ایران، روس کی مہربانی سے ہماری حکومت قائم ہے: بشارالاسد

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏جنوری 13, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    پیغامات:
    3,446
    شام کے متنازع صدر بشارالاسد نے ایران اور روس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو اور تہران کی مہربانی سے ابھی تک شام میں ہماری حکومت قائم و دائم ہے۔

    ایران پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر اسد نے ان خیالات کا اظہار ایرانی وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی سے ملاقات کے دوران کیا۔ صدر بشارالاسد کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اور دشمن پانچ سال سے ہماری حکومت کو ختم کرنے اور شامی عوام کو شکست دینے کے لیے سرگرم ہیں مگر وہ اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہماری حکومت اور شامی عوام تمام تر سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ابھی تک اپنی جگہ پر قائم و دائم ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیرداخلہ کی صدر اسد کے ساتھ طویل ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان جاری تاریخی تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ دونوں رہ نماؤں انقلابی کارکنوں کو دہشت گرد قرار دیا اور ان کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھنے کےعزم کا اعادہ کیا۔

    ایرانی وزیرخارجہ سے بات چیت کرتے ہوئے بشارالاسد نے خطے کے بعض عرب ممالک اور عالمی برادری کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خطے کے کچھ ملک شام میں جاری دہشت گردی کی روک تھام میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اس دہشت گردی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر شامی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اور روس جیسے دوست ممالک کی مدد اور تعاون کے نتیجے میں شام میں بغاوت کی تحریک کو کچلنے میں مدد ملی اور عوام کو دہشت گردی کی جنگ جیتنے کا موقع ملا ہے۔ دہشت گردی پچھلے پانچ برسوں سے شامی قوم سے ان کا وطن چھین لینے کی سازشیں کر رہے ہیں مگرہ وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

    صدر اسد سے ملاقات کرنے والے ایرانی وزیرداخلہ نے بھی انہیں اپنے ملک کی جانب سے غیر مشروط تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے شام میں جاری جنگ کو دہشت گردی کی عالمی جنگ قرار دیا۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle...مہربانی-سے-ہماری-حکومت-قائم-ہے-بشارالاسد.html
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    پیغامات:
    3,446
    روس کے ساتھ مل کر شام کی ہر ممکن مدد کریں گے: ایران
    #ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک اور #روس #شام کے تنازع پرایک صفحے پر ہیں اور دونوں مل کر شام کے بحران حل کے لیے ہرممکن مدد کریں گے۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی نائب وزیرخارجہ حسین امیر عبدللھیان نے منگل کو #ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم روس کے ساتھ مل کر شام کو بحران سے نکالنے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہےہیں۔ دونوں ملک شام کے بحران کے خاتمے لیے مشترکہ مساعی جاری رکھیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں ایرانی نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ صدر #بشار_الاسد شام کے مسئلے کے حل کا حصہ ہیں۔ بشار الاسد کو خارج کرکے کوئی بھی حل دیر پاء ثابت نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران شامی اپوزیشن کو بھی دیوار سے لگانے کی پالیسی پرعمل پیرا نہیں ہے۔ مذاکرات کے عمل میں اپوزیشن کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

    حسین امیر عبداللھیان نے شام اور #یمن میں ایرانی فوجیوں اور عسکری مشیروں کی موجودگی کی خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یمن اور شام میں ایرانی افواج کی موجودگی سے متعلق جتنی خبریں آئی ہیں سب بے بنیاد ہیں۔ قبل ازیں "السوریہ ڈاٹ نیٹ" نے انکشاف کیا تھا کہ شام کے وسطی شہر حماۃ میں متمرکز شامی فوجیوں کے ساتھ ساتھ ایرانی فوجی افسران اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے عناصر کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ تاہم ایرانی نائب وزیرخارجہ نے ان اطلاعات کو بنیاد قرار دیا۔

    شام کے ملٹری انٹیلی جنس ادارے سے لیک ہونے والی ایک دستاویز میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حماۃ شہر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے فوجیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ #حماۃ میں #پاسداران_انقلاب کے اہلکار دو فارم ہائسز اور ایک دوسری بلڈنگ پرقابض ہیں۔ یہ عمارت اسد رجیم کو معلومات فراہم کرنے والے دو مخبروں کی ملکیت ہیں۔ اس جگہ بریگیڈ45 اور المغاویر بریگیڈ کے اہلکار بھی دیکھے گئے ہیں۔ یہ دونوں بریگیڈ ایرانی فوج کے بتائے جاتے ہیں۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...ھ-مل-کر-شام-کی-ہر-ممکن-مدد-کریں-گے-ایران.html
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    24,484
    ان شاءاللہ العزیز ان کا حشر بھی اکٹھا ہی ہو گا۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں