کلمہ شہادت کا مفہوم ۔ یونی کوڈ کتابچہ

اعجاز علی شاہ نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏دسمبر 17, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

    کتابچہ: کلمہ شہادت کا مفہوم
    عربی نام: معنى شهادة ان لا اله الا الله
    مولف: الشیخ عبد الکریم الدیون (امام و خطیب،جامع الزبیر بن العوام، حیی النھضہ، الریاض)
    ترجمہ: عتیق الرحمن الاثری
    صفحات کی تعداد: 20
    ناشر: المكتب التعاوني للدعوة والارشاد وتوعية الجاليات بشمال الرياض، المملكة العربية السعودية
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه من والاه وبعده !
    امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دین اسلام کی بنیاد اور مخلوق پر عائد ہونے والی ذمہ داری کلمہ شہادت کا اقرار ہے، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی برحق معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے برگزیدہ رسول ہیں، چنانچہ کلمہ شہادت ہی کے ذریعہ ایک کافر، مسلمان اور دشمن، دوست بن کر اپنی جان اور مال کے لیے حرمت و عصمت حاصل کرتا ہے، نیز ایک کافر شخص جب تک زبان سے کلمہ شہادت نہیں پڑھے گا وہ مسلمان نہیں کہلائے گا، کیوں کہ کلمہ شہادت ہی اسلام کی کنجی اور اس کا پہلا بنیادی رکن ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ہے:
    بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ (متفق عليه)
    ترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر قائم ہے، پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

    استطاعت کے باوجود کلمہ نہ پڑھنے والا کا حکم
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: جس شخص نے استطاعت کے باوجود زبان سے کلمہ شہادت نہیں پڑھا وہ متفقہ طور پر کافر ہے، ہاں اگر وہ حسی یا حکمی طور کلمہ پڑھنے سے عاجز وبے بس ہے تو اس کا حکم اس کی حالت پر موقوف ہے۔

    لا الہ الا اللہ کا مفہوم
    کلمہ لاالہ الا اللہ نفی واثبات دوچیزوں پر مشتمل ہے، پہلے جزو لا الہ میں جملہ باطل معبودوں کی نفی، اور دوسرے جزو الا اللہ میں خالص اللہ تعالی کے لیے الوہیت کا اثبات ہے، پس لا الہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہوا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور بعض جاہلوں کا جو یہ خیال ہے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ کا مطلب صرف زبان سے پڑھ لینا، یا اللہ تعالی کے وجود کا اقرار کر لینا، یا ہر چیز پر اس کی حکومت وبادشاہت کو بلاشرکت غیر تسلیم کرلیناہے تو یہ خیال بالکل فاسد ہے، کیوں کہ اگر کلمہ لا الہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہوتا تو اہل کتاب یہود ونصاری نیز بت پرستوں کو اس کی طرف دعوت دینے کی ضرورت ہی کیا تھی جبکہ وہ اتنی بات کے قائل تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ایک اشکال اور اس کا جواب
    بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کلمہ لا الہ الا اللہ کا یہ مفہوم کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کیونکر درست ہوسکتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں ہیں جن کی عبادت اور پرستش کی جاتی ہے، نیز اللہ تعالی نے انھیں قرآن کریم میں آلھۃ کے نام سے موسوم کیا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مِن شَيْءٍ لَّمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ ترجمہ: جب تمہارے رب کا عذاب آگیا تو ان کے یہ معبود جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے ان کے کچھ کام نہیں آئے (سورة هود: 101) تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معبود جن کی اللہ تعالی کے سوا عبادت کی جاتی ہے باطل اور نادرست ہیں یہ کسی بھی طور پر عبادت کے ایک معمولی حصہ کا بھی حقدار نہیں ہیں اور ان کے بطلان کے لیے یہ آیت کریمہ واضح اور ٹھوس دلیل ہے، ارشاد باری تعالی ہے:ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ترجمہ: یہ اس لیے کہ اللہ ہی برحق ہے، اور اس کے علاوہ سارے معبود باطل ہیں، اور اللہ تعالی بلند اور بڑائی والا ہے (سورۃ حج:62)۔
    پس لا الہ الا اللہ کا معنی یہ ہوا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور اسی کا نام توحید ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    اعمال کی صحت و قبولیت کلمہ شہادت پر موقوف ہے
    انسان کا ہر عمل بارگاہ الہی میں اسی وقت صحیح اور قابل قبول ہوگا جب وہ جادہء توحید پر قائم ہو گا، اگر وہ توحید سے عاری ہے تو اس کا سارا عمل اکارت اور رائیگاں ہے، کیونکہ شرک کی آلودگی کے ساتھ کوئی عبادت درست نہیں ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ (ترجمہ) مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، حالانکہ وہ اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں، ان کے سارے اعمال رائیگاں ہیں اور انہیں جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے (سورۃ التوبہ: 17)
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 20, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    کلمہ شہادت کے شروط و لوازم
    یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض زبانی اقرار سے شہادت صحیح و معتبر ہو گی؟ خواہ عمل کیسا بھی ہو، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال غلط اور جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ کلمہ شہادت مجرد ایک کلمہ ہی نہیں جسے زبان سے ادا کر لیا جائے بلکہ اس کا ایک عظیم مفہوم ہے جس کا تحقق بھی ضروری ہے، یعنی جب کوئی شخص کلمہ پڑھے تو ساتھ ہی ساتھ اس کے مفہوم کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتے ہوئے اس کے تقاضوں کو پورا کرے، نیز اس کے منافی تمام امور سے اجتناب کرے، ایسی صورت میں وہ حقیقی مسلمان ہو گا اور اس کے جان و مال کے لئے حرمت ثابت ہو گی، ورنہ بلا معرفت و عمل کلمہ شہادت کا زبانی اقرار کسی بھی حالت میں نفع بخش نہیں ہے۔
    بنابریں شہادت کی صحت کے لئے مندرجہ ذیل چھ امور لازمی ہیں :

    1۔ ساری عبادتیں خالص اللہ کے لئے کرنا:
    یعنی بندہ کی نماز، روزہ، دعاء، فریاد، نذر و منت، ذبح و قربانی اور دیگر عبادتیں خالص اللہ کے لئے ہوں، اگر ان عبادتوں کا معمولی حصہ بھی غیر اللہ کے لئے کیا خواہ وہ کوئی بھی ہو تو اس کی شہادت غیر معتبر ہو جائے گی، وہ توحید پرست نہیں بلکہ مشرک ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ (ترجمہ) اور تمہارے رب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگ صرف اسی کی عبادت کرو۔ (سورۃ الاسراء: 23)
    اور یہی کلمہ لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے، نیز تمام علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد اگر کوئی شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو اس سے لڑائی کی جائے گی یہاں تک کہ وہ توحید کو بجا لائے۔

    2۔اللہ ورسول کی خبر دی ہوئی تمام غیبی باتوں پر ایمان لانا:
    پس شہادت کے تحقق کے لئے جنت و جہنم، آسمانی کتب،انبیاء ورسل، یوم اخرت، بھلی اور بری تقدیر اور دیگرامور غیب پر ایمان لانا ضروری ہے۔

    3۔اللہ کے علاوہ تمام باطل معبودوں کا انکار کرنا:
    جیسا کہ مسلم شریف میں ارشاد نبوی ہے:من قال لا إله إلا الله وكفر بما يعبد من دون الله حرم ماله ودمه وحسابه على الله(ترجمہ)جس شخص نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا اور اللہ تعالی کے سوا تمام باطل معبودوں کا انکار کیا تو اس کی جان و مال کے لئے حرمت ثابت ہو گئ اور اس کا حساب ؤ کتاب اللہ کے سپرد ہے (مسلم)
    پس اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جان و مال کی عصمت دو چیزوں پر معلق اور مشروط قرار دیا ہے پہلی کلمہ شہادت کا اقرار، اور دوسری تمام باطل معبودوں کی عبادت کا انکار،لہذا حقیقی مسلمان وہ ہے جو مشرکوں سے کنارہ کش ہو کر ان کی بادتوں کا انکار کرے اور ان سے کوئی تعلق نہ رکھے، جس طرح حضرت ابراھیم علیہ السلام نے مشرکین اور ان کی عبادت سے براءت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا تھا :إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ (26) إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي
    (ترجمہ) میرا تمہارے معبودوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، میرا تعلق اس ذات سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے(سورۃ الزخرف26 اور27)
    اور یہی مفہوم اس آیت کریمہ کا بھی ہے:فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ(ترجمہ) جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان رکھا تو اس نے مضبوط سہارا تھام لیا(سورۃ البقرہ :256)
    آیت کریمہ میں " عروة وثقى" سے مراد دین اسلام ہے ، اور کفر باطاغوت سے مراد طاغوت کی عبادت کا انکاراور اس سے براءت کااظہار کرنا ہے، اور طاغوت سے مراد اللہ کے ماسواہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے مگر انبیاء کرام،صالحین اور فرشتے طاغوت میں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ آن کی عبادت سے راضی نہیں تھے بلکہ ایسا شیطان کے ورغلانے سے ہوا۔
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 21, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    4۔ کلمہ لا الہ الا اللہ کے تقاضے کے مطابق اللہ و رسول کے احکام پر عمل پیرا ہونا:
    چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
    (ترجمہ)پس اگر وہ شرک سے توبہ کرکے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے لگیں تو تم ان کا راستہ چھوڑ دو (سورۃ التوبہ: 5)
    اور یہی بات قدرے وضاحت کے ساتھ حدیث شریف میں بھی مذکور ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمد رسول الله، ويقيموا الصلاة، ويؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام، وحسابهم على الله (متفق علیہ)(ترجمہ) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرکے زکوۃ دینے لگیں، اگر وہ ان امور کو بجا لائیں تو ان کے جان ومال میری جانب سے محفوظ ہیں، الا یہ کہ ان پر کوئی شرعی حدواجب ہو اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔
    اور مندرجہ بالا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب وہ شرک سے توبہ کرکے توحید پر قائم ہوجائیں، اور نماز وزکوۃ کی ادائیگی کے پابند ہوجائیں تو ان کاراستہ چھوڑ دو یعنی ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کرو۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (جو لوگ اسلام کے متواتر وثابت شدہ احکام وشرائع کی پابندی سے منہ موڑتے ہیں ان سے لڑائی کرنا واجب ہے یہاں تک کہ وہ شرائع اسلام کے پابند ہوجائیں خواہ وہ کلمہ گو اور اسلام کے بعض احکام کے پابند ہی کیوں نہ ہوں، جس طرح خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے مانعین زکوۃ سے قتال کیا تھا اور پھر اسی پر فقہاء کرام کا اجماع ہوگیا۔)
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 21, 2015
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    5۔ کلمہ شہادت کے تحقق کے لیے مندرجہ ذیل شرطوں کا بھی پایا جانا ضروری ہے:
    1۔ علم جو جہالت کے منافی ہو:
    یعنی کلمہ پڑھنے والے کو اس بات کا پوری طرح علم ہو کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔
    2۔ یقین جو شک کے منافی ہو: یعنی اسے کامل یقین ہو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے۔
    3۔ اخلاص: یعنی وہ اپنی ساری عبادتیں خالص اللہ کے لئے کرے، اس کا ادنی حصہ بھی غیر اللہ کے لئے نہ ہو ورنہ وہ مشرک ہو گا۔
    4۔ صدق: یعنی وہ صدق دل سے کلمہ پڑھے، اس کے دل و زبان کے درمیان ہم آہنگی ہو، ایسا نہ ہو کہ زبان پہ لا الہ الااللہ کا ورد ہو اور دل و دماغ میں اس کا کوئی اثر نہ ہو، اگر ایسی بات ہے تو اس کی شہادت غیر مفید ہوگی اور وہ دیگر منافقوں کی طرح کافر ہو گا۔
    5۔ محبت: یعنی اس کا دل محبت الہی سے معمور ہو، اگر زبان سے کلمہ پڑھ لیا اور دل محبت الہی سے خالی ہے تو ایسا شخص کافر ہی شمار کیا جائے گا۔
    6۔ انقیاد: یعنی وہ خالص اللہ کی بندگی کرے، شریعت الہی کا پابند ہو، نیز اس کا ایمان و اعتقاد ہو کہ یہی برحق ہے، پس جو شخص غرور و گھمنڈ کی وجہ سے اس سے اعراض کرے گا وہ ابلیس اور اس کے پیروکاروں کی طرح کافر ہوگا۔
    7۔قبولیت: یعنی وہ کلمہ شہادت کے مدلول کو قبول کرے بایں طور کہ اپنی ساری عبادتیں خالصتا لوجہ اللہ کرے اور معبودان باطلہ کی عبادت سے کنارہ کش ہو، نیز وہ اس کا التزام کرے اور اس سے مطمئن ہو۔
     
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    6: شہادت کی صحت کے لئے واجب ہے کہ کلمہ پڑھنے کے بعد اس کے نواقض اور منافی امور میں سے کسی چیز کا ارتکاب نہ کیا جائے اور نواقض شہادت درج ذیل ہیں:
    1۔ اپنے اور اللہ کے درمیان واسطے بنانا، ان سے دعائیں مانگنا، شفاعت طلب کرنا اور ان پر بھروسہ کرنا، اگر کسی نے کلمہ پڑھنے کے بعد ایسا کیا تو وہ اجماعی طور پر کافر ہے۔
    2۔ مشرکوں کو کافر نہ سمجھنا، یا ان کے کافر ہونے میں شک کرنا، یا ان کے مذہب کو صحیح سمجھنا، ایسا کرنے سے کلمہ شہادت کا اعتبار ختم ہو جائے گا۔
    3۔ یہ اعتقاد رکھنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے علاوہ کسی اور کا طریقہ زندگی جامع و مکمل ہے یا آپ کے طریقہ حکومت سے کسی اور کا طریقہ حکومت افضل و بہتر ہے، مثلا طاغوتی نظام حکومت کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نظام حکومت پر ترجیح دینا۔
    4۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت میں سے کسی چیز کو ناپسند کرنا، ایسا کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اگرچہ وہ اس پر عمل پیرا ہی کیوں نہ ہو۔
    5۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دین میں سے کسی چیز کا یا اس کے جزا و سزا کا مذاق اڑانا، ایسا کرنے والا کافر ہے۔ اور اس کی شہادت بےسود ہے۔
    6۔ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی مدد و حمایت کرنا۔
    7۔ یہ اعتقاد رکھنا کہ کچھ مخصوص لوگ شریعت محمدی کے حدود و قیود کی پابندی سے آزاد ہیں۔
    8۔ اللہ کے دین سے اعراض کرنا بایں طور کہ نہ اسے سیکھنا اور نہ اس پر عمل کرنا۔
    9۔ دین الہی کے کسی حکم کو جھٹلانا۔
    10۔ اللہ و رسول کی حرام کردہ چیز کو حلال و مباح سمجھنا، مثلا یہ کہنا کہ سود حلال ہے یا زنا حلال ہے۔
     
  9. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    روایتوں میں تعارض و تطبیق

    صحیحین کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
    ما من عبد قال لا إله إلا الله ثم مات على ذلك إلا دخل الجنة
    (ترجمہ) جس نے کلمہ پڑھا اور اسی پر اس کی موت ہوئی تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
    اور صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:
    من شهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله حرم الله عليه النار
    (ترجمہ) جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اس کے بندے اور رسول ہیں، تو اس کے اوپر اللہ تعالی نے جہنم کی آگ کو حرام کر دیا۔
    مذکورہ بالا دونوں روایتیں بظاہر متواتر روایتوں سے متعارض و متصادم نظر آتی ہیں، کیونکہ ان کے ظاہری مفہوم سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ انسان کے جنت میں داخل ہونے اور جہنم کی اگ سے نجات پانے کے لئے صرف کلمہ شہادت کا زبانی اقرار ہی کافی ہے، جبکہ کہ دوسری بعض متواتر روایتوں میں بصراحت مذکور ہے کہ جہنم کی آگ سے ہر اس شخص کو نکالا جائے گا جس کے دل میں جو کے ایک دانہ کے برابر خیر ہوگا، نیز اس کے اعضاء سجود جہنم کی آگ پر حرام ہوں گے، یہ اس بات کا محکم ثبوت ہے کہ کلمہ پڑھنے کا باوجود بعض کوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کا محض زبانی اقرار جہنم سے بچائو کے لئے کافی نہ ہوگا۔
    تو ان روایتوں میں تطبیق کے سلسلہ میں سب سے عمدہ اور فیصلہ کن بات شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہی ہے، فرماتے ہیں: ( یہ روایتیں جو بظاہر مطلق نظر آتی ہیں حقیقت میں یہ چند اہم قیود سے مقید ہیں، جیسا کہ پہلی روایت میں ((ثم مات علی ذالک)) اور بعض روایتوں میں ((خالصا من قلبہ)) کی قید صراحتا موجود ہے، پس ان قیود و مخصصات کے پیش نظر ان روایتوں کے مصداق صرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے یقین محکم اور صدق دل سے کلمہ پڑھا اور اسی پر ان کی موت ہوئی، یعنی تا دم حیات وہ اس پر ثابت قدم رہے۔ رہیں وہ روایتیں جن سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ بعض لوگ کلمہ پڑھنے کے باوجود جہنم میں ڈالے جائیں گے، تو ان سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دیکھا دیکھی یا رسمی طور پر کلمہ پڑھ لیا مگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا یا وہ مرتے دم تک اس پر قائم نہیں رہے، اور اکثر ایسا ہی لوگ کرتے ہیں۔))
    چنانچہ جس نے اخلاص قلب اور یقین کامل سے کلمہ پڑھا پھر اس نے کسی گناہ پر اصرار نہیں کیا اور شرک کا ارتکاب نہیں کیا تو ایسے شخص ہر ضرور جہنم کی آگ حرام ہو گی۔
    امام حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ کا پڑھنے والا جنت میں ضرور داخل ہوگا، تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں مگر جس نے اس کے شروط و تقاضوں کو پورا کیا۔
    امام وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کیوں نہیں ضرور ہے، مگر کنجی میں دانت ہوتے ہیں اگر تم دانت والی کنجی لائو گے تو اس سے جنت کا دروازہ کھلے گا ورنہ نہیں۔

    و صلی اللہ علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 21, 2015
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاکم اللہ خیرا
    رفی بھائی اور محترم ابوثوبان
    اللہ تعالی آپ دونوں کو جزائے خیر دے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں