بچوں کے دلوں میں توحید کی عظمت راسخ کرنا (تعظیم التوحید فی نفوس الصغار : دکتور عبدالعزیز السدحان)

نصر اللہ نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏جنوری 15, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نام کتاب: تعظیم التوحید فی نفوس الصغار۔
    مؤلف: دکتور عبدالعزیز السدحان۔
    مترجم: فضیلۃ الشیخ محمد زین عرفان اعوان، متعلم جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ الریاض۔
    کمپوزنگ براۓ اردو مجلس نصراللہ

    الحمدﷲ رب العالمین ،والصلاۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین،نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وبعد

    جب ﷲ کی توحید ہی تمام معاملات میں عظیم اور تمام اصولوں کی اصل ہوئی اور اسی کی وجہ سے اﷲ نے رسولوں کو مبعوث کیا اور کتابوں کو نازل کیا اور اسکو پورا کرنے میں ہی دین و دنیا اور برزخ و آخرت کی کامیابی ہے جب معاملہ اس نوعیت کا تھا تو انبیاء علیم السلام نے بھی زندگی کے تمام مراحل میں اسکا خوب اہتمام کیا۔
    انہوں نے اﷲ کا مقام و مرتبہ اس کے اسماء و صفات کی عظمت کو بیان کیا،سراً و جہراً اسکو عبادت کے لئے منفرد سمجھا اور جو اﷲ کے ساتھ شرک کرے یا ا سکے ساتھ کسی اور کو پکارے غیر اﷲ سے مانگ کر کفر کرے اور اﷲ کے مقام و مرتبے میں کمی کرے تو ایسے بندے کو ڈرایا اور وعیدیں سنائیں۔
    یہاں اس بارے میں تفصیل سے گفتگو کرنے کی جگہ نہیں کیونکہ یہاں بچوں اور نوجوانوں کے دلوں میں توحید کی عظمت اور اﷲ کے مقام و مرتبے کو بٹھانے کے بارے میں گفتگو ہو گی کیونکہ اس بارے میں اکثر لوگ غفلت کا شکار ہیں بلکہ بعض وہ لوگ جو بچپن میں امور تربیت کا اہتمام بھی کرتے ہیں لیکن وہ بھی اس بارے میں سستی کرتے ہیں یا صرف معمولی سا اشارہ کردیتے ہیں۔حالانکہ وہ معاشرتی آداب اور طرز عمل کی تربیت میں بہت مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں جیسے کہ راستے کے آداب،مسجد ،گھر اور گھریلو حقوق سے متعلق آداب مثلا والدین کے آداب ،قریبی رشتہ داروں کے آداب،اگرچہ یہ سب بھی خیر کے کام ہیں مگر بچوں اور بچپن کی عمر میں اﷲ کی تعظیم (کے بیان)میں غفلت کرنا انہیں یہ حقوق و آداب بھی بھلا دے گا بلکہ انہوں نے جو بھی سیکھا ہو وہ بے فائدہ ہو گااور اسکی وجہ انکے عقیدے سے متعلق آگاہی کی کمزوری ہے جو کہ ان کے دلوں میں اللہ کی محبت اور اس کی سزا سے ڈر کا بیج بونے والا ہے ۔اور چونکہ رسو ل اللہ ﷺ تمام لوگوں کے لئے معلم اور نمونہ تھے تو آپ ﷺ بچوں کی تربیت کا مکمل اہتمام کرتے اور آپﷺ کے نزدیک اللہ کی توحید بچوں کے دلوں میں بٹھانے کا ان کی تربیت میں بہت بڑا حصہ ہے۔

    بچوں کے دلوں میں توحید کی عظمت بٹھانے کے دلائل میں سے درج ذیل ہیں۔
    آپ ﷺ کا ابن عباس رضی اﷲ عنہما کو نصیحت کرنااور تب ابن عباس بلوغت کو بھی نہیں پہنچے تھے۔آپکی یہ نصیحت عقیدے کے متعلق ایک عظیم نصیحت ہے جو کہ اپنے اندر توحید اور ادب کے اصولوں کو لئے ہوئے ہے۔عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں میں ایک دن رسول اﷲ ﷺ کے پیچھے (سوار) تھا تو آپ نے فرمایا: (اے بچے،میں تجھے چند باتیں سکھاتا ہوں:تو اﷲ کو یاد رکھ اﷲ تجھے یاد رکھے گا۔تو اﷲ کو یاد رکھ تو اسے اپنے سامنے پائے گا،اور جب سوال کرے تو اﷲ سے کر،جب مدد طلب کرے تو اﷲ سے طلب کر،اور جان لے کہ ساری امت اگر جمع کر بھی تجھے فائدے پہنچانے چاہے تو نہیں پہنچا سکتی مگر جو اﷲ نے تیر ےلئے لکھ دیا ہے اور اگر سب ملک کر بھی تجھے نقصان پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچا سکتے مگرجو اﷲ نے تیرے لئے لکھ دیا ہے،قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور سیاہی خشک ہو چکی ہے)
    اور ایک حدیث میں ہے(تو اﷲ کو یاد رکھ اسے اپنے سامنے پائے گا، خوشحالی میں اﷲ کو پہچان اﷲ تجھے تیری تنگی میں پہچانے گا،اور جان لے جو تجھے حاصل نہیں ہو سکا وہ تجھے کبھی ملنے والی نہیں تھا اور جو تجھے مل چکا ہے وہ تجھ سے کھونے والا نہیں تھا،اور جان لے کہ مدد ہمیشہ صبر کے ساتھ اور کشادگی ہمیشہ پریشانی کے ساتھ ہے اور تنگی کیساتھ آسانی ضرور ہے۔
    اس حدیث کے بعض جملوں پر غور وفکر کرنے والا دیکھتا ہے کہ یہ خیر کواپنے اند ر لئے ہوئے ہے۔اس میں اﷲ کے حکم کو بجا لانے اور نہی سے اجتناب کرنے کی نصیحت ہے جس نے اسکی حفاظت کی اﷲ بھی اس کی حفاظت کرے گا۔اور اﷲ کی حفاظت میں سے یہ بھی ہے کہ اﷲ اسے ہدایت اور دین ،دیناو آخرت کی بھلائی نصیب کردیتا ہے۔پھر رسول اﷲ ﷺ نے انہیں اپنی حاجات و خواہشات کے پورا ہونے کیلئے اﷲ سے سوال کرنے اور اسی سے مدد مانگنے کی نصیحت کی،پھر ان کے دل میں یہ بات بٹھائی کہ تقدیر اﷲ ہی کے ہاتھ میں ہے لہذا تجھے ہر گز کوئی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچ سکتا مگرجو اﷲ نے تیرے حق میں یا تیرے خلاف لکھ گیا ہے،اور چاہے تمام لوگ مل بھی جائیں اور تیرے حق میں یاتیرے خلاف کسی معاملے کا ارادہ کریں تو ہرگزنہیں ہو سکتا مگر جو تیرے لیے لکھ دیا گیا ہے۔
    اور اس میں یہ بھی ہے کہ جس نے خوشحالی میں اﷲ کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم پکڑا اﷲ اسے تنگی میں ہر گز رسوا نہیں کرے گا،پھر یہ واضح کیا کہ جس نے صبر کو لازم پکڑا اسکی مدد کیا جائے گی،اور تنگی کے بعد کشادگی ضرور ہے اور بے شک معاملات جب سخت ہوں تو اﷲ کے حکم سے آسان ضرور ہوتے ہیں۔

    رسول اﷲ ﷺ کا بچوں کے ساتھ معاملہ توحید میں توجہ دینے کے حوالے سے یہ بھی ہے جو کہ :

    امام ترمذی نے ابو رفع سے روایت کیا ہے کہتے ہیں(میں نے رسول اﷲ ﷺ کو دیکھا،آپ نے حسن بن علی کي ولادت کے وقت اس کے کان میں اذان دی) امام ابن قیم رحمہ اﷲ فرماتے ہیں، اس موقع پر اذان دینے میں یہ راز ہے کہ سب سے پہلے انسان کی سماعت میں اﷲ کی عظمت و کبریائی کے کلمات اور شہادت جس کے ذریعے انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے اسکےکلمات پڑیں،تو گویا یہ اسکے دنیا میں آتے وقت اسلام کے شعائر کی تلقین کی مانند ہوگا جیسے کہ دنیا سے جاتے وقت اسے کلمہ توحید کی تلقین کی جاتی ہے۔

    رسول اﷲ ﷺ کا بچوں کے دلوں میں توحید کی عظمت بٹھانے میں سے یہ بھی آیا ہے:
    کہ آپ ﷺ نے حسن بن علی رضی اﷲ عنہما کو سکھایا کہ جب وہ وتر میں
    قراء ت سے فارغ ہوں تو یہ کہیں( اے اﷲ مجھے ان لوگوں میں ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے اوران لوگوں میں عافیت دے جنہیں تونے عافیت دی ہے،اور ان لوگوں میں میرا ولی بن جا جن کا تو ولی بنا ہے جو فیصلہ تو نے کیا ہے اسکے شر سے مجھے بچالے کیونکہ توہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جسکا تو نگہباں بن جائے وہ رسوا نہیں ہو سکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ معزز نہیں ہو سکتا تو
    با برکت ہے اے ہمارے رب اور بلند اور ہر قسم کی نجات تیری ہی طرف ہے)
    حسن بن علی ہجرت کے تیسرے سال پیدا ہوئے،تو رسول اﷲ ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر صرف سات سال تھی۔اتنی چھوٹی عمر میں ہونے کے باوجود رسول اﷲ ﷺ نے انہیں یہ کلمات سکھائے جو اﷲ کی شان وعظمت میں جامع ترین عقدی کلمات ہیں اور یہ کہ وہی عبادت کا مستحق ہے سب کو چھوڑ کر اسی کو پکارا جائے گا بے شک اﷲ کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی اﷲ کے علاوہ کوئی تکلیف دور کر سکتا ہے۔بے شک اﷲ کا فیصلہ ہی نافذ ہونے والا ہے اور عزت اسی کے لیے ہے جس کو وہ دوست بنائے، اور ذلت اسکے لئے ہے جس سے وہ دشمنی رکھے، اور بے شک ضرورت مندی اسی کی طرف ہے اور اسکے علاوہ بھی عظیم معانی سکھائے۔

    بچوں کے دلوں میں توحید کی عظمت بٹھانے میں سے یہ بھی ہے جو کہ:
    امام بخاری رحمہ اﷲ نے اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ حسن اور حسین کے لئے ان الفاظ سے دم کیا کرتے تھے۔
    (اعیذ کما بکلمات اﷲ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ)یعنی میں تم دونوں کیلئے اﷲ کے تمام کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان ہر فکر میں ڈالنے والی اور ہر نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں پھر آپ فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسماعیل اور اسحاق علیھما السلام پر اسی طرح دم کیا کرتے تھے۔
    عقیدے کے متعلق فوائد حدیث:
    بچوں کو انبیا ء کے واقعات سنا نا
    اور ا نکے دل میں انبیاءکی محبت پیداکرنا،
    ایسے ہی اﷲ کی طرف رجوع کرنے کی اہمیت دکھانا اور بے شک وہی ہر مصیبت میں حفاظت کرنے والا ہے۔

    رسول اﷲ ﷺ کا بچوں کے لئے معاملہ توحید کے اہتمام میں سے یہ بھی ہے کہ :

    جب بچہ توحید کے معاملہ میں خصوصاً اور عموماً کسی بھی معاملہ میں غلطی کرے تو اسے فوراً ٹوکا اور متنبہ کیا جائے۔
    اسکے دلائل میں سے ربیع بنت معوذ بن عفراء کی روایت کردہ حدیث ہے کہتی ہیں رسول اﷲ ﷺ میر ی شادی کے موقع پر تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے جیسے آپ میرے پاس بیٹھے ہیں تو چند بچیاں دف بجانے لگیں اور شہدائے بد ر کے محاسن بیان کرنے لگیں۔
    ان میں سے ایک کہنے لگی :ہمارے درمیان ایک نبی ہے جو کل کے بارے میں جانتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس بات کو چھوڑ دو اور وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھی)
    رسول اﷲ ﷺ جب بچوں کے دلوں میں توحید بٹھانے کیلئے اتنے حریص تھے کہ
    یہان کے لئے انکی زندگی میں چراغ کی مانند ہو جائے ،تو اسکے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے جو توحیدکے معاملے میں سستی کرے یا اس کی شان کو کم کرے یا پھر انکو توحید کی تعلیم کی بجائے دوسرے فضول کام سکھائے۔

    لہذا جو بچپن میں تربیت پر مامورکیا جائے اسے چاہئے کہ:

    بچے کے دل میں اسکے رب کی تعظیم پیدا کرے ،

    اسکے فرمانبردار وں کے لئے اسکی رحمت کی وسعت ،

    نافرمانوں کیلئے سخت سزا کے بارے میں بتائے،
    بچوں کے دلوں میں احسان کا مرتبہ اجاگر کرے کہ بے شک اﷲ تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے اور انکے رازوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے کوئی چھپنے والی چیز اس سے نہیں چھپ سکتی ۔چونکہ بچے کے دل میں جب اﷲ کی توحید بیٹھ جاتی ہے تو اسکا معاملہ درست ہو جاتاہے۔اور نیکیاں کرنے اور انکی رغبت کا معاملہ اسکے دل میں مزید پختہ ہو جاتاہے۔اور اسکے ساتھ ساتھ گناہوں سے بچنے اور انکا ڈر رکھنے کا ارادہ بھی مزید پختہ ہو جاتاہے۔جیسے جیسے وہ بڑا ہو تا جاتا ہے وہ مزید مہذب اور اسکا معاملہ مزید پختہ ہوتا جاتاہے۔اور ایسے ہی جب بچوں کے دلوں میں توحید کا معاملہ بڑھتا جائے گا انکے دلوں کی اصلاح اور اخلاق میں شائستگی پیدا ہوتی جائے گی وہ اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے جب بھی والدین ان کے قول و فعل میں نیکی دیکھیں گے۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 15, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • اعلی اعلی x 1
  2. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    بچوں کی تربیت کے بعض اصول:

    بعض والدین بلکہ اساتذہ کی اس بارے میں غفلت و کمی کو دیکھتے ہوئے یہاں عقیدے سے متعلق تربیتی طریقے ذکر کئے جا رہے ہیں جو بچوں کے دلوں میں توحید کے معاملے کو پختہ کریں اور ساتھ ساتھ ان معاملا ت کو اﷲ کیلئے عبادت خالص کرنے سے جوڑا جارہا ہے کیونکہ یہی دعوت توحید کا مقصد ہے۔

    بچوں کے دلوں میں توحیدکو گاڑنے سے متعلق یہ ہے کہ ان میں ثواب اور سزا کا اصول پختہ کیا جائے انکو یہ بات یاد کروائی جائے کہ بے شک اﷲ ان کو دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے

    ا ن کے کاموں میں کوئی چھپنے والی چیز اس سے نہیں چھپ سکتی ،

    جب وہ اچھا کام کریں گے تو اسکا بدلہ بھی اچھا ہو گا اور جب بر ا کام کریں گے تو اس کا بدلہ بھی برا ہو گا

    اور بہت ہی اچھا ہو، اگر ان کے لئے بعض شرعی دلائل بھی ذکر کئے جائیں جو اس مفہوم پر دلالت کرتے ہوں ۔اور جب بھی ان دلائل کو ذکر کیا جائے تو اچھے انداز سے کیا جائے جس میں نرمی اور تعلیم دونوں پہلوں پائے جاتے ہوں تو یہ نہ صرف پر اثر ہوں گے بلکہ یہ دلائل ان کے دلوں میں پختہ ہوں گے اور منع شدہ کام کا ارادہ کرتے ہوئے یا فرض کردہ کسی چیز کو چھوڑتے ہوئے انکے لئے نصیحت کا کام دیں گے۔

    ان ہی دلائل میں سے مثال کے طور پر کچھ درج ذیل ہیں۔

    (انہ ھو السمیع البصیر)(الاسراء 1)
    بے شک اﷲ ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

    (فانہ یعلم السر واخفٰی)(طہ 18)
    بے شک وہ پوشیدہ بلکے بہت پوشیدہ بات کو بھی جاننے والا ہے۔

    (ھل جزاء الاحسان الا الاحسان) (الرحمن ۶۰)
    احسان کا بدلہ صرف احسان ہی ہے۔

    (اعلموا ان اﷲ شدید العقاب وان اﷲ غفور الرحیم) (المائدہ ۹۸)
    تم یقین جانو کہ اﷲ سخت سزا دینے والا بھی اور اﷲ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا بھی ہے۔

    اور یہاں جس چیز کی تنبیہ ضروری ہے وہ ایک مشہور تربیتی غلطی ہے جو کہ بعض والدین اور معلمین کے ہاں پائی جاتی ہے وہ یہ کہ بچوں کی شرارت کے وقت انہیں وہمی چیزوں سے ڈرایا جاتا ہے جیسے کہ ابھی وحشی جانور آئے گا یا اب تمہارے بال گر جائیں گے یا تم جانور بن جاؤگے یااس سے ملتے جلتے کلمات جو کہ ان کے دلوں میں خیر نہیں بٹھاتے بلکہ جب وہ ان باتوں کو پورا ہوتا نہیں دیکھتے تو اپنی شرا رت میں زیادہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔
    یہ ہی والدین اور تربیت کرنے والے دوسرے افراد اگر بچوں کے تعلق کو ان کے رب کے ساتھ جوڑ یں اور اسکے اجر و سزا کے ساتھ،تو ان کے لئے زیادہ بہتر ہو گا اور انکی اولاد وں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہو گا۔

    توحید کو راسخ کرنےکے طریقوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بچوں کے:

    دلوں میں اﷲ کی تعظیم پیدا کی جائے اور صرف وہی عباد ت کا مستحق ہے اور اس کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اس عقیدے کو ان کے دلوں میں بٹھانا اور اسکے مد مقابل غلط اور مخالف طریقے کو بیان کرنا اور انکی گمراہی اور غلطی کی وضاحت کرنا جیسے کہ وہ بندہ جو غیراﷲ کو پکارتا ہے اور جادو گروں اور نجومیوں کی گمراہی اور یہ کہ وہ جھوٹے،گمراہ ،دجال اور بھٹکے ہوئے ہیں۔
    اس معاملے میں یعنی بچوں کو جادو اور جادو گروں کی گمراہی سے ڈرانا، لاپرواہی یا سستی نہیں کرنی چاہئے خاص کر اس وقت میں جب کہ بعض چینلزاسکی دعوت دیتے ہیں بلکہ
    انہیں میسجیز وصول ہوتے ہیں اور یہ فاسق جادوگر ان کا جواب دیتے ہیں۔
    اور اس سب کے ساتھ ساتھ شرعی دلائل جو کہ بچوں کیلئے مقرر کرتے رہیں کیونکہ بچوں کیلئے باربار شرعی نصوص کو ذکر کرنا ان کے ذہن میں انکو راسخ کر دے گا اور وہ اسی کو کافی جانیں گے جس کی ان کو تلقین کی جاتی ہے۔اور جب انہیں جادو کے شر اور اسکو کرنے والوں کی گمراہی اور شر سے ڈرایا جائے تو مثال کے طور پر ان کیلئے ان مندرجہ ذیل دلائل کو خوب اچھے اندا زسے ذکر کیاجائے۔

    (ولایفلح الساحر حیث اتی)(طہ ۶۹)
    اور جادو گر کہیں سے بھی کامیا ب نہیں ہوتا۔

    (قال موسیٰ ماجئتم بہ السحر ان اﷲ سیبطلہ ان اﷲ لایصلح عمل المفسدین) (یونس:۸۱)
    سو جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم لائے ہو جادو ہے ،یقینی بات ہے کہ اللہ اسکو درہم برہم کئے دیتا ہے۔اور اﷲ فسادیوں کودرست نہیں کرتا۔

    اور حدیث میں رسول اﷲ ﷺ کایہ فرمان
    (من اتی ساحراً او عرافا لم تقبل لہ صلاۃ اربعین یوماً)
    جو جادوگر یا نجومی کے پاس گیا اسکی نماز چالیس دن تک قبول نہیں کی جائے گی۔

    اور ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں ۔

    (فصدقہ بما یقول فقدکفربما انزل علی محمد ﷺ)
    پس جو کہہ رہا ہے اس کی تصدیق کی تو گویا اس نے محمد ﷺ پر نازل شدہ چیز کا کفر کیا۔

    پھر ان کو بتایا جائے کہ یہ اسکے لئے ہےجو جادو گر کے پاس آئے تو اسکا کیا انجا م ہو گا جو خود جادو گر ہو!

    جاری ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    بچوں کے دلوں میں توحیدکو راسخ کرنے کے طریقوں میں سے یہ بھی ہے کہ:
    وضاحت کی ساتھ انکے لئے مخلوق کی اﷲ کی رحمت کی طرف حاجت مندی کو بیان کیا جائے اور بے شک وہ اﷲکے حاجت مند،فقیر اور اسکے سامنے کمتر،کمزور ہیں اور صرف وہی غنی اور قابل تعریف ہے ۔
    اور مثال کے طور پر ان کو نماز جمعہ اور باجماعت نماز کیلئے نماز یوں کا صرف نماز اور دعا کیلئے متوجہ ہونابیا ن کیا جائے ۔
    اور ایسے انکو بطور مثال حاجیوں کی کثرت انکا مناسک ادا کرنا،دعا کرنایہ سب بیان کیا جائے کہ بے شک اﷲ انہیں سن اور دیکھ رہا ہے اور انکی حاجات کا علم رکھتا ہے۔
    اسکے علاوہ جو انکے دلوں میں اﷲ کے مقام کو بڑھا سکے بیان کیاجائے۔

    اور انہی طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ:
    کائنات میں ہونے والی تبدیلیوں کو اﷲ(کی قدرت ) کے ساتھ جوڑا جائے جنہیں وہ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ان مظاہر کونیہ کی مثالوں میں سے سورج اور چاند کو گرہن لگنا،تیز ہواؤں کا چلنا ،آندھی اور طوفان کا آنا اور بارش کا نازل ہونا انکو بتایا جائے کہ بے شک اﷲ تعالیٰ جو چاہتا پیدا کرتا ہے اور جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے اگر تمام مخلوق مل کر بھی کسی چیز کو واپس بھیجنا یا بدلنا چاہیں تو وہ اسکی طاقت نہیں رکھتے۔

    انہی طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ :
    ان کے دلوں میں اﷲ کی محبت کا بیج بو دیاجائے۔

    ابودرادء رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:(حببوا ﷲ تعالیٰ الیٰ الناس)
    (اﷲ تعالیٰ کو لوگوں کا محبوب بناؤ)
    خاص کر ا س معاملے میں اہتمام کی بہت ضرورت ہے کیونکہ بچہ اسی پر پروان چڑھتا ہے جسکا اسے تربیت کرنے والے کی طرف سے عادی بنایا جاتا ہے۔
    بقول شاعر:
    وینشأ ناشئ الفتیان فینا علی ماکان عودہ أبوہ
    ترجمہ:اور ہم میں نوجوان اسی پر پرورش پاتا ہے۔جس پر اس کا باپ اس کو عادی بناتا ہے۔

    بچوں میں اﷲ کی محبت پیدا کرنا سب سے آسا ن ہے وہ ایسے کہ:
    مختلف نعمتوں کا ذکر کرتے وقت ان کاتعلق اس سے جوڑا جائے جو یہ نعمتیں پیدا کرنے والا ہے اور وہ اﷲ ہے ،جب بچہ نئے کپڑے پہنے اور خوش ہو تو اسے اﷲ کی حمد کی نصیحت کی جائے ،کھانے ،پینے کی ابتداء میں "بسم اﷲ" اور انتہامیں" الحمدﷲ" کہنا سکھایا جائے اور اسے یہ بھی بتایا جائے کہ اگر اﷲ کا فضل نہ ہوتا تو یہ کھانا پینا بھی نہ ہوتا پھر ایسے ہی نعمتوں کے پیش آنے پر انہیں یاد دلایا جائے کیونکہ بچوں کی فطرت بہت صاف شفاف اور نرم ہوتی ہے جو کچھ بھی انہیں سکھایا جائے سیکھ لیتے ہیں تو اسکے بارے میں آپکا کیا خیا ل ہے جو بار بار انہیں یاد دلا یا جائے!!!

    بچوں کے دلوں میں اﷲ کی محبت پیدا کرنے اور توحید کی عظمت راسخ کرنےکے طریقوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ:
    بہت آسان طریقے سے انہیں قرآن کی کچھ سورتیں اور انکی تفسیر سنانے کا اہتمام کیا جائے اور ایسے ہی بعض احادیث بھی اور انہیں جہاں اشکا ل ہو اسکی وضاحت بھی کی جائے اور اسکے ساتھ ساتھ انہیں صبح،شام اور رات سونے کے ذکر و اذکار بار بار اہتمام کے ساتھ سنائیں۔تاکہ وہ ان کو حفظ کریں اور ان پر عمل کریں اور انکی حوصلہ افزائی بھی کی جائے کیونکہ بچہ جب اذکار سے جڑ جاتا ہے تو اسکی حالت کی اصلاح اور اخلاق کی بہتر ی ہوجاتی ہے۔اور اﷲ کی یاد اسکے لئے لازمی ہو جاتی ہے۔

    یہاں جس چیز کا ذکر کرنا لازمی ہے وہ یہ کہ:
    بعض والدین اور تربیت کرنے والے بچوں کو کثرت سے نظمیں اور ترانے یاد کروانے میں مشغول رکھتے ہیں آپ دیکھیں گے کہ بچہ ترانوں کی بیسیوں کیسٹز اور ان کو پڑھنے والوں کے ناموں کے ساتھ یاد کیئے ہوئے ہو گا اور ہر نئے آنیولی سی ڈی یا کیسٹ کا انتظار کرے گاحالانکہ یہ معاملہ بچوں کیلئے بہت نقصان دہ ہے لہذا اس سے بچنے کا اہتمام کرنا ضرور ی ہے۔
    بچوں کو اچھی طرح بعض سورتیں اور دعائیں یاد کروائی جائیں اور خاص کرو ہ دعائیں جنکو علماء نے "عمل الیوم واللیلہ"دن رات کے اعمال میں ذکر کیا ہے جیسے کہ صبح و شام اور رات کو سونے کے اذکار،گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعا،بیت الخلامیں جانے اور نکلنے کی دعا،کھانے اور پینے کے اذکار اور اسی طرح دوسری دعائیں اور اذکار ۔
    اور جہاں تک ترانوں یا نظموں کی بات ہے تو انکے سننے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بچہ انکو سننے اتنا مشغول نہ ہو جائے کہ پھر انکوچھوڑ ہی نہ سکے بلکے بعض نوجوان کثرت سے اسے سنتے ہیں وہ اپنے حافظے کی کمزوری کی شکایت کرتے ہیں اور اس سے جو انکی قرآن سننے کی رغبت کم ہو جاتی ہے وہ ایک طرف ہے۔
    اسی کی تنبیہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اﷲ نے بار بار کی ہے اور اس بارے میں گفتگو کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
    "جو لوگ اپنے دل کی اصلاح کیلئے کثرت سے قصائد سنتے ہیں آپ دیکھیں گے کہ انکی قرآن سننے کی رغبت ختم ہو جاتی ہے بلکہ کبھی کبھار تو وہ اسے ناپسند کرنے لگتے ہیں"
    یہ تو ان کا حال ہے جو قصائد کو کثر ت سے سنتے ہیں انکے بارے میں کیا خیال ہے جو لذت حاصل کرنے کے لئے مختلف لہجوں اور آوازوں میں انکو سنتے ہیں اور اکثر چھوٹے بچوں کا ہی حال ہے۔
    بہرحال جو بھی بچوں کی تربیت کا ذمہ دار ہو اسے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ بچے کیا سنتے اور کیا پڑھتے ہیں اور قصائد سے متعلق یہی ہے کہ بچوں کو ایسے قصیدوں سے باز رکھنا چاہئے جن کے لہجوں میں تکلف، اور صوفیا ء کے طریقے سے مشابہت پائی جاتی ہو۔
    اے اﷲ ہمیں ان میں سے بنا دے جو کثرت سے تیرا ذکر کرتے اورتیرا مزید فضل مانگتے ہیں لہذا تو ہمیں ہماری چاہت سے بھی بڑھ کر عطا کر۔
    اے اللہ ہماری بیویوں اور اولادوں میں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔
    اے اﷲ ہمیں ہمارے والدین کیساتھ نیکی کی توفیق عطا کر اور ہماری اولادوں کو ہمارے ساتھ نیکی کی توفیق عطافرما۔
    اے اﷲ ہمیں اور ہماری اولادوں کو ایمان کی محبت عطا فرمااور اسے ہمارے اور ان کے دلوں میں مزین کر دے اور کفر،گناہ اور نافرمانی کو ہمارے لئے ناپسندیدہ بنا دے اور ہم سب کو نیک کاروں میں سے بنا دے۔
    ختم شد۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,207
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,162
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔ ماشاءاللہ بہت عمدہ انتخاب۔
     
  7. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  8. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
  9. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    میں نے دوبارہ پی ڈٰی ایف بنا کر اپ لوڈ کی ہے اپ لوڈنگ کے بعد مسئلہ آرہا ہے کیا ،کیا جائے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ماشاء اللہ بہت خوب
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں