’دِین‘ کی تحقیق یا ’دِین‘ کی بابت بحث یا تبادلہء آراءکا سلفی منہج کیا ہے؟

حنیف المسلم نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جون 1, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حنیف المسلم

    حنیف المسلم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 18, 2008
    پیغامات:
    163
    ’دِین‘ کی تحقیق یا ’دِین‘ کی بابت بحث یا تبادلہء آراءکا سلفی منہج کیا ہے؟
    جہاں تک دِین کی بنیادوں کا تعلق ہے: جیسے مثلاً دِین کے عقائد، دِین کے بنیادی فرائض، حتی کہ عام حلال وحرام، اوامر ونواہی اور جائز وناجائز کے وہ امور جن کی بابت قرون ثلاثہ میں ہرگز ایک سے زیادہ رائیں نہیں پائی گئیں ___ اور ظاہر ہے کہ دِین کے ایسے اُمور ایک بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور دِین کے اِس حصہ کو ’اُصول دِین‘ بھی کہا جاتا ہے___ تو دِین کے ان اُمور کی بابت نہ تو بحث جائز ہے نہ اختلاف اور نہ ’ازسرنو تحقیق‘۔ اصول دِین کے معاملہ میں نصوص شریعت کے فہم کی بابت جو کچھ سلف سے منقول ہے وہی حق ہے اور اس کے ماسوا باطل اور بدعت وضلالت۔ ان معاملات میں بعد والوں پر کچھ فرض ہے تو وہ یہ کہ پہلے والوں کی راہ پر چلیں۔ بقول عبداللہ بن مسعود: علیکم بالامر العتیق۔
    بہت سے بکھیڑے تو اپنے یہیں سمٹ جاتے ہیں۔
    رہ گئے وہ اُمور جو بنیادی عقائد اور فرائض میں نہیں آتے نیز حلال وحرام اور جائز وناجائز کے وہ اُمور جن میں صحابہ و تابعین وائمہء اتباع تابعین کے ہاں تعدد آراءپایا گیا ہو تو اختلاف کی جتنی گنجائش ان (سلف) کے ہاں پائی گئی گنجائش کا وہی دائرہ ہماری تحقیق اور تنقیح کیلئے بھی باقی رہے گا۔ اس دائرہ کو ’فروع دِین‘ کہا جاتا ہے اور اس میں تحقیق اور بحث کی گنجائش ہے۔
    البتہ اس فروع دِین کی تحقیق کیلئے بھی ایک خاص درجہ کی علمی اہلیت مطلوب ہے۔ لہٰذا ایک عام آدمی تو ___ جو اس اہلیت کا حامل نہیں ___ بہرحال اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ اپنی ’تحقیق‘ کے نتائج اُمت کے سامنے لائے اور ایسا کرکے اُمت کو خواہ مخواہ پریشان اور خراب کرے۔ اس کو چاہیے وہ یہ کام ان لوگوں پر چھوڑ دے جو اس کے اہل ہوں۔
    چنانچہ اصول دِین میں تو کسی کے کلام کرنے کی گنجائش ہی کیا بے شک کوئی شخص تحقیق اوراجتہاد کی اہلیت بھی کیوں نہ رکھتا ہو .... حتی کہ فروع دِین کے اندر بھی ایک ایسا آدمی جو علمِ دِین میں ایک خاص درجہ کی اہلیت نہیں رکھتا خدا کے دِین میں کلام کرنے کا ہرگز مجاز نہیں۔ اس کو تو بس یہ چاہیے کہ اصول میں سلف کے متفقہ فہم کو اختیار کرے اور فروع میں کسی صاحب علم پر اعتماد کرے اور جہاں تک ہو سکے اس کی دلیل اور حجت کے معاملے میں بصیرت حاصل کرے جبکہ دوسروں کو دیگر اصحاب علم پر اعتماد کرنے دے۔ ترجمان مذہب سلف حافظ ابن عبدالبر (٨٦٣ھ .... ٣٦٤ھ) کی مشہور تصنیف ”جامع بیان العلم وفضلہ“ سے اس سلسلہ میں چند اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
    ”سلف نے اس بات سے ممانعت فرمائی ہے کہ خدا تعالیٰ کے بارے یا اس کے اسماءوصفات کے بارہ میں بحث اور اختلاف ہو۔ البتہ جہاں تک فقہی مسائل کی بات ہے تو سلف کا اتفاق ہے کہ ان امور میں بحث اور اخذ ورد ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ (فقہ) ایک ایسا علم ہے جس میں اس بات کی احتیاج ہے کہ بوقت ضرورت فروع کو اصول کی جانب لوٹایا (قیاس کیا) جائے۔ جبکہ اعتقادات کا معاملہ ایسا نہیں کیونکہ اہلسنت وا لجماعت کے نزدیک اللہ عزوجل کی بابت کوئی بات کی ہی نہیںجا سکتی سوائے اس بات کے جو وہ خود ہی اپنی ذات کے بارے میں بیان کردے، یا جو رسول اس کی بابت بیان کردے، یا جس پر اُمت نے اجماع کرلیا ہو۔ خدا کی مثل کوئی چیز ہے ہی نہیں جس کا کہ، قیاس کے ذریعے یا گہرے غور وخوض کے نتیجے میں، ادراک ہو جایا کرے ....
    ”دِین اس معنی میں کہ وہ اللہ پر ایمان ہے، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور بعث بعد الموت اور یوم آخرت پر ایمان ہے تو اس تک رسائی تو خدا کے فضل سے اس کنواری دوشیزہ کو بھی حاصل ہے جس کو کبھی گھر سے باہر کی ہوا تک نہ لگی ہو۔
    (دِین کے اسی پہلو کی بابت) عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے: جو شخص اپنے دین کو بحثوں کا موضوع بناتاہے پھر وہ اکثر نقل مکانی کرتا ہے“ (صحیح جامع بیان العلم وفضلہ ص ٣٨٣) [اختصار و تہذیب ابوالاشبال الزھیری طبع جمعیہ احیاءالترات الاسلامی]
    کچھ آگے چل کر ابن عبدالبر حذیفہ بن الیمان کا قول نقل کرتے ہیں: ”تمہارا بھٹک جانا اور صحیح معنوں میں بھٹک جانا یہ ہے کہ پہلے جس بات کو تم منکر جانتے تھے اب اس کو معروف جاننے لگو اور پہلے جس بات کو معروف جانتے تھے اس کو اب منکر جاننے لگو۔ [مراد ہے صحابہ کے زیر تربیت معاشرہ میں، صحابہ وغیرہ سے سیکھنے پڑھنے کے نتیجہ میں آدمی جس بات کو آج تک حق جانتا آیا تھا اب کسی ’دلیل‘ کی بنا پر اس کو وہ باطل لگنے لگے اور جس کو باطل مانتا تھا اب اس کو وہ حق نظر آنے لگے۔] خبردار خدا کے دین میں نئے نئے رخ اختیار نہ کرو۔ کیونکہ خدا کا دِین ایک متعین حقیقت ہے۔ (صحیح جامع بیان العلم وفضلہ ص ٣٨٤)
    یہ تو رہا اصول دِین کا معاملہ۔ رہ گئے فروع دِین تو اس میں استدلال اور استخراجِ مسائل ضرور ہو سکتا ہے مگر اس کے بھی باقاعدہ اصول اور قواعد ہیں۔ دِین کے اِس حصہ میں بات کرنے اور رائے دینے کیلئے بھی ضروری ہے کہ آدمی نہ صرف استدلال کے ان فقہی اُصولوں سے واقف ہو بلکہ نصوص شریعت کا بھی باقاعدہ علم رکھتا ہو حتی کہ وہ اس بات سے بھی آگاہ ہو کہ کسی موضوع پر صحابہ ومابعد کے اہل علم کے اختلافات اور اقوال اگر منقول ہیں تو وہ کیا ہیں۔
    امام محمد بن الحسن کہتے ہیں: ”جو شخص کتاب اور سنت کا علم رکھتا ہے، اصحاب رسول کے اقوال سے واقف ہے اور فقہائے مسلمین کے اقوال سے آگاہ ہے وہی اس بات کا مجاز ہے کہ کوئی مسئلہ اس کے سامنے پیش آئے تو وہ اجتہاد کرکے کوئی رائے اختیار کرے اور اپنی اس رائے کو اپنی نماز یا اپنے روزے یا اپنے حج یا شرعی اوامر و نواہی کے کسی معاملہ میں قابل عمل جانے“ (جامع بیان العلم وفضلہ ....)
    چنانچہ فروع کے اندر بھی آپ جس اہل علم سے دِین سمجھیں گے اور اس کی تحقیق یا اجتہاد پر اعتماد کریں گے اس میں یہ شروط پائی جانا ضروری ہیں جن کاذکر امام محمد کے قول میں اوپر گزرا ہے۔ رہ گیا وہ شخص جو علم کے اس درجے پر نہیں وہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ قرآن یا حدیث کی کتب کھول کر ___ خواہ فروع دِین ہی کامعاملہ کیوں نہ ہو ___ لوگوں کو دِین کے مسئلے بتائے الا یہ کہ وہ خود بھی کسی معتبر صاحب علم پر اعتماد کرے اور اس سے ایک مسئلہ پڑھ کر آگے لوگوں کو پڑھائے۔
    عن ابن بریدہ عن ابیہ، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: القضاہ ثلاثہ۔ قاض فی الجنت واثنان فی النار۔ قاض عرف الحق فقضی بہ فذلک فی الجنت۔ وقاض قضی بالجھل فذلک فی النار، وقاض عرف الحق وجار فی الحکم فھو فی النار (ابن ماجہ ٢٣٨١، ومثلہ فی ابی داؤد ٣٥٧٤، وفی الترمذی ١٣٢٠)
    ابن بریدہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد (بریدہ)سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہیں۔ ایک جنتی اور دو دوزخی۔ ایک قاضی وہ ہے جو حق کا علم رکھتا ہے اور پھر اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ یہ جنتی ہے۔ ایک قاضی وہ ہے جو جہالت کی بنا پر فیصلہ دیتا ہے۔ یہ دوزخ میںجائے گا۔ ایک قاضی وہ ہے جو حق کا علم تو رکھتا ہے مگر فیصلہ (پھر بھی) ظلم پہ کرتا ہے۔ یہ بھی دوزخی ہے“۔
    مذکورہ حدیث کے حوالہ سے قتادہ کہتے ہیں: میں نے ابوالعالیہ سے دریافت کیا: آخر اس شخص کا کیا قصور جس نے اجتہاد کیا اور اجتہاد میں غلطی کرلی؟ ابوالعالیہ نے جواب دیا: اس کا قصور یہ ہے کہ جب اس کو علم نہیں تو وہ فیصلہ دینے ہی کیوں بیٹھا“۔ (السنن الکبری للبیھقی ج ١٥ ص ٩٨)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کتاب وسنت کے فہم کا یہ اصولی طریقہ نہ اپنایا جائے تو پھر دین کے ہر معاملے میں ہروقت بات کرنے کی گنجائش باقی ہے اور کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ ہر کوئی ہی اس پر تب طبع آزمائی کرے گا، جیسا کہ اس وقت عملاً ہو بھی رہا ہے اور جس کی طرف پیچھے ہم کچھ اشارہ کر آئے ہیں۔
    دِین کے باب میں کیاکسی بھی بات اور کسی بھی مسئلے کو کوئی شخص کسی بھی وقت چیلنج کردے اور شرعی نصوص کے کچھ حوالے دے کر اپنے تئیں اس پر کچھ ’دلیلیں‘ لے آئے تو سب کام چھوڑ کر ہم اس پر بحث کرنا شروع کر دیا کریں؟
    ایک ایسی زمین جس پر ہم پیرجما کر چل لیں اور پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں اور پورا زور لگاکر زمانے کی دوڑ میں شریک ہوں اور جس میں چلتے ہوئے پیر پیر پر ہم لامتناہی بحثوں کے سلسلے لے کر نہ بیٹھ جایاکریں، ہماری سب سے پہلی ضرورت ہے بلکہ بہت ہی بنیادی ضرورت۔
    منہج سلف اور اصول اہلسنت دراصل اسی ضرورت کا نام ہے۔
    یہ ایک متوازن ترین منہج ہے۔ یکسانیت uniformity اور تنوع diversity کے مابین جو کوئی بہترین توازن ہو سکتا ہے وہ اس منہج میں بدرجہء اتم پایا جاتا ہے۔اتباع اور اجتہاد میں جو کوئی بہترین نسبت تناسب ممکن ہے، وحی اور عقل کا جو کوئی بہترین سنگم ہو سکتا ہے وہ آپکو منہج سلف اور اصول اہلسنت میں ملتا ہے۔ بیک وقت ایک جانب ابداع novelty اور ابتکار creativity اور دوسری جانب تسلیم submissionاور اذعان surrender اپنی بہترین حالت میں پائے جاتے ہیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ آپ سے آپ اور بے ساختہ پائے جاتے ہیں اور دور اول سے بغیر کسی انقطاع کے پائے جاتے ہیں۔
    حیرانی اور سرگردانی واقعتا قوموں کوناکارہ کرکے رکھ دیا کرتی ہے۔ اس کا سدباب ہمارے دِین میں ہم کو منہج سلف کا پابند کرکے باحسن طریق کر دیا گیا ہے۔

    بحوالہ: اقتباس از "ؔپ کے فہم دین کا مصدر کیا ہے" سہ ماہی ایقاظ جنوری 2005
    نوٹ: ہو سکتا ہے کہ اس مضمون میں آپ کو کئی ایک مباحث صحیح اور واضح طور پر سمجھ نہ آ سکیں۔ دراصل یہ مضمون اقتباس ہے ایک بڑے مضمون کا۔ اس مضمون کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ پورے مضمون کا مطالعہ کریں۔ میں یہاں مکمل مضمون بھی پوسٹ کر رہا ہوں۔ یہ مضمون معمولی تبدیلی کے ساتھ ادارہ ایقاظ کی طرف سے کتابی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ کتاب جلد پوسٹ کروں گا۔ جزاکم اللہ خیر


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ناصر الدین

    ناصر الدین -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2008
    پیغامات:
    18
    چنانچہ اصول دِین میں تو کسی کے کلام کرنے کی گنجائش ہی کیا بے شک کوئی شخص تحقیق اوراجتہاد کی اہلیت بھی کیوں نہ رکھتا ہو .... حتی کہ فروع دِین کے اندر بھی ایک ایسا آدمی جو علمِ دِین میں ایک خاص درجہ کی اہلیت نہیں رکھتا خدا کے دِین میں کلام کرنے کا ہرگز مجاز نہیں۔ اس کو تو بس یہ چاہیے کہ اصول میں سلف کے متفقہ فہم کو اختیار کرے اور فروع میں کسی صاحب علم پر اعتماد کرے اور جہاں تک ہو سکے اس کی دلیل اور حجت کے معاملے میں بصیرت حاصل کرے جبکہ دوسروں کو دیگر اصحاب علم پر اعتماد کرنے دے۔

    تو پھر آج کے تقریبا تمام علماء جو اپنے آپ کو سلفی کہلاتے ہیں وہ پھر کس "تقلید" کی مذمت کرتے ہیں۔فروع میں کسی صاحب علم پر اعتماد۔۔۔۔۔!!تو پھر تقلید اور کیا ھوتی ہے۔اب آپ مجھے بتلا یں کہ آج کے "مقلدین" اور "غیر مقلدین" میں پھر حقیقی فرق کس بات کا ھے ؟؟ کہ مقلدین کی تقلید بھی ٹھیک ٹھہری اور "غیر مقلدین"‌کی عدم تقلید بھی؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ناصر الدین

    ناصر الدین -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2008
    پیغامات:
    18
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    محترم بھائی میں آپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔
    میں نے جو سوال کیا ھے تو وہ اس لیے کہ کم ازکم مجھے تو آپ کے پوسٹ کیے ہوئے مضمون سے یہی سمجھ آئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مختلف مسالک کے درمیان ' تقلید ' کی ضمن میں جو مناقشت پائی جاتی ہے ،وہ بالکل ایک غیر حقیقی معارضہ ھے اور قطعا 'سَلَفیت' سے متضاد کوئی دوسری چیز ہے۔اور دین کے بارے میں سلفی منہج یہ ہے کہ عقیدے اور اصول میں ائمہ سلف صالحین کے متفقہ فہم کی اتباع لازم ہے اور دین کے تمام فروعی مسائل میں ایک 'عامی' کے لیے جائز بلکہ 'بعض حالات میں ' لازم ہے کہ وہ کسی معتبر اور مستند اہل علم کی بات پر اعتماد کرے اور دوسے لوگوں کو بعض دوسرے اہل علم پر اعتماد کرنے دے اور اس معاملے میں ہرگز اسے محاذ آرائی کی اجازت نہیں ہے۔
    میں ایک دفعہ پھر اس اقتباس کو دوہرا دینا چاہوں گا جو میری الجھن کا سبب ہے۔



    محترم بھائی ! اگر مضمون کے سمجھنے میں کوئی کوتاہی ہو گئی ہے تو براہ کرم آپ اصلاح فرما دیں۔بصورت دیگر کچھ واضح اور متعین انداز میں میری بات کا جواب دے دیں۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔اگر آپ مصروفیت کے باعث جواب نہیں دے سکتے تو جن بھائیوں نے آپ کی پوسٹ پر شکریہ ادا کیا ہے ان سے میری درخواست ہے کہ وہ اس بارے میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کریں۔واضح رہے کہ میں صرف اسی مضمون کے حوالے سے وضاحت کی بات کر رہا ہوں نہ کہ ان سب بھائیوں کے اپنے اپنے نظریات کی وضاحت مانگ رہا ہوں۔
     
  4. ناصر الدین

    ناصر الدین -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2008
    پیغامات:
    18
    السلام علیکم ورحتمہ اللہ
    میرا خیال ہے کہ کسی بھی بھائی نے اس مضمون کو غور سے اور توجہ سے نہیں پڑھا بلکہ جھٹ سے مضمون کے عنوان میں لفظ "سلفی" کو دیکھ کر ایک عدد 'شکریہ' داغ دیا ہے ورنہ اگر کوئی بھی بھائی اس پورے مضمون کو تفصیل سے اور پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ پڑھنے کی زحمت گوارا کرتا تو اس پر بخوبی عیاں ہو جاتا کہ مذکورہ مضمون صریحا 'روایتی سلفیت' کے تصور سے متعارض ہے ۔اور خصوصا ہمارے بعض بھائیوں نے 'مسئلہ تقلید' پر جو لمبے چوڑے مضمون پوسٹ کر رکھے ہیں اور ان میں 'تقلید' پر جو ایک 'روایتی' موقف بیان کیا گیا ھے یہ مضمون تو صاف صاف اس کو غیر علمی اور غیر عادلانہ بلکہ درست الفاظ میں 'غیر سلفی' موقف گردانتا ہے۔میں نے اسی لیے دو دفعہ پوسٹ کر کے بھائیوں سے درخواست کی تھی کہ براہ مہربانی اس مضمون کو پڑھ کر میرے 'اشکال' کا جواب دیں۔ورنہ خالی شکریہ بھیجنے کا کیا معنی؟؟؟۔اس مضمون کو پوسٹ کرنے والے بھائی سے بھی جواب دینے میں یہ التوا باعث تعجب ھے۔بہرحال مجھے امید ھے کہ اب بھائی ضرور میری بات پر توجہ دیں گے۔
     
  5. حنیف المسلم

    حنیف المسلم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 18, 2008
    پیغامات:
    163
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    میں اس سلسلے میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کو اپنے سوال کا جواب پانے میں اس قدر انتظار کرنا پڑا۔ اصل میں میں یہ چاہتا تھا کہ اس مضمون میں جن بھائیوں نے شکریہ ادا کیا ہے وہ کچھ کلام کریں۔ اور میں اللہ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو دین سیکھنے کے حوالہ سے ایسی تڑپ رکھنے پر ماجور کرے۔
    محترم بھائی جہاں تک اس مضمون کا تعلق ہے تو میں بھی ایک حد تک اس مضمون سے یہی سمجھا ہوں جو آپ سمجھے ہیں۔ دراصل مذموم چیز تقلید نہیں بلکہ تقلید کی وجہ سے پیدا ہونے والا تعصب ہے۔ یہ تب بھی مذموم ہے اگر مقلد حضرات میں پایا جائے اور اس صورت بھی مذموم ہی ہے اگر غیر مقلد حضرات میں پایا جائے۔ یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ اگر آپ تقلید کے حوالے سے سلف کا طرز عمل دیکھیں تو انھوں نے ہمیشہ تقلید کی بجائے تقلید کی وجہ سے آنے والے تعصب کو مذموم ٹھرایا۔ رہ گئے مذاہب اربعہ تو ان کے حوالے سے سلف کا قول یا طرز عمل آپ ایسا نہیں دیکھیں گے کہ ان کو ختم کر دیا جائے یا لوگ ان سے تائب ہو جائیں۔ بہر حال یہ بات ضرور مد نظر رہے کہ اصول میں تقلید جائز نہیں اور نا ہی امت پر کبھی ایسا وقت آیا ہے کہ وہ اصول میں ہی بٹ گئی ہو۔ اصول میں یکسو ہونا تو اس امت کا ایک بڑا امتیاز ہے۔ جس نے اصول میں کلام کیا تو اسے اہلسنت سے ویسے ہی فارغ خطی قرار دے دیا گیا۔ البتہ فروع میں احتلاف کی اسقدر گنجائش موجود ہے جسقدر سلف میں رہا۔ اگر فروع میں کلام ہو سکتا ہے تو اس حد تک ہی کہ راجح کیا ہے اور پختہ تر کیا اور یہ کلام بھی بہر حال امت کے معتبر علماء ہی کریں گے نا کہ ہم جیسے چھوکرے۔ فروعی احتلاف کو بنیاد بنا کر حق اور باطل کی بحثیں چھیڑنا ایک غیر علمی طرز عمل ہے۔

    جزاکم اللہ خیر
     
  6. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    محترم ناصر الدین بھائی کے اشکال کا جواب

    السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
    محترم جناب ناصر الدین صاحب بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے مضمون کو بہت ہی غور سے پڑھا اور اسکے بعد الجھن پیدا ہونے پر سوال بھی کیا لیکن افسوس کہ کسی نے آپ کے سوال پر کان نہیں دھرا اللہ آپ کو صبر کا اجر دے اور ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے(آمین)
    آپ نے اس الجھن کے متعلق پوچھا تو ، محترم آپ کے دیے ہوئے اقتباس میں ہی آپ کے سوال کا جواب ہے اور وہ صاحب مضمون کی مندرجہ ذیل عبارت:
    ''اور جہاں تک ہوسکے اسکی دلیل اور حجت کے معاملے میں بصیرت حاصل کرے''
    محترم بھائی نے اپنے مضمون میں اس عبارت کا اضافہ کرکے الجھن کو ختم کیا ہے کیونکہ جس ' ' مقلد ''اور ''سلفی''میں آپ یکسانیت اس مضمون کی وجہ سے تصور کررہے ہیں وہ یکسانیت تو مقلد کی اس تعریف سے پاش پاش ہو جاتی ہے کہ:
    ''ا ن الواجب علی المقلد العمل بقول المجتہد وان لم یظہر دلیلہ'' (الدر المختار جلد 3صفحہ230) (المکتبہ الشاملہ)
    یعنی (مقلد پر یہ واجب ہے کہ وہ مجتہد کے قول پر عمل کرے اگرچہ اسکی دلیل وا ضح نہ ہو)
    صاحب کتاب (الدر المختار)نے مقلد کیلئے مجتہد کے قول کے مطابق عمل کرنا واجب قرار دیا ہے، مزید یہ بھی یاد رہے صاحب کتاب کے مذہب (حنفی ) کے مطابق ''واجب '' فرض کے مساوی ہوتا ہے یعنی اگر مقلد اپنے مجتہد کی بات کو نہیں مانتا ہے وہ ایک فرض کا تارک ہے، چنانچہ'' سلفی '' یا سلفی منہج میں یہ چیز نہیں ہے جیسے کہ آپ ہی کے دیے ہوئے اقتباس میں عبارت موجود ہے''دلیل اور حجت کے معاملے میں بصیرت حاصل کرے''
    دوسری بات جو آپ کے اس اشکال کو ختم کرسکتی ہے وہ یہ ہے کہ سلفی منہج کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے اختلافات کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا، نہیں ،بلکہ سلفی منہج کا یہ مطلب ہے کہ اختلاف ہوگا لیکن اس اختلاف پر قرآن و سنت سے دلیل موجود ہوگی نہ کہ ''ہمارے امام کا قول''جیسے کہ بعض علماء نے یہ بات قرآن مجید کی آیت کے مقابلے میں لکھی مثلا: مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں آیت ''و الوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین'' (سورہ بقرہ آیت نمبر233)((ترجمہ: مائیں اپنی اولاد کو دو سال مکمل دودھ پلائیں))کے بعد لکھتے ہیں کہ ہمارے امام (ابو حنیفہ رحمہ اللہ) کے نزدیک یہ مدت اڑھائی سال ہے ان کے پاس بھی اسکی کوئی دلیل ہوگی(؟؟؟؟؟)۔
    جبکہ بعض نے واضح صریح، صحیح ،حدیث مزید کہ اس حدیث کو صحیح مان بھی رہے ہیں لیکن صرف یہ کہ کر اس حدیث کو ترک کردیا کہ ''و لکن یجب علینا تقلید امامنا ..........''اللہ تعالی ایسے علماء کو ہدایت دے (سب خلوص دل سے کہو :آمین یا رب العالمین)
    و السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    السلام علیکم !
    سب سے پہلے تو محترم ناصر الدین سے معذرت کے انھیں انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی ـ میرا یہ خیال تھا کہ بھائی حنیف المسلم اس کا جواب دیں گئے ـ

    ۔
    بھائی سب سے پہلے تو آپ اس بات کو سمجھیں کہ تقلید کون سی صحیح‌اور کون سی غلط ـ کیا تقلید بری چیز ہے، ہر گز نہیں ـ اور جو لوگ اپنے آپ کو سلفی کہلاتے ہیں وہ صرف اس تقلید کی مذمت کرتے ہیں جو قرآن و حدیث کا حکم آ جانے کے بعد کی گئی ہوـ اور ایسی تقلید زیادہ تر تعصب میں آ کر کی جاتی ہے ـ اور اس کی مثالیں‌ابن مبارک بھائی نے دیں ـ کیا وہ بھی تقلید ہے کہ جب قرآن و حدیث سے فیصلہ آ جانے کے بعد کہا جائے کہ چوں کہ ہم امام ابوحنیفہ کے مقلد ہیں اس لیے ہمارے لیے ضروری نہیں کہ ہم اس فیصلہ کو لیں ـ یہ تقلید نہیں بلکہ سراسر نبی کی حدیث کا انکار ہے ـ اور سلفی کہلانے والے ایسی تقلید کی مذمت کرتے ہیں ـ
    ۔
    صاحب علم سے مراد ایسا آدمی جو کہ قران و حدیث کی بنیاد پر فروعی مسئلے کا فیصلہ کرے ـ وہ نہیں جو صاحب علم بھی ہو اور کہے کہ اس حدیث پر سلفی اور غیر مقلد عمل کرتےہیں اور ہم امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں ـ ایسی بات کرتے ہوئے یا تو نبی کی حدیث کا انکار کر رہا ہوتا ہے یا پھر نبی کی حدیث کو تعصب (جب سلفیوں نے حدیث لے لی ) کی نظر کردیتا ہے ـ
    آج کے مقلدین اور غیر مقلدین میں‌ فرق صرف یہ ہے کہ غیر مقلدین ہر حال میں‌قرآن و حدیث کو حجت مانتے ہیں ـ اورفروعی مسئلے پر جس امام کا قول قرآن و سنت کے زیادہ قریب ہوتا ہے لے لیتے ہیں ـ غیر مقلدین کے نزدیک کسی عالم کا اجتہاد چاہیے وہ غیر مقلد عالم ہی کیوں نہ ہو اس وقت تک حجت نہیں‌ ‌جب تک کہ وہ قرآن و حدیث کے عین مطابق نہ ہو ـ
    والسلام
     
  8. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    السلام علیکم !
    برادرم ابن مبارک نے درست جواب دیا ہے۔
    بھائی ناصر الدین ، آپ سے گذارش ہے کہ ذیل کے فقرے میں سرخ الفاظ پر غور فرمائیں ۔۔۔
    فروع میں کسی صاحب علم پر اعتماد کرے اور جہاں تک ہو سکے اس کی دلیل اور حجت کے معاملے میں بصیرت حاصل کرے

    اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے اسی لیے امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عامی بھی اجتہاد کرے گا۔
    امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ کا مشورہ ہے :
    [QH]والعامي والعالم في ذلك سواء وعلى كل احد حظه الذي يقدر عليه من الاجتهاد[/QH]
    اور عامی اور عالم (دونوں) اس (حرمت تقلید میں) ایک برابر ہیں ہر ایک اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق اجتہاد کرے گا۔
    [QH]النبذة الكافية في أحكام أصول الدين ، صفحة :71[/QH]

    ہاں ، سوال یہ اُٹھ سکتا ہے کہ : عامی کس طرح اجتہاد کرے گا ؟
    عامی دو اجتہاد کرتا ہے ۔۔۔

    1۔ وہ صحیح العقیدہ اہل سنت کے عالم کا انتخاب کرتا ہے اگر وہ بدقسمتی سے کسی اہل بدعت کے عالم کا انتخاب کرلے تو پھر صحیح بخاری کی حدیث ۔۔۔([QH]فيضلون ويضلون[/QH] ۔۔۔ پس وہ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے)۔۔۔ کی رو سے گمراہ ہوسکتا ہے۔

    2- وہ صحیح العقیدہ اہلسنت کے عالم کے پاس جاکر مسئلہ پوچھتا ہے کہ مجھے دلیل سے جواب دو، عامی کا یہی اجتہاد ہے۔
    بحوالہ :
    مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ (ج:20 ، ص:204)
    اعلام الموقعین (ج:4 ، ص:216)
     
  9. ناصر الدین

    ناصر الدین -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2008
    پیغامات:
    18
    السلام علکیم ورحمتہ اللہ
    سب سے پہلے تو میں تمام بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری گزارشات کو لائق توجہ سمجھا اور اچھے طریقے سے اپنی بات واضح کی۔
    بہرحال ایک بات ان بھائیوں کی (سوائے حنیف المسلم صاحب کے) توجہ پانے سے رہ گئی کہ میں نے بطور خاص درخواست کی تھی کہ تمام بھائی اصل پوسٹ میں موجود سمجھائے گئے یا پیش کیے گئے نظریات پر اپنا اپنا 'ملاحظہ' ارشاد فرمائیں ناکہ اس موضوع پر اپنے اپنے 'ذاتی" خیالات کا اظہار فرمائیں۔
    اب اصل مضمون کو پوری طرح اور یکسوئی سے پڑھ کر (صرف پوسٹ کیا گیا مضمون نہں بلکہ اس کے ساتھ جو دو لنک دیے گئے تھے ان کو بھی تفصیل کے ساتھ پڑھ کر ) میں نے دین کی بابت بحث اور تبادلہ آراء (جس میں کے ایک 'عامی' کے لیے کسی 'صاحب علم' کی 'پیروی یا اتباع یا تقلید' کے مسئلے پر بھی ایک بہترین 'توازن' اور 'اعتدال' کے ساتھ ، منہج سلف کی نمائندگی کرتے ہوئے کلام کیا گیا ھے ) میں پیش کیے گئے جس 'سلفی منہج' کا مشاھدہ کیا وہ مجھے اپنے معاشرے میں موجود 'سلفیت' کے نمائیندوں سے 'قابل توجہ' حد تک مختلف نظر آیا۔
    ہمارے معاشرے میں اہلحدیث داعیین جس شدت اور سختی کے ساتھ 'تقلید امام' کی مذمت کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات تقلید کی مذمت کرتے کرتے اس کو 'شرک اکبر' تک بھی پہنچا دیتے ہیں (جامد اور متعصب تقلید کی بابت یہ رویہ کسی حد تک معقول ہو بھی سکتا ھے ) اور تقلید امام سے 'توبہ' کروانے کا ایک 'تحریکی چلن' جو عام ہو گیا ہے اور پھر 'تقلید سے توبہ' کروا کر اس کو 'صحیح مسلمان' بنایا جاتا ہے تو یہ رویہ البتہ ۔۔۔۔۔۔اس مضمون کی رو سے۔۔۔۔۔منہج سلف سے مغایر ھے ۔ اور اسی رویے کی اصلاح کے لیے شاید یہ مضمون لکھا گیا ھے۔
    امت کے تمام 'اہل سنت طبقات' میں اتحاد، یکجہتی ، اخوت ،محبت اور بطور خاص 'الجماعۃ' کے لزوم کے لیے ،ان تمام مسالک کے آپس میں 'تفاعل' کے لیے جس بہترین انداز میں ایک 'متوازن،معتدل' اور 'معقول تر' 'منہج' ،اس مضمون میں پیش کیا گیا ھے تو حقیقت یہ ھے کہ وہ صرف 'منہج سلف' ہی کا خاصہ ہو سکتا ہے ۔
    اسی وجہ سے میں نے آپ حضرات سے درخواست کی تھی کہ اپنی آراء صرف اسی مضمون کے حوالے سے دیجیے تاکہ پیش کی گئی بات پر ایک 'مثبت' انداز میں بحث آگے بڑھ سکے ۔مگر ایک کو چھوڑ کر باقی تمام بھائیوں نے اپنے 'ذاتی موقف' کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے۔مضمون میں موجود ایک سطر کو پکڑ (جو میری پوسٹ میں بھی شامل تھی) جو بات 'سمجھائی' گئی ھے تو اس کی نوبت بھی شاید اس وجہ سے آئی ھے کہ اس اکیلی سطر کو پورے مضمون کے تسلسل میں رکھ کر اس کو نہیں سمجھا گیا بلکہ اس سطر کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا ھے جو شاید پوسٹ کے عنوان میں موجود لفظ 'سلفی' کو دیکھ کر روا رکھا گیا ھے ۔
    باقی رہی مضمون میں موجود تقلید کے ضمن میں یا اجتہاد کی نسبت ، جن ائمہ اہل سنے کے 'حوالے' دیے گئے ہیں تو ایسے دو چار حوالے نکال لانا کچھ مشل کام نہیں ہے طرہ یہ کہ ان ائمہ اہل سنت کے مسلک (جن کے مضمون میں حوالے دیے گئے ہیں جیسے امام ابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ ) کے اپنے 'مقلدین' بھی امت میں دوسرے مسالک کے ساتھ ایک 'متوازی' انداز میں پائے جاتے ہوں۔اور امت کے معروف مسالک میں ان کا شمار ہوتا ہو۔
    تقلید کی مذمت میں جن 'جمہور ائمہ اہل سنت' کے اقوال موجود ہیں تو وہ دراصل 'عامیوں' کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان اصحاب علم کی بابت ہیں جو علم کی ایک خاص اہلیت سے بہرحال 'نیچے' ہی ہوتے ہیں مگر معاشرے میں موجود 'بے علم عوام' کی دینی قیادت کی صلاحیت بدرجہ اتم رکھتے ہیں۔یعنی ان میں اتنی اہلیت تو نہیں ہوتی کہ 'ادلہ شرعیہ' کے استقراء (یعنی خوب غوروفکر اور تدبر) کے باوجود وہ اجتہاد کی اہلیت کو پالیں ۔ مگر 'عامیوں' کو دین پھر بھی سکھلا سکتے ہیں۔اب یہ اصحاب یعنی آپ ان کو 'داعیین' بھی کہہ سکتے ہیں اور تقریبا تقریبا ہمارے مدارس دینیہ کے اکثر 'فضلاء ' حضرات بھی ان میں شامل ہیں،تو ایسے کسی شرعی علوم کے 'فاضل' (صرف فاضل نہ کہ عالم) شخص کے لیے یہ رویہ بہرحال 'قابل مذمت' ہے کہ وہ 'فروعی مسائل' میں ایک مسلک کو اپنانے کے بعد ،اپنے اس 'فروعی' مسلک کی کسی بات کو قرآن و حدیث کے 'صریحا' مخالف پا کر بھی اس پر جما رھے ۔ہاں یہ رویہ البتہ قابل اصلاح ہے ۔باقی رہ گئی بات 'عامی حضرات' کی تو وہ جتنی مرضی 'دلیلیں' پوچھتے پھریں، کرنی انہوں نے 'اقتداء' ہی ہے اب کوئی اس 'اقتداء' کو 'اتباع' کہہ دیتا ہے اور کوئی اس کو 'تقلید' کہہ دیتا ہے۔لفظوں کے تبدیل کرنے سے حقیقت تو نہیں بدل جاتی۔ایک 'عامی' اگر اپنے کسی 'مقامی عالم' سے کوئی مسئلہ دریافت کرتا ہے تو ۔۔۔۔۔تمام لفظی نزاع کو ایک طرف رکھتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ اس 'مقامی عالم' کی 'پیروی' کیے بغیر اس کو کوئی چارہ نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اگر وہ 'دلیل' طلب کرتا ہے تو یہ ایک قابل تعریف عمل ہے ( اگر اس کا دلیل طلب کرنا اس پر غورو خوض اور اور اس میں تدبر کرنے کی نیت سے ہو نہ کہ ایک 'مسلکی تشخص' برقرار رکھنے کے لیے) اور اس کی دین کے ساتھ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ دلیل طلب نہیں بھی کرتا تو اس کی بھی 'منہج سلف ' میں ۔۔۔۔۔۔ایک 'عامی' کیے لیے۔۔۔۔۔۔۔اس کو اجازت ہے۔کیونکہ 'عامی' دلیل کو پاکر بھی اس مسئلے کا 'عالم' تھوڑی ہی بن جاتا ہے ۔رہتا تو وہ 'عامی' ہی ھےنا!!! اور اپنے علماء کا 'اتباع' ،'اقتدا' یا 'تقلید' کا مکلف!!!۔
    دلیل مانگ کر کیا اس خاص مسئلہ میں وہ تمام 'مخالف' اقوال اور ۔۔۔۔۔اس خاص مسئلے کی نسبت۔۔۔۔۔ دوسرے تمام مخالف 'منہاج اور مسالک' کا بھی کیا 'عالم' بن جاتا ہے؟؟؟۔یا اس کے سامنے معاملے کی صرف ایک ہی تصویر یعنی ایک ہی 'موقف' ہوتا ھے جو اس کو اس کے مسلک کے علماء نے بتلایا ہوتا ہے۔مختصر یہ کہ 'عامی' کے لیے کسی 'معتبر،مستند اور جید 'صاحب علم' کی پیروی لازم ہے اب اس 'پیروی' کرنے کو آپ جو مرضی نام دیں لیں اس کو 'اتباع' کہہ کے خوش ہو لیں یا اس کو 'تقلید' کہہ لیں حقیقت بہرحال وہی رہتی ہے ۔
    ایک بات میں واضح کر دوں کہ 'عامی' سے میری مراد وہ تمام لوگ ہیں جن میں دین سے بالکل کورے جاہل عوام بھی شامل ہیں اور دین کا مطالعہ کرنے والے وہ تمام اصحاب بھی جو دین کا مطالعہ کرنے کے لیے ۔۔۔۔ترجموں۔۔۔۔ کے محتاج ہوتے ہیں چاہے وہ جتنے مرضی ترجمے چاٹ لیں ۔رہتے وہ عامی ہی ہیں کیونکہ شرعی علوم کا 'عالم' کہلانے کے لیے کم از کم بھی جس 'اہلیت' کی ضرورت ہے وہ صرف ترجموں پر 'اکتفاء' کرنے یا صاف لفظوں میں ۔۔۔۔ترجمے پڑھبے پر 'مجبور' ہونے۔۔۔۔۔۔(کیونکہ اس کو عربی نہیں آتی) والے کسی شخص میں تو ہرگز نہیں پائی جاسکتی۔سردست 'عالم' کہلائے جانے کا مستحق ہونے کے لیے ائمہ اعلام جن قابلیتوں اور اہلیتوں کی شروط لگاتے ہیں ان کا استقصاء مقصود نہیں ھے ہمیں تو یہی بات کافی ہے کہ ہم 'عربی ' سے نابلد ہیں۔
    اب دین کی بابت ایسی کسی 'قابلیت اور اہلیت' والا آدمی جو کم از کم بھی دین کو اس کی اپنی زبان ہی میں سمجھنے سے قاصر ھے تو ایسی کوئی شخص 'دین میں کلام ' کرنے لگے تو اس بڑھ کر فساد میں مبتلا ہونے والی بات میں نہیں سمجھتا کہ کوئی اور بھی ہو سکتی ہے۔اور پھر اگر وہ اپنے اس انتہائی محدود سے علم کے ساتھ 'فتوی نویسی' کی 'مشق' بھی کرنے لگے (جسیے اس فورم میں بھی ایسی روش کی کچھ جھلکیاں دیکھنے کو مل جاتی ہیں ) تو دین کی نسبت یہ روش بہت ہی زیادہ قابل فکر اور قابل افسوس ہے گویا کہ اب علماء کی ہمیں ضرورت نہیں رہی یا وہ معاشرے میں ناپید ہو گئے ہیں کہ ایسے لوگوں سے 'فتوی' لیے بغیر کوئی چارہ نہیں !!!۔۔'فتوی نویسی' کی ایسی کوئی روش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صاحب دین کی تمام تر حقیقت اور وسعت سے ابھی تک کورے ہیں یا ابھی تک ان کو دین کی ' حقیقت اور وسعت' کے بارے اتنا ہی علم ہے۔بہرحال یہ تو ضمنی طور پر ایک بات آ گئی تھی ۔
    امید ھے کہ تمام بھائی پوری بات کو سمجھیں گے اور اس بحث کو ایک مثبت انداز میں آگے بڑھائیں گے۔

    والسلام علیکم
    ناصر الدین

     
  10. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    ناصر الدین بھائی کی دوسری پوسٹ کا جواب

    محترم جناب ناصر الدین صاحب
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    آپ کی دوسری تحریر پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آپ ان ہی عامۃ الناس میں سے ہیں جن کو آپ نے کسی عالم دین کی ''تقلید '' کا مشورہ دیا ہے ، کیونکہ آپ تو ابھی تک تقلیداور اتباع کو ایک ہی جانتے ہیں جبکہ ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے جیسے کہ میں نے اپنی پہلی تحریر میں ''مقلد'' کی تعریف بیان کی ہے ،لگتا ہے کہ وہ آپ کے سر کے اوپر سے گزر گئی اور آپ کو تمام تحریروں میں سے وہی تحریر سمجھ میں آئی جو آپ ہی کے ذہن کو ٹھیک لگتی تھی بقیہ کو آپ نے ''ذاتی خیالات '' کا نام دے دیا اور صرف ایک کو ہی اس مضمون کی سمجھ آئی جو خود بھی اپنا جواب دینے سے قاصر اور دوسروں کے جوابات کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ دوسروں نے ہی زخموں پر مرہم رکھی تو آپ کہنے لگے کہ یہ سب ''ذاتی خیالات کی مرہم ہیں'' ہمیں تو وہ مرہم چاہئے جو ہمارے اس مضمون سے حاصل کردہ نقطہ اور نظریہ کے موافق ہو ۔
    محترم آپ نے صرف پوسٹ شدہ مضمون اور اسکے ساتھ موجود دو لنکس میں موجود مضامین کو پڑھ کر یہ تحریر لکھی ہے اور میں حوالہ شدہ کتا ب جوکہ حنیف المسلم بھائی کے مضمون کا مرجع ہے یعنی''جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر الاندلسی رحمہ اللہ''(عربی نا کہ ترجمہ)کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ تحریر لکھ رہاہوں تا کہ بقول آپکے ''مضمون کے تسلسل میں رکھ کراس عبارت (جہاں تک ہو سکے اس کی دلیل اور حجت کے معاملے میں بصیرت حاصل کرے )کو نہیں سمجھا گیا'' کا دوبارہ اعتراض کرنے کی آپ کو تکلیف نہ ہو۔
    اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق دے (آمین)
    تو محترم بھائی ناصرالدین (اللہ تعالیٰ آپکی حفاظت فرمائے)
    علامہ ابن عبد البر الاندلسی نے اس تقلید اور اتباع میں فرق کیا ہے جس میں آپ یکسانیت تصور کررہے ہیں مزید برآں کہ اس تقلید کی مذمت میں مستقل ایک عنوان مقرر کیا ہے (باب فساد التقلید و نفیہ و الفرق بین التقلید و الاتباع) ''باب ہے تقلید کی نفی اور اسکے نقصانات اور اتباع و تقلید کے مابین فرق کے متعلق''
    محترم ایک مرتبہ پھر آپ سے گزارش ہے کہ تقلید کی تعریف کو ذہن نشیں کریں اور اسکے بعد اپنے اس جملہ پر غور فرمائیں''اتباع کہہ کر خوش ہو لیں یا اسکو تقلیدکہہ لیں حقیقت بہر حال و ہی رہتی ہے''
    ارشاد الفحول الیٰ تحقیق الحق من علم الاصول میں امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    ''تقلید لغوی اعتبار سے اس پٹے کو کہتے ہیں کہ جو گردن میں جانور کے پہنایا جائے اسی لئے مشہور ہے ''قلد الہدی'' یعنی اس نے قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈال دیا''
    اصطلاحاً : ''ھو العمل بقول الغیر من غیر حجۃ'' (کسی غیر کی بات پر بغیر کسی دلیل کے عمل کرنا تقلید کہلاتا ہے)جلد نمبر 3صفحہ نمبر 146(المکتبہ الشاملہ)
    اعلام الموقعین عن رب العالمین میں تقلید کی تعریف کچھ اسطرح کرتے ہیں:
    التقلید فی الشرع الرجوع الی القول لا حجۃ لقائلہ علیہ ، وذلک ممنوع منہ فی الشریعۃ ، والاتباع : ما ثبت علیہ الحجۃ. (جلد نمبر 2صفحہ نمبر 302)
    شریعت میں تقلید ''کسی بھی ایسے قول کو لینا جس کے قائل کے پاس اسکی کوئی دلیل نہ ہو، اور یہ شریعت میں منع ہے ۔ جبکہ اتباع : اس قول کو لینے کا نام ہے جس پر دلیل موجود ہو''
    البحر المحیط میں تقلید کی اصطلاحی تعریف یوں ذکر کی ہے:
    قبول القول من غیر حجۃ تظہر علی قولہ )جلد نمبر8صفحہ 186)
    کسی قول کو اس کی دلیل کے بغیر قبول کرلینا تقلید کہلاتا ہے۔
    شرح الکوکب المنیر میں تقلید کے متعلق یوں رقم طراز ہیں:
    اخذ مذہب الغیر بلا معرفۃدلیلہ (جلد نمبر 3صفحہ نمبر75)
    کسی دوسرے مذہب کو بلا دلیل ماننا تقلید کہلاتا ہے۔
    تو بھائی تقلید اور اتباع میں فرق ہے اللہ کیلئے ان کو ایک ہی جگہ مت رکھئے کہ ایک دین میںمطلوب ہے جبکہ دوسری ممنوع ہے۔
    فیہ کفایۃ لمن لہ درایۃ​

    یہ ایک اثر پیش خدمت ہے کہ ذرا غور سے پڑھیں۔
    عن علی رضی اللہ عنہ ، قال : ایاکم والاستنان بالرجال ؛ فان الرجل یعمل بعمل اہل الجنۃ ثم ینقلب لعلم اللہ فیہ فیعمل بعمل اہل النار فیموت وہو من اہل النار ، وان الرجل لیعمل بعمل اہل النار فینقلب لعلم اللہ فیہ فیعمل بعمل اہل الجنۃ فیموت وہو من اہل الجنۃ ، وقال ابن مسعود رضی اللہ عنہ : الا لا یقلدن احدکم دینہ رجلا ان آمن آمن وان کفر کفر ، فانہ لا اسوۃ فی الشر (جامع بیان العلم و فضلہ صفحہ 228)
    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے آپ کو لوگوں کی پیروی سے بچاو کیونکہ آدمی جنتی حضرات جیسے کام کرتا لیکن اپنی روش سے بدل جاتا ہے اور جہنمی لوگوں جیسے کام کرتے ہوئے مر جاتا ہے تو و ہ جہنمی ہے ، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوں والے کام کرتا ہے لیکن اپنی روش سے بدل جاتا ہے اور جنتی لوگوں جیسے کام کرتے ہو مرجاتا ہے تو ہو جنتی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی کسی دوسرے کی تقلید دین کے معاملات میں مت کرے کہ اگر وہ ایمان لاتا ہے تو وہ بھی مومن اور اگر کفر کرتا ہے تو وہ بھی کافر، خبردار!!! برائی میں کسی کو نمونہ مت بناؤ۔
    باقی رہی بات کسی عامی کی تو بھائی صاحب بات یہ ہے کہ آپ کو کیوں ''تقلید '' سے اتنا پیار ہوگیا ہے کہ آپ اچھے خاصے عامی مسلمان کو اتباع کی دعوت دینے کی بجائے ''تقلید '' کی طرف بلارہے ہیں جبکہ تقلید کوئی اچھا کام بھی نہیں ہے پھر مزے کی بات یہ ہے کہ عامی مسلمان اگر اتباع بھی کررہا ہے(قرآن و سنت پر یعنی انکے دلائل جان کریا کم از کم اتنا ضرور اسکو پتہ ہے کہ یہ کام میں قرآن و سنت میں موجود دلیل پر کر رہا ہوں نہ کہ اندھے آدمی کی طرح صرف انگلی پکڑ کر چل رہا ہوں ) تو آپ اسکو بھی ''مقلد '' کہہ کر ''خوش'': ہو رہے ہیں(حالانکہ وہ تقلید نہیںبلکہ اتباع ہے)
    محترم بھائی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مطلق اتباع کی دعوت دی ہے نا کہ تقلید کی تو کیوں نہ ہم اسی کی دعوت دیں جو اعلیٰ ،ارفع اور صحیح ہے پھر اس میں کسی قسم کا کو ئی مسئلہ بھی نہیں (اگر ہو تو ضرور بہ ضرور بیان کریں یعنی اتباع کی دعوت دینے پر جو مصائب ، آلام ، مشاکل کا سامنا کرنا پڑے)
    جہاں تک آپ کی بات کہ ''دلیل پاکر بھی اس مسئلے کا''عالم''تھوڑی بن جاتا ہے '' تو بھائی جان عرض ہے کہ ہم اسکو عالم نہیں بنانا چاہتے بلکہ اندھی تقلید سے اتباع کی طرف لانا چاہتے ہیں نیز وہ عامی آدمی عالم کی بات کو اپنے لئے حجت نہیں مانتا بلکہ قرآن و حدیث کی نصوص کو حجت مانتا ہے ، کیونکہ یہی اتباع ہے جبکہ پہلی چیز تقلید جو کہ اسلام میں منع ہے (یعنی حجت قرآن وحدیث کی بات ہے نہ کہ کسی کا قول)
    رہی یہ بات کہ بعض علماء نے عامۃ الناس کیلئے تقلید کو جائز قرار دیا تومحترم عرض یہ ہے کہ وہ صرف لفظ تقلید کا ہے حقیقت میں اتباع ہی ہے کیونکہ علماء نے اس پر دلیل دی اور دلیل سے اتباع ہوتی ہے نہ کہ تقلید۔
    ایک اور بات جو آپ نے اپنے مضمون میں ذکر کی ہے یعنی عامی آدمی کی تعریف اور اس میں شامل لوگوں کی کیفیت کہ
    کن لوگوں کیلئے آپکے مطابق تقلید واجب ہے تو میں آپ سے جاننا یہ چاہوں گا کہ یہ تحدید اور حد بندی آپ نے کس بنیاد پرکی ہے ؟؟؟؟ لازمی بیان کریں (کہیں یہ بھی تقلیداً تو نقل نہیں کردی ؟؟) تاکہ میں اس بات کو بھی آگے بڑھا سکوں۔
    و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    ابن مبارک
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں