مسئلہ طلاق

ام حسن نے 'مجلس علماء' میں ‏اپریل 15, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام حسن

    ام حسن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏نومبر 2, 2009
    پیغامات:
    39
    السلام علیکم
    ایک خاتون کے ساتھ درج ذیل مسئلہ پیش آیا ہے, اس کے متعلق وہ فتوی چاہتی ہیں, یہاں موجود علماء سے التماس ہے کہ جواب مرحمت فرمائیں, جزاکم اللہ خير

    میرے شوہر نے مجھے کچھ ماہ قبل تحریری طلاق بھیجی۔ میں نے 3 ماہ کے اندر اندر رجوع کر لیا اور شوہر سے تعلقات بھی قائم ہوگئے پھر میں دوبارہ آگئی۔ درمیان میں کچھ تنازعات ہوگئے۔ پھر اس نے مجھے دوبارہ تحریری طلاق بھیج دی اور اس نے لکھا کہ یہ پہلی طلاق ہے اور 15 دن بعد دوسری طلاق بھیجی اور کہا کہ یہ دوسری طلاق ہے۔ اس کے بعد مین اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا میرا یہ عمل درست ہے؟
     

    منسلک فائلیں:

    Last edited: ‏اپریل 15, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,106
    صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔
    پہلی طلاق جسکے بعد رجوع ہوگیا۔
    دوسری طلاق اسکے بعد جو اس نے تحریری طور پہ بھیجی۔
    اور تیسری طلاق اسکے پندرہ دن بعد جو اس نے بھیجی۔
    وہ تین الگ الگ مجلسوں میں تین طلاقیں دے چکا ہے۔ اب آپ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے نہیں رہ سکتے۔ آپ ایک دوسرے پہ قطعی حرام ہو چکے ہیں۔
    اللہ تعالى کا فرمان ہے :
    الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
    طلاق دو مرتبہ ہے پھر اسکے بعد یا تو معروف طریقہ سے روکے رکھنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔
    [البقرة : 229]
    نیز فرمایا :
    فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ
    تو اگر وہ (تیسری مرتبہ بھی ) طلاق دے دے تو وہ عورت اسکے لیے حلال نہیں ہے۔ حتى کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے۔
    [البقرة : 230]
    حوالہ:
    http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-swal-995.html#.VxD-3rS2bes.facebook
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ام حسن

    ام حسن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏نومبر 2, 2009
    پیغامات:
    39
    جزاکم اللہ خیر، افسوس ہوتا ہے ایسے حالات دیکھ کر، بس اللہ ہمارے لوگوں کو ہدایت عطا فرماے۔ ہر چیز کو مذاق بنا رکھا ہے۔ اللہ مسلمانوں کے گھروں کو سلامت رکھے۔ آمین
     
    • متفق متفق x 3
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,054
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس کی ایک وجہ بچوں کو مناسب تعلیم نہ دینا بھی ہے۔ جب انہیں معلوم ہی نہیں، نکاح اور طلاق کے احکام کیا ہیں تو وہ اور کیا کریں گے؟ ہمارے ہاں بہت سی خواتین یہی سمجھتی ہیں کہ رجوع کے بعد طلاق کی گنتی دوبارہ ایک سے ہو گی حالاں کہ یہ جاہلی عرب روایت تھی کہ بار بار طلاق دے کر بار بار رجوع کیا جاتا تھا اورعورتیں بار بار عدت گزارتی رہتی تھیں، جب کہ مرد اس دوران اگلی شادی کر کے آزاد ہوتا تھا۔ اسلام نے عورت کو اس ذہنی و نفسیاتی اذیت سے نجات دلانے کے لیے طلاق کی تعداد تین مقرر کی۔ کچھ عرصہ قبل فقہ الاسرۃ پڑھاتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ کتنی کم طالبات کو اس حقیقت کا علم ہے۔ اگر جامعات میں یہ حالت ہے تو عام عورت کی کیا حالت ہو گی۔ پھر کئی عورتوں کو ان کے شوہر بھی مس گائیڈ کرتے ہیں تا کہ "گھر بچا رہے" چاہے جیسے بھی۔
     
    • متفق متفق x 1
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    ناچیز کی نظر میں طلاق بدعی واقع نہیں ہوتی ہے ۔اس لئے اس مسئلہ میں مزید استفسار کرنا چاہئے کہ اس نے یہ طلاقیں حالت طہر میں دی ہے یا حالت حیض میں؟
    اگر حالت حیض میں تینوں طلاقیں دی ہیں تو ایک بھی طلاق نہیں ہوئی ۔یاتینوں میں سے جو طلاق حالت حیض میں دی ہے وہ طلاق نہیں ہوگی ۔

    اور اگر اس نے تینوں طلاقیں حالت طہر میں دی ہے لیکن کسی طلاق پر دو گواہ نہیں بنایا ہے تو بھی کوئی طلاق نہیں ہوگی کیونکہ بغیرگواہوں کے طلاق دینا بھی طلاق بدعی ہے اور ایسی طلاق بھی نہیں ہوتی ۔

    اوراگر اس نے طلاق پر گواہ بھی بنایا ہے تو بھی صرف دو طلاق ہوگی تیسری نہیں ہوگی کیونکہ دوسری کے بعد اس کے رجوع کا ذکر نہیں ہے۔
    اوربغیر رجوع کے اگلی طلاق نہیں ہوسکتی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    صرف طلاق سنی واقع ہوتی ہے ۔
    اور طلاق سنی کے واقع ہونے کے لئے درج ذیل آٹھ شرطیں ہیں:

    پہلی شرط:
    حالت طہر میں طلاق دے۔

    دوسری شرط :
    ایسے طہر میں طلاق دے جس میں ہمبستری نہ کی ہو۔

    تیسری شرط:
    جس طہر میں ہم بستری نہ کی ہے اس سے پہلے والے حیض میں طلاق نہ دی ہے۔ اگر اس سے پہلے والے حیض میں طلاق دی ہے تو پھر ایک طہر گذرنے کے بعد دوسرے طہر میں طلاق معتبر ہوگی ۔

    چوتھی شرط:
    طلاق پر دو گواہ بنایا ہوجیسے نکاح پردو گواہ بنائے جاتے ہیں

    پانچویں شرط:
    طلاق پر کسی نے جبر نہ کیاہو۔

    چھٹی شرط:
    ہوش وہواش میں ہو۔

    ساتویں شرط :
    اگر ایک طلاق دے چکا ہے اور عدت میں رجوع بھی نہیں کیا تو دوسری طلاق نہیں ہوسکتی کیونکہ عدت گذرنے کے بعد وہ اس کی بیوی نہیں رہ گئی ۔ یعنی ایک اجنبی ہوگئی اور اجنبی عورت کو کوئی طلاق نہیں دے سکتا۔

    آٹھویں شرط:
    اگر پہلے ایک طلاق دے چکا ہے اورعدت میں رجوع بھی کرچکا ہے تو بھی دوسری طلاق اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک پہلی طلاق کے بعد والی عدت کی مدت گذرنہ جائے۔

    ان شرائط میں سے کئی بھی شرط مفقود ہوئی تو ہماری نظر میں طلاق نہیں مانی جائے گی ۔واللہ اعلم۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,106
    جزاک اللہ خیرا،شیخ اگر ان شرائط میں حوالوں کا بھی اضافہ کردیں تو زیادہ بہتر ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,054
    جو علما بدعی طلاق کو ویلڈ نہیں مانتے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بدعی طلاق دے اور اسے طلاق سمجھ کر بیوی پر مطلقہ والے احکام جاری کر چکا ہو تو اس کی طلاق واقع ہو چکی ہے چاہے وہ بدعی ہی تھی۔
    سوال میں واضح ہے کہ پہلی طلاق ہو چکی تھی جس کے بعد بیوی نے گھر چھوڑا دونوں اسے طلاق ہی سمجھ رہے تھے، پھر شوہر نے رجوع کیا پھر دو تحریری طلاقیں دیں۔ یہاں غلطی بدعی طلاق کی نہیں بلکہ طلاق کی گنتی میں ہے۔ ہمارے یہاں یہ عام غلط فہمی ہے کہ رجوع کے بعد ہر بار طلاق نئے سرے سے ایک سے گنی جائے گی۔ اسی میں یہ جوڑا بھی مبتلا نظر آ رہا ہے۔
    اگر اس طرح بدعی طلاق کو غیر واقع قرار دیا جاتا رہا تو پھر وہی 50 طلاقوں کے بعد رجوع والا زمانہ آ جائے گا۔ دوسری طرف لوگ ساری عمر کسی مسلک کو برا بھلا کہتے ہیں اور گھر "بچانے" کے لیے اسی مسلک کی طرف دوڑ لگا دیتے ہیں۔ تین طلاقوں کے بعد عدت مکمل ہو چکی ہو تو طلاق ری ویو نہیں ہو سکتی چاہے وہ بدعی ہی ہو۔
     
    Last edited: ‏جون 13, 2016
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,054
    السنة في الطلاق أن يطلق الرجل امرأته في طهر لم يجامعها فيها ، فإن طلقها في طهر جامعها فيه وقع طلاقه في قول جمهور أهل العلم .
    وذهب بعضهم إلى أن ذلك طلاق بدعي لا يقع .
    ومن طلق امرأته الطلاق البدعي ، واحتسبه طلاقاً ، اجتهاداً منه ، أو تقليداً وأخذاً بقول الجمهور ، أو بقولِ من أفتاه في ذلك ، فطلاقه واقع ماضٍ ، وليس له إذا طلق امرأته الطلقة الثالثة أن ينظر في الطلاق السابق بغية ارتجاعها ، فإن هذا من التحايل المحرم ، ولا تباح له زوجته بذلك .

    https://islamqa.info/ar/158115
    آسان خلاصہ: یہ حرام حیلہ ہے کہ طلاق کے بعد عدت وغیرہ گزر جانے کے بعد عذر تلاش کر کے طلاق کو غیر موثر بنایا جائے۔
     
    Last edited: ‏جون 13, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں