خلافت اسلامیہ کی اہمیت و افادیت

ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جون 12, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    خلافت اسلامیہ کی اہمیت و افادیت

    اسلام کی چودہ سو سالہ طویل تاریخ میں امت مسلمہ بہت سارے سنگین و خطرناک , مہلک وتباہ کن حالات سے دوچار ہوئی ہے۔ چھٹی و ساتویں صدی ہجری تو اس کے لیے نہایت ہی تباہ کن و خطرناک تھے ۔حالات اتنے خراب تھے کہ اس کے فنا و زوال کا مسئلہ درپیش تھا ۔ کیونکہ انہیں صدیوں میں کبھی مشرقی فتنہ تاتار نے اس کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشس کی تو کبھی مغرب کے صلیبیوں نے اس کو فنا کے گھاٹ اتارنا چاہا ۔ ایک طرف جہاں تاتاریوں نے کئی مسلمان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ خلافت اسلامیہ کے مرکز بغداد کو تباہ و برباد کردیا ۔ مسلمان خلیفہ کو قتل کردیا ۔ وہیں دوسری طرف صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا۔ اور کئی صلیبی حکومتوں کو شام میں قائم کردیا۔لیکن اسلام و مسلمانوں نےاس دور میں کچھ اپنے باغیور و بہادر و باضمیر علماء و حکمرانوں مثلا سلطان العلماء العز بن عبد السلام , نور الدین زنکی, سلطان صلاح الدین ایوبی, ظاہر بیبرس, قلاوون وغیرہ کے زیر قیادت ان خطرناک حالات کا پامردی سے مقابلہ کیااور دشمنوں کے مقابلے میں ڈتے رہے اور بالاخر دونوں غالب دشمن طاقتوں کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ اس طرح خود بھی زندہ رہے اور اسلام کو بھی زندہ رکھا۔تاریخ میں یہ زمانہ دور وسطى کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    دور وسطى کے مسلمان ان تباہ کن و مہلک فتنوں کو انگیز کر لے گئے کیونکہ ان کے اندر اس وقت اگر چہ بہت ساری خرابیا ں تھی پھر بھی ان میں ایک امت کا تصور کافی حد تک باقی تھا کیونکہ اسلام کا نظام خلافت زندہ تھا اور خلیفہ کا وجود تھا۔ اور دنیا کے تمام مسلمانوں کا اس سے دینی قلبی لگاو تھا۔علاوہ ازیں بہت سارے کلمہ حق کہنے والے علماء موجود تھے جو عوام کے علاوہ حکمرانوں کو راہ راست دکھاتے تھے اور بنا کسی خوف و ڈر کے حق بات کہتے تھے۔ دینی حمیت سے لبریز اور غیرتمند مذکورہ بالا کچھ مسلمان حکمران بھی تھے جن کو مسلمانوں کی پسپائی و ذلت بالکل نہیں برداشت تھی ۔ اور جن سے اسلام کی یہ بد ترین حالت دیکھی نہیں جاتی تھی ۔ لہذا انہوں نے بے انتہا کوشس و محنت کی جس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی۔اور وہ اپنے ان تاریک دور سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

    لیکن ادھر آخری تین صدیوں ( 19- 21 صدی عیسوی ) میں مسلمانوں پر جو ذلت طاری ہوئی ہے اور جوسیاسی, اقتصادی و سماجی زوال آیا ہے وہ ختم ہونے کا نا م نہیں لے رہا ہے ۔بلکہ دن بدن مسلمانوں کی ذلت , رسوائی , کمزوری اور پسپائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ روز برز شکست و خواری ان کا مقدر بن گئی ہے۔آئے دن بہت سارے ممالک مثلا برما, سوریا, عراق, افغانستان, وسطی افریقہ وغیرہ میں ان کا قتل عام ہورہا ہے۔ بہت سارے ملکوں فرانس , بلجیم,سویزر لینڈ وغیرہ میں اسلامی شعائر پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ۔ بھارت سمیت کئی جگہ ان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔چین میں تو ایغور مسلمانوں کے نماز وروزہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تو آخر اس کے وجوہات و اسباب کیا ہیں ؟

    میرے خیال میں اس کے بہت سارے اسباب و وجوہات ہیں ۔ کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ لیکن اس کے بڑے اسباب میں سے امت کے تصور کا مٹ جانا , اس کا باہمی تنازعہ, اختلاف و تفرقہ اور مختلف ملکوں کا قیام اور ان کی جدا جدا سرحدیں ہیں ۔ اور ان سب میں سر فہرست 1924 ع میں کمال اتاترک یہودی کے ذریعہ خلافت کا خاتمہ ہے۔ کیونکہ اسلام اور مسلمان دشمنوں کو چودہ صدیوں میں جو سب سے بڑی کامیابی ملی ہے وہ خلافت اسلامیہ کا خاتمہ ہے۔اسلام کی تاریخ میں اس سے بڑی اور کوئی کامیابی ان کو نہیں ملی ہے۔یہ ان کی سب سے بڑی سازش اورسب سے بڑی کامیابی ہے جس کا موازنہ کسی اور کامیابی یا سازش سے نہیں کیا جا سکتا ہے اور جس کے سامنے تمام کامیابیاں و فتوحات ہیچ ہیں بلکہ اگر اس کو یعنی خلافت اسلامیہ کے خاتمہ کو ایک پلڑا میں اور دیگر ہر طرح کی کامیابیوں و فتوحات کو ایک پلڑا میں رکھا جائے تو خلافت کا پلڑا بھاری ہوگا۔اس کی وجہ خلافت کے خاتمہ کی وجہ سے مسلمانوں کے اتحاد کا پارہ پارہ ہونا, ان کے شیرازہ کا منتشر ہونا, اور ان میں مزید سیاسی , دینی خصوصا سیاسی تفرقہ, اختلاف اور تنازعہ ہے جو دن بدن اور گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔ اور وہ زبر دست نقصانات ہیں جو امت نے مختلف میدانوں میں اٹھائے ہیں اور اب بھی اٹھا رہی ہے۔ نیز خلافت کا وہ مرتبہ ومقام اور اہمیت و افادیت ہے جو اس کو شریعت میں حاصل ہے۔

    بلا شبہ خلافت تمام اسلامی فرائض کا تاج ہے۔خلافت قول کے بجائے فعل کا نام ہے۔خلافت ہی وہ اہم شے ہے جو دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک بینر تلے بنا کسی فرق و اختلاف کے آپس میں جمع کرتا ہےاور ان میں بنا کسی قومی ووطنی تفریق کے حقیقی و معنوی اتحاد پیدا کرتا ہے۔جو مسلمان ملکوں کو بنا سرحدوں و ویزا کے آپس میں حقیقی طور پر جوڑتا ہےاور ان میں اصلی اتفاق و اتحاد پیدا کرتا ہے۔جو مسلمانوں کو ذلت , پسپائی و رسوائی سے بچاتا ہے۔جو دین و شریعت کی تنفیذ کرتا ہے۔ جو ہر طرح کی برائی کو مٹاتا اور ہر قسم کی بھلائی کو فروغ دیتا ہے۔جو یہ یاد دلاتا ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان خواہ وہ کسی بھی ملک یا خطہ کے ہوں حقیقت میں ایک امت ہیں اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔جس کی اطاعت و فرماں برداری نہ صرف پوری دنیا کے مسلمانوں پر بلکہ تمام حکمرانوں پر واجب ہے۔خلافت اسلام کے سیاسی نظام کا اہم جز ہے۔ خلافت اسلامی سلطنت و حکومت کی شان وشوکت , طاقت و قوت ہے جو بیرونی مداخلت سے آزاد ہے اور جس میں خود کفالت ہے۔ جو مسلمانوں کے مفادات و مصالح کا پوری دنیا میں نگہبان و محافظ ہے۔ جو مسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کا رمز ہے۔جو ان کو کسی بھی وقت ایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکتا ہے۔ جودشمنوں کے لیے خطرہ کی گھنٹی اور باعث رنج و غم ہے۔ جو پوری دنیا کے مظلوموں و مجبوروں کی آخری آس و امید ہے۔ جو جہالت, فقرو فاقہ اور مرض کا علاج ہےوغیرہ ۔ غرضیکہ خلافت شریعت کی نظر میں ایک بہت عظیم فريضہ ہے جس کو قائم کرنا مسلمانوں پر فرض ہے اور جس کے بے شمار فوائد ہیں۔

    خلافت کی اس اہمیت و افادیت کے باوجود افسوس کرنےو رونے کا مقام ہے کہ آج کے نہ صرف مسلمان بلکہ علماء بھی اس سے غافل ہیں۔ عوام بیچارے تو خلافت نام سے بھی واقف نہیں ہیں۔اس میں غلطی ان کی نہیں بلکہ ہم علماء حضرات کی ہے جو خلافت و سیاست پر لب کشائی کرنا شاید خلافت شریعت یا سیاسی ناقابل معافی جرم تصور کرتے ہیں جبکہ ان کی یہ خاموشی ناقابل معافی جرم اور حق کو چھپانا ہے۔اپنی ذمہ داری سے بھاگنا اور کنارہ کشی اختیار کرنا ہے۔اور ان کی یہ خاموشی میری سمجھ سے باہر ہے۔کیونکہ حقیقی اتفاق و اتحاد کے بغیر مسلمان نہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت بحال کرسکتے ہیں نہ ہی طاقت و قوت حاصل کرسکتے ہیں۔اور حقیقی اتفاق و اتحاد کا تصور بھی خلافت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    لہذا ہم علماء پر واجب ہے کہ پہلے اسلام کے اس عظیم فريضہ کو خود سمجھین ۔ پھر مسلمانوں کو خلافت کی اہمیت و افادیت کے بارے میں بتلائیں ۔ان کو اس کے فوائد سے آگاہ کریں۔ حکمرانوں کو اس کے لیے آمادہ کریں ۔ اس کی مصلحتوں سے ان کو روشناس کرائیں ۔ اس طرح سے ایک بار پھر خلافت کے نظام کو زندہ کرنے کی کوشس کریں کیونکہ اسی میں پوری امت کی بھلائی ہے اور موجودہ ذلت ورسوائی و پسپائی سے باہر نکلنا ہے اور اس کی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنا ہے۔

    اب سوال یہ ہےکیا امت کے تمام علماء ایک جگہ جمع ہوکر خلافت کے بارے میں کوئی اہم و فیصلہ کن فیصلہ کر سکتے ہیں ؟ موجودہ مسلمان حکمرانوں کو خلیفہ کے انتخاب پر آمادہ کر سکتے ہیں اور امت کو موجودہ پستی و ذلت سے نکال سکتے ہیں؟

    دیکھنا یہ ہے کہ ابھی امت کو اس کے لیے اور کتنا انتظار کرنا ہوگا۔

    وما علینا الا البلاغ, وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

    سنیچر 6 رمضان 1437 ھ/11 جون 2016ع
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    یہی بنیادی اور نہایت اہم سوال ہے۔
    میرے نزدیک ایک جگہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمام مکتبہ فکر کے علماء ایک جگہ جمع ہو جائيں۔ اور یہ کہہ دیں کہ تم بھی ٹھیک اور ہم بھی ٹھیک۔ بلکہ دین کو اسطرح سمجھنا اور اس پر تمام علماء کا متفق ہونا ضروری ہوگا جس طرح نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اور پھر عمل کر کے بھی دکھا دیا۔ اگر یہ کام ہو گیا تو پھر ہمارے حکمران یہی علماء کرام اور ان کی قائم کی گئ خلافت ہوگي۔
     
    Last edited: ‏جون 15, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عمر سلطان

    عمر سلطان نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جون 9, 2016
    پیغامات:
    36
    بہت عمدہ تحریر ہے، مجھے ایک سوال کا جواب اگر کوئی عنایت کردے کہ کیا سارا علم قرآن میں ہے؟۔
     
  4. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    تمام مکاتب فکر کے علماء کا جمع ہونا ضروری نہیں ہے کم از کم شافعی، حنبلی ، مالکی اور حنفی مسلک کے علماء تو جمع ہوسکتے ہیں جن کی غالب اکثریت ہے۔
     
  5. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    بہت عمدہ سوال ہے ۔ اور جواب میں عرض ہے کہ سارا علم قرآن میں موجود نہیں ہے۔کیونکہ قرآن رشد و ہدایت کی کتا ب ہے۔ فلسفہ، جغرافیہ، طب یا سائنس کی کتاب نہیں ہے کہ آپ ان علوم سے متعلق چیزیں اس میں تلاش کریں ۔ ایک موٹی مثال دیتا ہوں ۔ قرآن میں نماز پڑہنے کا حکم موجود ہے لیکن تفصیل نہیں ہے کو کون سی نماز کتنی رکعت پڑھنی ہے ۔ اسی طرح زکاۃ نکالنے، حج کرنے اور روزہ رکھنے کا حکم ہے لیکن تفاصیل موجود نہیں ہیں ۔ لہذا سارا علم قرآن میں نہیں ہے ۔ ہاں یہ کہنا صحیح ہے کہ قرآن سارے علوم کا اساس و بنیاد ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    مذکورہ بالا سوال کا جواب اس فتوى میں بھی موجود ہے
    فالقرآن كتاب نور وهداية إلى ما ينفع الناس في أمر دينهم ودنياهم، ولذا فهو يرشد إلى تعلم العلوم النافعة ويرسي قواعد الفكر السليم القائم على العلم والتحقيق والبصيرة ـ لا على التخمين والهوى ـ وقد ذكرنا في الفتوى رقم: 106255، أن قوله تعالى: يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ {المجادلة:11}.


    يشمل كل العلوم النافعة، ولا شك أن علم الحاسوب الآلي من أنفع العلوم الدنيوية في هذا العصر، فهو داخل في العلم المحمود الذي حث القرآن على تعلمه، وقد تضمن القرآن إشارات إلى حقائق علمية في علوم مختلفة ـ كالطب والفلك وغير ذلك ـ كما أثبتت ذلك بحوث الإعجاز العلمي في القرآن، وانظر الفتوى رقم: 41211، وما أحيل عليه فيها.

    وتضمن القرآن لتلك الإشارات لا يعني أنه كتاب طب وفلك ونظريات علمية ونحو ذلك، وإنما وردت تلك الإشارات فيه ليستدل بها على توحيد الله في ربوبيته وألوهيته، وصدق رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما بلغه عن ربه عز وجل ومن ثم، فإنها تخدم المقصد الرئيسي للقرآن، ألا وهو هداية العالمين إلى صراط الله المستقيم.

    فالقول بأن كل العلوم موجودة في القرآن بإطلاق، لا شك أنه مكابرة وغلو ممجوج، وقد يبالغ بعض الناس ويتكلف الربط بين القرآن وبين كل نظرية علمية حديثة، وهذا خطأ، كما بيناه في الفتوى رقم: 61536، ولكن يمكن القول بأن كل علوم الدين موجودة في القرآن على وجه الإجمال، بمعنى أن أصولها وكلياتها وأدلتها موجودة في القرآن على وجه الإجمال بمعنى أن أصولها وكلياتها وأدلتها موجودة في القرآن، فيمكن تصحيح العبارة بهذا الاعتبار.
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  7. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    یہ بھی مذکورہ بالا سوال کا جواب ہے۔
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:


    فالقرآن الكريم كتاب هداية وإرشاد للعباد وليس كتابا لذكر عجائب الدنيا، فهو منهج لتقويم الحياة والمجتمع على أساس الرابطة بينهم وبين ربهم، ثم إن الذي خلق الإنسان من عدم وصوره ونفخ فيه من روحه وخلق السماوات والأرض وما بينهما قد أحكم صنع كل شيء ودعا الناس -سبحانه- إلى التفكر في مخلوقاته، قال الله تعالى: أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ* وَإِلَى السَّمَاء كَيْفَ رُفِعَتْ* وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ {الغاشية:17-18-19}، وقال تعالى: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ {فصلت:53}، وقال تعالى: وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ* وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ {الذاريات:20-21}.

    وحدائق بابل المعلقة أو غيرها من العجائب هي من عجائب الدنيا التي من صنع البشر ومهما عظمت فليست شيئا بالنسبة لما ذكره الله في كتابه من آياته الكونية، وأيضاً هذه العجائب ليست من موضوع القرآن وليس فيه ما يشير إليها بخصوصها.

    قال الشيخ سيد قطب في الظلال: وإني لأعجب لسذاجة المتحمسين لهذا القرآن الذين يحاولون أن يضيفوا إليه ما ليس منه وأن يحملوا عليه ما لم يقصد إليه وأن يستخرجوا من جزئيات في علوم الطب والكيمياء والفلك وما إليها ليعظموه بهذا ويكبروه! إن القرآن كتاب كامل في موضوعه، وموضوعه أضخم من تلك العلوم كلها إن كل محاولة لتعليق الإشارات القرآنية العامة بما يصل إليه العلم من نظريات متجددة متغيرة أو حتى بحقائق علمية ليست مطلقة تحتوي أولاً على خطأ منهجي أساسي كما أنها تنطوي على معان ثلاثة كلها لا يليق بجلال القرآن. الأولى: الهزيمة الداخلية التي تخيل لبعض الناس أن العلم هو المهمين والقرآن تابع.

    الثانية: سوء فهم طبيعة القرآن ووظيفته وهي أنه حقيقة نهائية مطلقة تعالج بناء الإنسان.

    الثالثة: هي التأويل المستمر مع التمحل والتكلف لنصوص القرآن. انتهى باختصار.

    وعليه فإن كتاب الله شامل كامل ويصلح في كل زمان ومكان ولا يعني ذلك أنه قد حوى جميع جزئيات الكون بل إنه تضمن أصول كل الأشياء وكلياتها وترك أمر هذه الجزئيات للعقول، قال الإمام الغزالي: فتفكر في القرآن والتمس غرائبه لتصادف فيه مجامع علم الأولين والآخرين وجملة أوائله وإنما التفكر فيه للتوصل من جملته إلى تفصيله وهو البحر الذي لا شاطئ له. اتنهى من جواهر القرآن.
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بارک اللہ فیک شیخ ۔
    برائے مہربانی اس کا ترجمہ بھی پیش کر دیں
     
    • متفق متفق x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  9. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    اس میں وہی بات تفصیل سے کہی گئی ہے جو اوپر لکھا ہے ۔ پھر بھی ان شاء اللہ آپ کی خواہش پر جلد ہی ترجمہ کر دوں گا۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں