ماہ محرم سنت و بدعت کے تناظر میں ۔ شیخ ساجد سلیم مدنی

اعجاز علی شاہ نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏ستمبر 30, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ماہ محرم سنت و بدعت کے تناظر میں ( قسط : 1)
    الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، و بعد !
    محرم کا مہینہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور یہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے : (إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ)مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے ، ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں ، یہی درست دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ، اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے (التوبہ : ۳۶) ۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (ألَا إِنَّ الزَّمَان قَدْ اِسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْم خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَات وَالْأَرْضَ ، السَّنَة اِثْنَا عَشَرَ شَهْرًا ، مِنْهَا أَرْبَعَة حُرُم ، ثَلَاثَة مُتَوَالِيَات : ذُو الْقَعْدَة ، وَذُو الْحِجَّة ، وَالْمُحَرَّم، وَرَجَب مُضَر الَّذِي بَيْن جُمَادَى و شَعبَان) ''زمانہ گھوم گھماکر پھر اسی حالت پر آگیا ہے جس حالت پر اس وقت تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی ، سال بارہ مہینوں کا ہے ، جن میں چار حرمت والے ہیں ، تین پے در پے ذوالقعدہ ،ذوالحجہ اور محرم ہیں ،اور چوتھا رجب مضر،جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے(صحیح بخاری و مسلم )۔
    ( محتاج دعا : سليم ساجد مدني )
     
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ماہ محرم سنت و بدعت کے تناظر میں ( قسط : 2)
    ان مہینوں میں جنگ و جدال ، قتل و غارت ، فحش کلامیاں، بیہودہ سلوک، نازیبا اخلاق اور ہر قسم کی گری ہوئی حرکتوں کا ارتکاب کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔
    ماہ محرم ایک مقدس اور مبارک مہینہ ہے، اس کی دسویں تاریخ بڑی قدر و منزلت اور غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی ہے ، ماہ محرم اور اس کی دسویں تاریخ کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث وارد ہیں، جن میں روزہ رکھنے کی بڑی توجہ دلائی گئی ہے:
    (١)عَنْ ‏‏أَبِي هُرَيْرَةَ ‏‏رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ‏‏قَالَ : ‏قَالَ رَسُولُ اللهِ ‏‏صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏: ( ‏أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ " (.حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: رمضان کے بعدنفلی روزوں میں سب سے افضل محرم کا روزہ ہے،اور فرض نمازوں کے بعد نفلی نمازوں میں سب سے افضل تہجد کی نماز ہے (صحیح مسلم)۔
    (٢)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: "( مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ؟ " قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ. قَالَ: فَصَامَهُ مُوسَى، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ " قَالَ: فَصَامَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے پایا، آپ نے سبب دریافت کیا تو یہودیوں نے جواب دیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو فرعون کے ظلم وستم سے نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق آب کیا تھا، اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بطور شکرانہ اس دن روزہ رکھا، لہٰذا ہم ان کی اتباع کررہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہم تمہاری بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو اس دن روزہ رکھنے کی تاکید فرمائی (صحیح بخاری ومسلم)۔
    (٣) آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے روزہ کی فرضیت سے قبل دسویں محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے، جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْهُ» جو شخص عاشورہ کا روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے اور جو نہ چاہے وہ نہ رکھے (صحیح بخاری ومسلم)۔
    (۴)حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرما یا :«وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ»مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ عاشوراء کے روزہ کے بدلے اللہ تعالی پچھلے ایک سال کے گناہوں کو معاف فرمادے گا ( صحیح مسلم )۔
    (۵)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں کی مخالفت کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا : «لَئِنْ بَقِيَتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ»اگر میں آئندہ سال باحیات رہا تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوںگا (صحیح مسلم )۔
    ( محتاج دعا : سليم ساجد مدني )
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ماہ محرم سنت و بدعت کے تناظر میں ( قسط : 3)
    بے حد افسوس ہے کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے اسلامی سال کا آغاز برے عقائد ، شیعی افسانے ، سبائی تحریک کی منظم کردہ داستانِ کربلا اور ایسی گھنائونی حرکات کے ذریعہ کرتا ہے جنہیں اسلام دشمنوں نے ناخواندہ اور جاہل عوام کے لئے مزین کررکھا ہے اور ہمارے سنی بھائی بھی پرانے شکاریوں کے اس نئے جال میں پھنس کر اپنے سال کی ابتداء صحابہ کرام اور تابعین عظام پر سبّ وشتم اور لعن و طعن کے ذریعہ کرتے ہیں جو کہ ایک شرمناک امر اور سنت رسول سے سراسر بغاوت ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أحدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :میرے صحابہ کو برا نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی اللہ کی راہ میں احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو صحابہ کے ایک مد یا آدھے کے ثواب کے برابر بھی اس کا ثواب نہ ہوگا''(صحیح مسلم)۔
    ( محتاج دعا : سليم ساجد مدني )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں