اسلامی ناول مضر یا مفید؟

عائشہ نے 'ادبی مجلس' میں ‏دسمبر 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہی تو مسئلہ زیر بحث ہے کہ ادب اسلامی لکھنے یا پڑھنے والے دور کی مجبوری کا عذرتراش کر نہ تو ادب کو رواج دے رہے ہیں نہ ہی اسلامی اقدار کو۔
    لگے ہاتھوں دور کی مجبوری کا بہانہ کر کے بنائی گئی اسلامی فلموں کا تذکرہ ہو جائے ۔ جس کی ابتدا بعض ملحد اور انتہائی بے دین شیعہ ڈائریکٹرز نے کی۔ ان کو کئی زبانوں میں ڈب کر کے چلوایا اور باطنی شیعیت کی ترویج کی۔ اب وہی کام پاکستان کے مشہور شیعہ فلم ساز بھی کرنے والے ہیں۔ اہل اردو سے بہت پہلے یہ کھیل مصر، تیونس، عراق وغیرہ میں ہو چکا ہے۔ عراق کی چھپی ہوئی انبیاء کے قصوں والی کتابیں دیکھیں تو آپ لرز جائیں۔ نئے دور کے تقاضوں کا بہانہ کر کے اسلامی ایکٹنگ، اسلامی سکٹس، اسلامی ڈرامے، قصہ اسلامیہ، فیلم اسلامی میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں۔
    یعنی اگر بچہ مٹی چاٹتا ہے اور کھانا نہیں کھاتا تو اسے مٹی مہیا کرتے رہیں کہ لو چاٹتے رہو؟ بلکہ اسے کھانے میں می ملا کر دیتے رہیں؟ یہی تو اس بحث کا نقطہ آغاز تھا کہ

    کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

    قوم کی رجحان سازی کی جائے، نہ کہ اس کوہ وہی نشہ مہیا کیا جائے جس کی وہ عادی ہے۔ جس دن یہ قوم زمینی حقائق کی دنیا میں آنکھ کھولے گی تو ہر چیز کے مثبت اور مستند مطالعے کا شعور پیدا ہو گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جزاک اللہ خیرا، منتظر۔
    ویسے فیس بک میں نے ڈیڑھ دو سال پہلے استعمال کرنا شروع کی تھی، یوں سمجھیں آج ہی چھوڑ دی۔ مجھے اس کے علاوہ بہت کام ہوتے ہیں۔
     
  3. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    یہاں دو باتیں گڈ مڈ ہو رہی ہیں.
    پہلے یہ واضح کیا جائے کہ مسئلہ فرضی قصے لکھنے سے ہے یا کہانیوں میں داستان عشق لکھنے سے؟

    Sent from my H30-U10 using Tapatalk
     
    • متفق متفق x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    پیاری مریم کچھ سوالات کے جوابات باقی ہیں یہ اس نیت سے لکھ رہی ہوں کہ قارئیں کے ذہن میں گرہ نہ رہ جائے۔
    اگر علماء کی زبان فصیح ہے اورعوام اس کو سمجھ نہیں پا رہے تو وہی عوام ان اردو ناولوں کی گاڑھی انگریزی بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ ہماری قوم کا کتنے فی صد طبقہ پڑھا لکھا اور اتنا انگریزی زدہ ہے آپ کے خیال میں؟
    اگر علماء فصیح اردو بولتے اور لکھتے ہیں تو یہ عیب نہیں خوبی ہے، ان کا کام اسی لیے سلامت رہے گا جب کہ علاقائی اور غیر روایتی colloquial لہجوں میں کام کرنے کا نقصان یہی ہوتا ہے کہ عہد بدلتے ہی آپ کی زبان متروک ہو جائے گی اور آپ کا کام بناقابل فہم ہو جائے گا۔ اسی لیے قرآن فصیح ہے فصاحت سکھانے آیا ہے اور اس کی وجہ سے فصیح عربی زبان باوجود علاقائی تحریکوں کے آج تک شان سے سلامت ہے۔ اردو ادب کی خدمت کرنے والوں بڑے بڑ ے ادیب اور شاعر علماء تھےاگر ہم نے ان کا کام نہیں پڑھا تو قصور ہماارا ہے۔ اصل میں یہ بہت پرانا حربہ ہے کہ مذہبی افراد کو کج ذوق بتایا جائے اس کے بڑے تاریخی جوابات موجود ہیں مثلا مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کا ایک جواب مجلس پر ارسال کیا تھا:
    http://www.urdumajlis.net/threads/اسلامی-ناول-مضر-یا-مفید؟.36668/page-4
    مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اگر ہمارا ناول ادب کی ذیل میں نہیں آ رہا، ہماری زبان فصیح اردو نہیں، تو اس میں علماء کا کیا قصور؟ یہ تو "گرے گدھے سے غصہ کمہار پر" والی بات ہوئی۔ یہی اعتراض آپ کے کام پر ملحد ادیب کرے اور وہ آپ کو آپ کے مذہبی رجحان کے سبب مولوی کہے اور یہ کہے کہ مولوی سب سٹینڈرڈ کام کرتے ہیں تو اسلام کی کیا خدمت کی آپ نے؟ کوئی وجہ تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی حمایت میں شعر کہنے کو نہیں کہا، حالاں کہ وہ بھی شعر کا عمدہ ذوق رکھتے تھے، بلکہ ایک پختہ فصیح شاعرحسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ کام سونپا! فصاحت ایک خوبی ہے جبھی تو موسی علیہ السلام نے اپنی زبان میں گرہ کا شکوہ کیا۔ اب اگر کوئی ہمدرد کہتا ہے کہ اسلامی ادب کی زبان کی گرہ درست کر لیجیے تو اسے فتوے باز مولوی کہنے سے پہلے سوچ لیں کیا خبر وہ پورے خلوص سے آپ کو آسمان ادب کا اک روشن ستارہ دیکھنا چاہتا ہو؟ ہر تنقید میں کینہ نہیں ہوتا، کچھ لوگ آپ سے خاموش محبت کرتے ہیں تو آپ کو ہجوم سے بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔
    مجھے دکھ ہوتا ہے جب دعوتی حکمت عملی کے نام سے ہم ڈائجسٹ کے ادارتی عملے پر تو آنکھیں نہیں نکالتے کہ میرے اسلامی ناول پر بے ہودہ تصاویر کیوں شائع کی گئیں لیکن علماء پر ہمارا نزلہ فورا گرتا ہے۔ بھلا یہی ادارتی عملہ حمد ونعت کے ساتھ کعبہ کی السٹریشنز شائع کر سکتا ہے تو قرآن کے متعلق ناول پر ایک بے ہودہ ماڈل کو چھاپنے میں کیا مجبوری ہے؟ اور اگر ناشر کی مجبوری ہے بھی تو صارف اور مصنف کی غیرت کو کیا ہوا ہے؟ اگر ان حلقوں میں کام کرنا ہے تو اپنی شرائط منوا کرکریں ورنہ سورۃ الکافرون یاد رکھیں کہ اسلامی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔
    شاید اسی طرف ایک معزز رکن مجلس نے اشارہ کیا کہ قرآن کو گھر گھر پہنچاتے ہوئے ہم علماء اور مسجد کا احترام بھولنے لگے ہیں۔ ایک قرآن کورس، ایک تفسیری ڈپلومہ، ایک مذہبی جماعت کی رکنیت ملتے ہی ہم علماء پر موقع بے موقع غصہ نکالتے ہیں۔ یہ بھی اب رواج ہو گیا ہے۔
    ایک آخری بات میرے اور آپ کے گھر میں اردو سمیت کئی زبانیں جاننے والے علماء موجود ہیں جو ان سب زبانوں میں صاحب تصنیف ہیں۔ مجھے تو ان کو پڑھتے ہوئے بہت خوشی ہوتی ہے۔ میرے اپنے اساتذہ میں مولانا محمد بشیر سیالکوٹی حفظہ اللہ اردو، عربی ، انگریزی اور فارسی میں ماہر ہیں، ایک زبان کو دوسری میں گڈمڈ کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر سہیل حسن حفظہ اللہ عربی بولیں یا اردو ایک میٹھے جھرنے جیسی روانی محسوس ہوتی ہے۔ کوئی اردو درس کے بعد ان سے انگریزی میں سوال پوچھے تو بڑی متانت و وقار سے اردو میں جواب دے دیتے ہیں گویا انہیں اہل اردو پر انی انگریزی دانی کا رعب جمانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔محترم ڈاکٹر فضل الہی حفظہ اللہ اردو، عربی انگریزی تینوں زبانوں میں بہترین لکھتے ہیں، سب زبانیں صاف بولتے ہیںاور ان کی اردو کتابوں کا نئی نسل پر اثر میں نے خود دیکھا ہے، اس کا مطلب ان کی زبان بھی مشکل نہیں، خطبہ ان کا اس سے بھی سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔ خلیل الرحمن چشتی صاحب حفظہ اللہ کے درس قرآن آپ سنتی ہیں، برسوں مغرب میں رہ کر تبلیغ کر کے آئے ہیں، ان کے درس قرآن اردو میں ہوں تو اتنی میٹھی اردوکہ وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا، انگریزی لفظ نئی نسل کی خاطر بولیں بھی تو اس کا اردو ترجمہ بھی بتاتے ہیں کہ ہماری زبان گونگی نہیں، اردو زبان کے شاعر بھی ہیں گویا باقاعدہ اردوادب سے رابطہ ہے ۔ ڈاکٹر صہیب حسن حفظہ اللہ کو میں نے اردو، عربی، انگریزی میں سنا بھی ہے اور ان کا تحقیقی کام بھی پڑھا ہے، ہر زبان میں مہارت ہے اور ان کا کام نئی نسل کو پڑھا رہی ہوں اس لیے جانتی ہوں کہ قابل فہم ہے۔ کسی کا اچھے علماء سے واسطہ نہیں پڑا تو ان کو ڈھونڈ لے، طلب صادق ہو تو اس دنیا میں سب ملتا ہے۔یہ بطور مثال چند علمائے کرام ہیں جو بیک وقت کئی زبانوں میں صاف ستھرا کام کر رہے ہیں تو آخر ان ناول نگاروں پر ایسی کون سی افتاد آن پڑی ہے کہ دو زبانیں کیا جانیں اردو بھول گئی؟
    ان چند مثالوں کو دیکھ کر ہی مجھے تو یہ دعوی درست معلوم نہیں ہوتا کہ علماء نئی نسل کے لیے ناقابل فہم ہیں، ہو سکتا ہے کچھ غافل اور سست داعی ناقال فہم زبنا بولتے ہوں لیکن ہر شعبے میں کالی بھیڑ معیار نہیں ہوتی تو علماء کے معاملے میں کیوں؟ اگرچہ ان بلند مرتبہ اساتذہ کرام نے ناول نہیں لکھے لیکن یہ مفت آن لائن کورسز کروا رہے ہیں، جن میں نئی نسل کی شرکت کی آپ خود گواہ ہیں، اردو مجلس پر ہی ان کے ربط مل سکتے ہیں، یہ جامعات سے زندہ افراد تیار کر کے میدان میں اتار رہے ہیں جو آگے زندہ افراد کی تیاری میں مگن ہیں۔
    میں ان کی ایک انتہائی ادنی طالبہ ہوں۔ میرے پاس قرآن و حدیث پڑھنے والوں میں 10 سے 13 سال کے بچوں کا گروہ بھی ہے اور بی اے کے 18 سے 22 سال کے طلبہ و طالبات بھی، ایم اے کے 20 سے 38 سال تک کے طلبہ و طالبات بھی۔ اس کے عوہ مختصر ڈپلومہ میں 13 سے لے کر 58 سال کے طلبہ و طالبات ہیں۔ ہر عمر کے لیے قابل فہم اردو، انگریزی ترجمہ قرآن و حدیث مل ہی جاتا ہے۔ جب کہ عربی میں بھی پڑھا رہی ہوں۔ 10 سے 13 سال والے انگریزی میڈیم کےبچے اس وقت حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ اورحافظ محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ کے ترجمے کو میری تشریح سمیت بآسانی ہضم کر لیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ وہ بچے ہیں جو اردو کے مضمون میں بہت کمزور ہیں اور اس سے بھاگتے ہیں۔ بی اے اور ایم اے کے طلبہ وطالبات صرف انگریزی اور صرف عربی میں پڑھتے ہیں ، قرآن و حدیث کو بہت اچھا سمجھ لیتے ہیں۔ ظاہر ہے علمائے کرام کی لکھی ہوئی تفاسیر اور شروح سے فائدہ اٹھا کر نہ کہ کسی ناول کی مدد سے۔ابھی ایک 63 سالہ عالم دین کی انگریزی کتاب پڑھائی ہے، بی اے کی طالبات نے زبان کی مشکل کا کوئی شکوہ نہیں کیا، بلکہ بہت سی باتوں کے متعلق کہا کہ ہمیں کاش یہ پہلے کسی نے ایسے بتایا ہوتا۔ جب میں نے ان عالم دین کے حالات زندگی مختصرا بتائے تو مولویوں پر سب سے زیادہ تنقید کرنے والی لڑکیوں کی آنکھوں میں نمی تھی۔
    یہ ان عالی مرتبت اساتذہ کی ایک کمترین شاگرد کے شب وروز ہیں۔ ام حسن اور ان کی خدمات کو آپ مجھ سے بہتر جانتی ہیں ، مزید ان کے لائق طلبہ و طالبات دنیا میں کہاں کہاں قرآن و حدیث کا علم پھیلا رہے ہیں اس کا خود تصور کیجیے۔
    تو بات یہ ہے کہ عالی ظرف لوگوں کا کام بولتا ہے، کم ظرف لوگوں کو اپنے کارنامے خود بیان کرنے پڑتے ہیں۔ علماء خاموشی سے بہتے چشمے ہیں جہاں مجھ جیسے لاکھوں پیاسوں کی سیرابی خاموشی سے ہوتی ہے۔
    اسی وجہ سے میری رائے ہے کہ الحمدللہ علماء خصوصا علمائے حق کم ضرور ہیں لیکن انتہائی مشکل حالات کے باوجود بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  5. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    آپ کی سب باتیں سر آنکھوں پر۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازیں۔ میں تقریباََ تمام باتوں سے متفق ہوں مگر بس ذرا سی کنفیوژن باقی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام فہم زبان میں بھی کتب اور دروس موجود ہیں اور جو دین سیکھنا چاہے اللہ تعالی ضرور اس کے لیے راستہ آسان کریں گے۔ مگر کیا کوئی شخص اپنا تمام وقت دین سیکھنے میں لگا سکتا ہے؟ کیا کسی کے لیے ممکن ہے کہ وہ اچانک اپنے ساری عمر کے شوق اور دلچسپی کو (جس میں کوئی شرعی ممانعت بھی نہیں ہے) دیوار سے لگا کر اپنا ایک ایک لمحہ دروس اور کتب میں صرف کرے۔ شاید کوئی سعید روح ایسی ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ کثیر تعداد کے بس کی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالی کی مرضی شامل حال ہو تو ہو سکتا ہے کہ بتدریج میری دلچسپی قرآن اور اسلامی علوم میں اس حد تک بڑھ جائے کہ مجھے ادب لطیف اور نثری ادب میں کچھ قابل توجہ نہ لگے۔ مگر تب تک میں ایسی چیزیں (جو فصاحت اور بلاغت بے شک نہ رکھتی ہوں) بھی تفریح کے لیے کیوں نہ پڑھوں! اور دوسرا یہ کہ آپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ فرضی قصہ کہانی بھی قابل اعتراض چیز ہے یا نہیں۔ یہ دیکھیے، تازہ ترین قسط میں نمل کے ایک کردار کی زبان میں نمرہ احمد کیا کہتی ہیں:
    "کبھی کبھی کہتا تھا، حنہ کبھی مجھے بہت سا وقت ملے تو میں ایک کتاب لکھوں گا قرآن پہ۔ میں نے پوچھا، تفسیر لکھو گے؟ کہتا، میں کیسے تفسیر لکھ سکتا ہوں؟ بہت تفاسیر موجود ہیں پہلے سے ہی۔ میں صرف قرآن پہ غور و فکر کر کے آیات سے ملنے والے اسباق کو لکھنا چاہوں گا، کہ میں نے اس آیت سے کیا سیکھا، کیا سمجھا۔ میں اسے ڈراتی تھی، کہ بھائی، فتوے لگ جائیں گے، لوگ کہیں گے کہ آپ کو قرآن پہ کچھ لکھنے کی اجازت کس نے دی؟ اہلیت کیا ہے آپ کی۔ تو وہ ہنس کر کہتا، ان لوگوں سے کہنا حنہ، نہ مجھے ان کی اجازت کی ضرورت ہے، نہ مجھے ان کے فتووں سے فرق پڑتا ہے۔ مجھے قرآن پہ غور و فکر کرنے کا حق اللہ نے دیا ہے، مجھے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی تاکید اللہ نے کی ہے۔ کوئی پیر، کوئی عالم، کوئی پروفیسر مجھ سے یہ حق چھین نہیں سکتا۔ میں اہلِ قرآن ہوں۔ ہم اللہ کا کنبہ ہیں۔ ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ ہم تو بھئی ڈنکے کی چوٹ پہ قرآن عام لوگوں تک، عام ہاتھوں میں پھیلائیں گے عام اور سادہ زبان میں۔۔۔۔۔ کیونکہ جس نے مجھے سکھایا ہے، مجھے اس علم کا حق ادا کرنا ہے نہیں تو میری پوچھ دوسروں سے زیادہ ہو گی۔"

    عکاشہ بھائی آپ نے لکھا:
    آپ کے مختصر جواب نے میرے دل پر بہت اثر کیا مگر پھر وہی بات ذہن میں آئی کہ بہت سے لوگوں کو لکھنے اور اپنی تحریر سے لوگوں کو مسحور کرنے کی صلاحیت سے نوازا گیا ہے، کیا یہ سب بے مقصد ہے؟ کیا اگر ایسے لوگ اپنی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے دین کو لوگوں تک پہنچائیں تو یہ غلط ہے؟ میں نے اس چیز کو islamqa.info پر دیکھا تو یہ جواب ملا:

    کہانیاں لکھنے میں میں کوئی قباحت نہیں اگر وہ شریعت کی ان شرائط پر پوری اتریں جو کہ ان کے لکھنے اور شائع کرنے کو جائز ٹھہراتی ہیں۔
    شیخ محمد ابن صالح العثیمین کا کہنا ہے: اس میں کوئی برائی نہیں ہے اگر یہ روحانی یا اخلاقی یا سماجی مسائل کے بارے میں ہو کیونکہ فرضی کہانیوں میں تمثیلات پیش کرنا کچھ غلط نہیں۔ درحقیقت کچھ علما کا کہنا ہے کہ قرآن میں درج کی گئی کچھ امثال بھی اصل واقعات کی طرف اشارہ نہیں کرتیں بلکہ اللہ نے یہ مثالیں سبق دینے کے لیے دی ہیں۔ جیسا کہ فرمایا:
    'اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی۔ ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک وہ جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر۔ کیا وہ برابر ہو جائیں گے؟ سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں۔' (النحل: 76)


    مکمل جواب یہاں دیکھیے: http://islamqa.info/en/163469

    خیر، یہ ساری باتیں ایک طرف:
    کیسا عظیم سچ ہے یہ! مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہم لوگوں کے قلوب ابھی ایسی پاکیزگی کو نہیں پہنچے۔ قرآن میں تدبر کے لیے میں وقت نکال لوں، وہ ایک الگ بات ہے، لیکن جب نمل کی نئی قسط آتی ہے تو وہ میں الگ سے کچھ وقت نکال کر پڑھوں (قرآن کے لیے وقف وقت میں کمی کیے بغیر) کیا یہ بھی غلط ہے؟ (اور یہ مسئلہ میرے ہم عمروں کو بھی درپیش ہے!) میرا تجربہ ہے کہ اس سے قرآن کے لیے محبت میں ہرگز کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ زیادہ تحریک ملتی ہے ۔ بہرحال، آپ کی پوسٹ کے بعد میرے لیے یہ چیز واضح ہو گئی ہے کہ مجھے قرآن میں تدبر اور ساتھ اتباع سیرت کے لیے اتنی کوشش کرنی ہے کہ پھر مجھے ادبی ذوق پورا کرنے کے لیے کسی ناول کی طرف رخ نہ کرنا پڑے۔
    (اور یہ ساری باتیں میں اس لیے لکھ رہی ہوں کہ نمل سے میرے ایمان کو فائدہ پہنچا ہے (وقتی ہی سہی) ورنہ مجھے بحث میں وقت صرف کرنے میں اور اپنی کم علمی دوسروں پر آشکار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں!)

    منتظر۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    اللہ آپ کے وقت میں برکت عطا فرمائے۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    بات یہ ہے کہ کسی کو زکام ہو اور کینسر بھی تو اس کو کینسر کا مریض کہا جائے گا، زکام وغیرہ چھوٹی چیز رہ جائے گی۔ خواتین کے لیے لکھے جانے والے ناولز پر بات کرتے ہوئے جھوٹے قصے کے حکم پربات ہونے کی باری تب آئےجب سستی رومانویت، ہیجان انگیزی ،مخرب اخلاق پلاٹ اور غلط اردو زبان کے مسائل حل ہو جائیں۔ نثری ادب کو کس نے حرام کیا ہے، اردو مجلس پر نثری ادب کے زمرے میں میرے موضوعات موجود ہیں، اسلامی تعلیمی اداروں میں ہم نے علماء کا مرتب کردہ نثری ادب کا انتخاب پڑھا ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ دائجسٹ میں بکنے والی غلاظت! خواتین کے ناول نثری ادب میں کہاں سے آئیں گے جب یہ باقاعدہ اردو ادب کی ذیل میں ہی نہیں آتے؟ یہ بات تو پہلے بار بار ہو چکی ہے کہ یہ پاپولر فکشن ہے۔ لڑکے جاسوسی ناولوں میں غلاظت پڑھ رہے ہیں لڑکیاں سماجی اصلاحی ناول کے دھوکے میں ہیجان انگیز تحریریں پڑھ رہی ہیں جنہیں صاف الفاظ میں پورنوگرافی یا فحاشی ہی کہہ سکتے ہیں۔ ہاں سنا ہے کچھ مصنفات مہذب لکھ رہی ہیں تو ان کو کس نے کہا ہے کہ وہ ڈائجسٹ میں لکھیں۔ ہماری ایک جاننے والی بہت دین دار ہیں، ڈائجسٹ میں ہی ستھرا لکھتی ہیں، یہی انقلاب لانا چاہتی ہیں لیکن خود بتاتی ہیں کہ ان کو عملہ ادارت سے لے قارئین تک سے مشورے ملتے ہیں تھوڑا رومینس بھی لکھا کریں، لوگ ویسے ہی حالات سے تنگ ہیں، کچھ تفریح تو اسلام میں جائز ہے وغیرہ وغیرہ۔ وہ اپنے طریقے سے ہی لکھتی رہیں تو ان کو یہ ردعمل ملا کہ ان کا نام پڑھتے ہی ہم صفحہ پلٹ دیتے ہیں کہ خشک کہانیاں لکھتی ہیں۔ کم ازکم 12 سال ہو چکے ابھی تک قوم کا ذوق نہیں بدل سکیں۔
    پلاٹ کسی کہانی کی بنیاد اور ستون کھڑا کرتا ہے، بھرائی، چنائی جتنی اسلامی ہو فرق نہیں پڑے گا۔ میری جن کولیگ کی رائے کا تذکرہ آیا تھا وہ باقاعدہ ادب کی طالبہ ہیں اس لیے ان کی رائے مریے نزدیک زیادہ وقیع ہے۔ ان کے مطابق اس ناول میں صرف دو مرکزی کرداروں کا رومینس نہیں ہے بلکہ انگریزوں کی طرح ناول کے سب بالغ کردار کسی نہ کسی میں دلچسپی رکھتے ہیں، جب کہ یہ دلچسپیاں یہاں سے وہاں بدلتی بھی رہتی ہیں۔ یہ ایسی سوچ ہے جس پر سو بارلعنت بھیجنی چاہیے اور اس کی ترویج کرنے والوں کو توبہ کر لینی چاہیے۔ یہ شیطان کے راستے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ جیسابھی ہے یہاں ابھی مقدس رشتے باقی ہیں، یہاں لوگ جس سے ایک بار شادی کرتے ہیں ساری عمر اس کی خامیوں کے باجود اس کا ساتھ نباہتے ہیں، یہاں شادی کے مقدس رشتے سے باہر تانکا جھانکی کی عادت بھی مغرب سے کم ہے۔ خدا ان لوگوں کو ہدایت دے جو اصلاح کے نام پر مغرب کی ہر برائی ڈرامائی انداز میں بڑھا چڑھا کر اہل اردو کو پڑھا رہے ہیں۔
    اب میں بالا ذکر کردہ باتوں کے ثبوت اقتباسات سے پیش کرنے سے رہی، ابھی جی کڑا کر کے دو تصویریں "اسلامی ناولوں" سے پیش کی تھیں کہ آپ سب بلبلا گئے۔ کہیں تو کسی سے مانگتی ہوں چند نمونے۔ نقاد لکھ رہے ہیں ان کی لکھی ہوئی تنقید بہت ہے۔ چند سال گزریں گے وقت خود فیصلہ کر دے گا۔
    اسلام سوال جواب کے فتاوی کا ذکر آیا ہے تو وہاں رومانوی ناولوں پر بڑا واضح فتوی موجود ہے۔ پڑھا جا سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    اچھا میں تو جا رہی ہوں پالک کے پکوڑے بنانے، مریم آپ کو بھی دعوت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    اتنی کڑوی باتوں کے بعد تو گاجر کا حلوہ بھی مشکل سے ہضم ہو گا. : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  10. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    آمین. اور آپ کے وقت میں بھی اتنی برکت دے کہ آپ 'دینی لٹریچر کے بارے میں' اپنے نقطہ نظر سے ہمیں مستفید ہونے کا موقع دیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    عام آدمی پر دین کا صرف اتنا علم حاصل کرنا فرض ہے جس سے وہ دینی فرائض ادا کر سکے۔ اس کو علما جتنا علم نہیں چاہیے۔
    ابھی اپنی ذات کو ایک طرف کر دیں۔ میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہی ہوں کہ جو لڑکیاں ان سستے ناولوں اور ڈراموں میں غرق ہیں ان کی اکثریت نماز کے متعلق بھی ضروری علم نہیں رکھتی۔ میرا تدریسی تجربہ اسی میدان میں ہے۔ جو لڑکی نماز کی ضروری باتوں کا علم بیس بائیس سال کی عمر میں بھی نہیں رکھتی، اس نے کب روزے، زکاۃ، سود، حلال اور حرام کو سیکھنا ہے اور کل اپنے بچے کو کیا سکھا کر بڑا کرنا ہے؟ یونیورسٹی کی سطح کی لڑکیوں کا یہ حال ہے کہ شرم آتی ہے بتاتے ہوئے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیلوں میں شطرنج کو منع کیا، گھڑ سواری اور نشانہ بازی کی حوصلہ افزائی کی۔ جنگی کرتب اپنی بیوی کو بھی دکھائے۔ یعنی اعلی قوموں کے اعلی افراد معیاری تفریح کرتے ہیں۔ یہ اس قوم کی تیاری تھی جس نے چند برسوں میں مدینہ کے تین سو گھروں کی بستی سے اٹھ کر پورے جزیرۃ العرب اور پھر روما کو فتح کرنا تھا۔
    آپ کے مریض کو جنک فوڈ پسند ہے لیکن آپ بطور ماہرِ طب اسے یہی کہیں گی کہ معیاری کھانا کھائیے تا کہ جان بنے۔ صرف ٹیسٹ بڈز کی نہ مانیں، معدے کی دہائی بھی سنیں۔ میری بھی یہی مجبوری ہے۔ مجھے بھی آپ کو بار بار کہنا ہے کہ اپنا ٹیسٹ معیاری چیزوں کے لیے ڈویلپ کریں۔
    جسم جیسا حال دماغ کا ہے۔ اسے معیاری غذا دیں، معیاری تفریح دیں، یہ آپ کو معیاری سوچ دے گا، آپ کےافکار معیاری الفاظ میں ڈھل کر دنیا تک پہنچیں گے۔آپ کی سوچ ہی آپ کے الفاظ اور پھر آپ کے اعمال میں ظاہر ہوتی ہے۔ آپ کے اعمال آپ کی شخصیت اور پھر آپ کی کتاب زندگی تحریر کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ اہم ہے کہ آپ نے زندگی بھر کس چیز کا مطالعہ کیا۔ فصیح ادب میں بہت معیاری تفریح موجود ہے۔
    بات صرف فصاحت اور بلاغت کی بھی نہیں، بات ان غیر حقیقی اور حرام باتوں کی آمیزش کی بھی ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا۔
    دیکھے اللہ فرماتا ہے فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم: جب انہوں نے بری راہوں کی طرف بار بار جانا معمول بنا لیا تو اللہ نے بھی ان کے دل برے بنا دئیے۔
    یعنی انسان برائی اور برائی ملی چیزوں کی طرف بار بار جاتا رہتا ہے تو ایک دن دولت ایمان جاتی رہتی ہے۔
    دیکھیے جب زندگی بامقصد بنانی ہو تو بے مقصد چیزیں زندگی سے خارج کرنی پڑتی ہیں چاہے ان سے ہمیں کتنا پیار ہو۔ ایک وقت آنا ہے جب کچھ لوگوں نے کہنا ہے یا لیتنی قدمت لحیاتی! اللہ کرے ہم ان میں سے نہ ہوں۔
     
    Last edited: ‏جنوری 10, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    قرآن مجید اور احادیث میں جو قصے بیان ہوئے فرضی نہیں ہیں۔ مثالیں دے کر جو بات سمجھائی گئی ہے وہ بھی حقیقی زندگی کی مثالیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث میں جو قصے آئے ہیں ان میں برائی کی تفصیل نہیں ہے۔
    قرآن آپ کو حقیقی قوموں کی تاریخ اور عظیم شخصیات کی زندگی کے حوالے دیتا ہے، حدیث میں بھی پچھلی قوموں کے نیک لوگوں کی آزمائشوں کے قصے آئے ہیں۔
    ہر ادیب سو فی صدی خیالی قصہ نہیں گھڑتا، وہ اپنا روزمرہ مشاہدہ ہی کہانی میں پیش کرتا ہے، لیکن تجارتی ادب عیاشی اور تخیلاتی مبالغہ آمیزی کی جانب مائل ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کا مقصد پیسہ یا عوامی مقبولیت ہوتا ہے۔ ڈائجسٹ کی مجبوری ہے کہ اس نے تھرل یا ہیجان بیچنا ہے۔ وہ بکتا ہی اس لیے ہے۔ یہ جو انتقاما شادی کرکے نفرت کرنے والا پاپولر پلاٹ ہے نا یہ اسی لیے ڈئجسٹ کی "مصنفات" میں مقبول ہے کہ اس میں تھرل کے بہت مواقع ہیں۔ کہانی چٹخارے دار ہو جاتی ہے۔ ہر تیسرے ناول میں یہی بکواس، ہر دوسرے ڈراموں کی یہی سٹوری لائن ، نتیجہ ہر لڑکی میاں سے گدھے جیسا سلوک کرے اور معاشرے میں نئے نئے جڑنے والے خاندان چاہے برباد ہو جائیں۔ حقیقی زندگی میں آپ کا بھائی یا بیٹا ایسے حالات سے گزر چکا ہو اور آپ نے اس کی حالت دیکھی ہو تو آپ برداشت نہیں کر سکیں گی۔ ایسے حالات پورےخاندان کو ڈپریس کرنے کو کافی ہوتے ہیں۔ اور کیا اسلامی لحاظ سے انتقام پورا کرنے تک کی گئی شادی حلال بھی ہے؟ ایک خاص مدت تک شادی کرنا تو متعہ میرج ہے جو حرام کر دی گئی ہے تو آپ کیا لکھ رہے ہیں اسلامی کے نام پر؟ مرد اگر طلاق کی نیت سے شادی کرے تو برا اور عورتیں انتقام کے لیے شادیاں رچائیں تو ہیروئنز؟ کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسے ناول نگاروں کو یا نہیں؟
    پھر ہمارےدین میں شادی کب سے ٹشو پیپر ہو گئی کہ پہلی شادی انتقام لینے کے لیے، یا سچ جاننے کے لیے کی تھی، مشن کی کامیابی کے بعد دوسری شادی کا پلان بنایا جائے؟ عام زندگی میں ایسی عورت کو ہم آئیڈیلائز کریں گے یا اس پر نفرین بھیجیں گے؟
    ڈائجسٹ میں اصلاحی ناول لکھنے والے، قرآنی قصے کے برعکس برائی کو اتنی باریکی سے دکھاتے ہیں کہ بری فطرت والے باقاعدہ داؤپیچ سیکھ سکتے ہیں۔ پھر برائی کے 25 مناظر کسی انگریزی فلم کی طرز پر لکھ کر 26 ویں منظر میں کسی مبلغانہ کردار سےقرآنی آیات کا وعظ کروا دینا کافی نہیں ہوتا۔ آپ نے سار زور بیان برائی کی ترویج پر صرف کر دیا، نیکی کی جیت کا منظر آیا تو آپ ہانپ چکے تھے۔ ایسے میں آپ کے ناول کا کلائمکس برائی ہی رہا۔
    میں ان اسلامی یا اصلاحی ناولز سےکچھ نمونے آپ کو پیش کرتی ہوں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے گا اگر آپ کی بیٹی ایسا کرے تو آپ کا جی اس کو کچا چبانے کو کرے گا یا نہیں۔ اور یہ بھی کہ حقیقت میں اسلامی لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    قصہ مختصر "اسلامی" کے نام پر جو کچھ سامنے آ رہا ہے اس کے پیچھے چل پڑنے والوکے لیے مختار مسعود کا یہ جملہ یاد آتا ہے
    تمہاری طرف جو ہاتھ بڑھاتا ہے تم اس پر بیعت کر لیتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمہیں اب تک راستہ نہیں ملا۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/پیرادانیا-۔۔۔-سری-لنکا-peradeniya.23324/
    میں نے تاریخ میں بھی یہ بار بار پڑھا ہے اور اب اپنی زندگی میں بھی ہوتا دیکھ رہی ہوں کہ ہم اسلامی کے لفظ سے ایسا دھوکا کھاتے ہیں کہ تمام احتیاط بھول جاتے ہیں۔ اسلام سوال اٹھانا سکھاتا ہے، قرآن بار بار منطقی سوال اٹھاتا ہے تو ہم نے یہ مریدانہ طبیعت کہاں سے پائی ہے کہ جس پر اسلامی کا گمان ہوا سو فی صد آنکھیں بند کر کے اس کے مرید ہو گئے۔

    تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
    ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    دینی لٹریچر پر پوسٹ نمبر 44 میں بہت کچھ وضاحت میں موجود ہے۔ اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ مزید فرصت میں ان شاءاللہ
    شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمه اللہ کی بات درست ہے لیکن مذکورہ ناول ان شرائط پر پورے نہیں اترتے۔کئی حوالے تو اسی تھریڈ میں موجود ہیں۔ جن پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس کے علاوہ کئی ایسے فتوی بھی ہیں۔ جن کی رو سے اصلاح کے لئے فرضی قصوں کی ممانعت موجود ہے
    فطری طور پر مسلمان کے دل میں پاکیزگی موجود رہتی ہے۔ کرنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کلام الہی(قرآن اور نبی کریم کس فرمان سمیت۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت و دین کا فہم) کے ذریعے اس گرد کو صاف کرنا ہوتا ہے جو جمی رہتی ہے۔ کچھ لوگ بچپن میں یہ چیز حاصل کر لیتے ہیں۔ اور بہت سے دوسرے زندگی کے کسی نا کسی حصے یہ معرکہ سر کر لیتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حاصل نہیں کر ۔ یوں نہیں کہا جاسکتا کہ ہمارے دل پاکیزگی کو نہیں پہنچے۔۔ تو پھر پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شریعت میں کوئی ایسی قید تو موجود نہیں ہے کہ جو پاکیزگی کسی صحابی رسول رضی اللہ عنہ نے حاصل کر لی کوئی اور نا کرے۔بلکہ ایمان ویسا ہی قبول ہو گا۔ جیسا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔ تو پھر پاکیزگی کے حصول میں یہ تفریق اور پابندی کیوں ہے۔
    رہی بات کہ قرآن کا وقت دینے کے بعد یا یوں کہ لیں کہ باقی تمام کام سے عہدہ برا ہونے کے بعد اس کو پڑھا جائے تو کیا پھر بھی منع ہے؟ میرا خیال ہے منع کوئی نہیں کررہا۔ لیکن ایسی چیزوں کے فوائد سے زیادہ مضر پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی۔ جیسے اسلام نے خمر کو مکمل حرام قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس میں فوائد بھی ہیں۔خصوصاً یہ چیز نوجوان نسل کے لئے شارٹ کٹ راستہ ہے جس سے انہیں گزارا جاتا ہے۔جیسے جہاد یا پردہ کے موضوعات ہیں ۔ ان دونوں موضوعات پردینی لٹریچر سے ہٹ کر ایمان کو تازہ کرنے والے ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔ اول الذکر تکفیریت کی طرف مائل ہیں ۔ کوئی اصول اور ضوابط نہیں ۔ ان کا یہ حال ہے کہ وہ اہل علم کی بات کو رد کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ بے ادبی اور گستاخی اتنی ہوتی ہے کہ کوئی شریف النفس شخص دعوت دین یا اصلاح نہیں کر سکتا ۔ ثانی الذکر پردہ ہے ۔پردہ کا اصل مقصد ظاہر اور باطن دونوں کی حفاظت ہے ۔ اب پردہ کی تذکیر کے لئے بہت کچھ نئے طریقہ موجود ہیں جو ہماری نظر میں صرف ظاہر کی اصلاح کرتے ہیں ـ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے لڑکیاں کسی سے متاثر ہوکر پردہ شروع کر لیتی ہیں، پھر چھوڑ دیتی ہیں ـ لیکن اگرپردہ کے لئے ان کو ازواج مطہرات ؓ، صحابہ کرامؓ کی سیرت کے مطالعہ کی دعوت دی جائے تو نا صرف یہ چیز اثر کرتی ہے ـ بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی فائدہ مند ہوتی ہے ـ
    مزید یہ نئے طریقے تحقیق یا محنت پر مجبور نہیں کرتے ـ آسانیاں و تساہل لاتے ہیں ۔ جب کہ دینی ادب و لٹریچر سیکھنے سکھانے اور تحقیق پر ابھارتا ہے۔ چاہے وہ تاریخ ہو۔ سیرت ہو۔ حدیث ہو۔ علوم قرآن ہو۔ انسان کے لئے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ وہ نہیں جو اسے خود بخود ملا گیاـ زندگی گزارنے کے لئے ڈاکٹر ، انجینئر ، بننے والے ضرورت پر کسی مولوی یا مولانا کی تحقیق نہیں پڑھیں گے ـ بلکہ کوشش کریں گےکس اسی شخص کا لیکچر سنیں جو اس شعبہ میں مہارت رکھتا ہوں ـ اسلام بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ آپ ہر معاملے میں اصل کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کریں ـ کوشش میں یہ ہوتا ہے کہ اگر زیادہ نہیں تو کچھ نا کچھ حاصل ضرور ہوتا ہے ـ اس میں کوئی شک نہیں شروع میں مشکل ہوتی ہے ـ طبیعت مائل نہیں ہوتی ـ بوریت الگ ہوتی ہے ـ لیکن اگر اخلاص ، دل جمعی ،اچھا دینی ماحول ، متقی ، پرہیز گارعلماء و لوگوں کی صحبت حاصل ہو جائے تو منزل قریب اور آسان ہو جاتی ہے ـ
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    لکھنے کی حد تک ٹھیک ہے نام بھی میں نے سوچ رکھا ہے
    " اور چائے ٹھنڈی ہو گئی!"
    اللہ کرے کہ کوئی اور یہ نام چرا نہ لے۔۔۔ البتہ چھپوانے کی میں قائل نہیں، جیب کو نقصان ہوتا ہے۔


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    آپ کے کرنے کا کام اس سے بلند ہے اگر آپ اس پر توجہ دیں اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے

    Sent from my H30-U10 using Tapatalk
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    یا سلا م ، محق
    : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    نہیں یا اختی ۔ میرے رائے میں اگر ہم کسی چیز کے مضر ہونے کی بات کرتے ہیں تو متبادل میں اس سے بہتر چیز کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن ، سیر ت رسول ﷺ،سیرت امہات المؤمنین ،سلف صالحین وغیرہ ۔ ہاں ، اگر ہم یہ کہیں کہ ناول جیسی ہی کسی چیز کو اصلاح اور علم کی خاطر اختیار کر لیں تو پھر فیس بک کا حوالہ بن سکتا ہے ۔ سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والوں لوگوں میں فرق ہو سکتا ہے ۔ فتنہ سے تو انسان گھر کےاندر بھی نہیں بچ سکتا ۔ لیکن اگرمعلوم ہو کہ فتنہ سے بچنا کیسے ہے تو ان شاء اللہ ، انسان کہیں بھی رہا کربچ سکتا ہے ۔ فیس بک یا ٹویٹر استعما ل کرنے والوں میں صاحب علم حضرات بھی ہیں ۔ اور فتنہ پرور بھی ۔ عوام الناس کی کثیر تعداد جو کہ جاہل ہے وہ بھی استعمال کرتی ہے ۔ اگراہل علم یہ سوچ کر فیس بک کا استعمال ترک کردیں کہ گٹر میں رہتے ہوئے اس کی صفائی ممکن نہیں ،تو کتنے لوگ ہیں جو فیس بک چھوڑ کر مساجد یا کتابوں سے استفادہ کی کوشش کریں گے ۔ شاید ایک فیصد بھی نہیں ۔ لوگوں کو فتنہ اور فتنہ پرور لوگوں سے بچانا اہم فریضہ ہے ، بجائے اس کہ انسان گھر میں بیٹھ کرلوگوں کی صلاح کے لئے کوئی ناول یا مضمون لکھتا رہے ،یاکتابیں لکھے ۔ یا پھرجمعہ کے دن صرف خطبہ کو ہی کافی سمجھ لے ۔دعوت دین کے لئے ضروی ہے عالم دین اصل ما خذ کو نا چھوڑے، ذریعہ کوئی بھی استعمال کرے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اگر کسی کا علم اتنا ہی کمزور ہے(یا جذباتی لوگ یا اساتذہ) کہ وہ جلد ہی فتنہ میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر اسے چاہے کہ بلاضرورت گھر سے بھی باہر نا نکلا کرے ، کیونکہ پہلے اپنے آپ کو فتنہ سے محفوط رکھنا ، ایمان کی سلامتی کے لئے ضروری ہے ـ
     
  19. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    متفق
    مصحف جنہوں نے پڑھا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس میں ایسا کچھ نہیں جو عام طور پر سطحی سوچ رکھنے والے پڑھتے ہیں، وہ لوگ تو کبھی بھی یہ ناول نہ پڑھیں کیونکہ ان کو اس میں وہ سب نہیں مل سکتا جو وہ پڑھنے کے عادی ہیں.

    مصحف دراصل ہے ہی قرآن پر، اور جو لوگ قرآن سے دور ہیں مجھے یقین ہے کہ ایک دفعہ یہ ناول پڑھنے کے بعد ان کے ذہن میں یہ خیال ضرور آیا ہو گا کہ قرآن مجھے پڑھنا ہے آج سے

    یہاں پر میں نے کچھ اعتراضات پڑھے
    ہر انسان ایک مختلف ماحول میں پرورش پاتاہے، آپ کا اٹھنا بیٹھنا ایسے ماحول میں رہا ہو گا جہاں آپ کو ملا ہی ایک بہت اچھا ماحول ہو گا کہ آپ کو ناول پڑھنا ٹھیک نہیں لگ رہا، کچھ غلط بھی نہیں ہے آپ کی بات، انسان کی زندگی تھوڑی ہے مگر علم زیادہ تو وہ علم حاصل کرنا چاہیے جو اس کو نفع بخشے لیکن آپ یہ سوچیں کہ آپ کا ایسا مزاج بنا کیسے؟ کیا ایک دم سے ہی آپ اس طرف راغب ہو گئیں؟ عین ممکن ہے کہ آپ کو شروع سے ہی ایسے لوگ ملے ہوں جنہوں نے آپ کو صراط مستقیم پر چلنا سکھ دیا ہو، اب آپ کو اس راستے سے ذرا بھی ادھر ادھر ہونا ٹھیک نہیں لگتا.
    لیکن بہت سے ایسے افراد ہیں جن کو نہیں پاتا ہوتا کہ حیا کیا ہے؟ پردہ کیوں کرتے ہیں؟ پردہ کرنا فرض ہے یا نہیں؟ ہمیں تھوڑا سا دوسرے کی سوچ تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے. ایسے افراد کی زندگی عام کتابیں پڑھتے ہی گزری ہوتی ہیں.، وہ لوگ اگر یہ پڑھ لیتے ہیں تو ان کا ذہن تھوڑا سا کھلتا ہے، انھیں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ کمی ہے ان کے اندر اور پھر ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے پھر وہ ان کو قرآن کا صحیح علم بھی دیتا ہے اور وہ حقیقی کامیابی تک پہنچ جاتے ہیں.

    انسان کسی چیز کو پڑھ کر وہی رائے قائم کرتا ہے جیسا وہ سوچتا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    ویسے جب کوئی کسی چیز کا ڈائے ہارڈ فین ہو تو پھر کوئی دوسری بات کم ہی سمجھ آتی ہے۔ لیکن کوئی مجھے بتائے پیر کامل کی اسلامی ہیروئن کو دین بدلنا ہوتا ہے تو سیدھا پڑوسیوں کے بیڈروم میں پہنچ جاتی ہے۔یعنی انسان کے پاس پناہ لیے کئی معقول جگہیں ہوتی ہیں۔
    اور یہ کون سا اسلام ہے کہ عورت نے اسلام قبول کرنا ہے تو ایک مرد ضروری ہے۔ کیا اسلامی تاریخ میں تنہا عورتوں نے اسلام قبول کر کے اس کے لیے قربانیاں نہیں دیں؟ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی شادی شدہ بیٹی رضی اللہ عنہا اسلام قبول کر کے تنہا ہجرت کو نکلتی ہیں۔ اسلامی ہیروئنوں پر کیا آفت آ گئی ہے کہ ترکیب قبول اسلام میں ایک عدد ہمدرد صنف مخالف سے اڑانا ضروری ہے؟
    آنکھ نہ کھولنی ہو تو مصحف بھی اسلامی ناول ہے لیکن میں تو ایسے اسلامی ناولوں پر لعنت بھیجتی ہوں جہاں دو بہنوں کو ایک ہی بندے کی محبت میں مبتلا دکھایا جائے، یا ایک ہی انسان دو بہنوں کی محبت میں کنفیوز ہو، یہ کون سا اسلامی ناول ہے جہاں عورتیں اپنے بہنوئی سے پردے کی بجائے اس کے سامنے پونی ٹیل لہراتی پھرتی ہیں؟اللہ پر یقین رکھنے والی ایک مسلمان عورت ایسی سوچ کا قطعا ساتھ نہیں دے سکتی، لیکن ہندوانہ فلمیں دیکھ دیکھ کر ہمارے یہاں بھی محرم و نامحرم کے معیار بدل کر شیطانی خیالات کو رواج مل رہا ہے۔دینی معیار پر قائم رشتوں کا تقدس ایک ایسی چیز ہے جس پر انسان جان دے سکتا ہے لیکن تصوراتی رومانس لکھنے والے پوری کوشش میں ہیں کہ رہی سہی اقدار بھی تباہ ہو جائیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں