کیا سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی ضرورت ہے؟

زبیراحمد نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏ستمبر 7, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات استوار کرنے یا تعلقات معمول پر لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فلسطینی نصب العین ( کاز) میں دلچسپی مسلسل کم ہوتی جارہی ہے،اس لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا ایشو بھی رو بہ انحطاط ہونا چاہیے۔

    سعودی عرب کی اولین ترجیحات اقتصادی اصلاحات ، ایران کے توسیع پسندانہ عزائم اور پڑوسی ممالک کے سقوط سے لاحق سکیورٹی خطرات ہیں۔اسرائیل کا ان ایشوز میں کوئی براہ راست کردار نہیں ہے اور اس کو ان میں کوئی حصہ بھی نہیں لینا چاہیے۔

    سعودی عرب کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے اسرائیل کے رضاکارانہ دورے کے بعد قومی دھارے کے ایک سعودی اخبار میں متعدد مضامین شائع ہوئے تھے۔ان میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کے مزعومہ فوائد وثمرات کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ پھر بین الاقوامی اخبارات اور تحقیقی مراکز نے اس ایشو پر اپنی توجہ مبذول کی اور ان میں سے بعض نے تو اس کو دوطرفہ تعلقات کے ضمن میں ایک پُرخطر پیش رفت قرار دیا۔بعض اخبارات نے ان ملاقاتوں کے بارے میں افواہیں پھیلائیں جو درحقیقت اسرائیل اور سعودی عرب کے سینیر عہدے داروں کے درمیان ہوئی ہی نہیں تھیں۔

    جیسا کہ اسرائیلی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات استوار کرنے میں گریزپا رہا ہے۔سعودی مملکت اگر ایسا کرتی ہے تو اس کو اسلامی شناخت ، الحرمین الشریفین کے خادم اور ضامن کی حیثیت ،اپنی تاریخ ، ماضی کے مؤقف ،جن میں فلسطینی اور عرب حقوق کی بحالی پر زوردیا گیا تھا اور اس کی اسرائیلی عہدے داروں یا سفارت خانوں میں کسی قسم کی ملاقاتوں اور تعلقات کی استواری کو مسترد کرنے کے مؤقف کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔اس سے سعودی مملکت کو کیا مفاد حاصل ہوگا؟

    میں لوگوں سے اس بات کی توقع کرتا تھا کہ وہ یہ کہیں گے کہ اسرائیل الریاض کی اقتصادی اصلاحات اور سکیورٹی خطرات کے مقابلے میں مدد کرے گا کیونکہ اس کو مبینہ طور پر ماسکو سے واشنگٹن تک اثرورسوخ حاصل ہے۔پھر وہ فلسطینیوں کو رعایتیں دے گا تا کہ تعلقات کو معمول پر لانے کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

    تاہم اسرائیل اقتصادی اصلاحات کے معاملے میں کسی مدد کی پیش کش نہیں کر سکتا ہے۔سعودی عرب کو جن چیزوں کی ضرورت ہے ،وہ اس کی مدد کے بغیر بھی دستیاب ہے۔ اگر ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ ہمیں سعودی عرب میں کسی تزویراتی منصوبے کی تکمیل کے لیے اسرائیل سے کسی جدید ڈیوائس خریدنے کی ضرورت ہے تو ایسی ہزاروں تھرڈ پارٹیاں ( تیسرے فریق) موجود ہیں جو اس ڈیوائس کو خریدنے اور اس کو ہمیں برآمد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    سکیورٹی

    اسرائیل سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی بہت کچھ نہیں کرسکتا ہے۔جب ہم مسلم اور عرب اتحاد بنائیں گے تو وہ ایک بوجھ ہوگا۔الریاض مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات عامہ کے ضمن میں جو بدترین امر کرسکتا ہے،وہ اس کا ایران کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ اتحاد ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ تہران کے لیے ایک ایسا تحفہ ہوگا جس کا وہ ایک طویل عرصے سے منتظر ہے۔

    اسرائیل یمن یا شام میں سعودی عرب کی حمایت کے لیے کیا پیش کرسکتا ہے؟ کیا وہ شام میں سلفی اسلامی گروپوں کے ساتھ کھڑا ہوگا اور انھیں طیارہ شکن ہتھیار مہیا کرے گا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی مرکزی حریف فلسطینی جماعت حماس کی ہوبہو نقل ہیں۔ کیا وہ ایسی کوئی چیز مہیا کرتا ہے جو سعودی عرب ،ترکی اور قطر مہیا نہیں کرسکتے ہیں؟

    سعودی عرب یمن میں ( حوثیوں کے خلاف) اتحاد کی قیادت کررہا ہے اور اس کو مزید امداد یا حمایت کی ضرورت نہیں ہے۔اگر یمن میں پیچیدہ سیاسی اتھل پتھل اور اعداد وشمار آڑے نہ آتے اور یمنی شہریوں کی زندگیوں کو بچانے کا معاملہ نہ ہوتا تو سعودی عرب فوجی لحاظ سے اس جنگ کو کب کا ختم کرسکتا تھا۔ سعودی عرب اور عالمی برادری تنازعے کا کوئی پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔اگر امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی حالیہ سفارتی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں تو سعودی عرب پھر بھی اس جنگ کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ ان ہر دو صورتوں میں اسرائیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

    یہ درست ہے کہ اسرائیل سراغرسانی میں مضبوط ہے ،مگر اس کے لیے یہ ناممکن ہے کہ اس کے پاس یمن میں وہ ڈیٹا ہو جس سے سعودی عرب بے خبر ہو اور جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اہمیت کا حامل ہو۔اس کا شام میں بھی اطلاق ہوتا ہے جہاں سعودی عرب ،اردن ،ترکی اور قطر کے شاندار انٹیلی جنس ذرائع موجود ہیں۔وہاں ایک بین الاقوامی ''حلقہ'' ( سرکل) بھی بروئے کار ہے جو انٹیلی جنس ڈیٹا کا آپس میں تبادلہ کرتا ہے۔اس حلقے میں امریکا ،یورپی یونین ،سعودی عرب اور اس کے اتحادی شامل ہیں۔

    اثر ورسوخ
    اسرائیل کے اثرورسوخ کے بارے میں مبالغے سے کام لیا جاتا ہے۔اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے پر تحقیقی کام کرنے والے مشرق وسطیٰ منصوبے کے ڈائریکٹر ڈینیل لیوی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ''عربوں کے علاوہ چین میں یہ شدید احساس پایا جاتا ہے کہ اسرائیل واشنگٹن اور لندن ایسے دارالحکومتوں میں فیصلہ ساز حلقوں میں گہرے اثر ونفوذ کا حامل ہے۔یہ ایک مبالغہ آمیز ایشو ہے اور اسرائیل کے براہ راست مفادات سے ماورا اس پر انحصار کرنا کوئی عقل مندانہ بات نہیں ہوگی کیونکہ اسرائیل صرف اپنے مفادات کا دفاع اور تحفظ کرتا ہے۔

    جب اسرائیل نے ایران کے جوہری منصوبے کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی سیاست دانوں کو بھرتی کیا تھا تو اس وقت دراصل اس کو خطے نہیں بلکہ اپنی سکیورٹی سے متعلق تشویش لاحق تھی۔ اسرائیل کو یقینی طور پر ان ہتھیاروں کے بارے میں کوئی تشویش لاحق نہیں ہے جو شامیوں کے خلاف استعمال کیے جارہے ہیں۔

    الریاض کو واشنگٹن یا کسی اور یورپی دارالحکومت میں اپنے مفادات کے فروغ کے لیے اسرائیلی اثر ورسوخ کی کبھی ضرورت نہیں ہوگی۔تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ سعودی عرب کا اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنا ہی کافی اثرو رسوخ ہے۔جب کبھی اسلحے کے کسی سودے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کو ووٹ کی ضرورت پیش آئی تو اس نے اپنا یہ اثر ورسوخ استعمال کیا ہے۔

    کیا اسرائیل کے شام میں وہی مقاصد ہیں جوسعودی عرب کے ہیں؟ کیا اسرائیل واقعی صدر بشارالاسد کے نظام کی رخصتی چاہتا ہے؟بالخصوص جبکہ وہ نصف صدی تک شامی صدر اور ان کے والد کے ساتھ گزارہ کرتا رہا ہے۔اسد رجیم نے اسلام پسندوں اور اسرائیل کے قبضے کے مخالف لوگوں کی بالادستی کی حامل منتخب حکومت کی جگہ لی تھی۔اسرائیلی سیاست دانوں کے بیانات اور اسرائیل کے تحقیقی مراکز کی جانب سے شائع شدہ تجزیوں کے مطابق تو اسرائیل ہرگز بھی ایسا نہیں چاہتا ہے۔

    جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے فلسطینیوں کے لیے صورت حال میں بہتری آئے گی،انھیں لیوی کا مضمون پڑھنا چاہیے:''نیتن یاہو فلسطینیوں کے بغیر امن چاہتے ہیں''۔یہ مضمون گذشتہ ماہ اسرائیلی اخبار ہارٹز میں شائع ہوا تھا۔یہ واضح ہے کہ اسرائیلی برطانوی شہری لیوی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی وکالت کرنے والے سعودیوں سے زیادہ حقیقت پسند ہیں۔
    ------------------------------
    جمال خاشقجی سعودی عرب کے تجربے کار صحافی ، کالم نگار اور مصنف ہیں۔ وہ جلد نشریات آغاز کرنے والے العرب نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ماضی میں وہ امریکا میں سعودی عرب کے سابق سفیر شہزادہ ترکی الفیصل کے میڈیا مشیر رہے تھے۔ وہ مختلف اخبارات کے افغانستان ،الجزائر ،کویت ،سوڈان اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں غیرملکی نامہ نگار رہ چکے ہیں۔وہ سعودی عرب اور دوسرے بین الاقوامی چینلوں پر حالات حاضرہ اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تجزیے اور تبصرے کرتے رہتے ہیں۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/politi...ب-کو-اسرائیل-کے-ساتھ-تعلقات-کی-ضرورت-ہے؟.html
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    گرنا سکڈ میزائل کا مکہ کے نزدیک
    پہاڑوں میں گھرا ہوا طائف شہر مکہ معظمہ سے صرف 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تین روز قبل اس شہر کو میزائل حملے میں ہدف بنایا گیا اور یہ یمن میں جاری جنگ میں ایک نئی اور خطرناک پیش رفت ہے۔اس سے اس بات کی بھی یاد دہانی ہوتی ہے کہ یمن میں جاری تنازعہ علاقائی ہے اور سعودی عرب کا یہ مؤقف درست ثابت ہوتا ہے کہ اس جنگ کا آغاز سے ہی ہدف وہی ہے۔

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی بیلسٹک میزائل فائر کررہے ہیں اور وہ غالباً یہ کام سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ تعاون کے ذریعے کررہے ہیں اوران کے پاس روسی ہتھیار موجود ہیں۔

    اب ان حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے جن کے نتیجے میں یمن میں تنازعے کی راہ ہموار ہوئی اور جب سعودی عرب کی قیادت میں عرب خلیجی اتحاد نے مداخلت کی تو اس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اس تنقید میں درست طور پر یہ اشارہ بھی کیا گیا تھا کہ قبائلی تنازعات میں الجھے ہوئے اس پہاڑی ملک میں جنگ کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گا۔

    سعودی عرب نے چار سال تک تنازعے کے پُرامن حل کی کوشش کی تھی۔یہ عمل ابتدا میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن یمن کی کل آبادی کے 15 فی صد سے بھی کم کی نمائندگی کرنے والے حوثیوں نے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی اور یہ امن منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے بزور طاقت دارالحکومت صنعا پر چڑھائی کردی۔اس پر قبضہ کر لیا اور وہاں اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی۔

    حوثیوں کے صنعا پر قبضے کے بعد بھی بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سعودی عرب صورت حال کو کنٹرول کرسکتا ہے یا وہ اس کو بالکل نظرانداز کردے،اپنی سرحدوں کو بند کردے اور یمنیوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دے لیکن حوثیوں نے بعد میں طاقت کے ذریعے عملی طور پر قریب قریب تمام یمن پر قبضہ کر لیا۔یوں پہلی مرتبہ علاقائی محاذ آرائی کے دوران میں سعودی عرب کے جنوب میں واقع ملک ایران کی جھولی میں جا گرا۔

    یہ کم وبیش اس وقت ہوا تھا جب ایران عراق ،سعودی عرب کے شمال اور شام کو کنٹرول کرنے کے لیے کوشاں تھا۔اس کے علاوہ وہ بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی خطے میں بھی گڑ بڑ پھیلانے کی کوششیں کررہا تھا۔ سعودی عرب کو تین اطراف سے گھیرنے کے لیے ایران کے منصوبے کو سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔

    حوثیوں کے صنعا میں اقتدار پر قبضے کے بعد یمن ایرانیوں کے لیے ایک فوجی اڈا بن گیا۔حوثی لبنانی حزب اللہ کی طرح تہران نظام کے لیے ایک ملیشیا بن گئے۔ممکن ہے کہ اس جغرافیائی سیاسی تجزیے کی بنیاد پر بھی سعودی عرب اور اس کے اتحادی اس جنگ میں نہ شامل نہ ہوتے۔

    پھر ہوا یہ کہ حوثی باغیوں نے یمنی فوج کے ہتھیاروں اور فوجی آلات پر بھی قبضہ کر لیا۔ان میں سکڈ میزائلوں کا ذخیرہ بھی شامل تھا۔یہ سعودی عرب کے قلب کے لیے خطرہ بننا کی صلاحیت رکھتے ہیں۔گذشتہ سال کے اوائل میں، میں نے ایک مضمون لکھا تھا اور اس میں بتایا تھا کہ سعودی عرب کی جنوبی سرحد کے ساتھ واقع شہر ہی حوثیوں سے درپیش خطرے سے دوچار نہیں ہوں گے بلکہ وہ دور دراز واقع شہر جدہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

    روسی سکڈ ڈی میزائل 800 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جنگ کے آغاز میں سعودی فضائیہ نے اس اڈے کو نشانہ بنایا تھا جہاں یہ میزائل رکھے گئے تھے مگر یہ بھی یقین کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض میزائلوں کو خفیہ جگہوں پر بھی ذخیرہ کیا گیا ہے۔

    ایران کے لیے اڈا
    اسی ہفتے ایک سکڈ ڈی میزائل 700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے طائف میں آ کر گرا ہے۔یہ شہر صوبہ مکہ میں واقع ہے اور سعودی عرب کا قلب شمار ہوتا ہے۔سعودی عرب کے دفاعی نظام نے اس میزائل کا سراغ لگا لیا تھا۔اپنی نوعیت کی یہ پہلی پیش رفت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یمنی جنگ کوئی داخلی مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ بہت سے لوگ یقین کرتے ہیں بلکہ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یمن سعودی عرب کے خلاف ایران کا ایک فوجی اڈا بن چکا ہے۔

    یہ ایک حقیقت ہے اور یہ محض اس نظریے کی بنیاد پر ایک تجزیہ نہیں ہے کہ یمن میں مختلف دھڑوں کے درمیان تنازعہ ہے۔جب ایران نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ تخلیق کی تو اس کا مقصد ہرگز بھی لبنانی مزاحمت کی مدد کرنا نہیں تھا جو جنوبی لبنان کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے جاری تھی۔حزب اللہ ایران کے لیے ایک ہراول فوجی قوت کے طور پر ابھری تھی۔اس کو وہ مغرب کے ساتھ مذاکرات اور خطے کے ممالک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کرتا رہا تھا۔

    آج حزب اللہ ایرانیوں کی جانب سے شام اور عراق میں جنگ آزما ہے۔اس نے ماضی میں یمنی حوثیوں کو تربیت دی تھی اور انھیں حزب اللہ کے مشابہ انصاراللہ کا نام دیا تھا۔اس نے انھیں یہ بھی سکھایا تھا کہ یمن میں خالی خولی نعروں کو کیسے دُہرانا ہے ،جیسے مرگ بر امریکا اور مرگ بر اسرائیل کے نعرے کیسے لگانے ہیں۔

    یمن بحران کے آغاز سے ایک ایرانی مسئلہ بھی بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مصالحت اور سیاسی حل کی ہر کوشش کو سبوتاژ کردیا جاتا ہے۔ سعودی عرب ،اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اور مغربی ممالک نے تنازعے کے حل کے لیے دو تصورات سے اتفاق کیا تھا: سیاسی فریم ورک میں حوثیوں کی شرکت اور دوسرا مسئلے کے جمہوری حل کی حمایت۔ یعنی عوام کے نمائندے اپنا آئین خود وضع کریں اور حکومت کے لیے اپنے نمائندوں کا بھی خود انتخاب کریں۔تاہم ایران نے حوثیوں کو اس فارمولے کو تبدیل کرنے کے لیے آشیرباد دی ۔چنانچہ انھوں نے پہلے صوبے عمران پر قبضہ کر لیا۔پھر دارالحکومت صنعا پر بھی قابض ہوگئے اور اقتدار میں حصہ بقدر جثہ کے بجائے زیادہ حصہ مانگنے لگ گئے۔

    اس میزائل حملے سے سعودی عرب کے اس مؤقف کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ایران اس وقت یمن کے شمال میں ایک فوجی علاقہ بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ سعودی عرب کو ڈرایا دھمکایا جاسکے اور اس کام کے لیے اس نے حوثیوں کا انتخاب کیا تھا۔

    اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یمن میں جاری تنازعے کا خواہ کوئی سیاسی یا فوجی حل تلاش کیا جاتا ہے،اس تنازعے کو علاقائی محاذ آرائی سے الگ تھلگ نہیں کیا جاسکتا ہے اور خطہ یمن میں جاری جنگ کے پس پردہ محرکات کو نظرانداز نہیں کرسکتا ہے۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2016/10/12/-گرنا-سکڈ-میزائل-کا-مکہ-کے-نزدیک-.html
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں