یوم ِ عرفہ کے حوالے سے چند احادیث

عبد الرحمن یحیی نے 'ماہ ذی الحجہ اور حج' میں ‏ستمبر 11, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    2,319
    یوم ِ عرفہ کے حوالے سے چند احادیث
    1 ۔ اللہ اس دن سب سے زیادہ اپنے بندوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَةَ) صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: حج اور عمرہ اور یوم عرفہ کے دن کی فضیلت)
    3288 . حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ: عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ "
    حکم : صحیح

    3288 . سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو،وہ (اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے:یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟"


    2 ۔عرفہ کے دن کی بہترین دعا

    جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ فِي دُعَاءِ يَوْمِ عَرَفَةَ) جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: عرفہ کے دن کی دعا کابیان)
    3585 . حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدِينِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَدِينِيُّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ
    حکم : حسن

    3585 . سیدنا عبداللہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی دعاہے اور میں نے اب تک جو کچھ (بطورذکر) کہا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے نبیوں نے کہاہے ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے: '' لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ ' '
    ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
    ۲- حماد بن ابی حمیدیہ محمد بن ابی حمید ہیں اور ان کی کنیت ابوا براہیم انصاری مدنی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔


    3 ۔ اللہ تعالٰی اپنے گرد و غبار سے اٹے بندوں پر فخر کرتا ہے

    إنَّ اللهَ عزَ وجلَّ يباهي ملائكتَهُ عشيةَ عرفةَ بأهلِ عرفةَ فيقولُ : انظروا إلى عبادي أتوني شُعثا غُبرا
    الراوي : عبدالله بن عمرو | المحدث : أحمد شاكر | المصدر : مسند أحمد
    الصفحة أو الرقم: 12/42 | خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح

    سیدنا عبداللہ بن عمرو رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ( اللہ تعالی یوم عرفہ کی شام فرشتوں سے میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کےساتھ فخرکرتے ہوۓ کہتے ہیں میرے ان بندوں کودیکھو میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوۓ آۓ ہیں )
    مسند احمد علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوصحیح قرار دیا ہے ۔


    4 ۔ عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ

    صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ) صحیح مسلم: کتاب: روزے کے احکام و مسائل (باب: ہر مہینے تین دن کےے روزے رکھنا اور عرفہ ‘عاشورہ ‘سوموار اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے)
    2746 .صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ»
    حکم : صحیح

    2746 . سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرفہ کے دن کا روزہ میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کاکفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی اور یوم عاشورہ کاروزہ،میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔"

    5 ۔ عرفہ کے دن ، دین اسلام مکمل ہوا

    صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ) صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:ایمان کی کمی و زیادتی کے بارے میں)
    ترجمة الباب: وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَزِدْنَاهُمْ هُدًى} [الكهف: 13] {وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا} [المدثر: 31] وَقَالَ: «اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ» فَإِذَا تَرَكَ شَيْئًا مِنَ الكَمَالِ فَهُوَ نَاقِصٌ ترجمۃ الباب : اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی ( تفسیر ) کا بیان “اور ہم نے انھیں ہدایت میں زیادتی دی” اور دوسری آیت کی تفسیر میں کہ “اور اہل ایمان کا ایمان زیادہ ہو جائے” پھر یہ بھی فرمایا “ آج کے دن میں تمہارا دین مکمل کر دیا” کیونکہ جب کمال میں سے کچھ باقی رہ جائے تو اسی کو کمی کہتے ہیں۔پس ان آیات سے ترجمہ باب کا اثبات ہوا۔

    45 . حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو العُمَيْسِ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلًا، مِنَ اليَهُودِ قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا. قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟ قَالَ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3] قَالَ عُمَرُ: «قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ»
    حکم : صحیح

    45 . ہم سے اس حدیث کو حسن بن صباح نے بیان کیا، انھوں نے جعفر بن عون سے سنا، وہ ابوالعمیس سے بیان کرتے ہیں، انھیں قیس بن مسلم نے طارق بن شہاب کے واسطے سے خبر دی۔ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمومنین! تمھاری کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس ( کے نزول کے ) دن کو یوم عید بنا لیتے۔ آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا ( سورہ مائدہ کی یہ آیت کہ ) “ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو ( خوب ) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
     
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    460
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    پیغامات:
    10,324
    بارک اللہ فیک یا شیخ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں