سورۃ الکہف سے چند نکات

عفراء نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏اگست 5, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    ***** علمتني سورة الكهف : -
    من الأدب مع الله تعالى أن لا يقول العبد سأفعل كذا مستقبلاً إلا قال بعدها إن شاء الله.

    علمتني سورة الكهف :
    " فانطلقا " " فانطلقا " "فانطلقا"
    أن النجاح يحتاج إلى انطلاق ..."

    علمتني سورة الكهف :
    "واذكر ربك اذا نسيت وقل عسى أن يهدينِ ربي لأقرب من هذا رشداً"
    ذكر الله والدعاء علاج للنفس والنسيان"

    علمتني سورة الكهف :
    أن عذاب الدنيا مهما بلغ،
    فإنه لا يقارن بعذاب الآخرة.
    (ثم يرد إلى ربه فيعذبه عذابا نكرا)
    نعوذ بالله من النار

    علمتني سورة الكهف :
    ( احفظ الله يحفظك )
    قال تعالى:
    ( ونقلبهم ذات اليمين وذات الشمال)
    قال ابن عباس لو لم يُقَـلّبوا لأكلتهم الأرض."

    علمتني سورة الكهف :
    أنها نور من بين كل جمعة وجمعة، وحفظ عشر آيات أولها أو آخرها يحفظك من المسيح الدجال ."

    علمتني سورة الكهف :
    على المسلم أن يأوي إلى سورة الكهف تلاوةً وتدبراً وعملاً لينجو من أعظم الفتن، فتنة الدجال وفتنة الدين والمال والعلم والملك"

    علمتني سورة الكهف :
    قال تعالى :" ولا يشعرنَّ بكم أحدًا"
    قال أهل العلم يستفاد من هذه الآية: مشروعية كتمان بعض الأعمال وعدم إظهارها .

    علمتني سورة الكهف :
    أنه أعظم علاج للنسيان هو الإكثار من ذكر الله !!
    ( واذكر ربك إذا نسيت .. ) !
    لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
    *****
    بشکریہ ٹی وی قرآن

    اردو مفہوم
    سورۃ الکھف نے مجھے سکھایا کہ۔۔۔۔
    ٭٭٭
    اللہ تعالیٰ کے ساتھ ادب میں یہ بھی شامل ہے کہ بندہ کسی کام کے بارے میں جب یہ کہے کہ مستقبل میں کروں گا تو ان شاء اللہ (یعنی اگر اللہ نے چاہا تو) ضرور کہے۔
    ٭٭٭
    سورۃ الکھف میں حضرت موسیٰ اور خضر علیہ السلام کے واقعہ میں فانطلقا (پھر وہ چلے ) کی تکرار اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ نجات آگے چلنے کی متقاضی ہے۔
    ٭٭٭

    اور اپنے رب کو یاد کرو جب بھول جاؤ اور کہو کہ مجھے پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کے قریب کی بات کی رہبری کرے گا۔ (آیت نمبر 24 )
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس اور نسیان کا علاج اللہ کا ذکر اور دعا ہے۔

    ٭٭٭
    پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت تر عذاب دے گا۔ (آیت نمبر 87)
    یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کا عذاب چاہے جتنا زیادہ ہوجائے اس کا آخرت کے عذاب سے کوئی مقابلہ نہیں
    ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آمین

    ٭٭٭
    ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلایا کرتے تھے (آیت نمبر 18 )
    اس آیت کے حوالے سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر انہیں کروٹ نہ دلائی جاتی تو زمین انہیں کھا جاتی۔
    اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد رکھیں وہ آپ کی حفاظت کرے گا جیسا کہ اس نے اصحاب کہف کی حفاظت کی۔

    ٭٭٭
    (اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے ) (آیت نمبر 19) اس آیت سے اہل علم نے یہ فائدہ اخذ کیا ہے کہ بعض اعمال کو چھپانا اور ظاہر نہ کرنا شریعت میں جائز ہے۔
    ٭٭٭
    یہ سورۃ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک نور ہے اور اس کی پہلی اور آخری دس آیات کو یاد کرلیں تو آپ مسیح دجال سے محفوظ رہیں گے۔

    ٭٭٭
    مسلمان کو چاہیے کہ تلاوت اور تدبر کے ذریعہ سے سورۃ الکھف کے سائے میں آئے تاکہ عظیم فتنوں، فتنہ دجال، دین، مال، علم اور بادشاہی کے فتنوں سے نجات پائے۔

    ٭٭٭
    واذکر ربک اذا نسیت۔
    بھولنے کا سب سے بڑا علاج یہ ہے کہ انسان اللہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ کرے۔
    لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
     
    • اعلی اعلی x 4
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا!

    سورۃ کہف کے لاتعداد اسباق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ والدین اگر نیک اور صالح ہوں تو یتیمی کے بعد بھی اللہ ان کی اولاد کی حفاظت فرماتا ہے۔

    وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ۚذَ‌ٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا

    اور جو دیوار تھی سو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا پس تیرے رب نے چاہا کہ وہ جوان ہو کر اپنا خزانہ تیرے رب کی مہربانی سے نکالیں اور یہ کام میں نے اپنے ارادے سے نہیں کیا یہ حقیقت ہے اس کی جس پر تو صبر نہیں کر سکا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔ بہت عمدہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    وایاکم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں