ٹیک آف اور لینڈنگ میں کھڑکیوں کے پردے کیوں کھلے رکھتے ہیں؟

بابر تنویر نے 'اسلام ، سائنس اور جدید ٹیکنولوجی' میں ‏مارچ 22, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,241
    دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
    جب بھی دنیا میں طیارے کے حادثے سے متعلق کوئی المیہ رونما ہوتا ہے تو ہوابازی سے متعلق تمام تر اندیشے پھر سے لوٹ آتے ہیں. اور طیاروں کی سلامتی کے حوالے سے ہزاروں سوال اٹھائے جاتے ہیں. یہ جانتے ہوئے بھی کہ طیاروں کے حادثات میں سالانہ اموات کی تعداد سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد سے کم ہوتی ہے۔

    ان سوالات کے ضمن میں ہمارے ذہن میں ایک چھوٹا سا سوال یہ بھی آتا ہے کہ طیارے کے اڑان بھرنے کے وقت اور اترتے وقت طیارے کا عملہ ہمیشہ مسافروں سے یہ درخواست کیوں کرتا ہے کہ وہ پلاسٹک کی کھڑکیوں کے پردے (شیڈ) کھول لیں. آخر اس کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟

    ہوابازی کے متعدد ماہرین اور طیاروں کے کپتان بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس کی وجہ بیرونی مناظر سے لطف اندوز ہونا نہیں جیسا کہ ہم سب خیال کرتے ہیں. بلکہ اس اقدام کا تعلق طیارے کی سلامتی اور سیکورٹی سے ہے۔

    اس سلسلے میں ایک کپتان نے انکشاف کیا کہ اس کا سادہ سا مقصد یہ ہے کہ تمام مسافر طیارے کے عملے کے ساتھ چوکنے رہیں اور طیارے کے ڈھانچے میں بیرونی طور پر یا اس کے گرد کسی بھی قسم کی غیرمعمولی اور غیرمانوس صورت حال کو دیکھنے یا نوٹ کرنے کی صورت میں فوری طور پر آگاہ کریں۔

    طیاروں کی صنعت سے متعلق ایک ماہر ڈیوڈ رابنسن نے انڈیپنڈنٹ اخبار کو بتایا کہ کسی بھی افسوس ناک حادثے سے قبل دھیمی روشنی سے ہم آہنگ رہنے والے شخص کی بصری صلاحیت اس شخص کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر ہوتی ہے جو تاریکی میں ڈوبی حالت میں حادثے سے دوچار ہوتا ہے.. بالخصوص جب کہ اس کے پاس طیارے سے نکلنے کے لیے صرف 90 سیکنڈ ہوتے ہیں۔

    یاد رہے کہ 1953ء سے قبل طیاروں کی کھڑکیاں چوکور (مربع) صورت میں ہوتی تھیں پھر بعد میں بیضوی شکل میں تبدیل ہوگئیں۔ ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ یہ ایک جہاز کے گرنے کی وجہ بنی تھیں. اس لیے کہ یہ کھڑکیاں چار کونوں پر مشمتل ہوتی ہیں. جس کا مطلب ہے کہ ممکنہ طور پر چار کمزور پوائنٹ ہیں جو طیارے کے ہوا کے شدید دباؤ کا نشانہ بننے کی صورت میں ٹوٹ سکتی ہیں۔

    لنک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    زبردست...
    یہ سوال ہمیشہ ہی میرے ذھن میں رہا ہے.
    آج جواب مل گیا.
    بھت خوب.

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,291
    ان کی مہربانی ہے جو لینڈنگ اور ٹیک آف کے وقت پردے کھلے رکھنے کا کہتے ہیں ورنہ مجھے تو کوفت ہوتی ہے جب بند ہوں اور کئی بار طلوع آفتاب کے وقت پردے بند کرنے کا کہا جاتا ہے، ایک بار ایک دوست کا ساتھ سفر میں تھا تو اس سے پوچھا کہ یہ بند کیوں کروا رہے ہیں تو اس نے کہا کہ ابھی سورج نکلنے کا ٹائم نہیں ہوا جلدی نکل آیا ہے۔۔۔۔۔ اس نے تو مذاقا کہا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ واقعی ایک ٹائم زون سے دوسرے ٹائم زون میں جاتے ہوئے ایسا کیا جاتا کہ باڈی کلاک اس فرق کو قبول کر سکے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    یہ باڈی کلاک کیا ہوتا ہے.؟

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,234
    چاروں کونوں میں کمزور پوائنٹ ۔ یہ تو کوئی نحوست کی بات ہوئی ۔ جیسے ایک مخصوص تاریخ کو جہاز نہیں اڑانا حادثہ ہوسکتا ہے ۔
     
  6. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    729
    نہیں ایسی بات نہیں ہے، چکور شکل کے کناروں پر ہوا کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے جبکہ بیضوی شکل میں ہوا گھوم کر باہر نکل جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کا دباؤ بیضوی شکل پر رونما نہیں ہوتا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,291
    کچھ نہیں ہوتا!
    بس وہ روٹین جس کا انسانی جسم عادی ہوتا ہے اس سے نکل کر نئی روٹین میں شامل ہونا۔۔۔۔۔
    جیسے ایک ملک میں فجر کے لئے انسانی دماغ کسی کو خود بخود بیدار کرتا ہے تو وہ کسی ایسے ملک چلا جائے جہاں کا وقت مختلف ہو تو جب تک اس کا جسم اس تغیر کو قبول نہ کر لے وہ وہاں کے اوقات سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتا
     
    Last edited: ‏مارچ 23, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,291
    جی عکاشہ بھائی اس میں نحوست والی کوئی بات نہیں۔ ابن مبارک بھائی نے صحیح کہا ہے کیونکہ طویل سائینٹیفک ریسرچ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کونوں والی جگہ کمزور ہوتی ہے اور ہوا کا زیادہ دبائو برداشت نہیں کر پاتی۔ عام طور پر آپ پرانی عمارات میں ڈاٹس کے استعمال کو دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح بھاری بھرکم بوجھ کو سہار لیتی ہیں اس کہ وجہ یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ وزن بجائے ایک نقطے پر پڑے اسے برابر منقسم کر دیا جاتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں