کامیاب استاذ بننے کے رہنما اصول

عفراء نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏اکتوبر، 6, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    کامیاب استاذ بننے کےلئے رہنما اصول
    مولانا یوسف خان صاحب کا الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں خطاب
    بہترین استاذ وہ ہے جو بیک وقت نفسیات، اخلاقیات اور روحانیت میں مہارت رکھتا ہو۔ ان میں سے ہر مہارت کی خصوصیات دوسری مہارت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ اس لئے ہم ان تینوں مہارتوں کے لئے کچھ مشترکہ اصول ذکر کریں گے۔

    1۔ اخلاص
    اچھا استاذ اپنے پیشے کے ساتھ مخلص ہوتا ہے۔ وہ اپنے پیشے کے ساتھ جس قدر بے لوث ہوگا ، اس کی دلچسپی اسی قدر بڑھتی جائے گی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں اتنی ہی کم ہوتی چلی جائیں گی۔ اخلاص وہ جوہر ہے جس سے عمل میں لذت پیدا ہوجاتی ہے۔

    2۔ تقوی
    علم اور تقوی کا باہم گہرا تعلق ہے، اسی وجہ سے قرآن پاک میں خشیت الہی کا مدار "علم" کو قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ بات ہم پر مخفی نہیں کہ استاذ کے دل میں جتنی خدا خوفی ہوتی ہے اس کی زبان میں اسی قدر تاثیر ہوتی ہے۔

    3۔ بہترین عملی کردار
    شاگرد اپنے استاذ کو بہت باریک بینی سے دیکھتا ہے، یوں استاذ کی چال ڈھال، عادات واطوار اور اخلاق وکردار لاشعوری طور پر بھی اس میں اترنے لگتے ہیں ۔ شاگرد کی دقتِ نظری کیسی ہوتی ہےاس ضمن میں میں ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا۔ ہوا یوں کہ ایک دن میری گھڑی خراب تھی تو میں گھر والوں کی گھڑی پہن کر کلاس میں چلا گیا، دورانِ درس میری پوری کوشش رہی کہ گھڑی کپڑوں میں چھپی رہے، دن گزر گیا، بات آئی گئی ہوگئی، کچھ مدت کے بعد ایک طالب علم سے گفتگو ہورہی تھی، وہ درسگاہ میں میری کسی بات کا حوالہ دے رہا تھا مگر مجھے یاد نہیں آرہا تھا، میں نے مزید استفسار کیا تو اس نے کہا : "استاد جی جس دن آپ لیڈیز گھڑی پہن کر آئے تھے۔" مجھے سخت حیرت ہوئی کہ طلبہ کتنی گہرائی سے استاد کو پڑھتے ہیں، بلکہ پڑھنے کے بعد اسے یاد رکھتے ہیں اور دوسروں سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔

    4۔ تلاوت کا معمول
    تلاوت کا معمول روزانہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔تلاوت کم از کم اتنی اونچی آواز سے کرنی چاہیے کہ اسے خود سن سکے، ان شاء اللہ اس عمل کی تاثیر وہ خود محسوس کرے گا۔

    5۔ذکر اللہ
    بہتر ہوگا کہ تلاوت کےعلاوہ ذکر الہی کے لئے کچھ وقت الگ سے نکالے۔ قلب کے احیا (دل کو زندہ رکھنے) کے لئے یہ عمل نہایت موثر ہے۔

    6۔ شکر
    اچھا مدرس وہ ہوتا ہے جس کی طبیعت میں شکر کا وصف موجود ہو، شکر سے مراد اس کی تینوں قسمیں ہیں، یعنی قلبی ، لسانی اور عملی ۔ قلبی شکر کا مطلب ہے کہ دل میں منعم (محسن) کا احترام اور اس سے محبت ہو۔ جس ادارے سے اس کا روزگار وابستہ ہے وہاں کے منتظمین کا قلبی شکر بے حد ضروری ہے۔ جو مدرس اپنے طلبہ کے سامنے اپنے منعم کی برائیاں بیان کرتا ہے اور اس پر تنقید کرتا ہے وہ ناکام ترین مدرس ہے۔ شکرِ لسانی دو طریقوں سے ہوتا ہے، ایک وہ جس کی سورہ ضحی میں تعلیم دی گئی ہے "واما بنعمۃ ربک فحدث" یعنی اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کیجئے، جسے تحدیث بالنعمت کہا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے محسن کا شکر زبان سے بھی ادا کرے جسے اللہ تعالی نے فرمایا:" ان اشکر لی ولوالدیک "(میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ(جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا)۔ عملی شکر سے مراد ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو ڈھنگ سے استعمال کرے، جو استاذ نعمتوں کا درست استعمال نہیں کرتا وہ ناشکرا اورناکام مدرس ہے۔
    7۔ حیا
    استاذ کے لئے حیا ایک ناگزیر وصف ہے۔ حیا کا مطلب ہے "انقباض النفس عن القبیح "یعنی اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ قرار دی گئی باتوں /چیزوں سےاس کا جی تنگ پڑے، ایسی باتوں کی طرف جانا اس کے لئے گرانی کا باعث ہو۔ استاد میں حیا ہوگی تو آگے بھی یہ وصف ضرور متعدی ہوگا، مگر افسوس ہے کہ موبائل نے ہم اساتذہ کی حیا اگر ختم نہیں کی تو کم ضرور کردی ہے۔
    8۔ ذمہ داری کا احساس
    یہ بات مشاہدے اور تجرے سے ثابت ہے کہ طلبہ کا غیر ذمہ دارانہ رویے کا ایک بڑا باعث استاد کا غیر ذمہ دارانہ مزاج ہے۔ کامیاب مدرس بننے کے لئے اپنے اندر ذمہ داری کا احساس جگانے کی ضرورت ہے۔

    9۔اچھی صحبت
    اچھا استاذ وہ ہوتا ہے جس کا مزاج اچھا ہو، اس کی بیٹھک اچھے لوگوں کے ساتھ ہو،اس کی پہچان اچھی سوسائٹی ہو۔ حدیث کے مطابق اسے عطار کے مانند ہونا چاہیے جس کے پاس سے گزرنے والا کم ازکم معطر ضرورہوسکے،نہ کہ لوہار کی طرح جس کی صحبت اختیار کرنے والے کو بھٹی کی تپش بھی گوارا کرنا پڑتی ہے۔ برے لوگوں سے خیرخواہی اور اصلاح کا تعلق تو رکھے مگر دوستی کا نہیں۔

    10۔ تحمل اور برداشت
    تعلیم اور تزکیہ کے میدان میں صبر وتحمل کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ انبیا کو اللہ نے باربار اس کی تلقین فرمائی ہے۔ استاذ میں جس قدر یہ خوبی ہوگی وہ اتنا ہی کامیاب مدرس ثابت ہوگا۔

    Contributor: Zubaida Aziz
    بشکریہ وٹس ایپ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں