اقوال سلف

عبدالرحیم نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مارچ 24, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    ابن مقفع رحمه الله نے کہا :

    ⬅️ عقلمند کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے پاس دو آیئنے رکھے :

    پہلے آئینے میں وہ اپنی برائیاں دیکهے اور اپنی اصلاح کرے...

    دوسرے آئینے میں وہ لوگوں کی اچهائیاں دیکھے اور انہیں اپنانے کی کوشش کرے.

    الأدب الصغير 76
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بھت خوب
    اور یہ حقیقت ہے.

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    کافر کہنے میں جلدی کرنا
    قال شيخ الإسلام ابن تيمية :
    المبادرة إلى التكفير ؛ إنما تغلب على طباع مَن يغلب عليهم الجهل

    ______________________
    ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    تكفیر میں وه لوگ جلدی كرتے ہیں جن كی طبیعت پر جہالت غالب ہوتی ہے۔
    {السبعينية: ٣٤٥}
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    سیدنا سلمان فارسی رضی الله عنه نے فرمایا :

    علم اس قدر بے حد و حساب کہ اس کا احاطہ انسان کے لئے ممکن نہیں...

    جبکہ عمر مختصر ہے....

    سو تم علم میں اس قدر لو جو تمہارے دین اور دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری ہو...

    علم میں جو حصہ تمہارے لئے غیر متعلقہ ہے اسے چهوڑ دو.

    حلية الأولياء 1/189
     
  5. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    آخرت کی مٹھاس سے محروم

    بشر بن حارث كهتے هیں :

    " ایسا آدمی آخرت کی مٹھاس نهیں پا سکتا جو یه پسند کرتا هو که لوگ اسے پهچانیں،،،،، "

    _______________________
    ﻗﺎﻝ ﺑﺸﺮ بن الحارث :

    (( ﻻ ﻳﺠﺪ ﺣﻼﻭﺓ اﻵﺧﺮﺓ ﺭﺟﻞ ﻳﺤﺐ ﺃﻥ ﻳﻌﺮﻓﻪ اﻟﻨﺎﺱ . ))

    [ حلية الأولياء ٨/٣٤٣ ]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    ہر بات کا حوالہ دینا ضروری ہے.
    ضروری ہے کہ ہر بات اس کے کہنے والے کی طرف منسوب کی جائے.

    علامہ ابن عبد البر رحمہ الله نے فرمایا :

    علم کی برکت اس میں ہے کہ بات کہنے والے سے منسوب کی جائے.

    الجامع 922/2


    علامہ ابن مبارک رحمہ الله نے فرمایا :

    حوالہ دینا دین کی ضروریات میں سے ہے. اگر یہ نہ ہوتا تو ہر شخص جو چاہتا کہتا.

    المجروحين 1/181
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    علامہ حافظ ابن قيم رحمہ الله نے فرمایا :

    ⬅️ دل کی بیماری بدن کی بیماری سے زیادہ سنگین ہے کیونکہ بدن کی بیماری کی انتہا موت ہے.

    ⬅️ جبکہ دل کی بیماری کا نتیجہ ہمیشہ ہمیشہ کی شقاوت اور عذاب ہے.

    اس کا علاج بجز علم کے اور کچھ نہیں.

    ⬅️ دل کے لئے علم اتنا ضروری ہے جیسے مچھلی کے لئے پانی.


    مفتاح دار السعادة 140
     
  8. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    خوش بخت
    =============
    ابن حجر فرماتے هیں :

    " خوش بخت وه هو جس نے اس چیز کو مضبوطی سے تھام لیا جس پر سلف تھے اور ان چیزوں سے اجتناب کرلیا جو بعد میں آنے والوں نے ایجاد کر لی هیں،،، "
    _________________________

    قَـالَ الحَافِظُ ابنُ حَجَر العَسْقَلاَنِي رَحِمَهُ الله- :

    « فالسعيد من تمسك بما كان عليه السلف واجتنب ما أحدثه الخلف » .

    [ فتح الباري لابن حجر : ٢٦٧/١٣ ]
     
  9. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    امیری اور فقیری

    ابن حجر رحمه الله فرماتے هیں :

    " فقیری کا نقصان امیری کے نقصان سے کم هے، کیوں که فقیری کا ضرر عموما دنیاوی هوتا هے جب که امیری کا ضرر اکثر دینی هوتا هے،،، ___ "

    _________________________

    قال الحافظ ابن حجر العسقلاني :

    (( مَضرَّةُ الفقر دون مَضرَّةِ الغنى ؛ لأن مَضرَّةَ الفقر دُنيويَّة غالباً ، ومَضرَّة الغنى دينيَّة غالباً ))

    [ فتح الباري : ٢٤٥/١١ ]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    حضرت مطرف بن شخیر رحمہ الله نے فرمایا :

    " اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ بندہ وہ ہے جو شکر کرنے والا اور صبر کرنے والا ہو.

    جسے عطا کرے تو شکر کرے.

    اسے محروم رکھے تو صبر کرے.


    الزهد از امام احمد بن حنبل 1334
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حضرت سفيان بن عيينہ رحمہ الله نے کہا :

    لقمان حکیم سے پوچھا گیا :

    بدترین آدمی کون ہے؟

    فرمایا :
    وہ جسے اس بات کی پروا نہیں کہ لوگ اسے برائی کرتے ہوئے دیکهیں.


    الزهد از امام احمد بن حنبل 275
     
  11. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    ⚡غم کیسے کافور ہوگا ⚡️

    رسول رحمت ﷺ نے فرمایا :

    [ جسے غم گھیر لے اسے چاہئے کہ کثرت سے کہے :

    ( لا حول ولا قوة إلا بالله )

    السلسلة الصحيحة 199


    امام ابن جب رحمه الله نے
    ( لا حول ولا قوة إلا بالله ) کے معانی میں لکھا ہے :

    جس نے صدق دل سے یہ کلمہ کہا تو وہ ایک حال (حالت) سے دوسرے حال ضرور منتقل ہوگا.

    حالت کی اس تبدیلی پر اللہ کے سوا کون قادر ہے.

    جامع العلوم والحكم 362
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    حضرت ابن سماك رحمه الله نے فرمایا :

    ▫️تمام تر رعنائیوں کے باوجود دنیا کے دن تهوڑے ہیں.

    ▫️اور ان میں سے جو دن باقی بچے ہیں وہ بھی تهوڑے ہیں.

    ▫️اور ان میں سے تمہارا حصہ تهوڑا ہے.

    ▫️اور اس تهوڑے میں سے بھی تهوڑا بچا ہے.

    سير أعلام النبلاء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    قال بشر بن الحارث:
    « نعم المنزل القبر لمن أطاع الله »

    _________________________
    بشر بن حارث کہتے هیں :
    " الله کی اطاعت کرنے والے کے لیے قبر بڑی اچھی منزل هے "
    [ القبور لابن أبي الدنيا - 142 ]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    ((( دعاء کے 7 آداب )))


    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ الله کو کون نہیں جانتا..

    آپؒ وقت کے امام اور شیخ الاسلام تھے.

    آپؒ نے علم کا بحر ذخار چھوڑا ہے جس سے طالب علم قیامت تک فیض حاصل کرتے رہیں گے.

    آپؒ کی بہت ساری کتابوں میں سے ایک معرکة الآراءکتاب ”الفتاویٰ الکبریٰ“ کے نام سے مشہور ہے..

    یہ علم کا ذخیرہ 37 جلدوں میں ہمارے درمیان موجود ہے..

    اس بحر ذخار میں غوطہ لگا کر آپ کے لئے قیمتی گوہر کا اقتباس پیش خدمت ہے:

    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

    ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (55) وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (56)

    اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے اور اللہ ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ، یقینا اللہ کی رحمت محسنین سے قریب ہے. (الاعراف55،56)

    آیت مذکورہ میں دعا کے 7 آداب بتائے گئے ہیں :

    1) تَضَرُّع :گڑگڑانا.

    2) خُفیَة :چپکے چپکے.

    3) لا یُحِبُّ المُعتَدِین :حد سے نہ گزرنا.

    3) لاَ تُفسِدُوا :فساد نہ کرو .

    4) ادعُوہُ :اسی کو ہی پکارو.

    5) خَوفاً :خوف کے ساتھ.

    6) طَمَعاً : طمع کے ساتھ.

    7) المُحسِنِین : احسان کی روش اختیار کرنا.

    یہ دعا کے 7 آداب ہیں جن کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کردیا.

    پس خفیہ دعا کے کئی فوائد ہیں. اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ جو خفیہ دعا کرتا ہے اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ دعا کا سننے والا ہے.

    دعا کو خفیہ رکھنے میں ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ادب ہے کیونکہ بادشاہوں کے دربار میں آواز پست رکھی جاتی ہے.

    الفتاویٰ الکبریٰ از امام ابن تیمہ
     
    • مفید مفید x 1
  15. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    علامہ حافظ ابن قيم رحمہ اللہ کا کہنا ہے :

    جس طرح اللہ تعالی نے انسانی جسم کی حیات کا دار ومدار غذا پر رکھا ہے..

    اسی طرح روح اور دل کی بقا وحیات کا دار ومدار اللہ تعالی کے ذکر، توبہ اور گناہوں کو ترک کرنے میں رکھا ہے..

    عقل مند وہ ہے جو اپنے جسم کو حیات بخش غذاؤں کے ساتھ اپنی روح اور قلب کو بھی اس کی غذا مہیا کرے.

    بصورت دیگر جسم تو باقی رہے گا مگر روح اور قلب مردہ ہوجائیں گے.

    مدارج السالکین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    علامہ حافظ ابن قيم رحمہ الله نے فرمایا:

    قبر میں بندے کا حال اسی طرح ہے جیسے سینے میں دل کا حال ہے..

    اگر تمہیں معلوم کرنا ہے کہ قبر میں تمہارا کیا حال ہوگا تو تم دیکھو کہ تمہارے سینے میں تمہارے دل کا کیا حال ہے.

    اگر تمہارے دل میں ایمان، سکینت، اطمینان اور طہارت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قبر میں بھی تمہارا یہی حال ہوگا.

    زاد المعاد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    سُئِلَ عُمَرُ , عَنِ التَّوْبَةِ النَّصُوحِ , فَقَالَ : " التَّوْبَةُ النَّصُوحُ أَنْ يَتُوبَ الْعَبْدُ مِنَ الْعَمَلِ السَّيِّئِ ثُمَّ لَا يَعُودُ إِلَيْهِ أَبَدًا
    _________________________
    عمر رضی الله عنه سے پوچھا گیا توبۃ النصوح كیا هے؟
    آپ نے جواب دیا: ”یہ كہ بندہ برے عمل سے توبه كرے اور آئنده كبھی دوباره نہ كرے.“
    (مصنف ابن ابی شیبہ: 34491)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا :

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند، دُور رس اور صائب الرائے ہو مگر حق اس سے پوشیدہ رہے.

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی لوگوں میں عقلی وفکری طور پر کمزور اور سطحی ہو مگر حق کو سب سے پہلے پہچان لے.

    لہذا حق کی پہچان میں جو آدمی اپنی عقل، منطق اور اپنی نگاہ پر بھروسہ کرے گا وہ منہ کی کھائےگا.

    ۔یہی وجہ ہے کہ رسول اکرمﷺ اکثر دعا کیا کرتے تھے :
    اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جمادے.


    درءتعارض العقل والنقل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    امام شعبی نے کہا:

    عیسی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے :


    احسان یہ نہیں کہ جو تم سے حسن سلوک کرے، تم بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کرو..

    بلکہ احسان یہ ہے جو تم سے برا سلوک کرے، تم اس کے ساتھ حسن سلوک کرو.

    الزهد از امام احمد 317
     
  20. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    • امام صنعانی رحمه الله کہتے ہیں

      طالب علموں میں کم ظرف اور بد بخت وہ ہے جو استاد کی غلطیاں شمار کرتا ہے.

      جو عالموں کی کوتاہیوں کو اچھالتا ہے اور ان کی اچهائیاں درگزر کرتا ہے.

      طالبعلم کی طرف سے استاد کا یہ بہت برا بدلہ ہے کہ وہ اس کی کوتاہیوں کو بیان کرے.

      اس کے بالمقابل بہترین طالبعلم وہ ہے جو اپنے استاد کی اچهائیاں بیان کرے اور جہاں کہیں ہو اس کا دفاع کرے.

      التنوير شرح الجامع الصغير
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں