رمضان اور احتساب نفس

ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جولائی 1, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    رمضان اور احتساب نفس

    رمضان 1437ھ کا بابرکت اور پر نور مہینہ تقریبا اب ختم ہونے والا ہے۔ چند دن اور باقی ہیں۔ سب سے پہلے دنیا کے ہم تمام مسلمانوں کو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چائیے کہ اس نے ہم کو رمضان 1437 ھ کی عظیم نعمت سے نواز کر ہمارے اوپر بہت بڑا فضل و احسان کیا۔ اس کے بعد ہمیں اپنے نفسوں کا خود بخود احتساب کرنا چائیے اور جائزہ لینا چاہئیے کہ کیا ہم نے اس عظیم نعمت سے کما حقہ فائدہ اٹھایا اورکیا ہم نے اس بے نظیر احسان کا شکریہ ادا کیا اور اس کا بدلہ احسان کے ساتھ دیا کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : ہل جزاء الاحسان الا الاحسان (رحمن/ 60)

    برادان اسلام : ہم سب کو اپنے نفس کا احتساب کرنا چائیے کہ کیا اس روزہ سے ہمارےنفسوں میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں ۔ کیا اگر ہم پہلے جھوٹ بولتے تھے تو اب جھوٹ بولنا بند کردیا؟کیا اگر ہم پہلے حرام کھاتے تھے تو اب حرام کھانا چھوڑ دیا ۔؟کیا اگر ہم پہلے غیبت, چغلی و بد گوئی کرتے تھے تو کیا ہم اس سے باز آگئے؟ کیا اگر ہم اس سے پہلے شراب پیتے تھے تو اب شراب پینا ترک کر دیا؟ کیا اگر ہم اس سے پہلے دھوکا دیتے تھے تو اب دھوکا دینا بند کردیا؟ غرضیکہ اس رمضان سے پہلے ہم جو بھی برائی کرتے تھے کیا اس برائی سے ہم باز آگئے؟ کیا اس برائی سے ہم نے توبہ کرلیا؟ کیا اللہ کا بتلایا ہوا روزہ کا خاص مقصد لعلکم تتقون (بقرہ/ 183)" تقوی " ہمارے اندر پیدا ہوا؟

    احباب اور دوستو: ہمیں جائزہ لینا ہے کہ کیا ہم اپنی پہلی روش پر قائم و دائم ہیں اور ہمارے اندر روزہ سے کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ۔ کیا ہماری حالت اسی طرح ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہےعن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طع امہ وشرابه( صحیح بخاری / کتاب الصوم) یعنی حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ اسی بنیاد پر بعض علماء نے کہا ہے کہ جھوٹے شخص کی روزہ قبول نہیں ہوتی ہے۔

    ایک دوسری روایت میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ حَظٌّ مِنْ صَوْمِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ حَظٌّ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ وَالنَّصَبُ "(ابن ماجہ ومسند الامام احمد, حدیث صحیح) بہت سارے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جن کو روزہ سے بھوک وپیاس کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا ہے۔ اور بہت سارے قیام کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جن کو اپنے قیام سے شب بیداری و تھکاوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا ہے۔

    کیا ہماری حالت ان دونوں احادیث میں مذکور لوگوں کی طرح ہے یا اس سے الگ ہے؟کیا ہم اپنے اوپر روزہ کا کوئی اثر محسوس کرتے ہیں یا خود ہم نے روزہ کے اوپر اثر ڈالا؟ کیا ہمارا روزہ با معنی و بامقصد تھا جو ہم کو برائیوں سے دور کرنے میں کامیاب رہا یا بے معنے و بے مقصد و بے روح رہا جس کا ہماری زندگی پر کوئی اثر نہیں ہو۔ ہمیں خود اس کا فیصلہ کرنا ہے۔

    بلاشبہ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو یہ عظیم نعمت ملی اور انہوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور اس کے عظیم و خاص مقصد "تقوى " کے اندر اپنے کو ڈھالا۔اور یقینا کتنے بد نصیب اور محروم ہیں وہ لوگ جن کو رمضان کا یہ مہینہ نصیب ہوا لیکن انہوں نے اس ے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی اپنے اندر تقوى پیدا کیا۔ بلا شبہ ایسے لوگ بہت ہی نقصان و خسارہ میں رہے جس سے بڑا اور کوئی نقصا ن و خسارہ نہیں ہے۔ اور یہی حقیقی و اصلی نقصان ہے۔کیونکہ معلوم نہیں آئندہ سال ان کو یہ نعمت دوبارہ ملتی ہے کہ نہیں۔اور درج ذیل حدیث ان حضرات کی آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہےجن کو ماہ رمضان جیسی عظیم نعمت ملی اور انہوں نے اس کی قدر نہیں کی۔

    عن أبي هريرة رضي الله عنه ، أن النبي صلى الله عليه وسلم صعد المنبر ، فقال : " آمين آمين آمين " . قيل : يا رسول الله ، إنك حين صعدت المنبر قلت : آمين آمين آمين . ، قال : " إن جبريل أتاني ، فقال : من أدرك شهر رمضان ولم يغفر له فدخل النار فأبعده الله ، قل : آمين ، فقلت : آمين . ومن أدرك أبويه أو أحدهما فلم يبرهما ، فمات فدخل النار فأبعده الله ، قل : آمين ، فقلت : آمين . ومن ذكرت عنده فلم يصل عليك فمات فدخل النار فأبعده الله ، قل : آمين ، فقلت : آمين "حسن صحيح

    رواه ابن خزيمة و ابن حبان في صحيحه و ابي يعلى الموصلي في مسنده و الطبراني في المعجم الأوسط و البيهقي في الشعب.صححه الالباني رحمه الله في صحيح الترغيب و الترهيب (997) و الله أعلم

    ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ایک بار منبر پر چڑھے تو آپ نے تین بار آمین کہا۔اس پر صحابہ کرام نےآپ سے اس کی وجہ پوچھی ۔ تو آپ نے فرمایا : یقینا میرے پاس حضرت جبرئیل تشریف لائے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ جس کو رمضان کا مہینہ ملا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی اور وہ جہنم میں داخل ہوا تو اللہ تعالی اس کو دھتکا ردے۔اس پر آمین کہو تو میں نے آمین کہا۔ پھر حضرت جبرئیل نے کہاکہ جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سےایک کو پایا لیکن ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آنے کی وجہ سے جہنم میں داخل ہو تو اللہ اس کو دھتکار دے۔ آمین کہو تو میں نے آمین کہا۔ پھر انہوں نے کہا کہ جس کسی کے پاس آپ کا ذکر ہوا لیکن اس نے آپ پر درود نہیں بھیجا اور مر کے جہنم میں داخل ہوا تو اللہ اس کو دھتکار دے۔ آمین کہو تو میں نے آمین کہا۔

    یہ روایت حسن صحیح ہے۔ علامہ البانی نے بھی اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

    اس حدیث سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ جس کو رمضان کا مہینہ ملا اور اس نے اس کو ضائع اور برباد کردیا اور اپنی مغفرت نہیں کراسکا تو اس کے اوپر اللہ کی لعنت اور دھتکار ہے۔کیونکہ جو رمضان میں اپنی مغفرت نہیں کراسکا تو اس کی مغفرت اور کب ہوگی؟ جس کو بھلائیوں اور اچھائیوں کا موسم ملا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی تو پھر اس کی مغفرت اور کب ہوگی؟ اور جس نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ پھر اور کس موقع سے فائدہ اٹھائے گا؟

    اللہ کی اس پر لعنت ہے کیونکہ ماہ رمضان میں اس کے لیے وہ تمام چیزیں اکٹھا ہوجاتی ہیں جو دوسرے دنوں میں نہیں اکٹھا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔ جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ۔ اور ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہےکہ اے بھلائی و خیر کا متلاشی آگے بڑھ اور اے شر و برائی کا خواہاں پیچھے رہ۔ اور اس ماہ میں اللہ تعالی جہنم سے ہر رات جہنمیوں کو آزاد کرتا ہے۔ ایک ایسا مہینہ جس میں سرکش شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں لہذا ان کی رسائی ان چیزوں تک نہیں ہوپاتی ہے جن تک ان کی رسائی غیر رمضان میں ہوتی ہے۔ایک ایسا مہینہ جس میں ایک مومن کو بھلائی و اچھائی کے کام پر معاون و مددگار دستیاب ہوتے ہیں۔ ایک ایسا مہینہ جس میں شہوتوں کا غلبہ کمزور ہوجاتا ہے اور عقل کا غلبہ قوی اور طاقتور ہوجاتا ہے۔

    یہ تمام خصلتیں اور صفات کم ہی کسی اور مہینہ میں جمع ہوتی ہیں ۔ چنانچہ حقیقی محروم وہی ہے جو اس مہینہ کے خیر سے محروم رہا۔

    اسی وجہ سے آپ نے رمضان کے مہینہ کے آنے پر فرمایا: بلا شبہ یہ مہینہ آچکا ہے۔اس کی ایک رات ہزار مہینہ سے بہتر ہے۔جو اس سے محروم رہا وہ تمام خیر سے محروم رہا۔اور محروم وہی ہے جو اس کے خیر سے محروم رہا۔یہ روایت ابن ماجہ کی ہے ۔ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

    لہذا میں اپنے تمام دوست واحباب اور جمیع مسلمانوں سے گذارش کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے رمضان کے بقیہ چندقیمتی دن مت ضائع کیجیے۔ اپنا حقیقی احتساب نفس کیجیے ۔ اصلی جائزہ لیجیے اور اپنی مغفرت کرالیجیے ۔ تقوی پیدا کیجیے اور اپنے کو اللہ کی وعید و تہدید , لعنت , دھتکار , پھٹکار اور ہلاکت سے بچالیجیے ۔ اور حقیقی محروموں میں مت شامل ہوئیے۔

    و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔

    تحریرا فی یوم الخمیس 25 رمضان 1437 ھ / 30 یونیو 2016م الساعۃ 11-1,15 ص
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جزاك الله خيرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں