غیر مسلموں کے لیے خواتین اور مرد کی نماز کے درمیان کسی دیوار یا پردہ کھڑا کرنے کی دلیل؟

انا نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 13, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    السلام علیکم

    غیر مسلموں کے لیے یہ سمجھنا ہی بہت مشکل ہے خواتین مرد کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز پڑھیں ۔ اس پر اگر بلکل ہی ایک الگ پردہ لگانے یا عارضی دیوار کھڑی کرنے کی بات کی جائے تو مزید یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید واقعی مسلمان معاشرے میں خواتین کو مردوں کے برابر نہیں سمجھا جاتا ۔
    کچھ مسلمانوں کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ اس طرح مساجد یا نماز کی جگہ پر پردہ یا دیوار کھڑی کرنے کی کوئی حقیقت نہین ملتی ۔ یہ سب کلچر ہے ، دین سے کوئی تعلق نہین وغیرہ وغیرہ ۔
    آپ لوگوں کا اس بات پر کیا موقف ہے ؟دیوار ہونی چاہئے تو کیوں ہونی چاہئے؟ مسلمانوں میں تو پھر بھی پردہ کا جو تصور ہے اس کی بناء پر بات سمجھ میں آتی ہے ، غیر مسلموں کے لیے پردہ ہی قابل قبول نہیں تو انہیں کسی اور زاویے سے کیسے سمجھا سکتے ہیں ؟میرا مطلب ہی کہ پردہ کے علاوہ کوئی اور دلیل؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    وعلیکم السلام
    انا، میں بہت مفید جواب تو نہیں دے پاؤں گی لیکن فورا جو بات ذہن میں آئی وہ یہ کہ آپ اگر دین کی بات نہ بھی کریں جب بھی ایک فطری حجاب عورتوں اور مردوں میں موجود ہوتا ہے۔ خواتین کا مردوں کے ساتھ تعامل مختلف ہوتا ہے اور خواتین کے ساتھ مختلف۔ کوئی خاتون پردہ نہ کریں مگر جھجک اور حیا پھر بھی ہوتی ہے۔ عام مشاہدہ تو یہی ہے۔ کو - ایجوکیشن اداروں میں بھی خواتین اور مردوں کے کامن رومز وغیرہ الگ الگ ہی ہوتے ہیں ۔ ورک پلیس ایک ہوتی ہے، لیکن عبادت خانے، جم، ایکٹیویٹی رومز اور دیگر چیزیں الگ ہی ہوتی ہیں۔ کیونکہ ضروریات بھی تو مختلف ہیں۔
    جہاں تک خواتین کا پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا ہے تو میری رائے یہ ہے کہ: کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف اسلام میں داخل ہو کر ہی سمجھی جا سکتی ہیں۔ اسلام سے باہر رہ کر اور تعصب کی نگاہ سے دیکھ کر ہر چیز کو منطقی انداز سے لیا جائے تو بات سمجھ نہیں آئے گی۔ ہم مسلمانوں کے پاس کئی سارے دلائل ہیں معاشرتی، اخلاقی اور دیگر۔ لیکن یہ سب اسی صورت میں مفید نظر آئیں گے جب آپ اسلام کی روح اور اس کے اصل مقاصد کو سمجھیں گے۔ ورنہ جزوی طور پر ، ایک دو چیزوں کو الگ الگ ، سیاق و سباق سے ہٹ کر تنقید کا نشانہ بنانا بے حد آسان ہے۔
    اسلام دین فطرت ہے، ہم اسے فطرت کے اصولوں کے مطابق بھی سمجھ سکتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تو فطرت ہی مسخ ہوچکی ہے لوگوں کی!!
    آپ زیادہ سٹریٹ فارورڈ ہوں تو صاف کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے مذہب نے ایسے حکم دیا ہے اور ہم اس کے پابند ہیں تو دوسروں کا اس کا احترام کرنا چاہیے۔ مغرب میں رواداری اور برداشت کا بہت چرچا سنا ہے۔۔۔! ;)

    باقی باتیں بعد میں، پہلے مجھے اس کا جواب مغربی معاشرے سے چاہیے کہ وہاں خواتین کو مردوں کی نسبت تنخواہ کم کیوں دی جاتی ہے :rolleyes: جبکہ وہ لوگ تو کام کے معاملے میں دونوں کی برابری کی شدت سے قائل ہیں؟؟ ہمارے ممالک میں تو تنخواہ کا تعیین جنس کے بجائے گریڈ سے ہوتا ہے پھر وہ چاہے مرد ہو یا عورت تنخواہ برابر ہو گی۔ وہاں ایسا کیوںنہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    پہلے دینی حکم سمجھ لینا چاہیے، مردوں عورتوں کی صفوں کے درمیان آڑ یا دیوار بنانا ضروری نہیں۔ بلکہ صف کو ایسے ہونا چاہیے کہ مردانہ اور زنانہ صفیں الگ الگ ہوں اور مردوں کی صف عورتوں سے آگے ہو۔ یعنی دیوار یا پردے کے بغیر پہلے مردانہ صف پھر زنانہ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور ان کے عمل پر ہم عمل کر رہے ہیں۔
    اگر کسی مسجد میں مردو عورتوں کی صفیں برابر برابر ذرا فاصلے سے بنا دی جائیں تو فقہا کے مطابق نماز درست تو ہو گی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف ہو گی۔
    اسی طرح اگر کسی مسجد میں مردوں کی صفوں کے عین اوپر گیلری یا اوپری منزل میں خواتین کی نماز کا انتظام ہے تو یہ بھی درست ہے۔
    (سوائے احناف کے مذہب میں جن کے نزدیک عورت مرد کے برابر میں نماز پڑھے تو اس کے قریب پڑھنے والے کی نماز باطل ہو گی۔ یہاں یہ یاد رہے کہ پاکستان میں احناف کی زیادہ تر مساجد میں عورتوں کے لیے کوئی انتظام نہیں ہوتا نہ حنفی خواتین مساجد جاتی ہیں۔ )
    اب آتے ہیں عقلی سوالات کی جانب تو اولا یہ ایمان اور اطاعت کی باتیں ان کی سمجھ میں آتی نہیں پھر بھی اگر کسی غیر مسلم کو اس مسئلے پر خواتین کے لیے بہت ہی غم ہو رہا ہے تو اس سے پوچھنا چاہیے کہ کوئی آپ کی بیوی یا بیٹی کو گھورے تو آپ کو برا کیوں لگتا ہے؟ اسی طرح کسی عورت کی کال میاں کے نمبر پر زیادہ آنے لگے تو بیویوں کو برا کیوں لگنے لگتا ہے؟ ہم سب اپنے دنیاوی معامالات میں اتنے سیانے ہیں کہ ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ روز روز کا اختلاط کسی دن رنگ نہ لے آئے لیکن جب مذہب وہی احتیاط کرے تو کسی کو تکلیف ہوتی ہے۔ بس اسلام بھی یہی چاہتا ہے کہ اللہ کی بندیاں سکون سے نماز ادا کریں اور بدنیت لوگ انہیں گھور کر پریشان نہ کر سکیں نہ ہی اللہ کا گھر برے لوگوں کی وجہ سے برائی کا مرکز بنے۔ اس لیے خواتین کی صف پیچھے بنتی ہے۔ اس سے ایک مومن عورت کی شان میں کوئی کمی نہیں ہوتی نہ ہی صف میں پیچھے ہونے کا مطلب ایمان میں پیچھے ہونا ہے۔ جو مومن ہے وہ مرد ہو یا عورت اللہ کے نزدیک اسی کی عزت زیادہ ہے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔بالکل اسی طرح جیسے مردوں سے اوپر گیلری میں نماز پڑھنے سے ساری خواتین ایمان میں مردوں سے اونچی نہیں ہو جاتیں۔
    صف میں آگے ہونے سے عورتوں کو مکمل پردہ کرنا پڑے گا کیوں کہ اجنبی مردوں کی سامنے موجودگی میں وہ نقاب نہیں اتار سکتیں۔ صف میں پیچھے ہونے سے وہ نقاب دستانے وغیرہ اتار سکتی ہیں۔آرام سے بیٹھ سکتی ہیں۔ یہ ان کے لیے زیادہ آرام دہ ہے۔ بالکل الگ ہال میں ہونے کی صورت میں اس سے بھی زیادہ سکون ہوتا ہے آپ نے دیکھا ہو گا شیر خوار بچوں کی مائیں انہیں فیڈ کروا رہی ہوتی ہیں۔ تو برابری کے نام پر خواتین کو آزار میں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
    ان سے کہیے کہ مسلمان عورتوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تو آپ ان کے غم میں کیوں مرے جا رہے ہیں۔ ہم خود بھی مرکز نگاہ بننے کی بجائے سکون سے رب کی عبادت کے لیے مسجد جاتی ہیں۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہمارا مالک ہماری طبیعت کے مطابق ہمیں وہی مقام دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہے۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 14, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہ بات بالکل درست ہے۔ حیا اور حجاب اسلام کی بنیادی اقدار میں سے ہے، دنیا کے کسی بھی مذہب کو سمجھنے کے لیے اس کی اقدار کو سمجھنا پڑتا ہے۔ اگر بات نصرانی یا یہودی سے ہورہی ہو تو معاملہ بہت ہی آسان ہے کیوں کہ اسلام ابراہیمی ادیان ہی میں سے ہے۔یہود ونصاری کے اپنے مذہب میں عورتوں اور مردوں کا باحیا ڈریس کوڈ بھی ہے اور اخلاقی قواعد بھی۔کبالا میں محرم نامحرم اور حجاب جیسے احکامات آپ کو بآسانی مل جاتے ہیں۔یہودیوں کی مذہبی تقریبات میں عورتوں کی جگہ بالکونی پر بنائی جاتی تھی جو اوپر سے مذہبی تقریب کو دیکھ سکتی تھیں، آج بھی ان کی مذہبی نوعیت کی تصویروں میں آپ کو ایسے مناظر مل جائیں گے۔ نصرانی چرچ میں بھی مردوں اور عورتوں کی مخلوط سروس منع تھی۔ بعد میں نصرانی فرقوں نے جدیدیت کی خاطر جو ترامیم کی ان کے نتیجے میں آج کے چرچ میں مخلوط سروس ہوتی ہے۔ یہوی اور نصرانی دلہنیں آج بھی نقاب کی ایک مہین شکل استعمال کرتی ہیں جو ایک جالی دار ٹکڑے جیسا ہو کر رہ گیا ہے لیکن پہلے یہ ویسا ہی نقاب ہوتا تھا جو مسلم خواتین استعمال کرتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مجلس پر اسی بارے میں بات ہوئی تھی۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/خ...ھانپیں-یہودی-علماءکا-فتویٰ.18871/#post-331432
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    یہ کیا ہے؟
     
  6. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ عبادت خانے ، جم ، ایکٹیوٹی رومز سب ایک ہی ہیں ۔ یہ تو کافی پرانے زمانے کا مشاہدہ ہے۔ آج کے زمانے سے اس کا کوئی تعلق نہین ۔ اب تو واش رومز بھی ایک ہی بننا شروع ہو چکے ہیں۔
    اسی طرح آپ کو ہمارے ادارے کے اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ہم تو بغیر کسی تفریق کے مرد و عورت کو یکساں سہولت دینا چاہتے ہیں ۔ آپ کا مذہب اداروں کے اندر تعصب کا سبب بن رہا ہے ۔ ہم یہ نہین کر سکتے۔کوئی اور ٹھوس دلیل لائیں ۔
    موضوع کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایک غلط بات دوسری غلط بات کا جواز نہیں بن سکتی۔ اور ہم اس چیز پر قابو پانے کی مکمل کوشش کر رہے ہیں ۔
     
    • مفید مفید x 1
  7. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    نہیں یہ اتنی بڑی بات نہیں مانی جاتی کہ اس پر برا منایا جائے۔اول تو میں نے گوروں کو گھورتے نہین دیکھا ،یہ کام دیسی حضرات ہی شوق سے کرتے ہیں ۔پھر ایسی کوئی بات ہوتی تو کم از کم یہ مسئلہ کہیں نا کہیں اخبارات وغیرہ میں ضرور سامنے لایا جاتا۔ ہاں پینے پلانے کے بعد ان کو اپنا ہوش نہین رہتا ۔ اس حالت میں یہ تو کسی کو ختم بھی کر دیں تو پتہ نا چلے۔
    متفق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    جہاں تک میری معلومات ہیں. مسجد نبوی میں عورت اور مرد کی نماز کے درمیان کوئی آڑ یا پردہ نہیں تھا. مردوں کی صفیں پہلے اور عورتوں کی بعد میں ہوتی تھی .ضرورت کے تحت اس کا رواج بعد میں ہوا. اگر عورت اب بھی مکمل حجاب میں ہو تو دیوار کی ضرورت نہیں . وہ ویسے ہی مردوں کی صفوں کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز پڑھ سکتی ہیں.
     
    • مفید مفید x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    ہاں جم کے متعلق میری معلومات واقعی غلط تھیں البتہ واش رومز کا ایک ہونا پہلی بار سننے میں آیا ہے۔
    یعنی آپ اگر مردوں کو خواتین کے مقابلے میں تنخواہ زیادہ دیں تو وہ عین انصاف ہے بھلے خواتین کتنا بھی احتجاج کریں
    یہ بات حقیقت ہے میں مفروضوں کی بنا پر بات نہیں کر رہی، کم از کم یو کے میں تو خواتین کو صرف خاتون ہونے کی بنا پر تنخواہ کم دی جاتی ہے اس کے علاوہ بھی کئی ناانصافیاں کی جاتی ہیں جن کی بنا پر وہاں کی پروفیشنل خواتین سخت نالاں رہتی ہیں
    ۔ یہ تعصب نہیں اور ہمارے مذہب میں کوئی بات لاجکل بھی ہو اور خواتین کو اعتراض بھی نہ ہو تو بھی وہ تعصب ہے۔ بھئی جس نے نماز پڑھنی ہے آپ اس سے تو پوچھ لیں کہ جی آپ کو پچھلی صف میں کھڑا ہونا برابری کے خلاف لگتا بھی ہے یا نہیں۔ اگر عوام کا معیار ہی دلیل ٹھہری تو آپ پولنگ کروا لیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
    ورنہ ٹھیک ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصادق چلتے رہیے اور صاف کہہ دیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہمارے ادارے میں کوئی گنجائش نہیں۔ اگر مسلمان یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے قوانین کے پابند رہیں، مذہب جاتا ہے تو جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    اگر آڑ نہ ہو تو فاصلہ ہونا چاہیے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں عورتوں کی ان صفوں کو بدترین کہا ہے جو صنف مخالف کی صف کے نزدیک ہوں۔ فاصلہ ایک قدرتی آڑ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہودی تصوف سمجھ لیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    عورت کو گھورنا کئی مغربی ممالک میں باقاعدہ جرم ہے۔
    اگر وہ اتنے ہی فرشتے ہوتے تو ہراسمنٹ کے قوانین نہ بنتے۔ اور ایسے واقعات کی شرح مغرب میں پاکستان سے زیادہ ہی ہے۔ تعلیم اور کلچر سے بھی ان چیزوں پرفرق پڑتا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں گھورنے کا رجحان مختلف ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک تحقیق دیکھی تھی جس میں مصر اور انڈیا کو سٹریٹ ہراسمنٹ میں پہلی پوزیشن دی گئی تھی۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 25, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    فاصلہ تو قدرتی آڑ ہے. جب عورت کو مکمل حجاب کا پتہ ہو گا. تو اس کو فاصلے کا بھی علم ہو گا. اور عورتوں کی صفیں مردوں کے صف کے ساتھ نہیں ہوتی. قدرتی طور پر بچوں اور ضروری سامان کی وجہ سے دور ہو جاتی ہیں. شاید یہی وجوہات ہیں کہ عورت کے لیے آڑ کا رواج ہوا تاکہ وہ سکون سے نماز پڑھ سکے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    یہ بہت اچھا نقطہ پیش کیا ہے۔ پولنگ ، سروے ، انٹرویو وغیرہ کافی مناسب چیزہے۔ لیکن اس میں کبھی کبھار حالات ایسے ہوتے ہیں کہ آپ پولنگ نہین کروا سکتے۔ مزید تفصیل میں اگلی مرتبہ لکھتی ہوں ۔
    جزاک اللہ خیرا۔
    یہ صرف خواتین کے لیے قانون ہے؟ مجھے صحیح اندازہ نہیں ہے ۔ اس لیے کہ کچھ چیزیں یا قانون مرد و عورت کی تفریق کے بغیر جرم ہیں ۔ جیسے آپ کی ایک ذاتی سپیس کہ اس سے آگے کوئی شخص آپ کے قریب نہیں آ سکتا۔ اسی طرح اگر گھورنا منع ہے تو اگر کسی مرد کو بھی گھورا جائے تو وہ بھی قانونا جرم ہو گا ۔ لیکن مجھے صحیح معلومات نہیں ہیں اس بارے میں۔صرف ایک اندازہ ہے۔
    دیسی حضرات سے میری مراد برصغیر کے لوگ کہہ لیں ۔ ان میں بھی سکھ حضرات کو پہلے نمبر پر رکھ لیں ۔ یا شاید ہمارا سکھوں سے زیادہ واسطہ پڑا ہے۔ پاکستانیوں سے متعلق میری بھی یہی رائے ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    اس گفتگو کا اور سب لوگوں کے تجزیہ کے بعد اگر میں یہ کہوں کہ اسلام میں ایسی کوئی پابندی یا اصول نہین جس کے تحت نماز میں خواتین یا مردوں کے درمیان کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے۔ لیکن چونکہ ہم خواتین اس چیز میں زیادہ سہولت محسوس کرتی ہیں کہ ہمیں مکمل پرائیویسی مہیا کی جائے اور ہماری عبادت کے درمیان کوی خلل نہ آئے تو اس وجہ سے ہمین مکمل طور پر اپنی ایک الگ جگہ چاہیئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    میرے خیال میں یہ نتیجہ درست نہیں کیوں کہ آپ نے ہم سے غیرمسلموں کو جواب دینے کے لیے منطقی دلائل مانگے تھے، شرعی دلائل کا یہاں اسی لیے ذکر نہیں ہوا۔ اگر آپ شرعی دلائل کا الگ سے مطالعہ کریں تو کم از کم آڑ یا رکاوٹ فاصلہ ہے۔ ہر جگہ دیوار یا سیگریگیٹڈ سیکشن بنانے کے وسائل نہیں ہوتے اسی لیے شریعت نے مردانہ زنانہ صفوں کے درمیان فاصلے کا حکم دیا ہے، وضو کے لیے الگ الگ حوض اور نماز کے بعد الگ الگ راستوں سے نکلنے کی احادیث موجود ہیں جن پر ہمارے یہاں کی مساجد میں عمل ہوتا ہے۔ کم ازکم میں نے ایسی کئی مساجد میں نماز پڑھی ہے جہاں مردانہ زنانہ راستے الگ الگ سمت ہوتے ہیں کیوں کہ مسجد نبوی میں بھی باب النساء الگ سے ہوتا تھا یہ اسی سنت پر عمل ہے اور اس کا فائدہ خواتین کو ہی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ آڑ کے لیے شرعی حکم نہیں۔ اس موضوع پر ہماری باتیں نتیجہ نکالنے کے لیے کافی نہیں۔ آپ کو باقاعدہ مطالعہ کرنا چاہیے۔
     
    • مفید مفید x 1
  17. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا
     
  18. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    .
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 13, 2016
  19. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    کچھ سمجھ نہیں آیا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    لکھنا کسی اور تھریڈ میں تھا غلطی سے اس تھریڈ میں لکھ دیا. اس لۓ ترمیم کی
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں