کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے

عبد الرحمن یحیی نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏مئی 27, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٢٢
    تم میں سے جو بزرگی اور کشادگی والے ہیں انہیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھا لینی چاہیئے، بلکہ معاف کردینا اور درگزر کرلینا چاہیئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے؟ اللہ قصوروں کو معاف فرمانے واﻻ مہربان ہے (22)
    تفسیر سعدی :
    وَلَا يَأْتَلِ یعنی قسم نہ اٹھائیں أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا” جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں‘ رشتے داروں مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں۔“
    واقعہ افک میں ملوث ہونے والوں میں سیدنا مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے‘ وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ سیدنا مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ کی بہتان طرازی کی وجہ سے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے ( جو کہ ان سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انہیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔
    پس فرمایا : أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ” کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“
    یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ سنی تو انہوں نے کہا :” کیوں نہیں اللہ کی قسم ! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔“
    چنانچہ انہوں نے دوبارہ سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کی مالی مدد شروع کردی۔ (صحیح البخاری ، التفسیر باب : ان الذین یحبون التشیع ۔ ۔ ۔ ، ح : 4757 ، و صحیح المسلم ، التوبة ، باب : فی حدیث الافك ۔ ۔ ۔ ، ح : 2770 )
    یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے‘ نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سر زد کیوں نہ ہوا ہو‘ اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,872
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں