تفسیر سعدی ( سورة الشمس ، سورة الليل)

عبد الرحمن یحیی نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏جنوری 1, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    2,319
    تفسیر سورة الشمس
    بسم الله الرحمن الرحيم
    وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ﴿١﴾وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا ﴿٢﴾وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا ﴿٣﴾وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا ﴿٤﴾وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا ﴿٥﴾وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا ﴿٦﴾وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿٧﴾فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿٨﴾قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠﴾كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا ﴿١١﴾إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا﴿١٢﴾فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّـهِ نَاقَةَ اللَّـهِ وَسُقْيَاهَا ﴿١٣﴾فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا ﴿١٤﴾وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا ﴿١٥
    قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی (1)قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے (2)قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے(3)قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانپ لے (4)قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی (5)قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی (6)قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی (7)پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی (8)جس نے اسے پاک کیا وه کامیاب ہوا (9)اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا (10)(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا (11)جب ان میں کا بڑا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا (12)انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو) (13)ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا (14)وه نہیں ڈرتا اس کے تباه کن انجام سے (15)
    اللہ تبارک و تعالٰی نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے ، چنانچہ فرمایا : وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا یعنی سورج ،اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ! وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا '' اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔'' یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا '' اور دن کی جب اسے چمکا دے۔'' یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کردے۔ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا '' اور رات کی جب اسے چھپا لے ۔'' یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہوجائے ۔ اس عالم میں اندھیرے اور اجالے،سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ ، بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ،ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے ،وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے ۔ وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا '' اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔'' اس میں احتمال ہے کہ ما موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے ،یعنی اللہ تعالٰی کی ہے ۔ یہ بھی احتمال ہے ما مصدریہ ہو ،تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی ،مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے ۔ اسی کے مانند اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد ہے : وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا '' اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔'' یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی ،تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی ۔ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا '' اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا ۔'' اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو،جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے ۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں ۔دونوں معنوں کے مطابق،نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے ،کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے ۔ منتقل ہونے ، حرکت،تغیر و تبدل ،تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً : ہم و غم ، ارادہ ،قصد ،محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے ، اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا ،عیوب سے صاف کیا ، اللہ تعالٰی کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا وہ کامیاب ہوا۔ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا '' اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔'' یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کو رذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے ،عیوب اور گناہوں کے قریب ہوکر،ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشو ونما کرتے ہیں اوران امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بدصورت بناتے اور بگاڑتے ہیں ،چھپایا وہ ناکام رہا۔ كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا ثمود نے اپنی سرکشی ،حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی ۔ إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا یعنی قبیلے کا بدبخت ترین شخص ،قدار بن سالف ،اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا ،جب سب نے اس (جرم) پر اتفاق کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی ۔ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّـهِ تو اللہ کے رسول ،یعنی صالح علیہ السلام نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا : نَاقَةَ اللَّـهِ وَسُقْيَاهَا یعنی اللہ تعالٰی کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالٰی نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالٰی نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو ۔ پس انھوں نے اپنے نبی سیدنا صالح علیہ السلام کو جھٹلایا ۔ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ '' پس انھوں نے کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث اب پر عذاب نازل کیا۔'' یعنی ان کو برباد کردیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا ۔ اللہ تعالٰی نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اورنیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے ۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ۔فَسَوَّاهَا ان پر اس بستی کو برابر کردیا ،یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کردیا ۔ وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا '' اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں ۔'' یعنی اس کے تاوان سے ،وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جب کہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں ،اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا ،وہ اس میں حکمت ولا ہے ۔
     
    ام احمد نے شکریہ ادا کیا ہے.
  2. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    2,319
    تفسیر سورة الليل
    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
    وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ ﴿٣﴾إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ﴿٤﴾فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴿٥﴾وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ ﴿٧﴾وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ﴿١٠﴾وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ ﴿١١﴾إِنَّ عَلَيْنَا لَلْـهُدَىٰ﴿١٢﴾وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ ﴿١٣﴾فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ﴿١٤﴾لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ﴿١٥﴾الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٦﴾وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿١٧﴾الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿١٩﴾إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ ﴿٢١
    قسم ہے اس رات کی جب چھا جائے (1)اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو (2)اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا(3)یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے (4)جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے) (5)اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا (6)تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے (7)لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی (8)اور نیک بات کی تکذیب کی (9)تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے(10)اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا (11)بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے (12)اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے (13)میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے (14)جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا (15)جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا (16)اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا (17)جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے (18)کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو (19)بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے (20)یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا(21)

    یہ اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں ۔ فرمایا : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ''رات کی قسم ! جب وہ چھاجائے ۔'' یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ اور دن کی جب وہ مخلوق کے لیے خوب ظاہر ہوجائے اور مخلوق اس کے نور سے روشن ہوجائے اور اپنے اپنے کاموں میں پھیل جائے ۔ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ یہاں اگر ما موصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالٰی کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور اگر ما مصدریہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے ۔ اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے ،نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہوجائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا ۔ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ۔
    إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے ، یعنی اے مکلفو ! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے ۔ یہ تفاوت نفس اعمال،ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا تو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے متنفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت و مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہوجائے گی ؟ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے ۔ بنا بریں اللہ تعالٰی نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ '' تو جس نے (اللہ کے راستے میں )مال دیا۔'' یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا ، مثلاً : زکوٰۃ،نفقات،کفارات،صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات ، مثلاً : نماز ، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں ، مثلاً : حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا ۔وَاتَّقَىٰ اور وہ امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا ۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ '' اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی ۔'' یعنی اس نے لا إله إلا الله اور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی ،جو اس لا إله إلا الله کی تائید کرتے ہیں فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں،کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے،پس اللہ تعالٰی نے اسے اس کے لیے آسان کردیا ۔ وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا ،انفاق واجب و مستحب کو ترک کردیا اور جس چیز کو اللہ تعالٰی نے اس پر واجب کیا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہواکہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوز و فلاح،سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالٰی ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس کا وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو ۔ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ''اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی ۔ '' یعنی ان عقائد حسنہ کو جھٹلایا جن کی تصدیق اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر واجب کی تھی فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ '' تو ہم اس کے لیے (گناہ کے )مشکل کام کو آسان کر دیتے ہیں۔'' یعنی حالت عسرت اور خصائل مذمومہ کے لیے ، اس سبب سے کہ برائی جہاں کہیں ہوگی ،اس کے لیے آسان کردی جائے گی اور نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کر دیے جائیں گے ۔ ہم اللہ تعالٰی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا، جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالٰی سے)بے نیاز رہا اور اس میں بخل کرتا رہا اس کے کچھ کام نہ آئے گا ،یعنی جب وہ ہلاک ہوگا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی ۔ رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکوٰۃوغیرہ ادا نہیں کی تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا ،کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔ إِنَّ عَلَيْنَا لَلْـهُدَىٰ '' بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے ۔'' یعنی وہ ہدایت جس کا راستی سیدھا ہے جو اللہ تعالٰی تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے ، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں گمراہی کے راستے ،ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں ۔ وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔ فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ﴿ ﴾ الَّذِي كَذَّبَ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا وَتَوَلَّىٰ اور حکم سے منہ موڑا ۔ وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿ ﴾ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ '' اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے ۔'' یعنی اس کامقصد اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ اور گناہوں اور عیوب سے اس کی تطہیر ہو ۔ ہم اسے بچا لیں گے ،آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب انفاق مستحب ترک واجب ، مثلاً : قرض اور نفقہ واجبہ کی عدم ادائیگی وغیرہ کو متضمن ہو تو یہ غیر مشروع ہے بلکہ بہت سے اہل علم کے نزدیک یہ عطیہ لوٹایا جائے گا ۔کیونکہ وہ ایک مستحب فعل کے ذریعے سے اپنے نفس کا تزکیہ کر ہا ہے اور اس پر واجب فوت ہورہا ہے ۔ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جارہا ہو ، اس نے نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے ۔ بسا اوقات لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے ۔ پس وہ بندے پر اللہ کے لیے مخلصانہ ہمدردی و خیر خواہی کرتا ہے ۔کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالٰی کے احسان ہی کے زیر بار ہے ۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سر انجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔ آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سبب ہی سے نازل ہوئی ۔ ان پر مخلوق میں سے کسی کا بھی کوئی احسان نہیں تھا کہ جس کا اسے بدلہ دیا جارہا ہو حتی کہ رسول اللہ ﷺ کا بھی آپ پر کوئی (دنیاوی)احسان نہ تھا البتہ بحیثیت رسول احسان تھا جس کا بدلہ اتارنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور یہ ہے دین اسلام کی طرف دعوت دینے کا احسان ،ہدایت اور دین حق کی تعلیم، کیونکہ ہر شخص اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کے زیر احسان ہے ۔یہ ایسا احسان ہے جس کا بدلہ دیا جاسکتا ہے ، نہ مقابلہ کیا جاسکتا ہے ، تاہم جو بھی ان اوصافِ فاضلہ سے متصف ہوگا ، اس کا مصداق ٹھہرے گا۔ پس تمام مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان اس کے ذمے باقی نہ رہا جس کا بدلہ دیا جائے ، لہٰذا اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالٰی کے لیے ہیں ، اس لیے فرمایا : إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿ ﴾ وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ '' وہ صرف اپنے رب اعلٰی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا ۔'' یہ متقی مختلف انواع کے اکرام و تکریم اور ثواب پر راضی ہوگا جو اللہ تعالٰی اے عطا کرے گا ۔
     
    ام احمد نے شکریہ ادا کیا ہے.
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیرا بہت ہی اعلی شئیرنگ
    اللہ تعالی جزائے خیر عطا کرے۔
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں