موصل کا معرکہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اکتوبر، 18, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو آزاد کروانے کے ليے آپريشن کا آغاز۔ اپنے ملک کو داعش کے مظالم سے آزاد کروانے کی کاوشوں ميں ہم اپنے عراقی شراکت داروں کی بھرپور حمايت کرتے ہيں۔

    http://www.urduvoa.com/a/mosul-iraq-operation/3555804.html


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پر شیعہ ملیشیا اہل سنت کی نسل کشی پر اتر آئی ہے۔
    داعش ایک فتنہ ہے لیکن اس کے چکر میں وہاں بے گناہ لوگوں کو مارا جارہا ہے۔
    بہتر ہوتا کہ یو این کی فورسس کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوتا لیکن افسوس ایران اپنی شیعہ فورسس کے ذریعے یہ کام کررہا ہے۔
     
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    صرف حمایت؟؟؟ عجیب!
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ داعش کے عفریت کو پیداکرنے والا ہی امریکہ اور اسرائیل ہے جنگ کے سنڈے میگزین میں ،میں نے ایک مضمون پڑھا جس میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ داعش کو کس طرح سہلایاجارہا ہے اور میں تو یہ بھی کہہ دوں گاکہ امریکہ جس خطے میں موجود ہوگا وہاں امن کی فاختہ کا بسیراممکن ہی نہیں ہے۔ویت نام ،عراق، افغانستان،شام وغیرہ اس کی کھلی مثالیں ہیں جہاں امریکہ نے اپنی بربریت اورظلم کی داستان رقم کی اور وہاں کا امن وامان تہہ وبالا کردیاامریکہ پہلے مسئلہ پیداکرتاہے پھر اسے حل کرنے کے بہانے اسے مزید پیجیدہ کردیتاہے اصل میں امریکہ حکیم نہیں نیم حکیم ہے جو مرض کومزید سنگین کردیتاہے۔
     
  5. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    موصل ميں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف عسکری کاروائ عراقی قيادت کے زير نگرانی ہو رہی ہے اور اس کا مقصد عراق کے عام شہريوں کو ان مجرموں کے چنگل سے آزاد کروانا ہے جو خوف اور دہشت کی مہم کے ذريعے عام لوگوں پر اپنی مرضی اور دقيانوسی سوچ مسلط کرنے کی خواہش رکھتے ہيں۔

    اپنے ملک کو داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کروانے کے ليے مختلف مذہبی اورنسلی پس منظر کے لوگ عراقی افواج کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ ہيں۔

    بعض راۓ دہندگان کی جانب سے
    يہ سوچ اور راۓ کہ اس قسم کی کاوش کسی بھی طور عراق کے لوگوں يا امت مسلمہ کے ليے کوئ اچھی خبر نہيں ہے يقینی طور پر حيران کن ہے۔ کيا ٹی ٹی پی کے ان دہشت گردوں کے خلاف کوئ کاروائ نہيں کی جانی چاہیے جنھوں نے پشاور کے سکول ميں 150 سے زائد بچوں کو بے دردی سے قتل کر ديا تھا ؟ اور وہ بھی اس منطق کے تحت کہ اس قسم کی کاروائ سے مسلم امہ کے اتحاد کو ٹھيس پہنچے گی؟

    ميں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس آپريشن کے حوالے سے بعض راۓ دہندگان خدشات کا شکار کيوں ہيں کيونکہ عراقی شہری اور فوجی تو اپنے ہم وطنوں کو ان مجرموں اور دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے ليے بڑی بہادری کے ساتھ اپنی جانوں کو خطرات ميں ڈال رہے ہيں جو دھڑلے کے ساتھ دہشت اور افراتفری کو حکمت عملی کے طور پر استعمال کر کے اپنی سوچ عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہيں۔

    اس بارے ميں کوئ ابہام نہيں رہنا چاہيے۔ عراقی سيکورٹی فورسز، فوج، اور ديگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نا تو ہماری منشا پر کام کر رہے ہيں اور نا ہی امريکی مفادات کے تحفظ کے ليے اپنی زندگياں داؤ پر لگا رہے ہيں۔ دنيا کے کسی بھی اور ملک کی پوليس اور فوج کی طرح عراق ميں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں ميں کام کرنے والے افراد کی يہ ذمہ داری بھی ہے اور انھوں نے اس بات کا حلف بھی اٹھا رکھا ہے کہ اپنے ملک کی حفاظت کريں اور عام شہريوں کی زندگيوں کی حفاظت کو يقینی بنائيں۔

    اہم سرکردہ اسلامی ممالک سميت دنيا کے بے شمار ممالک کے ساتھ ساتھ امريکی حکومت نے بھی عراق کی حکومت کو مالی امداد اور وسائل فراہم کيے ہيں تا کہ وہ ملک کے قوانين اور آئين کے عين مطابق اپنے فرائض سرانجام دے سکيں۔

    امريکہ، عراقی فوجيوں کے ليے جاری معرکے ميں کاميابی کی خواہش رکھتا ہے۔ اتحادی افواج کا حصہ ہونے کے ناطے ہم موصل سميت ديگر عراقی شہروں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی عراقی کاوشوں کی مکمل حمايت کرتے ہيں۔ عراقی حکومت کی درخواست پر ہم اس اہم مشن کی تکميل کے ضمن ميں تربيت، تجاويز اور ہر قسم کی معاونت فراہم کرتے رہيں گے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اگر داعش کے خلاف اخلاص موجود ہے توکیا وجہ ہے وی او اے کویہ رپورٹ دینی پڑی کہ "ایک ممتاز پاکستانی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے داعش کو کچلنے کے لیے ایک نکاتی ایجنڈا طے ہونے میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔"http://www.urduvoa.com/a/jr-isil-us-russia-analysts/3053648.html
    یہ حوالہ وہ ہے جویقیناً آپ کے لئے قابل قبول ہے۔

    آپ سمجھنے سےقاصرہیں کیوں کہ آپ نے امریکہ وزیرخارجہ جان کیری سے رابطہ نہیں کیااگرکرتے تووہ آپ کو سمجھاتے کہ یہ معاملہ کیاہےاورامریکی وزیرخارجہ خوداس بات کوتسلیم کرتے ہیں کہ عراق کی جنگ امریکہ کی سنگین غلطی تھی جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں ایک چینی نیوزایجنسی سے اپنے انٹرویو میں جان کیری کا کہناتھا کہ انہوں نے سابق صدر بش کے دور میں ہی اس فیصلے کو غلط قرار دیاتھا آج بھی خطے کے بہت سے مسائل عراق کی جنگ کے ہی پیدا کردہ ہیں جن سے نمٹنے کے لئے امریکہ کوششیں کر رہاہے
    http://www.dailyasas.com.pk/index.php/2014-01-02-10-22-17/11707-2014-07-02-18-30-48
    اوریہ کامیابی کس صورت میں ہوگی امریکہ نے اپنے تئیں کامیابی کس چیز کوقراردیاہے جبکہ عراق کااندرونی انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہوچکاہے وہاں کے لوگوں کوعلاج معالجے امن وامان صحت صفائی سمیت زندگی کے مسائل درپیش ہیں توامریکہ اس کاذمہ دارکس کوسمجھتاہے اگریہی صورت حال واشنگٹن،ٹیکساس،نیوجرسی وغیرہ میں ہوتے توامریکہ کاردعمل اور سوچ کی سطح ونوعیت کیا ہوتی تب صدراوبامہ اپنے ایوان صدارت میں صحافیوں کے جمگھٹے میں اپنے ہی ملک کے صحافیوں کے کس قسم کے سوالات کاسامناکررہے ہوتے۔یہ لازماً ہے کہ تب کی صورتحال کاتصورامریکیوں کیلئے بھی ناممکن ہے اور آپ جیسے پروامریکی کیلئے بھی یہ تصور ایک بھیانک ناول پڑھنے جیساہوگا۔

     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    فوجی آپريشنز کے نتيجے ميں بے گھر ہونے والے عراقی شہريوں کی بحالی اور انسانی بنيادوں پر جاری عراقی حکومت کی کاوشوں ميں ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے ليے امريکی حکومت پرعزم ہے۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہيں کہ يہ ايک بہت کٹھن کام ہو گا، تاہم ممکنہ مشکلات کا سامنا کرنے کے ليے ہم نے عراقی حکام اور مختلف نجی اين جی اوز سے مسلسل رابطہ رکھا ہوا ہے۔

    يونيسيف اور آئ سی آر سی جيسے ادارے بچوں تک صاف پانی، ادويات اور ديگر ضروريات زندگی کی سہوليات فراہم کرنے کے ليے کليدی کردار ادا کر رہے ہيں۔

    امريکی حکومت اور عراقی حکومت سميت ہمارے تمام اتحادی اس بات سے بخوبی واقف ہيں کہ اس فوجی آپريشن کے ضمن ميں سب سے بڑا چيلنج يہی ہے کہ بے گھر شہريوں کو کيسے تکليف اور پريشانی سے بچايا جاۓ اور اس حوالے سے ہم اپنے طور پر کاروائ شروع کر چکے ہيں۔ مقامی حکومتی عہديداروں کی وسائل تک رسائ کو يقينی بنانے کے ليے ہماری جانب سے خطير رقم کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔

    جہاں تک امريکی حکومت اور ہمارے کردار کا تعلق ہے تو اب تک انسانی بنيادوں پر جاری امداد کے ضمن ميں 1۔1 بلين ڈالرز فراہم کيے جا چکے ہيں۔ علاوہ ازيں ہمارے ديگر شراکت داروں کی جانب سے بھی بحالی کے ضمن ميں 3۔2 بلين ڈالرز مختص کيے جاچکے ہيں۔

    يہ تمام کاروائ عراقی حکومت کی زير نگرانی اور اقوام متحدہ کی مشترکہ کاوشوں کے ذريعے عمل ميں لائ جاۓ گی۔ ہمارا کردار صرف معاونت فراہم کرنے تک ہے۔ عراقی حکومت انسانی بنيادوں پر کام کرنے والے مختلف اداروں اور تنظيموں کے ذريعے ايسے اقدامات اٹھا رہی ہے جن کے تحت دو لاکھ پچاس ہزار سے زائد بے گھر ہونے والے افراد کے ليے ہنگامی بنيادوں پر رہنے کا بندوبست کيا جا سکے گا۔ علاوہ ازيں ان افراد تک ضروريات زندگی کی بنيادی سہوليات کی فراہمی کو بھی يقينی بنايا جاۓ گا۔ يہ تمام ادارے ايک ملين افراد تک امدادی سامان پہنچانے کے ليے ادويات اور ديگر اشياء کو جمع کرنے کا عمل شروع کر چکے ہيں۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ ہمارے خلاف اس قسم کا نا قابل فہم الزام لگايا گيا ہے۔ فورم پر کچھ راۓ دہندگان کی تمام تر بحث کی بنياد يہی بے سروپا سوچ ہے کہ خطے ميں داعش کا وجود کسی بھی طور ہمارے ليے سودمند ہے۔

    اس بات کا حقيقت سے دور کا بھی واسطہ نہيں ہے۔

    ستم ظريفی ديکھيں کہ ايک جانب جب ہم پر يہ الزام لگايا جاتا ہے کہ ہم اس دہشت گرد تنطيم کی صلاحيت ميں اضافے کے ليے ذمہ دار ہيں، تو اسی وقت خطے ميں ہمارے اسٹريجک اتحاديوں کو فراہم کردہ وسائل اور اينٹيلی جنس کے سبب ان دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نيست ونابود کرنے ميں کليدی مدد مل رہی ہے۔

    تازہ خبروں کے مطابق عراق کے شہر موصل ميں عراقی افواج کے ہاتھوں عالمی اتحاد کی مدد سے داعش کو زبردست شکست کا سامنا ہے۔

    http://www.cnbc.com/2016/10/16/iraq...ensive-backed-by-us-led-coalition-forces.html

    عراقی حکومت کی داعش کے خلاف موصل ميں جاری کاميابی ان دہشت گردوں کے خلاف ہمارے مصمم ارادوں کی عکاسی کرتی ہے جو نا صرف يہ کہ ہمارے مفادات کے ليے خطرہ ہيں بلکہ خطے کے عام شہريوں کے ليے بھی وبال جان ہيں۔

    اور پھر يہ بھی واضح کر ديں کہ اگر آپ کے دعوے کے مطابق داعش کو کسی بھی حوالے سے امريکی حمايت حاصل ہے تو پھر انھيں چھپ کر وار کرنے کی حکمت عملی کيوں اپنانا پڑی؟

    ہم خطے ميں آئ ايس کی دہشت گردی سے زير عتاب آنے والے فريقين کی مدد کے ساتھ ساتھ وسائل کی فراہمی يقینی بنا رہے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  9. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    بزدل مجرموں کے ايک گروہ کی جانب سے دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ ايک گنجان عوامی مقام پر زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے کيے جانے والے دہشت گرد حملے کا موازنہ افغانستان ميں اقوام متحدہ کی اجازت سے دنيا کے بدنام ترين دہشت گردوں کے خلاف جاری مشترکہ فوجی کاروائ سے کيسے کيا جا سکتا ہے؟

    چاہے وہ عراق ہو، افغانستان، ويت نام يا تاريخ ميں وقوع پذير ہونے والا کوئ بھی مسلح تنازعہ – بے گناہ افراد کی ہلاکت ايک تلخ حقيقت بھی ہے اور قابل افسوس امر بھی۔ تاہم، تنازعے کی نوعيت سے قطع نظر دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا کر امريکی حکومت کو سياسی، سفارتی اور فوجی نقطہ نظر سے کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا ہے۔ علاوہ ازيں، اگر يہی حقيقت ہوتی تو افغانستان ميں ہميں دنيا کے سرکردہ اسلامی ممالک سميت پوری عالمی برادری کی حمايت حاصل نہيں ہوتی۔

    اس کے برعکس دہشت گرد تنظيميں تو اپنی بنيادی تعريف کے عين مطابق اپنی حيثيت کو برقرار رکھنے اور اپنی مرضی کو طاقت کے بل پر مسلط کرنے کے ليے تشدد پر مبنی کاروائيوں پر ہی انحصار کرتی ہيں۔ ان کی تمام تر حکمت عملی نہتے شہريوں کو نشانہ بنا کر اپنے حملوں کی "افاديت" کو بڑھانے اور افراتفری کی فضا پيدا کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔

    اور جب آپ دہشت گردی سے متعلق موجودہ ايشو کے تناظر ميں جاری بحث ميں ويتنام جنگ کا حوالہ ديتے ہيں تو بنيادی طور پر آپ يہ تاثر دے رہے ہيں کہ امريکہ کو کوئ حق نہيں پہنچتا کہ وہ آج کے دور ميں دہشت گردی کا شکار ہونے والے بے گناہ شہريوں کی مدد کو پہنچے کيونکہ چار دہائيوں قبل ہم ويت نام کی جنگ کا حصہ تھے۔ اور آج امريکہ ديگر ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی مذمت يا اس ضمن ميں کسی بھی کاروائ يا دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کی بات کرے تو اس کی حمايت نہيں کی جانی چائيے کيونکہ بحثيت ملک امريکہ کبھی نا کبھی کسی جنگ کا حصہ رہ چکا ہے۔

    دہشت گردی آج کی حقيقت ہے۔ کئ دہائيوں اور صديوں قبل ہونے والے جنگی معرکوں کے درست يا غلط ہونے کا تعين کرنا تاريخ دانوں يا علمی بحث ميں شامل ماہرين کا کام ہے۔ ليکن ان کو بنياد بنا کر آج کے دور ميں بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کا حوالہ دينا حقيقت سے لاتعلقی اور اس ناقابل ترديد سچ کو رد کرنے کے مترداف ہے کہ دہشت گردی صرف امريکہ کا ہی مسلہ نہيں ہے بلکہ ايک عالمی معاملہ ہے جس کے حل کے ليے تمام فريقين کی جانب سے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  10. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ,داعش کے اصولوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے امریکہ اور اسرائیل میں حملہ نہیں کرنا ہے۔
    داعش کی حقیقت صفحہ:10
    q.gs/LlrM/
    آپ نے لکھا ہے کہ داعش چھپ کرلڑنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے کمال ہے کیاآپ دیکھ نہیں رہے شام میں کیا داعش چھپ کے حملہ کررہی ہے عراق میں چھپ کے حملہ کررہی ہے اس تنظیم نے حماس پر بھی حملہ کیا ہے مگر اسرائیل میں حملہ کرنے سے مانع ہے جوکہ امریکہ کاماسٹر ہے۔
    شکریہ امریکہ وہ داعش کے ٹھکانوں کونیست ونابود کررہاہے مگر اسکا اپنا وزیر خارجہ جان کیری کہہ رہاہے کہ امریکہ نے عراق جنگ شروع کرکے بڑی غلطی کی ہے
    بہت خوب اب بے بس مسلمان حکمران امریکہ کو نا کرسکتے ہیں آپ خود انصاف سے بتائیں یہاں پر آپ نے لکھا ہے کہ امریکہ کوپوری عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے یہ لطیفہ بھی اچھا ہے آپ نے لکھا ہے کہ
    چلیں ہم سب کی سوچ امریکہ اوراسکی سیاسیات کے متعلق بے سروپا سہی ایک صدر بش جونیئر کے مشیر برائے سیکورٹی رچرڈ کلارککی سوچ کوآپ کیا کہیں گے صدر بش چاہتے تھے کہ رچرڈ کلارک 9/11کے حملوں کا ذمے دار صدر صدام حسین کو قرار دیں۔ لیکن اس امر کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ عراقی حکومت نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملے کرائے۔ چنانچہ رچرڈ نے استعفیٰ دے دیا‘ اپنے صدر کا غیر قانونی و غیر اخلاقی حکم تسلیم نہیں کیا
    امریکی ریٹائرڈ جنرل، ڈینئل بولگر نے اپنی چشم کشا کتاب’’ہم کیوں ہارے؟‘‘(Why We Lost: A General’s Inside Account of the Iraq and Afghanistan Wars)
    عراق پر حملے کا امریکہ نے بہانہ تراشہ جس کی تصدیق اس فورم پر موجود بے سروپاباتیں کرنے والے ممبران نے نہیں کی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اسلحہ کے معائنہ کاروں کے سربراہ ہانس بلکس نے کی ہیں وہ کہتے ہیں کہ بش انتظامیہ ان کے معائنہ کاروں پر دباؤ ڈالتی رہی کہ وہ اپنی رپورٹوں میں مزید پھٹکارے جانے والی زبان استعمال کریں۔

    http://www.bbc.com/urdu/news/030611_blix_pentagon_si.shtml

    واہ امریکہ کوعام اور نہتے عوام کی کتنی پرواہ ہے توذرا اقوام متحدہ کی بھی ایک بے سروپا بات امریکہ بہادرکے بارے میں پڑھ لیں بدھ کے روز مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ضلع اچین پر کئے گئے امریکی حملے میں پندرہ عام شہری مارے گئے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کے ڈرون طیارے نے حج سے واپس آنے والے مقامی قبائلی رہنما کے استقبال کے لئے جمع ہونے والے لوگوں کو نشانہ بنایا۔ افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے امریکی حملے میں پندرہ عام شہریوں کے مارے جانے اور تیرہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی فوج کے جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس نے داعشی عناصر کو نشانہ بنایا ہے تاہم اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرنے والوں میں متعدد اسکولی بچے، ایک ٹیچر اور حکومت کے حامی خاندان کے لوگ شامل ہیں۔ نیٹو کے حملوں میں افغان فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا معاملہ کابل اور واشنکٹن کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ رواں سال اگست میں جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند میں امریکی ڈرون حملے میں بائیس افغان فوجی مارے گئے تھے۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ وہ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کی باقیات اور داعشی عناصر کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں زیادہ تر عام شہری ہی مارے جا رہے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
    امریکہ کی دہشت گردی کوپروان چڑھاکر پھر دہشت گردی کوختم کرنے کے بہانے جوکشت وخون کاکھیل ہے اسکامقصد مسلمان ملکوں اورخطے میں افراتفری کشت وخون کے علاوہ کچھ نہیں جس کی مخالفت خودامریکہ کے بھی اندر ہورہی ہے۔
     
  11. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    چونکہ آپ نے ہانس بلکس کا حوالہ ديا ہے اس ليے يہ ضروری ہے کہ ان حقائق کا جائزہ ليا جاۓ جو انھوں نے بذات خود اپنی سرکاری رپورٹ ميں عراقی کے زمينی حقائق کے حوالے سے بيان کيے تھے۔

    فروری 14 2003 کو ہانس بلکس نے واضح طور پر عراق کی حکومت کی جانب سے تمام تر يقين دہانيوں کے باوجود عدم تعاون کی حقيقت کو بيان کيا تھا۔ اس وقت ان کی جانب سے پيش کی جانے والی رپورٹ سے ايک اقتتباس

    "ميں نے اپنی پچھلی ملاقاتوں کے جوالے سے يہ واضح کيا تھا کہ سال 1999 ميں اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی دو دساويزات سی – 1999/94 اور سی 1999/356 ميں اٹھاۓ جانے والے بہت سے ايشوز ابھی تک وضاحت طلب ہيں۔ اب تک عراق حکومت کو ان ايشوز کے حوالے سے مکمل آگاہی ہونی چاہيے تھی۔ مثال کے طور پر ان ايشوز ميں نرو ايجنٹ وی ايکس اور لانگ رينج ميزائل سرفہرست ہيں اور يہ ايسے سنجيدہ ايشوز ہيں جن کو نظرانداز کرنے کی اجازت عراقی حکومت کو نہيں دی جا سکتی۔ عراقی حکومت کی جانب سے پچھلے سال 7 دسمبر کو دی جانے والی رپورٹ ميں ان سوالات کے واضح جوابات دينے کا موقع ضائع کر ديا گيا ہے۔ اس وقت عراق حکومت کی جانب سے ہميں سب سے بڑا مسلۂ اسی حوالے سے ہے۔ ثبوت کی فراہمی کی ذمہ داری اقوام متحدہ کے انسپکٹرز پر نہيں بلکہ عراقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ عراقی حکومت کو ان اہم ايشوز کو مسلسل نظرانداز کرنے کی بجاۓ مکمل وضاحت فراہم کرنا ہوگی۔"

    اس اقتتباس سے يہ واضح ہے کہ صدام حکومت کی جانب سے مسلسل عدم تعاون کی روش اختيار کی جا رہی تھی۔

    اس کے بعد مارچ 2 2003 کو عراق پر حملے سے محض چند روز قبل اس موقع پر جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے عراق حکومت کو دی جانے والی آخری مہلت بھی ختم ہو چکی تھی تو ہانس بلکس نے اقوام متحدہ کو ايک اور رپورٹ پيش کی۔ اس رپورٹ ميں سے ايک اقتتباس

    "ان حالات کے پس منظر ميں سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ کیا عراق کی حکومت نے اقوام متحدہ کی سال 2002 میں منظور کی جانے والی قرارداد 1441 کے پيراگراف 9 کی پيروی کرتے ہوۓ يو – اين – ايم – او- وی – آئ –سی سے فوری اور غير مشروط تعاون کيا ہے يا نہيں۔ اگر مجھ سے اس سوال کا جواب طلب کيا جاۓ تو ميرا جواب يہ ہو گا اقوام متحدہ کی نئ قرارداد کی منظوری کے چار ماہ گزر جانے کے بعد بھی عراقی حکومت کی جانب سے تعاون نہ ہی فوری ہے اور نہ ہی يہ ان تمام ايشوز سے متعلقہ ہے جن کی وضاحت درکار ہے"۔

    واقعات کا تسلسل، عالمی خدشات اور مختلف عالمی فورمز پر کی جانے والی بحث جو سال 2003 ميں فوجی کاروائ کے فيصلے پر منتہج ہوئ ان مظالم کی وجہ نہيں ہے جو آج آئ ايس آئ ايس عراقی عوام پر ڈھا رہی ہے اور زبردستی اپنی سوچ اور مرضی عام عوام پر مسلط کرنے پر بضد ہے۔ آپ کی راۓ کی روشنی ميں اگر آئ ايس آئ ايس کوئ ايسی تنظيم ہوتی جو خطے ميں امريکی موجودگی کے نتيجے ميں ردعمل کے طور پر وجود ميں آئ ہوتی تو پھر اس منطق کے تحت تو اس تنظيم کا وجود سال 2011 ميں اس وقت ختم ہو جانا چاہیے تھا جب امريکی افواج نے سيکورٹی کے معاملات عراقی عوام کے منتخب جمہوری نمايندوں کے حوالے کر کے علاقے سے مکمل طور پر انخلاء کر ليا تھا۔

    مگر ہم جانتے ہيں کہ صورت حال يہ نہيں ہے۔ اس گروہ کو تو تقويت ہی اس وقت ملی تھی جب امريکی افواج خطے سے نکل چکی تھيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  12. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    کوئ بھی فوجی معرکہ اپنی وسعت اور نتائج سے قطع نظر ہميشہ ايسی علمی، تاريخی اور سياسی بحث کا موجب بنتا ہے جو دہائيوں تک جاری رہتی ہے۔ واقعات کے تسلسل کے ضمن ميں ہميشہ متضاد آراء، تجزيے اور مخصوص تشريح سامنے آتی ہے جس کی بنياد پر مختلف افراد اور تاريخ دان اپنے مخصوص فيصلے صادر کرتے ہيں اور نتائج اخذ کرتے ہيں۔ امريکہ جيسے جمہوری، متنوع اور آزاد معاشرے ميں يہ نا تو کوئ انہونی بات ہے اور نا ہی غير متوقع کہ امريکی فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد کوئ فوجی عوامی سطح پر اپنی سوچ اور نظريات کا اظہار کرے۔

    تاہم يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ ايک دہائ سے جاری عالمی دہشت گردی جيسا گھمبير اور پيچيدہ معاملہ جو بدستور جاری ہے، اس کا محض ايک ريٹائرڈ امريکی جرنيل کے ذاتی خيالات کی بنياد پر حتمی راۓ زنی يا فيصلہ سازی کے ذريعے نا تو درست احاطہ کيا جا سکتا ہے اور نا ہی حل پيش کيا جا سکتا ہے۔

    دہشت گردی کے عفريت کے ضمن ميں عالمی کاوشيں اور اس کے بعد کے اثرات کے حوالے سے ان کے جو بھی خيالات ہوں، يہ بھی ايک حقيقت ہے کہ جرنل بولگر نے خود افغانستان اور عراق ميں اپنی مدت ملازمت پوری کی اور يہ امر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس بات کے معترف ہيں کہ دنيا بھر ميں القائدہ اور اس سے منسلک مختلف گروہوں سے لاحق خطرے کے خلاف کھڑے ہونا وقت کی اہم ضروت ہے۔

    جنگ کے منفی اثرات سے کوئ بھی پہلو تہی نہيں کر سکتا۔ ايسی صورت حال کی روک تھام کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہيے۔ ليکن دہشت گردی تو دور جس کے نتيجے ميں بے شمار بے گناہوں کی موت واقع ہوتی ہے، کسی بھی جرم کو بغیر سزا کے درگزر نہيں کيا جا سکتا۔ ايسا کرنا کسی بھی ايسے انسانی معاشرے يا ملک کے بنيادی انسانی اسلوب کی نفی ہے جو اپنے شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کرنے کا خواہاں ہے

    ہم درپيش چيلنجز اور متوقع قربانيوں سے پوری طرح واقف ہيں۔ ليکن دہشت گردی کی قوتوں کے سامنے ہتھيار ڈالنے کا آپشن ہمارے پاس نہيں ہے۔ اس کے علاوہ ايسا کرنا دنيا بھر ميں ان لواحقين کے لیے انصاف کی دھجياں کرنے کے مترادف ہو گا جن کے چاہنے والے دہشت گردی کے اس عالمی عفريت کا شکار ہوۓ ہيں

    ہزاروں کی تعداد ميں اپنے فوجی ايک دور دراز ملک ميں بھيجنے اور اس کی معاشی قیمت ادا کرنے ليے ہمارا بنيادی مقصد اور اصل محرک شروع دن سے يہی رہا ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت کو يقينی بنايا جا سکے۔ صرف امريکی زندگياں ہی نہيں بلکہ افغانی اور پاکستانی جانيں بھی جو ہمارے مشترکہ دشمنوں کے ہاتھوں روزانہ کی بنياد پر نقصان اٹھا رہے ہیں

    ايک علمی اور دانشوارانہ بحث کے تناظر ميں افراد کے خيالات اور آراء سے قطع نظر، يہ نہيں ہو سکتا کہ معاملات دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ ديے جائيں جو عوامی سطح پر جبر کی بنياد پر اپنی سوچ مسلط کرنے کے ليے بلا جھجک بے گناہ شہريوں کا خون بہاتے رہيں۔ يہ نا تو قابل قبول آپشن ہے اور نا ہی حل۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جواب :یہ لکھنے سے پہلے آپ یہ بھول گئے کہ میں نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کاحوالہ بھی آپ کے گوش گزار کیا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ امریکی وزیرخارجہ خوداس بات کوتسلیم کرتے ہیں کہ عراق کی جنگ امریکہ کی سنگین غلطی تھی یہ میں نے درج بالا پوسٹ نمبر6 میں لکھا ہے ۔

    آپ نے لکھا ہے کہ صرف ایک فوجی جرنیل کے بیان پر حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے تو ٹھیک ہے انڈیپیڈینٹ جو کہ یوکے کا میڈیاہے لکھتاہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کہتاہے کہ 2003 میں صدام حکومت پر حملہ ایک ایک غلطی تھی جس کے لیئے وہ معذرت خواہ ہے۔(انڈیپینڈینٹ 24 اکتوبر 2015)

    خود امریکی میڈیایوایس نیوز لکھتاہے کہ عراق کی جنگ ایک غلطی تھی۔(یو ایس نیوز،26 مئی 2015)

    یو ایس اے ٹوڈے کے ایڈیٹوریل کا عنوان ہے کہ عراق کی جنگ ایک تباہ کن غلطی ہے۔(یوایس اے ٹوڈے 20 مئی 2015)

    جناب والا آپ لکھتے ہیں کہ ایک
    جبکہ جان کیری (امریکی وزیرخارجہ)، انڈیپینڈینٹ(برطانوی میڈیا)، یو ایس نیوز(امریکی میڈیا)، یوایس اے ٹوڈے(امریکی میڈیا)لکھتے ہیں کہ عراقی جنگ ایک غلطی تھی کیااب بھی آپ کہیں گے کہ یہ محض ایک ریٹائرڈ امریکی جرنیل کے ذاتی خیالات ہیں جبکہ یہ خیال تو اب چہاردام میں منکشف ہورہاہے۔
    یہ لکھتے ہوئے آپ نے حوالہ یالنک دینے سے اجتناب کیا ہے (اگردیاہے تومیری تصحیح فرمادیں)لیکن میں آپ کوحوالے کے ساتھ بتاتاہوں کہ کوہانس بلکس نے صدام حکومت کے تعاون کے متعلق کیاکہاہے۔سی سی این کی رپورٹرکرسٹین امین پورکو انٹرویودیتے ہوئے بلکس کہتاہے کہ صدام حکومت نے اس کے ساتھ پوراتعاون اور اپنے کئی سائنسدانوں کاانٹرویو کروایا۔(یوسی بارکلے نیوز ،18 مارچ 2004)

    توجناب آپ کادعویٰ ہے کہ بلکس توکہتاہے کہ عراق نے تعاون کیاہی نہیں ہے جبکہ کرسٹین کوانٹرویودیتے ہوئے وہ واشگاف الفاظ میں اعتراف کرتاہے کہ صدام حکومت نے اس کے ساتھ مکمل تعاون کیاتھا۔اب اگر آپ صحیح کہہ رہے ہیں تویوسی بارکلے کادعویٰ غلط ہے اور اگر یوسی بارکلے کادعویٰ غلط ہے توپھر بلکس کوچاہئے کہ وہ اس پر مقدمہ دائر کرے کیابلکس نے ایسا کچھ کیاہے؟اگر کیاہے تومجھے حوالے کے ساتھ دکھائیں۔
    داعش کوآپ لکھتے ہیں کہ امریکہ کی پیداوارنہیں ہے اس سلسلے میں ، میں نے جنگ کے سنڈے میگزین کادرج بالا پوسٹ میں تذکرہ کیا ہے گلوبل ریسرچ اپنی رپورٹ میں لکھتاہے کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے جس کامقصد شام کوکمزور کرنا اورایران پر دباؤ ڈالناہے۔(گلوبل ریسرچ، 27 اگست 2016)

    اب آپ اگررپورٹس کوجھٹلادیں گے تواس کا کوئی علاج نہیں ہے کیوں کہ جھٹلایاتوکسی بھی بات کو جایاجاسکتاہے مگر دلیل کے ساتھ جھٹلاناایک جہد طلب کام ہے۔

    طوالت سے بچتے ہوئے آپ کے کافی نکات کومیں نظراندازکررہاہوں مگراس کا مقصداختصارپسندی ہے ناکہ جواب ندارد ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    يہ واضح رہے کہ عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا فيصلہ کسی غير متعلقہ ملک کے خلاف کيا جانے والا جذباتی فيصلہ ہرگز نہيں تھا۔ حکومت کی ہر سطح پر کئ ماہ تک اس مسلۓ پر بحث کی گئ تھی جس کے بعد اجتماعی سطح پر يہ فيصلہ کيا گيا تھا۔


    يہ اب تاريخ دانوں اور دانشوروں پر منحصر ہے کہ وہ اس فيصلے کے درست يا صحيح ہونے کے حوالے سے بحث کو کيا رخ ديتے ہيں جو عالمی اتحاد کی جانب سے صدام حسين کی ظالمانہ حکومت سے درپيش خطرات سے نبردآزما ہونے کے ليے کيا گيا تھا۔


    معاملات اور واقعات کو درست تناظر ميں سمجھنے کے ليے يہ بھی ياد رکھيں کہ دسمبر 7 2008 کو عراق کے اس وقت کے وزير اعظم نے اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کے صدر کو ايک خط لکھا تھا جس ميں انھوں نے اس راۓ کا اظہار کيا۔


    "عراق کی حکومت اور عوام کی جانب سے ميں ان تمام ممالک کی حکومتوں کا شکريہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کے اہم کردار اور کوششوں کے سبب عراق کو استحکام اور محفوظ بنانے کے عمل ميں مدد ملی ہے۔ ميں براہراست ان افواج کا بھی شکريہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے عراق ميں اپنی زمينی، بحری اور فضائ موجودگی کے دوران خدمات انجام ديں۔ يہ امر قابل ذکر ہے کہ عراق پچھلے دور حکومت کے دوران برسا برس تک تنہا رہنے کے بعد معيشت کے استحکام کے ليےعالمی برادری کے ساتھ شراکت داری کے نۓ روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔

    واقعات کا تسلسل، عالمی خدشات اور مختلف عالمی فورمز پر کی جانے والی بحث جو سال 2003 ميں فوجی کاروائ کے فيصلے پر منتہج ہوئ ان مظالم کی وجہ نہيں ہے جو آج آئ ايس آئ ايس عراقی عوام پر ڈھا رہی ہے اور زبردستی اپنی سوچ اور مرضی عام عوام پر مسلط کرنے پر بضد ہے۔ بعض راۓ دہندگان کی راۓ کی روشنی ميں اگر آئ ايس آئ ايس کوئ ايسی تنظيم ہوتی جو خطے ميں امريکی موجودگی کے نتيجے ميں ردعمل کے طور پر وجود ميں آئ ہوتی تو پھر اس منطق کے تحت تو اس تنظيم کا وجود سال 2011 ميں اس وقت ختم ہو جانا چاہیے تھا جب امريکی افواج نے سيکورٹی کے معاملات عراقی عوام کے منتخب جمہوری نمايندوں کے حوالے کر کے علاقے سے مکمل طور پر انخلاء کر ليا تھا۔

    مگر ہم جانتے ہيں کہ صورت حال يہ نہيں ہے۔ اس گروہ کو تو تقويت ہی اس وقت ملی تھی جب امريکی افواج خطے سے نکل چکی تھيں۔ عراق ميں ہماری موجودگی کے حوالے سے آپ کا سوال اور دليل موجودہ صورت حال کے تناظر ميں غير متعلقہ ہو جاتی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  15. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پہلے آپ کا اعتراض تھا کہ میں نے صرف ایک ریٹائرڈ فوجی کے خیالات آپ کے گوش گزارکئے جوناقابل قبول ہیں پھرمیں نے آپ کو امریکی اوریورپی میڈیاسمیت امریکی وزیرخارجہ کے بیانات نیز ایک امریکی اسلحہ معائنہ کار بلکس کے بھی بیانات لکھے جو کہ آپ کے دیئے گئے بیانات کے برعکس ہیں ۔توآپ نے بجائے جواب دینے کے مجھے سمجھارہے ہیں کہ کتنی بحث ومباحثے کے بعد امریکہ نے یہ فیصلہ لیا ۔

    آگے آپ مجھ کم عقل کوسمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ
    مطلب بجائے آپ میرے اٹھائے گئے نکات پر بات کرتے آپ نے ذمہ داری تاریخ دانوں اور دانشوروں پر چھوڑدیااورخودبری الذمہ ہوگئے ۔اگرآپ نے یہ بارِ بے کراں انہی دوطبقات کوپررکھناہے توخودکیوں اس پراپنے قلم کوزحمت دیتے ہیں ،بجائے اپنے قلم کوحرکت دینے کے اس موضوع کو تاریخ دانوں اوردانشوروں پرچھوڑدیں اورآپ میرے خیال سے نہ ہی تاریخ دان ہیں اورنہ ہی بہ عجلت دانشورہیں۔
    کیوں جناب خط لکھنے والے اس عراقی وزیراعظم کانام لکھنے سے آپ نے اجتناب کیوں کیایہ حرکت آپ نے ٹھیک وہی کی ہے جوبلکس کاآپ نے مبینہ بیان لکھنے میں کی تھی کہ آپ نے حوالہ ہی نہیں لکھا تھا۔اس کمال ِ رازداری کی وجہ بتاسکتے ہیں مجھے؟
    کیاامریکی فوج عراق سے جاچکی ہے یہ خبرآپ کوکس نے سنائی ہے خیرآپ پھر مجھے سفیرانہ لہجے میں اپناتبصرہ سنادیں گے جسکاکوئی حوالہ ہوگااورنہ ہی حقیقت پسندی خیر میں آپ کوامریکی سفیر کی زبانی سناتاہوں کہ عراق میں امریکی فوج نے رخت سفر باندھاہے کہ نہیں امریکی دانشور نوآم چومسکی نے اوباما انتظامیہ کو یاد دلایا کہ امریکی عوام کے دباؤ کے باوجود عراق سے انخلا کی صورت پیدا نہیں گئی اور اس ملک میں امریکی فوج کے طویل قیام کے آثار نمایاں ہیں اور اوباما کے دور میں بغداد کے عظیم سفارت خانے کو وسیع تر کیا جا رہا ہے۔(نوائے وقت 30 اکتوبر 2016)

    یورپین میڈیاکی بھی اس سلسلے میں خبرآپ کوبتادیتاہوں ورنہ آپ کہوگے کہ ایک آدمی وہ بھی پاکستانی اس کے تبصروں کی کیااہمیت ٹائم لکھتا ہے کہ امریکہ عراق میں آہستہ آہستہ اپنے فوجی بڑھارہاہے۔(ٹائم 18 اپریل 2016)

    اورجناب یہ خبرصرف مندرجہ بالا ٹائم میں ہی نہیں چھپی ہے درج ذیل میڈیامیں بھی یہی خبرآپ کے دعوے کہ
    کی نفی ہی کررہی ہے اور یہ میڈیاپاکستان کے یااس فورم کے ممبران کے نہیں ہیں یورپ اورامریکہ کے ہیں۔

    ملٹری ٹائمز(29 ستمبر 2016)،دی واشنگٹن پوسٹ،آرمی ٹائمز(11جولائی 2016)اور الٹرنیٹ (12 اگست 2016)
     
  16. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جہاں تک آپ کا يہ الزام ہے کہ عراق ميں امريکہ کی کٹھ پتلی حکومت برسر اقتدار ہے تو اس ضمن ميں چاہوں گا کہ سال 2011 ميں امريکی اور حکومت کے درميان جاری ايک اہم تنازعے کے ضمن ميں عالمی شہہ سرخيوں پر ايک سرسری نگاہ ڈاليں جب عراق ميں امريکی افواج کی موجودگی کے ٹائم فريم ميں ردوبدل اور اس ضمن ميں قواعد وضوابط کی بنياد پر دونوں حکومتوں ميں ٹھن گئ تھی۔

    يہ سفارتی تعطل اس وقت ختم ہوا جب ہمارے مبينہ "کٹھ پتلی" عراقی وزير اعظم نوری المالکی نے امريکی مطالبات کو يہ کہہ کر يکسر مسترد کر ديا تھا کہ عراق ميں امريکی افواج کی موجودگی کی صورت ميں انھيں کسی قسم کا قانونی تحفظ فراہم نہيں کيا جاۓ گا۔ عراقی وزيراعظم کے فيصلے سے يہ واضح ہو گيا کہ يہ عراق کی حکومت تھی جس نے امريکی شرائط پر افواج کے عراق ميں قيام پر رضامندی سے صاف انکار کر ديا تھا۔

    http://www.nbcnews.com/id/44998833/...ty-issue-scuttled-us-troop-deal/#.U7QY9rHyQ-w


    يقينی طور پر يہ اقدامات کسی ايسے شخص يا حکومت کے نہيں ہو سکتے جو آپ کی راۓ کی روشنی ميں نا صرف يہ کہ ہماری مرہون منت مسند اقتدار پر براجمان ہوا تھا بلکہ امریکی حکومت کی ہدايات کی روشنی ميں اپنی حکومت چلا رہا ہے۔

    ميں يہ بھی واضح کرنا چاہوں گا کہ سال 2011 ميں تشدد کے واقعات ميں اضافہ ہی وہ محرک تھا جس کے سبب امريکی حکومت مزيد کچھ عرصے کے ليے فوج کا کچھ حصہ عراق ميں رکھنے پر زور دے رہی تھی۔ دونوں حکومتوں کے درميان کئ ماہ تک اس حوالے سے بحث جاری رہی کہ آيا امريکی افواج کو مزيد کچھ دير کے ليے عراق ميں رکنا چاہيے کہ نہيں – باوجود اس کے کہ سياسی لحاظ سے دونوں حکومتوں کے ليے يہ بڑا حساس معاملہ تھا۔

    حتمی تجزيے ميں آئ ايس آئ ايس جيسی دہشت گرد تنظيم کا عراق ميں منظر عام پر آنا اور تشدد کے واقعات ميں حاليہ اضافے کے ليے امريکی حکومت کو مورد الزام قرار نہيں ديا جا سکتا ہے کيونکہ عراقی کی منتخب جمہوری حکومت کی جانب سے امريکی افواج کو مزید قيام کی اجازت نہيں دی گئ تھی۔

    امريکی افواج کے عراق سے انخلاء کے بعد وہاں کی فعال اور خودمختار حکومت رياست کے معاملات کے ليے ذمہ دار ہے۔

    تاہم امريکی حکومت اور صدر اوبامہ نے بذات خود بارہا اس بات پر زور ديا ہے کہ ہم بدستور عراق کے ساتھ طويل المدتی بنيادوں پر سفارتی تعلقات برقرار رکھيں گے۔ اب يہ عراق کی قيادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ صورت حال کی نزاکت کے مطابق فوری طور پر آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کريں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  17. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    آپ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ عراقی حکومت ایک آزاد حکومت ہے جو اپنے فیصلے آزادانہ طورپرکرتی ہےاور جناب مالکی صاحب نہیں چاہتے کہ امریکی فوج عراق میں رہے یہ ہے وہ شہہ سرخی جس پر آپ نے پھبتی کسی کہ عراق اورامریکی حکومتوں میں ٹھن گئ ۔اوراس سلسلے میں آپ نے این بی سی نیوز کاحوالہ بھی دیا ہے توٹھیک ہے این بی سی نیوز18 اپریل 2016 کاہی حوالہ لے لیں جس میں امریکی ڈیفینس سیکریٹری جناب ایشٹن کارٹر فرماتے ہیں کہ امریکی حکومت 217فوجی مزید عراق کی طرف روانہ کررہی ہے۔

    اسی این بی سی نیوز کی نیوز ہے کہ امریکہ 450 فوجی عراق بھیج رہاہے۔(10 جون 2015) ،سی ایس مانیٹر کے مطابق جناب مالکی نے امریکہ کو اپنے فوجی بڑھانے کی ہی استدعاکی تھی ۔(2014) تو2014 سے 2016تک جناب مالکی صاحب امریکہ کو آنے پھر جانے کاکہہ رہے ہیں اس نوراکشتی کواگرآپ نوری مالکی صاحب کی آزادحکومت سے تشبیہہ دے رہے ہیں توکیاکہاجاسکتاہے۔ویسے جویہ این بی سی نیوز ہے یہ یہودیوں کاچینل ہے جسے بطورحوالہ آپ مجھے پیش کررہے ہیں کیااس چینل کوآپ مستند سمجھتے ہیں اگرآپ ایساسمجھتے ہیں توحیرت میں جانے کی وجوہ کیاہے۔
    پہلے تویہ سمجھ لیں کہ امریکہ عراق سے نہیں جارہاہے جن کی تفصیل میں نے اوپر کی پوسٹ اوردرج بالا میں نے ذکرکردیاہے اور جناب مائیکل پرائسنر کے 2008 کے کالم میں موصوف عراقی حکومت کو ایک کٹھلی پتلی حکومت اورامریکہ کووہاں کی ایک قبضہ کرنے والی فورس لکھاہے۔(لبریشن، 2 دسمبر 2008)

    اسی طرح ریئل نیوز میں ہے کہ مالکی کی حکومت امریکہ کی تابع دار ہے۔(9 ستمبر 2014)

    یہاں تک کہ سی این این بھی عراقی حکومت کوکٹھ پتلی لکھتاہے۔(8جون 2003)

    توجناب اوپر جوحوالے میں نے نظرخدمت کیئے ہیں وہ سب کے سب انگریزوں کے یورپ کے میڈیاکے ہیں کسی پاکستانی،سعودی ،عراقی یاپھر اردومجلس کے نہیں ہیں جسے آپ انکاری ہوسکتے ہو۔عراق میں امریکی کھیل پرتبصرہ یورپی میڈیابھی شدھ مدھ سے کررہاہے جوناجانے کیوں آپ کی نظروں سے اوجھل ہی رہتاہے۔
     
  18. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکی حکومت عراق ميں مقامی حکومت کے ساتھ مل کر داعش کے مظالم کے زير عتاب عام شہريوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے ليے پرعزم ہے۔ ابھی تک امريکہ کی جانب سے عراق ميں انسانی بنيادوں پر ايک اعشاريہ ايک بلين ڈالرز کی مدد فراہم کی جا چکی ہے۔ حال ہی ميں، خاص طور پر موصل کے مکينوں کے ليے امريکہ کی جانب سے 150 ملين ڈالرز کی امداد مختص کی گئ ہے۔


    امريکہ واحد اتحادی نہيں ہے جو عراقی حکومت کی مدد میں پيش پيش ہے۔ دنيا بھر ميں ساٹھ سے زائد ممالک اس اتحاد کا حصہ ہيں۔


    حاليہ دنوں ميں داعش کے تسلط سے آزاد کراۓ جانے والے علاقوں ميں بحالی اور انسانی بنيادوں پر مدد کے ضمن ميں امريکی حکومت کی کاوشوں سے دو اعشاريہ تين بلين ڈالرز کی خطير رقم جمع کی گئ ہے۔ علاوہ ازيں اقوام متحدہ کی جرنل اسمبلی ميں بھی امريکی کاوشوں کے سبب سو ملين ڈالرز کی امداد حاصل ہوئ ہے۔


    جو علاقے داعش کے تسلط سے آزاد کر ليے گۓ ہيں، وہاں عراقی سيکورٹی فورسز کی جانب عام لوگوں کا رعمل بڑا مثبت رہا ہے اور سات ہزار سے زائد بے گھر ہونے والے افراد ميں سے اکثر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہيں۔


    امريکہ خطے ميں اپنے تمام اسٹريجک اتحاديوں کے ساتھ مل کر موصل کی تعمیر نو کے ضمن ميں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا تا کہ عراقی معاشرے کو ايک ايسے وقت ميں ہر ممکن وسائل فراہم کيے جائيں جب وہ دہشت گردی کے ايک ايسے عفريت کے خاتمے کے ليے اجتماعی طور پر کام کر رہے ہيں جو ان کی مستقبل کی نسل کے ليے براہراست خطرہ ہے۔



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  19. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ایسٹ میریڈِتھ، نیویارک: امریکن یورنیورسٹی بیروت (اے یو بی)، جہاں سے گزشتہ 140 سال کے دوران ہزار ہا عرب لیڈر گریجوئیشن کرچکے ہیں، امریکی امداد کے مثبت استعمال کی روشن مثال ہے۔ جو چیز بیروت یونیورسٹی کے گریجوئیٹس کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ صرف ان کی قائدانہ صلاحیتیں یا عرب دنیا کی خدمت کا جذبہ ہی نہیں ہے بلکہ نیویارک سے منظور شدہ چارٹر والی اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبا عموماً امریکی ثقافت اور نظریات کے پختہ حامی ہوتے ہیں

    لیکن غریب ممالک کو دی جانے والی امداد کا ہمیشہ ہی ایسا اچھا استعمال نہیں ہوتا۔ ڈونرز امداد وصول کرنے والوں کے دل ودماغ میں اسی وقت جگہ بنا سکتے ہیں جب ان کی امداد تعلیم، روزگار، صنفی مساوات اور صحت جیسی انسانی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کی جائے۔ تاہم بدقسمتی سے یہ امداد تادیبی جنگوں میں ہونے والے نقصان کے ازالے کے طور پر بروئے کار لائی جارہی ہے اور اکثر اوقات امداد دینے یا لینے والے ملک میں کرپشن کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر عراق میں عالمی ترقیاتی مرکز کی ڈویلپمنٹ انڈیکس کمیٹی (سی ڈی آئی) برائے سال 2008 نے حساب لگایا ہے کہ بڑے پیمانے پر کرپشن کی وجہ سے مجموعی امداد کا صرف گیارہ فیصد حصّہ امداد کی مَد میں خرچ ہوتا ہے۔ عراق کے عوام کے لئے یہ خبر انتہائی مایوسی کا باعث ہوگی۔
    یہی بات جاکرذراامریکی حکام کوبھی سمجھادیں امریکی صدر اوباما نے شام اور عراق میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف حالیہ فتوحات کو سراہا ہے لیکن بہت سے امریکی حکام کے مطابق اس دہشت گرد گروہ کے خلاف امریکی مدد سے حاصل کردہ فضائی اور زمینی کارروائیاں کافی نہیں ہیں۔(ڈی ڈبلیو حالات حاضرہ)
    اچھا پھر صدر بش جونئیر کے بھائی کو بھی یہ بات سمجھادیں ناجنکا بیان بی بی سی میں آیاہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں عدم استحکام کا قصور براک اوباما کا ہے اور اسی ضمن میں اوباما کی سابقہ وزیرِ خارجہ اور جیب بش کی آئندہ انتخابات میں متوقع حریف ہلیری کلنٹن بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔(اینٹنی زوکرنامہ نگار شمالی امریکہ، بی بی سی13 اگست 2015)
     
  20. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    959
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی فتوحات کا سلسلہ جاری۔


    عراق اور شام ميں امريکی قيادت ميں عالمی اتحاد کی کاوشوں سے داعش کے ہزاروں دہشت گرد ہلاک



    http://gulfnews.com/news/mena/iraq/...alLinksEnabled=false&utm_term=Most+viewed+RSS+



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں