اقوال سلف

عبدالرحیم نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مارچ 24, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    935
    شیخ صالح بن فوزان الفوزان فرماتے ھیں۔۔۔۔۔
    حق بات کا یہ حق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے.
    ● مسلک کے لئے عصبیت جائز نہیں.
    ● افراد کے لئے عصبیت جائز نہیں.
    ● اور قبائل کے لئے عصبیت جائز نہیں.
    ✅ ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ حق جہاں کہیں ملے، وہ اس کی اتباع کرتا ہے.
    ○ وہ تعصب نہیں کرتا.
    ○ حق بات کو نہیں چهوڑتا.
    مسلمان تو وہ ہے، اسے جہاں حق مل جائے، اس کے ساتھ رہتا ہے.
    ■ خواہ یہ حق اس کے مسلک میں ہو یا دوسرے کے مسلک میں.
    ■ اس کے امام کے پاس ہو یا دوسرے کے امام کے پاس.
    ■ اس کے قبیلے اور برادری کے ساتھ ہو یا دوسرے کے قبیلے اور برادری کے ساتھ.
    ■ یہاں تک کہ اگر حق اس کے دشمن کے پاس ہو تب بھی وہ اسے اختیار کرتا ہے.
    ↩ کیونکہ حق کی رجوع کرنا.
    باطل پر جم جانے سے بہتر ہے.
    [ إعانة المستفيد (2/115)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 2
    • اعلی اعلی x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,128
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    بارک اللہ فیک.
    اللہ ہمیں ان حقوق کو سمجھ کر عمل کی توفیق دیں..

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,154
    جزاکم اللہ خیرا ، بلاشبہ حق وہی ہے جس کا معیار ایک ہی ہوتا ہے ۔اسےہی قبول کرنا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,239
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,123
    جزاکم اللہ خیرا
    اللہ تعالی ہمیں ہر حال میں حق کو سننے والا اور حق پر عمل کرنے والا بنائے آمین یا رب العالمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    935
    استاد محترم علامہ شيخ صالح الفوزان نے فرمایا :

    جب کسی کو کہا جائے تم نے صحیح دلیل کے برخلاف بات کہی.
    یا سنت کے خلاف بات کی ہے اور فورا رجوع کرلے اور حق کی اتباع کرے تو جان لو کہ یہ شخص حق کا متلاشی ہے.

    رہا وہ شخص جس سے کیا جائے کہ تم نے صحیح دلیل کے خلاف اور سنت کے خلاف بات کی ہے اور وہ اپنی بات اڑجائے، غصے کا اظہار کرے اور اشتعال میں آجائے تو وہ خواہش نفس اور ہوائے نفس کا بندہ ہے.

    شرح السنة للبربهاري【صـ 56】
    ══════ ❁✿❁ ══════
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
    • مفید مفید x 1
  8. انا

    انا ناظمہ خاص انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    لوگوں کی زندگیاں گزر جاتی ہیں ۔لیکن یہ دو جملے سمجھ نہین آتے۔ شاید آ جاتے ہوں لیکن عمل نہیں کر پاتے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو صحیح راہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    ابھی یہ دعا کرتے ہوئے خیال آیا کہ اکثر ہم لوگ اسی طرح ایک دعا مانگتے ہیں سیدھی راہ اختیار کرنے کی ۔سیدھی راہ کا مطلب اتنا سیدھا نہین ہوتا۔ اس میں دائیں بائیں کئی موڑ بھی آ سکتے ہیں ۔ یو ٹرن لینا ہوتو حق بات کے لیے وہ بھی لے لینا چاہیے۔ اپنے اندر لچک رکھنی چاہیے۔
    کل ایک ڈاکیومینٹری دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔کسی ایشین ملک کی تھی لیکن لوگ وہاں کے بھی ہمارے جیسے جذباتی ۔ امریکہ کی دشمنی میں عام عوام کو مارنے اور ملکی املاک برباد کرنے میں لگے ہوئے تھے۔
    باطل دین ،دنیا ،مسلک ، دولت یا اپنے نفس کسی کے لیے بھی ہو بہت تباہی لاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  9. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    935
    ‏تین سخت ترین کام
    =============
    امام شافعی علیہ الرحمہ کہتے ہیں :
    تین کام سب سے سخت ( مشکل ) ہیں : تنگ دستی کے باوجود سخاوت کرنا ، تنہائی میں پرہیز گاری اختیار کرنا ، اور اس کے سامنے کلمہ حق کہنا جس سے خوف یا کسی چیز کی امید ہو .
    _____________________
    قال الشافعی :
    (( اشد الاعمال ثلاثة : الجود من قلة ، والورع فی خلوة ، و كلمة الحق عند من يرجی و يخاف . ))
    [ المنتظم ١٣٧/١٠ ]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 2
  10. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    935
    امام حسن بصری ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ نے فرمایا:
    اے ابن آدم !
    تمہیں تنہا موت آئے گی.
    تم تنہا اٹھائے جاؤ گے.
    تم تنہا اپنے اعمال کا حساب دو گے.
    اے ابن آدم !
    اگر پوری انسانیت نیک و صالح اور اللہ کی مطیع و فرمان ہوجائے.
    اور تم نافرمان بنے رہو
    تو پوری انسانیت کی فرمانبرداری تمہارے کسی کام نہ آئے گی.
    اور اگر پوری انسانیت نافرمان ہو
    اور تم اللہ کی اطاعت پر قائم رہو
    تو پوری انسانیت کی نافرمانی
    تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی.
    اے ابن آدم!
    تمہارا دین تمہارا دین ہے
    یہی تمھارا جسم و جان ہے.
    اگر تمهارا دین سلامت ہے
    تو تمھارا جسم و جان سلامت ہے.


    زﻫﺪ از امام حسن بصری ص 23
    ════════ ❁✿❁ ═══════
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں