کیا عورت کی آواز پردہ ہے؟ تحریر ثناءاللہ صادق تیمی

ابوعکاشہ نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏فروری 19, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
    ہمارے ہاں بعض مسائل میں حد سے زیادہ غلو یا افراط و تفریط سے کام لیاجاتا ہے ـ نتجہ کے طور پر کوئی چیز جو کہ شروط کے ساتھ جائز اور مباح ہوتی ہے وہ بھی حرام ہوجاتی ہے ـ انصاف یہ ہے کہ ہرمسئلے میں اس کی جائز صورت کی اجازت ہو نی چاہے ـ دوسال قبل عورت کی آواز ےکے پردہ کے جواز پر مجھے کچھ اشکال پیش آئی کہ کیا عورت کی آواز کسی نامحرم مرد کے لئے پردہ ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ تو میں نے عرب علماء کے فتوی سے رجوع کیا تھا ـکیونکہ سعودیہ کے اہل علم کے ہاں عورت کی آوازپردہ نہیں تھی ـ وہ براہ راست ان کا سوال سنتے ، ان کا جواب دیتے ہیں ـ اس مسئلے کے حوالے سے ذیل میں اہل علم کے کلام کی روشنی میں وضاحت کی گئی ہے ـ جمع وترتیب شیخ ثناءاللہ تیمی (مترجم اردو: خطبہ حرم المکی ) ہیں ـ جزاہ اللہ خیرا
    ------------
    عورت کی آواز پردہ ہے !
    ثناءاللہ صادق تیمی

    دین کا اگر صحیح شعور نہ ہو تو افراط و تفریط کی عجیب وغریب کیفیت جنم لے لیتی ہے ۔ ہمارے یہاں برصغیر ہندو پاک کے اندر بالعموم دین کا جو تصور کام کرتا ہے وہ کتاب و سنت سے زيادہ رواجی اور خود ساختہ اصول و نظریات کا ترجمان نظر آتا ہے ، آپ اگر غور کرینگے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ دین کے بہت سے ایسے امور میں جن میں رائے دینے کے لیے قرآن وسنت پرگہری نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ایسے لوگ رائی زنی کرتے ہیں جنہيں قرآن وسنت سے کوئی واسطہ تک نہیں ہوتا ، تعجب تو تب ہوتا ہے جب ایسے لوگ مختلف دنیاوی قوانین اور ممالک کی مثالیں پیش کرنے لگتے ہیں ، اسی طرح ہمارا جو طبقہ دیندار مانا جاتا ہے وہ زیادہ تر ایسی چیزوں کو بھی حرام کے نہیں تو کم از کم مکروہ کے درجے میں ضرور رکھتا ہے جو شرعا مباح ہو، یا جس کے کرنے میں کوئی قباحت نہ ہو ۔
    اسلامی اعتبار سے عورت پردہ ہے اور اسے پردے میں ہی ہونا چاہیے ، اسے بلاضرورت گھر سے باہر بھی نہ ہونا چاہیے اورجب کبھی باہر نکلنے کی ضرورت پیش آجائے تو اسے مکمل پردے میں نکلنا چاہیے ، اسلامی نقطئہ نظر سے عورت اپنے گھرمیں زیادہ محفوظ بھی ہے اور اللہ نے اسے جن جوہروں سے نوازا ہے اس کا زيادہ بہتر استعمال وہ اپنے گھرمیں رہ کر ہی کرسکتی ہے ، قرآن کریم کے اندر " وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی " اور " و لیضربن بخمرھن علی جبیوبھن " کے واضح نصوص آئے ہیں ۔
    لیکن عام طور سے ہمارے مسلم معاشرے میں عورت کی آواز کو جس طرح پردہ بناکر دیکھا گیا ہے ، اسے شرعی اعتبار سے دیکھنے کی ضرورت ہے ، کمال تو یہ ہے کہ اس معاملے میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی جنہیں قرآن وسنت کا علم ہے ، پس وپیش میں نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات اتنی صاف ہے کہ اس میں زيادہ سوچنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔
    اللہ تعالی نے امھات المؤمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا (فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَعْرُوفاً) (دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو) شیخ صالح عثیمین لکھتے ہیں " دبی زبان سے بات کرنے سے منع کرنا اور صاف سیدھی بات کرنے کا حکم دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے ، اگر عورت کی پوری آواز پردہ ہوتی تو صاف سیدھی بات کرنے کا حکم نہيں دیا جاتا بلکہ پوری طرح منع کردیا جاتا ، اس لیے کہ پھر دبی زبان سے کی گئی باتوں سے روکنے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا "
    آپ آگے کہتے ہیں " جہاں تک سنت کی بات ہے تو اس پر بہت سے دلائل ہیں ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خواتین آتی تھیں اور مردوں کی موجودگی میں استفسارات کرتی تھیں اور آپ انہیں جواب دیتے تھے ، آپ نے کبھی عورتوں کو پوچھنے سے منع نہيں کیا اور نہ مردوں سے یہ کہا کہ تم لوگ یہاں سے اٹھ جاؤ ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے، اس لیے کہ اگر آواز پردہ ہوتی تو یا تو آپ عورتوں کو منع کردیتے یا پھر مردوں کو اٹھ جانے کا حکم دیتے اور یہ دونوں نہیں ہوا ، اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی منکر کو برقرار بھی نہیں رکھ سکتے تھے ، پتہ چلا کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے "
    شیخ صالح منجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہيں " عورت کی آواز مطلقا پردہ نہیں ہے ، عورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سے شکایتیں کرتی تھیں اور اسلامی امور کے بارے میں دریافت کیا کرتی تھیں ، یہی سلسلہ خلفاء راشدین اور ان کے بعد کے حکمرانوں کے ساتھ بھی رہا ، وہ اجنبی مردوں کو سلام بھی کرتی تھیں اور سلام کا جواب بھی دیتی تھیں اور علماء نے کبھی اس کی نکیر بھی نہیں کی ، ہاں عورتوں کےلیے جائز نہیں وہ اپنی بات میں نزاکت رکھے یا ایسا لہجہ اختیار کرے جس سے مرد فتنہ میں پڑ جائے جیسا کہ اللہ کافرمان ہے " يا نساء النبي لستن كأحد من النساء إن اتقيتن فلا تخضعن بالقول فيطمع الذي في قلبه مرض وقلن قولا معروفا"
    جہاں تک اس حدیث کی بات ہے " إذا نابكم شيء في الصلاة فليسبح الرجال وليصفق النساء" ( جب تمہیں نماز میں کچھ لگے تو مردوں کو چاہیے کہ سبحان اللہ کہیں اور عورتوں کو چاہیے کہ تالی بجائيں ) تو اس سلسلے میں ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں " یہ نماز کے لیے مقید ہے ، اور ظاہر حدیث سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ عورت کے لیے اس حکم میں کوئی فرق نہیں کہ مردوں کے ساتھ نماز ادا کررہی ہوں یا اپنے گھرمیں محارم کے ساتھ اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے "
    یعنی جب وہ اپنے گھرمیں محرم کے بیچ ہو تو کیسا پردہ ؟ اس کا مطلب ہے کہ یہ حکم اس مخصوص عبادت سے متعلق ہے اور اس کا عورت کی آواز سے کوئی خاص مطلب نہیں ۔ لیکن اگر استلال مردوں کے ساتھ نماز ہی کو ذہن میں رکھ کر یہ کیا جائے کہ اجنبی مردوں کی وجہ سے آواز کی بجائے تالی لگانے کا حکم دیا گیا تو کیا یہ بات نہيں کہی جاسکتی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے اور عمل بھی یہی تھا کہ خواتین کی صفیں سب سے پیچھے ہوتی تھیں اور بالعموم خواتین کی آواز پتلی ہوتی ہيں تو یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ امام تک تالی کی آواز پہنچ جائے گی جبکہ شاید خواتین کی آواز اس طرح سے نہ پہنچ پائے ؟
    لیکن اس تحریر کا یہ مطلب ہرگز نہ نکالا جائے کہ ہم مسلم عورت کو اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ وہ جس سے تس سے ہم کلام ہوتی رہے ، نہیں ، ہمارا مطلب صرف یہ ہے کہ عورت کی آواز عورت کی مانند پردہ نہيں ہے ، لیکن اگروہ لگاوٹ اور نزاکت کے ساتھ کسی اجنبی مرد سے ہمکلام ہوتی ہے تو یہ حرام ہے ، ہمارا مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح وہ حسب ضرورت باہر نکل سکتی ہے اسی طرح حسب ضرورت وہ کسی سے بات بھی کرسکتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس ضرورت کا شرعی دائرے کے اندر ہونا ضروری ہے ۔ اچھا یہ کوئی نہیں بات بھی نہیں ہے ، فقہاء میں حنابلہ کے یہاں یہی فتوی رہا ہے ۔ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں " ہمارے حنبلی فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے ، تفصیل کے لیے دیکھیے شرح المنتهى 3/11 وشرح الإقناع 3/8 ط مقبل، وغاية المنتهى 3/8 والفروع 5/ 157."
    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں قرآن وسنت کی صحیح سجھ عطا فر مائے اور دین کے مطابق سماج بنانے کی توفیق دے ۔
    مراجع
    http://ar.islamway.net/fatwa/16477/هل-صوت-المرأة-عورة
    http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php…
    https://islamqa.info/ar/26304
    http://www.binbaz.org.sa/node/10929
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 10
    • مفید مفید x 1
  2. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,550
    جزاکما اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا۔
    اب تو لگتا ہے ہر مسئلہ میں ہی حد سے زیادہ افراط و و تفریط کی جاتی ہے۔ بلکہ جو مسئلہ نہیں بھی ہوتے ان کو بھی مسئلہ بنا دیتے ہیں ۔
    مجھے کافی عرصہ تک یہ بات معلوم نہین تھی کہ خواتین پردہ سمجھ کر غیر مردوں کو سلام بھی نہیں کرتیں ہیں ۔ بعد میں پاکستان میں کچھ پڑھی لکھی خواتین کو ایسا کرتے دیکھا تو جھٹکا لگا ۔جب آپ بات ہی نہین کریں گے تو معاشرے میں کیسے اپنی بات آگے پہنچائیں گے یا سیکھیں گے۔ اسلام کے ایک جز کو اتنی شدت سے پکڑتے ہوئے لوگ پتہ نہیں کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے جنگلات میں نہین دنیا میں دین قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بالکل، یہ غلط ہے۔ ہم لوگ کزنز وغیرہ سے پردہ کرتے ہیں لیکن سلام بھی کرتے ہیں۔
    ایسی خواتین بہت فخر سے بتاتی ہیں کہ ہم تو اپنے کزنز کو پہچانتے بھی نہیں، یہ کون سا اسلام ہے کہ عورت کو اپنے دیور جیٹھ، کزنز کی شکل بھی نہ پتہ ہو۔ دوسری طرف ہر چینل کے ہر ڈرامے کے ہیرو کی شکل اچھی طرح پتہ ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    جہاں پڑھی لکھی خواتین کے ساتھ مسائل ہیں وہیں ایسے پڑھے لکھے مرد بھی موجودہیں جو مسائل کواورپیچیدہ بنادیتے ہیں ۔ ان میں بعض اہل علم بھی شامل ہوجاتے ہیں ۔ اور دلیل یہ ہوتی ہے کہ فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو سکتا ہے ، ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ کے نبی ﷺنے جس چیز کو جہاں فتنہ کا موجب کہا ہے ، وہ ہوکررہے گی ۔اس سے ہرحال میں بچنا ہے ، اورجہاں نہیں کہا وہاں ان شاء اللہ نہیں ہوگی ۔ اگروالدین کو یاخود ایسے لوگوں کو خدشات لاحق ہیں تو اپنی اور بچوں کی ترتیب ایسی کریں کہ ان کا کرداراورایمان اتنا مضبوط ہوجائےکہ بھٹک جانے کا خطرہ نا ہو ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اس مسئلے میں کبار علماء مثلا شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا فتوی بالکل واضح ہے۔ اس کے باجود کچھ لوگ اس مسئلے کو اتنا اچھالتے ہیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی پیچیدہ نفسیات میں فتنہ ہے۔ انہیں اس کا علاج کروانا چاہے۔

    هل صوت المرأة عورة؟
    صوتها ليس بعورة، وقد كان النساء يسألن النبي - صلى الله عليه وسلم - ويسألن الصحابة ولم ينكر عليهن النبي - صلى الله عليه وسلم - ذلك، وإنما العورة هو خضوعها بالقول وتغنجها، لقوله سبحانه: يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ فالمشروع لها أن يكون صوتها وسطاً، لا خضوع فيه، ولا فحش فيه، ولهذا قال: وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا فهكذا ينبغي للمرأة أن تكون متوسطة في كلامها، لا مفحشة في القول ولا خاضعة فيطمع الذي في قلبه مرض.

    http://www.binbaz.org.sa/node/10929
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    شیخ ابن باز کے فتوی میں بھی تقریبا وہی باتیں ہیں جو کہ شیخ ابن عثمین رحمہ اللہ نے کی ہے ـ جس کا فتوی صاحب تحریر نے نقل کیا ہے ـ اگرچہ سمجھنے والے کے لئے ایک فتوی ہی کافی ہےـ لیکن اگر ایسے تمام فتوی کا ترجمہ کردیا جائے توبہتر ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. Faraz

    Faraz ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 15, 2012
    پیغامات:
    149
    1۔ معاشرے میں مرد علماء کی موجودگی کے باوجود کیا عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی معلمہ کی حیثیت سے بیانات دے اور اسکی آواز بھی آڈیو سی ڈی کی شکل میں عام دستیاب ہو ؟
    2۔ یا انٹرنیٹ پر آن لائن بحث میں حصہ لے (اسلامی یا غیر اسلامی) ؟
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    ایک بات واضح ہوچکی کہ عورت کی آواز پردہ نہیں بشرطیکہ اس کے کلام میں نزاکت یا لگاوٹ نا ہو ـجس سے مرد کے دل میں شیطان کو فساد کا موقع ملے ـ اب وہ اپنا بیان ریکارڈ کروائے ـ کسی سے ہمکلام ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ـ ہمیشہ مرد علماء کی موجودگی میں عورتیں بھی علماء رہی ہیں ـ ان سے استفادہ کرنے والوں میں مرد بھی شامل تھے ـ ایک چیز ہمیشہ سے جائز رہی ہے ـ آج کیسے ناجائز ہوگئی ـ
    انٹرنیٹ پر آن لائن بحث میں حصہ لینے کے لئے کونسی چیز مانع ہے ـ جب کہ یہاں آوازاور چہرہ کے پردے کے مسائل بھی نہیں اعتراض وہ ہونا چاہیے جس میں کسی واضح شرعی مسئلے کی مخالفت ہورہی ہو ـ
     
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاك الله خيرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جو سوالات یہاں اٹھائے جا رہے ہیں ان پر یہاں پہلے ہی بات ہو چکی ہے
    http://www.urdumajlis.net/threads/خ...-کرنا-شیخ-البانی-رحمہ-اللہ.20239/#post-345219

    اللہ کرے کہ کسی کو توفیق ہو۔
     
    • مفید مفید x 1
  12. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    دو انتہائیں ہیں یہ تو۔ ضروری نہیں کہ اگر کسی کی اپنے کزنز سے بات چیت سلام دعا نہ ہو تو وہ ڈراموں کے ہیروز کو بھی پہچانتی ہوں۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اس بات پر فخر کیا جائے۔
    یقینا یہ دو رخی ہے اگر لوگ خاندانی دباؤ کی وجہ سے خاندان کے نامحرموں سے بات نہ کریں اور باہر بلا ضرورت ہر کسی سے بات چیت کریں۔ پھر اس میں فخر کی بات ہے بھی نہیں کہ یہ کیسا پردہ ہے؟

    لیکن یہ اپنے اپنے سیٹ اپ اور ماحول کا فرق ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ اس وجہ سے ہو کہ خاتون کی آواز پردہ ہے۔ پردہ کرنے والوں کے گھروں میں عموما غیر محرم مہمان خانوں تک محدود ہوتے ہیں۔ پھر انہیں اٹینڈ کرنے والے گھر کے مرد ہی ہوں تو خواتین کو کیا ضرورت ہے کہ جا جا کر سلام دعا کریں۔ ایسے گھروں میں پھر کوئی بعید نہیں کہ کزنز کی پہچان نہ ہو پائے۔ جب کوئی رابطہ ہی نہیں تو پہچان کس طرح ہو؟ قطع رحمی کی نیت نہ ہو تو اگر کوئی کام ہی نہیں، کوئی لین دین، کوئی معاملہ ہے ہی نہیں تو نامحرم چاہے وہ خاندان سے ہوں یا باہر، کیا ضرورت ہے بات کرنے کی؟ مجھے نہیں لگتا اس میں کچھ غلط ہے۔
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہ بہرحال دین میں غلو ہے کہ پردے کے نام پر خود کو رشتہ داروں سے اتنا الگ تھلگ کر لیا جائے کہ ان کی پہچان ہی نہ ہو، بعد میں ایسے لوگوں کو اپنے اصول توڑنے ہی پڑتے ہیں۔ کیوں کہ دین میں غلو کرنے والا آخر ٹوٹتا ہے۔ رشتے صرف ضرورتوں کے نہیں ہوتے، رشتے رشتے ہوتے ہیں۔ ہم نبی کی بیویوں اور بیٹیوں سے زیادہ متقی نہیں پیدا ہو گئیں، وہ سب آپس میں بات چیت، سلام دعا کرتے تھے، تو ہمیں بھی پردے کے نام پر خاندان کو تشنج میں مبتلا کرنے کی ضرورت نہیں۔
    یہ دورخا پن میں نے حقیقت میں دیکھا ہے کہ کزنز سے تو سلام نہیں کرنا، سسرال میں سب کی خوشامد کرنی ہے، یا فیس بک پر شو آف کے لیے غیر مردوں سے مروت نبھائی جا رہی ہے کہ ہمارے کانٹیکٹس میں فلاں فلاں ہوتے ہیں،اسی طرح کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کا نام پتہ ہوتا ہے، معروف داعیوں کے پیج بھی باقاعدہ وزٹ ہوتے ہیں تو سب کا پتہ ہے بس کزنز ہی کہیں کے مجرم ہیں کہ ان کی شکل ہی نہیں پتہ۔ میں کزنز فری مکسنگ کے بھی اتنی ہی خلاف ہوں جتنی اس غلو کی۔ دراصل بعض لوگ اپنے رشتہ داروں کو حقیر سمجھتے ہیں اور غیروں سے تعلقات بڑھاتے ہیں لیکن بہت دیر سے سمجھ آتا ہے کہ کزنز جیسے بھی ہوں آپ کا خاندان ہوتے ہیں۔
    ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک عزیزہ کی وفات پر میں نے اپنے کزن کو دیکھا، باہر کھڑے تھے مجھے یاد ہے ہم پرائمری سکول میں تھے جب ان کی شادی ہوئی تھی، اب ان کے بچے جوان ہیں، میں ان کی اہلیہ کو ساتھ لے کر ان کے پاس گئی، سلام کیا اور واپس آ گئی۔ اس میں کیا حرج ہے؟ بڑوں کی موجودگی میں کزنز کو سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
     
  14. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    میں نے تو پہلے ہی لکھا کہ ضروری نہیں یہ دین کے نام پر ہو۔ جو لوگ غلو کرتے ہیں یقینا غلط کرتے ہیں۔
     
  15. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    جزاک اللہ خیرا۔ مدلل مضمون ہے۔
    مضمون کا لب لباب یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے خاتون کی آواز پر مطلق پابندی نہیں لگائی اور ضرورت کے تحت اور شرعی حدود کے ماتحت وہ غیر مردوں سے بات کر سکتی ہے۔ جو لوگ کلیتا خاتون کی آواز کو پردہ قرار دیتے ہیں وہ غلو کر رہے ہیں۔
    یعنی رخصت ہے اور فرض نہیں۔
    ایک سوال یہ ہے کہ تلاوت قرآن کا کیا حکم ہے؟ کیا خواتین غیر محرم مردوں کی موجودگی میں قراءت کر سکتی ہیں؟ اس کا حکم بھی بات چیت والا ہی ہے کہ ضرورت کے تحت جائز ہے؟ مثلا اگر معلم مرد ہو تو اس کے سامنے خاتون کو پڑھنا ہی پڑے گا یا اسی طرح دیگر صورتیں پیش آئیں تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
     
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    جیسا کہ مضمون میں گزرچکاکہ عورت کی آواز عورت کی مانند پردہ نہیں ـ لیکن اگروہ لگاوٹ اور نزاکت کے ساتھ کسی اجنبی مرد سے ہمکلام ہوتی ہےـ تو وہ درست نہیں ـ لیکن آواز کو ہرحال میں پردہ کہنا غلو ہے ـ غیرمحرم میں تو رشتہ دار اور غیر رشتہ دار سبھی آتے ہیں ـ ان میں کسی قسم کا فرق نہیں ـ
    ہمارے ہاں اکثر قراء حضرات مرد ہی ہوتے ہیں ـاگر عورت نا ہوتووہ کیا کرے ؟ قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنا ، حفظ کرنا ترک نہیں کرسکتی ـ قرآ ن حفظ وتجوید کے امتحان کے لئےیا سند کے لئے مردمعلم کوسنانا ضروری ہے ـ تاکہ وہ آگے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکے ـ اور یہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی معلمہ کے پاس اجازتہ کا ہونا ضروری ہے ـ
     
    • متفق متفق x 1
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    Last edited: ‏فروری 6, 2019
    • مفید مفید x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں