بیٹے کی تلاش

ابو ہریرہ نے 'مجلس اطفال' میں ‏دسمبر 24, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ہریرہ

    ابو ہریرہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 18, 2015
    پیغامات:
    42
    بیٹے کی تلاش

    دو گھڑ سواروں کا دستہ تھا۔ گھوڑے دوڑنے کے بجائے ہلکی چال چل رہے تھے‘گھڑسوار آپس میں باتیں کر رہے تھے‘ان کی باتوں سے انداز ہ ہوتا تھا کہ وہ کسی شکار کی تلاش میں ہیں‘ اچانک ان کی ایک ساتھی نے گھوڑے کی باگ کھینچی اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو رکنے کا اشارہ کیا کیوں بھی! کیا ہوا رک کیوں گئے؟ ساتھیوں نے پوچھا۔

    وہ دیکھو شکار! سب نے ادھر دیکھا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا یہ ایک چھوٹی سی خیمہ بستی تھی ایک خیمے کے باہر ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر آٹھ نو سال ہوگی کھڑا تھا۔ ایک کہنے لگا: بھائی یہ بھی خوب رہی ڈاکے سے توتم ناکام آئے ہواب اس بچے پر ہاتھ صاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہو‘ توجہ دلا نے والے نےغراتے ہوئے بے رحم لہجے میں کہا: تمہارے سرکی قسم! یہ بڑا اچھا شکار ہے ایک دوبرس کےبعد بڑی اچھی قیمت دے گا۔

    تمہاری ماں خوشی منائے یہ بالکل ٹھیک کہتا ہے‘ یہ شکار بڑے کام کا ہے اس کے کسی وارث کے آنے سے پہلے اس کو اچک لیتے ہیں کہنے والے نے کہا اور پھراس نے ساتھیوں کوجھاڑیوں کی اوٹ میں ہونے کے لیے کہا خود وہ اکیلاہی خیمے کی طرف گھوڑا بڑھانے لگا‘ اس نےبڑی احتیاط سے گھوڑے کوخیمے کے پاس کھڑاکیا۔ نیچے اترا اور کسی چیل کی طرح بچے پر جھپٹا اور اسے ایک ہی ہاتھ سے اچھالا بچے کوگھوڑے کی زین پر پٹخ کر ایک ہاتھ اس کے اوپر رکھا تاکہ وہ گرنے نہ پائے اور پھرکوئی لمحہ ضائع کیے بغیر خود بھی بڑی مہارت سے گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اس کےساتھ ہی اس کا گھوڑاسرپٹ بھاگنے لگا اس کےساتھی خوشی سے اس کےساتھ ہولیے معصوم بچے کی چیخ و پکار گھوڑے کی ٹاپوں اور غارت گروں کے قہقہوں اور نعروں میں دب گئی خیمے کے اندربچے کی ماں اوراس نانی باتوں میں مصروف تھیں ماں کو پتا ہی نہ چلا کہ بچہ کب کھیلنے کےلیے باہر نکلا وہ تو گھوڑوں کے بھاگنے کی اوازیں سن کر سہم گئی تھی مگر جب اس کوبچے کا خیال آیا تو اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی وہ روتی پیٹتی باہر نکلی تو دیکھنے والے چند ایک لوگوں نے بتایا کہ گزرنے والے توڈاکوتھے اور وہ بچے کواٹھا کر چلتےبنےہیں۔

    ماں پر توغشی کے دورے پڑنے لگے اغوا ہونے والا بچہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا اور اپنے باپ کا تو بہت ہی پیارا تھا ۔باپ کو بچے کے بغیرچین ہی نہیں آتا تھا‘وہ توبڑی ضد کرکے اپنی والدہ کی بستی میں آئی تھی تاکہ وہ اپنے گھر والوں کومل لے لیکن اسے کیاخبر تھی یہاں یہ المناک حادثہ ہو جائے گا۔ بے چاری سوچنے لگی معلوم نہیں کہ اب بیٹے کا باپ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ۔ بے چاری کےآنسو تھے کہ رکنے ہی کو نہیں آرہے تھے۔آخرباپ شرجیل کوخبر ہوئی تواپنے سرمیں خاک ڈالنے لگا اس کے غم کا توکوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا تھا مرد ہوکروہ بیٹے کی جدائی پر پھوت پھوٹ کررودیا۔

    شرجیل کواچھی طرح علم تھا کہ یہ ڈاکواس کے لخت جگرکوکہیں دور دراز علاقے میں بیچ دیں گے اوریوں لاڈ پیار سے پلنے والا ساری زندگی نہ جانے کس حال میں رہےگا۔

    باپ نے چاروں طرف گھوڑے دوڑا دیے قریب کےتمام علاقوں میں پیغام بھجواۓ اس نے منادی کروائی‘ پورا خاندان اس کام میں جت گیا۔ ڈاکو بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ انہوں نےکسی اونچے خاندان کاچشم وچراغ اٹھای اہے‘اس لیے انہوں نےبچے کوباہر ہی نہ نکالا۔بچے کی تلاش میں کئی برس گزرگئے مگربچے کےباپ شرجیل نے بھی ہارنہ مانی اس کادل کہتا تھا کہ بیٹا ضرورملے گا شرجیل ایک دن گھرمیں اپنے بیٹے کی یاد میں غمگین بیٹھا تھا کہ اس کے رشتے داروں میں کچھ لوگ اسے ملنے کےلیے آئے یہ لوگ اس سال حج کرکے آئے‘انہوں نےکہا :شرجیل خوش ہوجاؤہم تمہارے بیٹے سےمل کرآرہےہیں! کہاں ہے میرے دل کا ٹکڑا؟ مجھے پوری بات سناؤ! شرجیل اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے بولا تورشتہ داروں نے بتایا: اس ہمارے چچا کے بیٹے! ہم اس سال حج کرنے گئے تھے وہاں ہم نے ایک تیرہ چودہ سال کے لڑکے کودیکھا ہمیں توتمہارا کھویا ہوا لعل ہی لگا ‘ ہم نے اس پوچھا کہ تم یہاں اکیلے کیوں ہو؟ اس نے بتایا کہ کچھ برس قبل مجھے ڈاکوؤں نےاٹھا لیا تھا‘ پھر مجھے مکہ میں رہنے والے ایک قبیلے کے ہاتھوں بیچ دیا اور اب میں ایک شریف اور اونچے خاندان کاغلام ہوں! کیا تم نے اسے اس کے باپ کی حالت نہ بتائی ؟ یہ نہ کہا کہ آنسو بہا بہا کرمیری آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا ہے‘کیوں نہیں ! چچا کے بیٹے ہم نے تمہارا ساراحال اس کوبیان کیااور اس نے کہا کہ میرے والد کوتسلی دینا اور کہنا حوصلہ رکھے غم نہ کرے میں یہاں پر بہت آرام کے اور سکون سےہوں۔

    ہائے میری قسمت! پتا نہیں بیچارہ کس حال میں ہوگا؟ میرادل بہلانے کو کہہ دیا ہوگا کہ اچھا ہوں ارے دوستو! کیا تمہیں یقین ہے کہ وہ میرا ہی بیٹا ہے؟ ہاں ہاں!معاملے میں توہمیں ذرابھی شک نہیں‘اس نے اپنا اورتمہارا بکل ٹھیک ٹھیک بتایا تھا اسے یاد ہے کہ اسے خیمے کے باہر سے ڈاکوؤں نے اٹھایاتھا۔ شر جیل اپنے بھائی کعب سے کہنےلگا:اے میری ماں جائے! چلو ابھی اور اسی وقت چلومجھے تو بیٹے کودیکھے بغیر ایک پل چین نہیں ہم مکہ کی طرف چلتے ہیں‘ چنانچہ ایک چھوٹا ساقافلہ اسی وقت مکہ کی طرف روانہ ہوگیا منزلوں پرمنزلیں طے کرتے یہ لوگ مکہ پہنچ گئے۔اسے یہ معلوم تھا کہ بچے کوعکاظ نامی میلے میں فروخت کیاگیا تھا ان کے خریدار کانام حکیم تھا۔حکیم ایک معزز قبیلے کا شریف آدمی تھا‘وہ اس کےگھرپہنچے تو معلوم ہواکہ اس نےشرجیل کےبیٹے کوخریدا ضرورتھا لیکن پھر اسے اپنی ہمشیرہ کو تحفے میں دے دیا تھا۔ شرجیل کودراصل اسی خاتون کے قبیلے معد کا بتایا گیاتھا اب وہ حکیم کی بہن کے گھرکی طرف روان ہوئے انہیں بتایا گیا کہ وہ جس گھر کی طرف جارہے ہیں وہ بڑے معززلوگوں کا گھرہے ۔ بتائے گئے پتے پر پہنچے توان کی ملاقات ایک نہایت پر وقارشخص سے ہوئی شرجیل تو اپنے بیٹے کے آقا کو دیکھتے ہی مطئن ہوگیا کہ اس شخص کا چہرہ بتاتا ہے کہ اس سے کسی کونقصان نہیں پہنچ سکتا تھا اس نے میزبان سے اپنے آنے کا مطلب بیان کیااور کہا:اے معززسردار! آپ کا خاندان اللہ کے گھرکا نگہبان ہے آپ مصیبت زدوں کی مدد کرنے اور قیدیوں کوکھانا کھلانے میں شہرت رکھتےہیں۔ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ ہمارا بیٹا آپ کے پاس ہے، آپ کی غلامی میں ہے‘ آپ سے درخواست ہے کہ آپ جس قدر روپیہ پیسہ چاہیں لے لیں مگر میرے بیٹے کو آزاد کریں میری آنکھیں اس کا پیارا چہرہ دیکھتے کوترس رہی ہیں‘ معزز مہمان آپ کس کی بات کررہے ہیں؟ میزبان نے انتہائی میٹھے لہجے میں پوچھا:میں حارثہ کے بیٹے زید کی بات کررہا ہوں اچھا میزبان نے کہا اور کچھ سوچ میں پڑ گئے شرجیل نے میزبان کے چہرے پر تردد دیکھ لیا تھا‘وہ منزل کے اس قدر قریب آکر ایک عجیب کیفیت محسوس کررہاتھا ۔پھر اس کے کانوں میں آواز آئی کیا اس کے علاوہ آپ کےیہاں آنے کاکوئی مقصد نہیں؟ نہیں میزبان سردار! ہم توبیٹےکو منہ مانگی قیمت پر لینے آئے ہیں!‘‘ تو پھرسنیے! زید کو بلا لیتے ہیں، اگر وہ آپ کوپہچان لےاور آپ کےساتھ جانے پر رضامند ہو جائے تواسے لےجایئے‘ میں اس کےعوض ایک پائی بھی نہیں لوں گا لیکن اگر وہ آپ کے ساتھ جانے پر رضامند نہ ہوتوپھر مجھے پسند نہیں ہوگا کہ آپ اس پر زبردستی کریں‘‘ شرجیل اور اس کا بھائی کعب اس موقع پرایک ساتھ بولیے:’’اے شریف زادے! اس سے بڑھ کر اور اچھی بات کیا ہو سکتی ہے! آپ نے توعین حق اور انصاف کی بات کی ہے زید کوبلا یا گیا اور پوچھا گیا’’ کیا آپ ان بزرگوں کوپہنچانتے ہیں؟کیوں نہیں میرے آق ایہ میرے پیارے والد ہیں اور محترم چچا!‘‘ تو زید تم مجھے بھی پہچانتے ہو میرا خاندان بھی تمہیں معلوم ہے میں نے تم سے جومعاملہ رکھا اس سے بھی تم بخوبی واقف ہو۔فیصلہ تمہارے اختیار میں ہے ،تم پرکوئی زبردستی نہیں تم چاہوتوخوشی کے ساتھ اپنے باپ کے ساتھ جاسکتے ہو، چاہو تو تم یہاں بھی ٹھہر سکتے ہو‘ تم پرکوئی زورنہیں ہے۔زید کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آگئی وہ بولے : آپ محمدﷺ ہیں اللہ کے سچے آخری رسول ہیں‘ میرےلیے آپ سےبڑھ کون اہم ہوسکتا ہے؟ اللہ کی قسم! یہ میرے ماں باپ ہیں اور میں آپ کوچھوڑ کرنہیں جاسکتا!

    سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی بات میں ایک جذ بہ تھا، مجت کا ایک سمندرتھا ،باپ اور چچا نے بڑی حیرت سے بیٹے کی طرف دیکھا۔ باپ نہ جانے کب سے بیٹے کی محبت کاچراغ سینے میں جلا ئے‘ اسے وادی وادی تلاش کرتا پھر رہا تھا۔ حیرت اور دکھ سے بیٹے کی طرف دیکھنے لگا اورپھر بولا!’’ اے زید ! تم پر افسوس! تم آزادی پرغلامی کوترجیح دے رہےہو؟ اللہ کی قسم !تمہاری تلاش میں کونسا ایسا پتھر ہوگا جومیں نے الٹا نہ ہوگا اور اب تم کیا کہہ رہے ہو؟زید رضی اللہ عنہ بولے :اے والد محترم آپ درست فرماتے ہیں لیکن میں نے ان کی ذات میں جوکچھ دیکھا ہے‘ ان کوجس طرح پایا ہے‘اس کےبعد یہ میرے بس سے باہرہے کہ میں انہیں چھوڑدوں‘‘زید رضی اللہ عنہ کا فیصلہ بڑا اٹل تھا باپ اورچچا بڑی حیرت سے بیٹے کا فیصلہ سن رہے تھے۔ اللہ کے رسول محمدﷺ بھی اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے زید رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور اس کے چچا اور والد کو ساتھ آنے کےلیے کہا۔ کعبہ میں پہنچ کر آپ نے فرمایا: ’’ میں تم سب لوگوں کو گواہ بناکرکہتا ہوں کہ زید میرا بیٹا ہے یہ میرا وارث ہے اور میں اس کا وارث ہوں۔آپﷺ کے اس اعلان سے زید کےچچا اور والد کاچہرہ کھل اٹھا ،وہ سوچنے لگے کہ مجھے تو بیٹے کی عزت اورترقی سے غرض ہے اگر وہ یہاں خوشی کےساتھ ہے انہوں نے بھی اس اعلان کوقبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ آپﷺ نے انہیں اجازت دی کہ آپ جب چاہیں یہاں آکراپنے بیٹے سےمل لیں اور زید رضی اللہ عنہ کوبھی نصیحت کی کہ وہ اپنے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان کےہاں جایاکیا کرے۔یوں زیدرضی اللہ عنہ نے اپنے حقیقی باپ کے بجائے رسول کریم ﷺکے ساتھ رہنا پسند کیا اور زید رضی اللہ عنہ غلا موں میں سب سے پہلے شخص تھے جومسلمان ہوئے۔انہیں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حکیم نے عکاظ کے بازارسے خریدا تھا اور تحفے میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا
    کےحوالے کردیا تھا۔زید رضی اللہ عنہ چند دنوں کے بعد ہی آپﷺ کے ساتھ اس قدر مانوس ہوگئے کہ پھر ساری زندگی آپﷺکے پاس رہے۔

    ***
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 24, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • اعلی اعلی x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,149
    جزاک اللہ خیرا۔ بہت عمدہ۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,358
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں