کتب بینی کا ذوق کیسے پیدا ہو ؟

ابوعکاشہ نے 'مطالعہ' میں ‏مئی 18, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    کتب بینی کا ذوق کیسے پیدا ہو ؟

    کتاب سے دوری ، آج کا اہم مسئلہ ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ آخری کتاب جو شروع سے آخر تک زیر معالعہ رہی ۔ وہ ابن القیم رحمہ اللہ کی کوئی کتاب تھی ۔ دو سال قبل پڑھی تھی ۔اس کے بعدمعلومات کا ذریعہ انٹرنیٹ اورخبروں کی تک ہی محدود ہوگیا ۔ اراکین مجلس سے التماس ہے کہ وہ اپنی رائے دیں کہ کس طرح کتاب سے تعلق برقرار رکھا جائے ۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    عام طور پر اگر کسی کام کو اکیلے کرنے میں دقت ہو تو کسی کے ساتھ مل کر شروع کر لینا چاہئے۔ ایک تو آپ کو بوریت نہیں ہوتی ، پھر اس چیز کا بھی خیال ہوتا ہے کہ کسی اور کو وقت دیا ہوا ہے تو یہ کام ضرور کرنا ہے اب۔ کتب بینی کے لیے بھی اگر آپ کو کوئی ساتھی مل جائے جس سے آپ روزانہ نہیں تو ایک آدھ دن کے بعد اس کتاب کے کسی مضمون پر گفتگو کر لیا کریں تو کچھ عرصے میں آپ کی اپنی دلچسپی بھی بڑھنا شروع ہو جائے گی۔ اس میں مسئلہ یہ ہے کہ ایسا ساتھی مشکل سے ہی ملتا ہے۔
    اس کے علاوہ اگر آپ خود ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے علاقے کی لائبریری میں اس طرح کی محفل کا اہتمام کر سکیں کہ چار لوگ اکھٹے ہو کرمقررہ دن اور وقت پر کسی کتاب پر گفتگو کریں ۔تو بھی ایک شیڈول بن سکتا ہے۔
    یہاں پر عام طور پر لائبریری وغیرہ میں ہمیں ایسا ماحول مل جاتا ہے ۔ ہر ہفتے کوئی نہ کوئی پروگرام ہوتا رہتا ہے ۔ کبھی صرف بچوں کے لیے ، کبھی بڑوں کا ، کبھی مکمل فیملی کے لیے۔ اس کے علاوہ سب سے بہترین کتاب کے لیے مقابلے وغیرہ ۔ جس سے آپ نئے آنے والے لکھاریوں سے واقف رہتے ہیں۔ پرانی کتابوں کے reviews معلوم ہو جاتے ہیں ۔ کچھ وہ پڑھ کر بھی دلچسپی پیدا ہوتی ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
    آگے مزید یہ مسئلہ بھی پیش آتا ہے کہ جب آپ نے کتاب بھی ڈھونڈ لی ، ایک آدھ حصہ بھی پڑھ لیا ، لیکن پھر وقت کی کمی کے باعث وقفہ آ گیا ۔ اس کا آسان حل بھی یہی ہے کہ مسجد یا لائبریری جو قریب ہو ایک وقت مقرر کر کے ہو وہاں مطالعہ کر لیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • مفید مفید x 1
  3. Aamirfarooq13

    Aamirfarooq13 رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2015
    پیغامات:
    178
    میں ویسے کتابیں پڑھتا نہیں ایک زمانے میں جمعہ کے روز اردو میگزین لایا کرتا تھا پر اسے چھوڑے ہوئے بھی تقریباً آٹھ سال ہو گئے ہونگے, آج کل ہر معلومات انٹرنیٹ موبائل پر ہو جاتی ہے اس لیے ان کی کمی نہیں خہلتی ، بس تھوڑا غصہ تب آتا ہے جب جہاں دیکھو انگلش ہی انگلش کی کتابیں بھری ملتی ہیں انٹرنیٹ پے اور اردو کی ایک کتاب اپ لوڈ کرنے کے لیے اتنے جوگاڑ کرو، اور جب کتاب کھول کے پڑھو تو اتنا خراب ریزیولوشن ہوتا ہے کہ دل بھی نہیں کرتا دوبارہ پڑھنے کو، میری سمجھ ایک بات یہ نہیں آتی بھائی اگر کسی کے پاس اردو کی کتابیں ہیں تو وہ اینڈرویڈ میں گوگل پلے بک میں کتابیں اپ لوڈ کیوں نہیں کر دیتے تاکہ ہر خواری سے بچا جا سکے اور جب دل چاہا ایک بٹن دبایا اور کتاب پڑھ لی، ایسے ہی ایپل کی اپنی ایپ آئی بک میں کتاب پبلش کر دی جائیں تو پھر جب دل چاہ پڑھ لی، میں دیکھ رہا ہوں چائنیز فرینچ اپنی کتابیں معلومات کو صحیح پلیٹ فورم دے کر اس کو صحیح مقام دے رہے ہیں تاکہ ڈیجٹل کتابیں سچ میں کام آئیں


    Sent from my iPhone 6s Plus using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    جزاک اللہ خیرا۔ بہت مفید ۔ اب تو ایسے لوگوں کا ملنا مشکل ہے ۔ کیونکہ لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ۔ البتہ پاکستان میں اس طرح کی مجالس ہوتی تھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    و ایاک۔ پہلا قدم ہمیشہ ہی مشکل ہوتا ہے ۔ لیکن آہستہ آہستہ لوگ ساتھ شامل ہو ہی جاتے ہیں ۔ میں نے بہت مرتبہ یہ چیز دیکھی ہے ، کوئی قرآن کی محفل ہو ، جماعت شروع کرنی ہو ، یا کوئی بھی کام ، اگر مستقل مزاجی سے کیا جائے تو لوگ ساتھ شامل ہونا شروع کر دیتے ہیں۔
    ایک تازہ مثال میں اپنے تعلیمی ادارے کی مسلم ایسوسی ایشن کی یہاں لکھنا چاہوں گی ۔جب میرا داخلہ ہوا تھا اس وقت طلبہ و طالبات کے بے تحاشا کلب تھے جیسے بین الاقوامی طلبہ کا الگ کلب تھا ، تفریح کے لیے الگ ، پالستانی و انڈین ایسو سی ایشن۔ لیکن مسلم طلبہ و طالبات کی اپنی کوئی جماعت نہیں تھی جو کہ ان کے مسائل کے لیے کام کر سکے۔ جیسے نماز وغیرہ کے لیے جگہ، جمعہ کے لیے کوئی موذن و خطیب۔ کبھی کبھار کوئی ہلکی پھلکی دعوہ سرگرمی وغیرہ ۔
    بہرحال پہلے 6 مہینے تک شاید دو چار لوگ تھے جنہوں نے کافی مستقل مزاجی کے ساتھ کام کیا اور مسلم سٹوڈنٹ ایسو سی ایشن کو کالج میں رجسٹر کروایا ۔ اگلے چھ مہینے میں وہ ایک آدھ ایونٹ کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے الحمداللہ ۔ اب باقاعدہ ان کی اپنی ویب سائٹ ، تنظیم ہے اور سب سے اچھی بات اس تنظیم کی سربراہ کی یہ لگی کہ وہ ہماری مسلم ایسو سی ایشن کو اتنا مظبوط کر کے جانا چاہتی ہیں کہ ان کے بعد آنے والے لوگ بھی اس تنظیم کو اسی طرح کامیابی سے چلا سکیں ۔
    کہنے کا مقصد یہ کہ کام شروع کرتے وقت تو صرف آپ اور اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات کا سہارا ہوتا ہے ۔ لیکن لوگ آہستہ آہستہ شامل ہو ہی جاتے ہیں ۔
    لائبریری کا معاملہ بھی مختلف نہیں ۔ یا مساجد میں بھی اگر ایک چھوٹی سے جگہ یا الماری کتابوں کے لیے مختص کر دی جائے اور ہفتہ وار کوئی پروگرام شروع کیے جائیں تو لوگوں کو اس طرف آنے پر متوجہ کیا جا سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بالکل درست فرمایا سسٹر۔
    یہ اب ایک عام رحجان بن گیا ہے۔ جب انٹرنیٹ نہیں تھا تو لوگ اپنے علم میں اضافے کے لیے کتب کا سہارا لیا کرتے تھے۔ لیکن اب انٹرنیٹ نے صورت حال ہی تبدیل کردی ہے ۔ نیٹ پر لوگ اتنا وقت صرف کرتے ہیں کہ کتب بینی کے لیے وقت ہی میسر نہیں آتا۔ اور پھر آپ کو جو بھی معلومات چاہئیں وہ آپ نیٹ پر مل جاتی ہیں۔ اس وجہ سے بھی لوگ اب کتب بینی کو وقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔
    شوق کیسے پیدا کیا جاۓ؟ میرے خیال میں آپ کو اپنے معمولات میں تبدیلی کرنی پڑے گی۔ اپنی دلچسپی کی کوئ بھی کتاب منتخب کرلیجیے۔ اور پھر مطالعہ کرنے کے لیے دن یا رات کا کوئ وقت مقرر کر لیجیے۔ میرے خیال میں سب سے بہتر وقت سونے سے پہلے کا ہے۔ سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے اپنے تمام مصروفیات سے فارغ جائیں۔ اور پھر نیند آنے تک کتاب کا مطالعہ کر لیجیے۔ اور یہ مستقل مزاجی سے کیجیے۔ شروع مین شائد کچھ مشکل ہو لیکن جب عادت ہوگئ تو آپ کو مطالعہ کے بغیر نیند ہی نہیں آۓ گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    جزاک اللہ خیرا۔
    کئی سال پہلے معروف اہل حدیث عالم مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی بیٹی کی حوالے سے پڑھا تھا(جوکہ خود بھی عالمہ ہیں ) وہ لکھتی ہیں کہ بچین میں انہیں کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں تھا ۔ پھر والد محترم نے ایک مشورہ دیا کہ کوئی کتاب بھی سامنے آجائے کم ازکم اس کی فہرستِ عناوین ضرور دیکھ لیا کریں ۔ انہوں نے اس پر عمل کیا توکتب بینی کا شوق و ذوق میں بہتری آئی ۔ بہت عرصہ تک میراس اسی پر عمل رہا ۔ اور کافی کتابیں بھی پڑھی ۔ اورجو نہیں پڑھی ۔ کم از کم ان کتاب کا تعارف آج بھی یاد ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    بڑی ہمت کی بات ہے ۔ اللہ عزوجل سربراہ کی کوشش اور محنت کو قبول فرمائے ۔ آمین ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جو مزہ ہاته میں کتاب لے کر پڑهنے میں ہے وہ نیٹ یا موبائل پر پڑهنے میں کہاں ہے.
    اگر کسی طرح پڑهنے یا پڑهانے میں مشغول رہا جائے تو کتاب بینی کا شوق رہتا ہے خاص کر جس چیز کا پیپر ہو وہ تو دو. دفعہ تو پڑهی ہی جاتی ہےاور درس کی تیاری کے لیے بهی نیٹ میں سےمواد لینے کے ساته اس تعلق سے کوئی کتاب تو کهولنی ہی پڑتی ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • متفق متفق x 1
  10. Aamirfarooq13

    Aamirfarooq13 رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2015
    پیغامات:
    178
    جیسا دیس ویسا بیھس، بڑے مثالیں دیتے تھے، یہ اشارہ تھا کہ جہاں رہو قدم سے قدم ملا کر زمانے کے ساتھ چلو، اس مثال کا مطلب یہ بھی نہیں لے لینا چاہیے کہ زمانہ کچھ غلط کر رہا ہے تو ہم بھی وہ کریں، کہنا کا اتنا مقصد ہے کہ اگر علم پھیلانا مقصود ہے تو ذریعے ہر قسم کے استعمال کیجئے جو جائز ہو، تاکہ ہر ایک تک بات پہنچے، آپ انٹرنیٹ پر پڑھیں یا جسے شوق کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا ہو اسے کتاب دستیاب ہو، پر یہ عمل بہت خرچے کا ہے اس لیے لوگ جو زیادہ تر لکھتے ہیں وہ انٹرنیٹ پر ہے نا کوئی چھپائی کا خرچا نہ کسی اور چیز کا مسئلہ یہاں لکھا اور بات ہر کسی کے پاس پہنچ گئی وہ بھی کچھ ہی سیکنڈ میں۔


    Sent from my iPhone 6s Plus using Tapatalk
     
    • متفق متفق x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  11. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    متفق
    پڑھنے والی کی تو یقینا خواہش یہی ہو گی کہ کم سے کم محنت کرنی پڑے ۔لیکن جس نے کتاب اپ لوڈ کرنی ہو اصل مسئلہ تو اس کے وقت کا ہے۔ آیڈیا اچھا ہے ویسے۔میں نے کبھی گوگل پلے سے کتاب اپلوڈ نہیں کی ۔ تو اگر مجھے ایک پچاس صفحوں کی کتاب اپلوڈ کرنی ہو گوگل پلے میں تو کتنا وقت لگے گا؟
    جی وہ اس لیے کہ چائنیز اور فرنچ اپنی زبانوں کو لے کر کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے ۔ ہمارے ہاں معاملہ برعکس ہے۔ کہنے کو اردو سرکاری زبان ہے لیکن سب دستاویز وغیرہ انگریزی میں ہی چلتی ہیں ۔ اگر اردو زبان کی بھی اتنی اہمیت ہو تو اردو کی بھی اچھی ریزولوشن میں ڈیجیٹل کتابیں آ جائیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  12. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,475
    مندرجہ بالا بحث سے اتفاق کرتے ہوئے اعتراف کرنے میں کوئ حرج نہیں کہ انٹرنیٹ سے پہلے راقم بھی مطالعہ کیا کرتا تھا..لیکن اب وہی وقت موبائل فون پہ انٹرنیٹ کی سہولت نے چھین لیا ہے.کتب لاتا ہوں لیکن پڑھنے کو جی نہیں چاہتا کیونکہ ادہر تازہ ترین چیزیں اورحالات حاضرہ پہ نظر رکھنا جیسے ہمارا ہی فرض ہے.
    مطالعہ کتب اور کتب بینی کی تحریک چلانے کی ضرورت ہے.ہر لائیبریری شکوہ سنج نظر آرہی ہے کہ قاری نہ رہے..شہر اقبال میں دو لائیبریریاں دیکھیں جہاں لائبریرین حیران ہو رہے تھے کہ کیوں دخل اندازی کی..اور ہاں وہ بھی انٹرنیٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے.

    Sent from my LG-E970 using Tapatalk
     
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    درست. جی اصل وجہ تو یہی ہے.. لیکن کسی سیانے کا کہنا ہے کہ اصل کمال یہی ہے کہ انٹرنیٹ کے ہوتے ہوئے مطالعہ بھی ساتھ چلتا رہے. ورنہ انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں تو سب ہی مطالعہ کرتے ہیں
     
    • متفق متفق x 1
  14. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    روایتی لائبریری کی افادیت اپنی جگہ اور ای لائیبریریز کی اہمیت اپنی جگہ، ہم دونوں سے لطف اٹھاتے ہیں۔ اصل کتابیں اتنی مہنگی ہیں کہ مجھ جیسے فقیر کتاب دوست ای بک سے ہی زیادہ کام چلاتےہیں اور اپنے طلبہ کو بھی مہیا کر کے اجر کماتے ہیں۔
    کتاب پڑھنے کے لیے فون پھینکنے کی ضرورت نہیں، فون میں ہی آڈیو بکس ڈاؤن لوڈ کر لیں، کہیں آتے جاتے، واک کرتے ایک کان میں "ٹونٹی" لگا کر کتاب سنیں دوسرے کان سے دنیا سے رابطہ رکھیں۔

    عوام میں کتاب بینی کا کلچر اس لیے کم ہو رہا ہے کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی غربت کی شرح بڑھ گئی ہے، شرح خواندگی بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہے،عوام کوسستی اور گھٹیا بلکہ شیطانی تفریح مہیا کرنے والے کیبل چینلز کی تعداد بڑھ گئی ہے، غریب سے غریب گھر میں کیبل مل جائے گی کتاب نہیں، ایسے میں ذوق کہاں سے بنے گا، اور روایتی کتابیں ایک تو کاغذ کی قیمت کی وجہ سے مہنگی ہوتی جارہی ہیں دوسرا جگہ گھیرتی ہیں، ہم جیسے بڑے شہروں مکین کتابوں سے محبت کی بڑی بھاری قیمت چکاتے ہیں، اس لیے بہتر یہی لگتا ہے کہ بقدر استطاعت ای لائبریری تک محدود رہا جائے۔
     
    • متفق متفق x 1
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہ غلط فہمی کافی عام ہے۔ مستند علمی تحقیق میں ایسا بہت کچھ ہے جو ابھی تک انٹرنیٹ پر موجود نہیں۔ اہل اردو خاص طور پر ابھی اپنا ذخیرہ علم انٹرنیٹ پر مہیا نہیں کر پائے۔ اس لیے یہ سوچنا غلط ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    اگر آپ کسی خاص علم کی کوئی "مقرر کتاب"کے مطالعہ میں روزانہ ایک گھنٹہ صرف کرتے ہیں تو ۔۔!!

    ہفتہ بعد
    ایک کتاب ختم کریں گے

    ایک سال کے بعد
    50 کتابیں ختم کرچکے ہوں گے

    تین سال بعد
    آپ اس مقررکتاب کے شعبہ کے ماہر تصور کیے جائیں گے

    پانچ سال بعد
    علاقہ کے لوگ علمی اشکال میں آپ کی طرف رجوع کریں گے

    سات سال بعد
    پوری دنیا سے لوگ علمی اشکال میں آپ کے علم کی طرف رجوع فرمائیں گے

    دس سال بعد
    آپ 500 کتابوں کا مطالعہ مکمل کر چکے ہوں گے

    مبارک ہو : ) !!
    لیکن یاد رہے کہ !! سب سے پہلے " ہفتہ میں ایک کتاب" کا مطالعہ ختم کرنا ہے ۔وفقکم اللہ ۔(ترجمہ ،ابوعکاشہ )

    16684277_1640968339541748_8025906547687816553_n.jpg
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  18. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    دلچسپ ۔ میں 900 صفحہ کی کتاب دیکھ کر ایسی ہی خواہش کرتی ہوں ۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کتاب کا سائز دیکھ کر ہی کتاب اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ابھی تو وقت نہیں ہے بعد میں دیکھا جائے گا۔ لیکن اگر اسی کتاب کی الگ الگ مزید چھوٹی کتابیں ہوں تو شاید ہر کتاب کو ختم کرنے کی الگ ہی خوشی ہو۔ یا پھر بڑی کتابوں کی صورت میں آپ کہہ لیں کے ہر سیکشن مکمل کر کے اپنے آپ کو تسلی دے سکتے ہیں ۔
    لیکن بہرحال کوئی بھی حکمت عملی اپنائیں ، ایک بات تو طے ہے کہ مطالعہ ضروری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت مفید ٹپ شئیر کی ہے جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔ اس طرح اگر ہم تفاسیر پڑھنے لگیں تو قرآن مجید سے بہت پیارا رشتہ جڑ جائے۔ میں نے عربی تفاسیر کا الحمدللہ یوں ہی بھاگتے دوڑتے مطالعہ کیا ہے ، جب سٹوڈنٹس کو بتاتی ہوں کہ فلاں تفسیر میں یہ نکتہ ملے گا تو اچھا لگتا ہے کہ وقت سے فائدہ اٹھا لیا۔
    بعض کتابوں کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ فورا ختم کرنے کو جی چاہتا ہے جب کہ بعض دھیرے دھیرے پڑھیں تو دل پر زیادہ اثر کرتی ہیں جیسے مدارج السالکین اور کتاب الزھد للامام احمد۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بالکل درست۔ اردو مجلس پر جو ارکان کسی کتاب سے اقتباسات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں اس سے بھی بہت جی چاہتا ہے کہ ساتھ ساتھ پڑھ ڈالی جائے۔ کئی اردو کتابوں کا مطالعہ یہاں پر کیا ہے۔ اللہ ان سب کو جزا دے جو یہ نیک کام کر رہے ہیں۔ اپنے جیسے کتابی کیڑوں کی مجلس دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں