیں گی جس کی اولاد سویٹ سکسٹین کو پہنچ چکی ہو، اپنی نوعمر بیٹی یا بیٹے کے ہاتھ میں ایسی چیز دیکھ کر دل ضرور کانپتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جزاک اللہ خیرا۔
    میری ایک کولیگ نے فلمیں دیکھنے سے توبہ کی، کچھ عرصے بعد کہنے لگیں کہ میں نے عمیرہ کے ناول اس لیے پڑھنے شروع کیے کہ چلو نسبتا بہتر ہیں۔ اس نے کسی فلم کا ذکر کیا تھا، ان کا پرانا مرض جاگ گیا۔تجسس کے مارے فلم دیکھ ڈالی۔ اس کے بعد بہت روئیں کہ میری توبہ خراب ہو گئی۔ ان کو اتنی پشیمانی تھی کہ حد نہیں۔ہم نے سمجھا بجھا کر خوش کیا کہ اللہ تعالی تو ستر بار بھی توبہ قبول کرتے ہیں۔ اس کے بعد سے وہ اصلاحی ناولز کی شان میں جو قصیدہ پڑھتی ہیں وہ سننے والا ہوتا ہے۔ : )
    جنہوں نے بمشکل فلمی گانوں سے جان چھڑائی ہو، اور توبہ پر قائم ہوں، ان سے پوچھیے فلمی دھنوں پر نعت یا حمد پڑھنے والے ان کے ایمان کی کیسی آزمائش کرتے ہیں اور وہ کتنی مشکل سے اس فتنے سے خود کو بچاتے ہیں۔ آپ لوگ کسی زمانے میں ایڈکٹڈ نہیں رہے،آپ ایک سابق ایڈکٹڈ کی سٹرگل کو ابھی شاید نہ سمجھ سکیں۔ اس کو انبیاء، والدین، اساتذہ، علما یا داعی سمجھ سکتے ہیں کیوں کہ وہ معاشرے کے طبیب ہوتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  16. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    غلط چیز بہرحال غلط ہے۔ اس کا دفاع کوئی بھی نہیں کرے گا۔ ہم، اس کے دیکھنے والے اور نہ لکھنے والے۔

    لیکن جو دلیل آپ نے دی ہے اس کو لیں تو فیس بک کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے دعوت کا کام بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے فیس بک کمپنی کے مفادات پورے ہوتے ہیں۔ آپ بھلے کتنے ہی دعوت دین کے فوائد گنوا دیں، آپ ان لوگوں کو پہنچنے والے فوائد سے انکار نہیں کر سکتیں۔ تکنیکی اعتبار سے وہ ہمارے ذریعے کیا کیا حاصل کرتے ہیں۔ کیا ڈیٹا کیا ریسرچ اور کیا مالی فوائد۔ وہ سب ایک طرف۔ ہم انہیں پروو کریں تو آپ لوگ توبہ کر لیں گے فیس بک سے : )

    جو لوگ فیس بک پر ہوتے ہیں وہ بھی تمام فتنوں کا سامنا کرتے ہیں۔ پھر تو ہمارے ان جذباتی اساتذہ کی فیس بک کا بائکاٹ کرنے کی دلیل بالکل درست لگتی ہے کہ گٹر کے اندر رہتے ہوئے اس کی صفائی نہیں کی جاتی بلکہ آپ خود بھی غلاظت میں گر تے ہیں۔ فیس بک اور سوشل میڈیا کے کثیر نقصانات ہیں جس کی لپیٹ میں بہت سارے علم والے بھی آجاتے ہیں۔
    پھر آپ یہ بھی دیکھیں کہ کسی فیس بک نہ استعمال کرنے والوں کو کوئی یہ نہیں کہتا کہ فیس بک جوائن کر لو یہاں اردو مجلس کا پیج یا مسنون دعاؤن کا پیج بہت ہی مفید ہے اور یہ کہ یہ علمی کتب کا متبادل ہے۔

    جو لاجکس سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اور ٹی وی چینلز پر اسلامی پروگرام کرنے والے دیتے ہیں وہی ڈائجسٹ میں لکھنے والے بھی دیتے ہیں۔
    وہ بھی ڈائجسٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے اس خاص طبقے تک اپنی بات پہنچا رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہر ایک کے دیکھنے کا الگ الگ زاویہ ہے، ان کو یہ وقت کی ضرورت لگتی ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    وضاحت کے لئے شکریہ ۔ مخصوص ناول پر نہیں عمومی بات کرتے ہیں ـ ـاصل میں یہ سب فوائد عارضی یا وقتی ہے ۔اگر فائدہ کچھ مل بھی گیا تو ایک ہی نسل کو ملے گا ، جب کہ قرآن میں تدبر سے چو چیز حاصل ہوتی ہے ، وہ مستقل اور دائمی ہے ۔ قصہ گوئی اللہ کو پسند نہیں ۔ اس لئے سورتہ یوسف میں پورا قصہ نقل کرنے کے بعد ہی فرما دیا کہ یقننا ان قصص میں عقلمندوں کے لئے نصیحت اور عبرت ہے ۔ کوئی بھی امراتہ مصر یا یوسف علیہ السلام کے کرداروں پر نا چلے ۔ بلکہ صرف عبرت ہی پکڑے ۔ یوسف علیہ السلام کا ہر عمل جو اس سورتہ میں بیان ہوا ہے وہ لائق اتباع ہے ۔ لیکن اللہ نے اس کی ضرورت بھی محسوس نا کی ۔ جبکہ سورت کی ابتداء میں اس کو احسن القصص کہا ہے ۔ قرآ ن کو سمجھنا تو بہت آسان ہے ـ جب کہ اللہ نے خود فرمایا ہے "ہم نے قرآن سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے ـ کوئی ہے جو اس میں غور و فکر کرے ـ (القمر) ۔ اب اس کے بعداورکتنی گنجائش نکالی جائے ، جو کہ لوگوں کی طبیعت ، مزاج کے مطابق ہو ـ ـ ماضی میں کچھ لوگوں نے کوشش کی قرآن کی تفسیر کو آسان فہم اور قصہ گوئی کے انداز میں پیش کیا جائے ـ لیکن مشکل یہ ہوئی کہ قرآن کو ہر گھر میں پہنچا تو دیا لیکن لوگوں کو مساجد اور مدارس سے دور کردیا ـ دین سیکھنے سکھانے کی جگہ اور معلم تبدیل ہو گئے ـ قرآن فہمی ڈاکٹرزاور انجنئرز کے ذمہ داری میں آ گئی ـ اس لئے یہ طریقہ بھی کامیاب نہیں رہا ـ ـ جہاں تک ہماری سمجھ میں آیا ہے کہ اصل مسئلہ قرآن کے لئے وقت نکالنا ہے ۔ کیا کسی کے پاس قرآن کی دو آیتیں پڑھنے اور اس میں تدبر کے لئے وقت نہیں ؟ تو یہ محرومی ہے ـاس کی کئی وجوہات اہل علم نے لکھی ہیں ـایک وجہ قرآن کے تدبر میں دل نا لگنے کی قلب کی پاکیزگی بھی ہے ـاس لئے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا ایک قول شاید ابن قیم نے اپنی کسی کتاب میں نقل کیا ہے کہ اگر تمہارے دل پاکیزگی حاصل کر لیں ، تو تم کبھی قرآن کی تلاوت اس کے تدبر سے سیر نہیں ہوں گے ـ اس کے علاوہ اگر کوئی نومسلم شخصیات کی سیرت پڑھیں ـ بہت سے لوگوں کو ہدایت اللہ نے اسی قرآن سے دی ـ جبکہ ان کے پاس ہر قسم کا لٹریچر موجود تھا ـ لیکن عجب بات کہ پیدائشی مسلمان کشادہ راہوں کی تلاش میں رہتے ہیں ـ

    ("دینی لٹریچر "پر بعد میں ۔۔ جاری ہے )
     
    • مفید مفید x 1
  18. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111

    الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ

    اللہ کا شکر کہ مجھے ایسے خیرخواہ ناصحین سے نوازا گیا۔ اللہ تعالی آپ سب سے راضی ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    آپ نے اچھی بات کہی لیکن مجھے لگتا ہے کہ بعض پہلووں سے یہ تمثیل درست نہیں کیوں کہ
    - فیس بک میں خریدتی نہیں ہوں
    - فیس بک پراچھے صفحات کو سبسکرائب کر کے صرف انہی تک محدود رہنا ممکن ہے جب کہ ڈائجسٹ میں سب رطب ویابس خریدنا پڑے گا۔ دوسری ترکیب مریم والی ہے کہ ڈائجسٹ خریدے بغیر وہ ناول کا ایسا ورژن حاصل کر لیتی ہیں جس میں فحش تصاویر نہ ہوں۔ اسی طرح اگر آپ نے معروف ادیبوں کی تحریریں کسی ایسے معیاری مجلے سے پڑھیں ہیں جہاں اس کے غیر اسلامی حصے سنسر کر دئیے جاتے ہیں تو اچھی بات ہے۔ ہمدرد اور تعلیم و تربیت جیسے مجلوں کے اچھے مدیروں کے زمانے میں ہم نے بچوں کا عالمی ادب یوں ہی پڑھا تھا، بڑے ہو کر اصل ناول دیکھے تو علم ہوا کہ ہمارے بڑے ہمارے لیے کتنی احتیاط کرتے تھے۔
    - فیس بک پر فحش اشتہارات یا تصویریں بند کرنا ممکن ہے جو کہ ڈائجسٹ میں ممکن نہیں
    مثلا مجھے فیس بک یوں نظر آتی ہے، یعنی ٹائم لان یا سٹیٹس کی تصویر تب تک نظر نہیں آتی جب تک میں اس پر کلک نہ کروں۔ ڈائجسٹ کا ایسا کوئی ای ورژن ہو تو بتائیے۔
    UM FB Page.jpg
     
  20. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    فیس بک استعمال کرنا ہی اس کا خریدنا ہے! انٹرنیٹ بینڈوڈتھ تو استعمال ہورہی ہے نا؟ آپ کا استعمال کرنا اس کو مستحکم کر رہا ہے۔
    باقی باتوں کا جواب فرصت میں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں