تفسیر سعدی (سورة المرسلات)

عبد الرحمن یحیی نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏فروری 26, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    تفسیرسورۃ المرسلات
    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
    وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ﴿١﴾ فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا ﴿٢﴾ وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا ﴿٣﴾ فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ﴿٤﴾ فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا ﴿٥﴾ عُذْرًا أَوْ نُذْرًا ﴿٦﴾ إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ ﴿٧﴾ فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ ﴿٨﴾ وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ ﴿٩﴾ وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ﴿١٠﴾ وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ ﴿١١﴾ لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ ﴿١٢﴾ لِيَوْمِ الْفَصْلِ ﴿١٣﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ ﴿١٤﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٥﴾
    دل خوش کن چلتی ہواؤں کی قسم (1) پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم (2) پھر (ابر کو) ابھار کر پراگنده کرنے والیوں کی قسم (3) پھر حق وباطل کو جدا جدا کر دینے والے (4) اور وحی ﻻنے والے فرشتوں کی قسم (5) جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے (6) جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے (7) پس جب ستارے بے نور کردئے جائیں گے (8) اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا (9) اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے (10) اور جب رسولوں کو وقت مقرره پر ﻻیا جائے گا (11) کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ (14) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے (15)
    اللہ تبارک و تعالٰی نے قیامت کے روز اعمال کی جزاوسزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے ، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالٰی کونی و قدری معاملات ، تدبیر کائنات ،شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے عُرْفًا (الْمُرْسَلَاتِ ) سے حال ہے ،یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف ، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے ۔ فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالٰی بھیجتا ہے ، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالٰی کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں ۔ وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس چیز کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالٰی زمین کو سرسبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے ۔ فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں ۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتا ہے ۔ عُذْرًا أَوْ نُذْرًا یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے ، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کا سامنے ہیں ، ان کے عذر منقطع ہوجائیں اور اللہ تعالٰی پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔
    إِنَّمَا تُوعَدُونَ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا جو تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے لَوَاقِعٌ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے ۔ جب قیامت کا دن واقع ہوگا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہوگا جس سے دل دہل جائیں گے،کرب بہت زیادہ ہوجائے گا ، ستارے بے نور ہوجائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر ہوجائیں گے ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا ۔ یہ وہ دن ہوگا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ۔ اس لیے فرمایا : لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ '' بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی ؟'' یہ استفہام تعظیم ، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے ، اس کے بعد اللہ تعالٰی نے جواب میں فرمایا : لِيَوْمِ الْفَصْلِ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے ۔
    پھر اللہ تبارک و تعالٰی نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ '' اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ۔'' یعنی انھیں حسرت ہوگی ، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہوگا۔ اللہ تعالٰی نے ان کو آگاہ کیا ، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اس سچ نہ جانا ،اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے ۔
    أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ ﴿١٦﴾ ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ ﴿١٧﴾ كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ ﴿١٨﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٩﴾
    کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟ (16) پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو ﻻئے (17) ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں (18) اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے (19)
    کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ،پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گےجو جھٹلا ئیں گے ۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالٰی کی سابقہ سنت بھی یہی رہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہوگی ۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے تو تم جو کچھ دیکھتے اور سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ '' اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے ۔'' جو واضح اور کھلی نشانیوں ،عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں ۔
    أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ ﴿٢٠﴾ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ﴿٢١﴾ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ ﴿٢٢﴾ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ ﴿٢٣﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٢٤﴾
    کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا (20) پھر ہم نے اسے مضبوط ومحفوظ جگہ میں رکھا (21) ایک مقرره وقت تک (22) پھر ہم نے اندازه کیا اور ہم کیا خوب اندازه کرنے والے ہیں (23) اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے (24)
    اے انسانو ! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا مِن مَّاءٍ مَّهِينٍ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے اسے رکھ دیا فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ایک محفوظ جگہ میں ، اس سے مراد رحم ہے ، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ یعنی ایک مقررہ وقت تک فَقَدَرْنَا یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے ، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا ،ہم نے اسے نطفے سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے اسے بڑا کیا ،اس کے اندر روح پھونکی ،ان میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اس سے پہلے ہی مرجاتے ہیں ۔ فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ '' پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں ۔'' اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے ، کیونکہ اللہ تعالٰی کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع اور حمد وستائش کے موافق ہے ۔ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ اس دن ہلاکت ہے ان جھٹلانے والوں کے لیے جنہوں نے آیات کے واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا ۔
    أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا ﴿٢٥﴾ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا ﴿٢٦﴾ وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُم مَّاءً فُرَاتًا ﴿٢٧﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٢٨﴾
    کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟ (25) زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی (26) اور ہم نے اس میں بلند وبھاری پہاڑ بنادیے اور تمہیں سیراب کرنے واﻻ میٹھا پانی پلایا (27) اس دن جھٹلانے والوں کے لیے وائے اور افسوس ہے (28)
    یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تمھارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا ؟ اور اس زمین کو كِفَاتًا تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا أَحْيَاءً '' زندوں کو '' گھروں میں وَأَمْوَاتًا ''اور مردوں '' کو قبروں میں ؟ پس جس طرح گھر اور محلات ، بندوں کے لے اللہ تعالٰی کی نعمت اور احسان ہے اس طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے ۔
    وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے ۔ پس اللہ تعالٰی نے اسے مضبوط اور بلند ، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا وَأَسْقَيْنَاكُم مَّاءً فُرَاتًا یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا : أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ ﴿ ﴾ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ﴿ ﴾ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ ﴿الواقعة : 68۔70﴾ '' بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو ،کیا تم نے اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں ؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں ،پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟'' وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ '' اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے ۔'' بایں ہمہ کہ اللہ تعالٰی نے ان کو نعمتیں دکھلائیں ،جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا ، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔
    انطَلِقُوا إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿٢٩﴾ انطَلِقُوا إِلَىٰ ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ ﴿٣٠﴾ لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ ﴿٣١﴾ إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ ﴿٣٢﴾ كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ ﴿٣٣﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٣٤﴾
    اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے (29) چلو تین شاخوں والے سائے کی طرف (30) جو در اصل نہ سایہ دینے واﻻ ہے اور نہ شعلے سے بچاسکتا ہے (31) یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں (32) گویا کہ وه زرد اونٹ ہیں (33) آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے (34)
    یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے ، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا : انطَلِقُوا إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ '' جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو ۔'' پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی انطَلِقُوا إِلَىٰ ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہوجائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سےباری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہوجائیں گے ۔ لَّا ظَلِيلٍ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہوگی ، یعنی اس سائے میں راحت ہوگی نہ اطمینان ۔ وَلَا يُغْنِي '' نہیں کام آئے گا'' اس سائے میں ٹھہرنا مِنَ اللَّـهَبِ '' شعلے کے مقابلے میں '' بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیر لے گا جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا : لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ (الزمر : 16 ) '' ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے ) ہوں گے۔'' اور فرمایا : لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ (الأعراف : 41 ) '' ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہوگا اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ۔''
    پھر اللہ تعالٰی نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی ، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا : إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ ﴿ ﴾ كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ '' اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا وہ زرد اونٹ ہیں ۔'' یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے ، اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ ،اس کے شعلے ،اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی ،ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہوگی ۔ ہم اللہ تعالٰی سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں ۔ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ '' اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے ۔''
    هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ ﴿٣٥﴾ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ ﴿٣٦﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٣٧﴾ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ ﴿٣٨﴾ فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ ﴿٣٩﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٠﴾
    آج (کا دن) وه دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے (35) نہ انہیں معذرت کی اجازت دی جائے گی (36) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے (37) یہ ہے فیصلے کا دن ہم نے تمہیں اور اگلوں کو سب کو جمع کرلیا ہے (38) پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو (39) وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40)
    اس عظیم دن میں ، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے ، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ '' اور نہ انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کر سکیں ۔'' اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ (الروم : 57) '' پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی ۔''
    هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ '' یہی فیصلے کا دن ہے ، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے '' تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں ۔ فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ ''ا گر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہو '' جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو فَكِيدُونِ '' تو تم میرے خلاف تدبیر کر لو۔'' یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا : يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ (الرحمن: 33) '' اے جن و انس کے گروہ ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو ، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے ۔'' اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہوجائیں گے ،ان کا مکر و فریب ختم ہوجائے گا ، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالٰی کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ،ان کے سامنے صاف ظاہر ہوجائے گا ۔ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ '' اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے ۔''
    إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ ﴿٤١﴾ وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ ﴿٤٢﴾ كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٤٣﴾ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿٤٤﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٥﴾
    بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں اور بہتے چشموں میں (41) اور ان میووں میں جن کی وه خواہش کریں (42) (اے جنتیو!) کھاؤ پیو مزے سےاپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے (43) یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں (44) اس دن سچا نہ جاننے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے (45)
    چونکہ اللہ تعالٰی نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا ۔ چنانچہ فرمایا : إِنَّ الْمُتَّقِينَ '' بے شک پرہیزگار '' یعنی جو اپنے اقوال،افعال اور اعمال میں تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف ہیں اور وہ واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے فِي ظِلَالٍ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے وَعُيُونٍ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب وغیرہ کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات ،جو وہ چاہیں گے ، ان میں ہونگے ۔ ان سے کہا جائے گا : كُلُوا وَاشْرَبُوا کھاؤ پیو ، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو هَنِيئًا یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر ۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی حتٰی کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہوگا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ۔ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جہوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا ۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالٰی کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالٰی کے بندوں پر احسان کرتا ہے ۔ بنا بریں فرمایا : إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿ ﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ '' بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے ۔'' اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کا فی ہے ۔
    كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ ﴿٤٦﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٧﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ﴿٤٨﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٩﴾ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٠﴾
    (اے جھٹلانے والو) تم دنیا میں تھوڑا سا کھا لو اور فائده اٹھا لو بیشک تم گنہگار ہو (46) اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے (47)ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے (48) اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے (49) اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان ﻻئیں گے؟ (50)
    یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں ، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہوجائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے ۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے ،کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا: ارْكَعُو '' رکوع کرو '' تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے ۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے ؟ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ '' اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے '' ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہوجائیں گے ۔
    پس جب انھوں نے اس قرآن کریم کو جھٹلایا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ '' تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں؟'' کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے ،جس پر کوئی دلیل تو کجا ،کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟ یا وہ کسی مشرک ،کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے ؟ پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا ، صدق کے بعد ،جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں ،صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے ۔ ہلاکت ہے ان کے لیے ، وہ کتنے اندھے ہوگئے ہیں ! اور برا ہو ان کا ، کس قدر خسارے اور بد بختی کا شکار ہوگئے ہیں ! ہم اللہ تعالٰی سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔ وہ جواد اور صاحب کرم ہے ۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں