موصل کا معرکہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اکتوبر، 18, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    928
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو آزاد کروانے کے ليے آپريشن کا آغاز۔ اپنے ملک کو داعش کے مظالم سے آزاد کروانے کی کاوشوں ميں ہم اپنے عراقی شراکت داروں کی بھرپور حمايت کرتے ہيں۔

    http://www.urduvoa.com/a/mosul-iraq-operation/3555804.html


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,302
    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پر شیعہ ملیشیا اہل سنت کی نسل کشی پر اتر آئی ہے۔
    داعش ایک فتنہ ہے لیکن اس کے چکر میں وہاں بے گناہ لوگوں کو مارا جارہا ہے۔
    بہتر ہوتا کہ یو این کی فورسس کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوتا لیکن افسوس ایران اپنی شیعہ فورسس کے ذریعے یہ کام کررہا ہے۔
     
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,063
    صرف حمایت؟؟؟ عجیب!
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,363
    سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ داعش کے عفریت کو پیداکرنے والا ہی امریکہ اور اسرائیل ہے جنگ کے سنڈے میگزین میں ،میں نے ایک مضمون پڑھا جس میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ داعش کو کس طرح سہلایاجارہا ہے اور میں تو یہ بھی کہہ دوں گاکہ امریکہ جس خطے میں موجود ہوگا وہاں امن کی فاختہ کا بسیراممکن ہی نہیں ہے۔ویت نام ،عراق، افغانستان،شام وغیرہ اس کی کھلی مثالیں ہیں جہاں امریکہ نے اپنی بربریت اورظلم کی داستان رقم کی اور وہاں کا امن وامان تہہ وبالا کردیاامریکہ پہلے مسئلہ پیداکرتاہے پھر اسے حل کرنے کے بہانے اسے مزید پیجیدہ کردیتاہے اصل میں امریکہ حکیم نہیں نیم حکیم ہے جو مرض کومزید سنگین کردیتاہے۔
     
  5. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    928
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    موصل ميں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف عسکری کاروائ عراقی قيادت کے زير نگرانی ہو رہی ہے اور اس کا مقصد عراق کے عام شہريوں کو ان مجرموں کے چنگل سے آزاد کروانا ہے جو خوف اور دہشت کی مہم کے ذريعے عام لوگوں پر اپنی مرضی اور دقيانوسی سوچ مسلط کرنے کی خواہش رکھتے ہيں۔

    اپنے ملک کو داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کروانے کے ليے مختلف مذہبی اورنسلی پس منظر کے لوگ عراقی افواج کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ ہيں۔

    بعض راۓ دہندگان کی جانب سے
    يہ سوچ اور راۓ کہ اس قسم کی کاوش کسی بھی طور عراق کے لوگوں يا امت مسلمہ کے ليے کوئ اچھی خبر نہيں ہے يقینی طور پر حيران کن ہے۔ کيا ٹی ٹی پی کے ان دہشت گردوں کے خلاف کوئ کاروائ نہيں کی جانی چاہیے جنھوں نے پشاور کے سکول ميں 150 سے زائد بچوں کو بے دردی سے قتل کر ديا تھا ؟ اور وہ بھی اس منطق کے تحت کہ اس قسم کی کاروائ سے مسلم امہ کے اتحاد کو ٹھيس پہنچے گی؟

    ميں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس آپريشن کے حوالے سے بعض راۓ دہندگان خدشات کا شکار کيوں ہيں کيونکہ عراقی شہری اور فوجی تو اپنے ہم وطنوں کو ان مجرموں اور دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے ليے بڑی بہادری کے ساتھ اپنی جانوں کو خطرات ميں ڈال رہے ہيں جو دھڑلے کے ساتھ دہشت اور افراتفری کو حکمت عملی کے طور پر استعمال کر کے اپنی سوچ عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہيں۔

    اس بارے ميں کوئ ابہام نہيں رہنا چاہيے۔ عراقی سيکورٹی فورسز، فوج، اور ديگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نا تو ہماری منشا پر کام کر رہے ہيں اور نا ہی امريکی مفادات کے تحفظ کے ليے اپنی زندگياں داؤ پر لگا رہے ہيں۔ دنيا کے کسی بھی اور ملک کی پوليس اور فوج کی طرح عراق ميں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں ميں کام کرنے والے افراد کی يہ ذمہ داری بھی ہے اور انھوں نے اس بات کا حلف بھی اٹھا رکھا ہے کہ اپنے ملک کی حفاظت کريں اور عام شہريوں کی زندگيوں کی حفاظت کو يقینی بنائيں۔

    اہم سرکردہ اسلامی ممالک سميت دنيا کے بے شمار ممالک کے ساتھ ساتھ امريکی حکومت نے بھی عراق کی حکومت کو مالی امداد اور وسائل فراہم کيے ہيں تا کہ وہ ملک کے قوانين اور آئين کے عين مطابق اپنے فرائض سرانجام دے سکيں۔

    امريکہ، عراقی فوجيوں کے ليے جاری معرکے ميں کاميابی کی خواہش رکھتا ہے۔ اتحادی افواج کا حصہ ہونے کے ناطے ہم موصل سميت ديگر عراقی شہروں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی عراقی کاوشوں کی مکمل حمايت کرتے ہيں۔ عراقی حکومت کی درخواست پر ہم اس اہم مشن کی تکميل کے ضمن ميں تربيت، تجاويز اور ہر قسم کی معاونت فراہم کرتے رہيں گے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,363
    اگر داعش کے خلاف اخلاص موجود ہے توکیا وجہ ہے وی او اے کویہ رپورٹ دینی پڑی کہ "ایک ممتاز پاکستانی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے داعش کو کچلنے کے لیے ایک نکاتی ایجنڈا طے ہونے میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔"http://www.urduvoa.com/a/jr-isil-us-russia-analysts/3053648.html
    یہ حوالہ وہ ہے جویقیناً آپ کے لئے قابل قبول ہے۔

    آپ سمجھنے سےقاصرہیں کیوں کہ آپ نے امریکہ وزیرخارجہ جان کیری سے رابطہ نہیں کیااگرکرتے تووہ آپ کو سمجھاتے کہ یہ معاملہ کیاہےاورامریکی وزیرخارجہ خوداس بات کوتسلیم کرتے ہیں کہ عراق کی جنگ امریکہ کی سنگین غلطی تھی جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں ایک چینی نیوزایجنسی سے اپنے انٹرویو میں جان کیری کا کہناتھا کہ انہوں نے سابق صدر بش کے دور میں ہی اس فیصلے کو غلط قرار دیاتھا آج بھی خطے کے بہت سے مسائل عراق کی جنگ کے ہی پیدا کردہ ہیں جن سے نمٹنے کے لئے امریکہ کوششیں کر رہاہے
    http://www.dailyasas.com.pk/index.php/2014-01-02-10-22-17/11707-2014-07-02-18-30-48
    اوریہ کامیابی کس صورت میں ہوگی امریکہ نے اپنے تئیں کامیابی کس چیز کوقراردیاہے جبکہ عراق کااندرونی انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہوچکاہے وہاں کے لوگوں کوعلاج معالجے امن وامان صحت صفائی سمیت زندگی کے مسائل درپیش ہیں توامریکہ اس کاذمہ دارکس کوسمجھتاہے اگریہی صورت حال واشنگٹن،ٹیکساس،نیوجرسی وغیرہ میں ہوتے توامریکہ کاردعمل اور سوچ کی سطح ونوعیت کیا ہوتی تب صدراوبامہ اپنے ایوان صدارت میں صحافیوں کے جمگھٹے میں اپنے ہی ملک کے صحافیوں کے کس قسم کے سوالات کاسامناکررہے ہوتے۔یہ لازماً ہے کہ تب کی صورتحال کاتصورامریکیوں کیلئے بھی ناممکن ہے اور آپ جیسے پروامریکی کیلئے بھی یہ تصور ایک بھیانک ناول پڑھنے جیساہوگا۔

     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    928

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    فوجی آپريشنز کے نتيجے ميں بے گھر ہونے والے عراقی شہريوں کی بحالی اور انسانی بنيادوں پر جاری عراقی حکومت کی کاوشوں ميں ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے ليے امريکی حکومت پرعزم ہے۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہيں کہ يہ ايک بہت کٹھن کام ہو گا، تاہم ممکنہ مشکلات کا سامنا کرنے کے ليے ہم نے عراقی حکام اور مختلف نجی اين جی اوز سے مسلسل رابطہ رکھا ہوا ہے۔

    يونيسيف اور آئ سی آر سی جيسے ادارے بچوں تک صاف پانی، ادويات اور ديگر ضروريات زندگی کی سہوليات فراہم کرنے کے ليے کليدی کردار ادا کر رہے ہيں۔

    امريکی حکومت اور عراقی حکومت سميت ہمارے تمام اتحادی اس بات سے بخوبی واقف ہيں کہ اس فوجی آپريشن کے ضمن ميں سب سے بڑا چيلنج يہی ہے کہ بے گھر شہريوں کو کيسے تکليف اور پريشانی سے بچايا جاۓ اور اس حوالے سے ہم اپنے طور پر کاروائ شروع کر چکے ہيں۔ مقامی حکومتی عہديداروں کی وسائل تک رسائ کو يقينی بنانے کے ليے ہماری جانب سے خطير رقم کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔

    جہاں تک امريکی حکومت اور ہمارے کردار کا تعلق ہے تو اب تک انسانی بنيادوں پر جاری امداد کے ضمن ميں 1۔1 بلين ڈالرز فراہم کيے جا چکے ہيں۔ علاوہ ازيں ہمارے ديگر شراکت داروں کی جانب سے بھی بحالی کے ضمن ميں 3۔2 بلين ڈالرز مختص کيے جاچکے ہيں۔

    يہ تمام کاروائ عراقی حکومت کی زير نگرانی اور اقوام متحدہ کی مشترکہ کاوشوں کے ذريعے عمل ميں لائ جاۓ گی۔ ہمارا کردار صرف معاونت فراہم کرنے تک ہے۔ عراقی حکومت انسانی بنيادوں پر کام کرنے والے مختلف اداروں اور تنظيموں کے ذريعے ايسے اقدامات اٹھا رہی ہے جن کے تحت دو لاکھ پچاس ہزار سے زائد بے گھر ہونے والے افراد کے ليے ہنگامی بنيادوں پر رہنے کا بندوبست کيا جا سکے گا۔ علاوہ ازيں ان افراد تک ضروريات زندگی کی بنيادی سہوليات کی فراہمی کو بھی يقينی بنايا جاۓ گا۔ يہ تمام ادارے ايک ملين افراد تک امدادی سامان پہنچانے کے ليے ادويات اور ديگر اشياء کو جمع کرنے کا عمل شروع کر چکے ہيں۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    928
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ ہمارے خلاف اس قسم کا نا قابل فہم الزام لگايا گيا ہے۔ فورم پر کچھ راۓ دہندگان کی تمام تر بحث کی بنياد يہی بے سروپا سوچ ہے کہ خطے ميں داعش کا وجود کسی بھی طور ہمارے ليے سودمند ہے۔

    اس بات کا حقيقت سے دور کا بھی واسطہ نہيں ہے۔

    ستم ظريفی ديکھيں کہ ايک جانب جب ہم پر يہ الزام لگايا جاتا ہے کہ ہم اس دہشت گرد تنطيم کی صلاحيت ميں اضافے کے ليے ذمہ دار ہيں، تو اسی وقت خطے ميں ہمارے اسٹريجک اتحاديوں کو فراہم کردہ وسائل اور اينٹيلی جنس کے سبب ان دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نيست ونابود کرنے ميں کليدی مدد مل رہی ہے۔

    تازہ خبروں کے مطابق عراق کے شہر موصل ميں عراقی افواج کے ہاتھوں عالمی اتحاد کی مدد سے داعش کو زبردست شکست کا سامنا ہے۔

    http://www.cnbc.com/2016/10/16/iraq...ensive-backed-by-us-led-coalition-forces.html

    عراقی حکومت کی داعش کے خلاف موصل ميں جاری کاميابی ان دہشت گردوں کے خلاف ہمارے مصمم ارادوں کی عکاسی کرتی ہے جو نا صرف يہ کہ ہمارے مفادات کے ليے خطرہ ہيں بلکہ خطے کے عام شہريوں کے ليے بھی وبال جان ہيں۔

    اور پھر يہ بھی واضح کر ديں کہ اگر آپ کے دعوے کے مطابق داعش کو کسی بھی حوالے سے امريکی حمايت حاصل ہے تو پھر انھيں چھپ کر وار کرنے کی حکمت عملی کيوں اپنانا پڑی؟

    ہم خطے ميں آئ ايس کی دہشت گردی سے زير عتاب آنے والے فريقين کی مدد کے ساتھ ساتھ وسائل کی فراہمی يقینی بنا رہے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  9. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    928

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    بزدل مجرموں کے ايک گروہ کی جانب سے دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ ايک گنجان عوامی مقام پر زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے کيے جانے والے دہشت گرد حملے کا موازنہ افغانستان ميں اقوام متحدہ کی اجازت سے دنيا کے بدنام ترين دہشت گردوں کے خلاف جاری مشترکہ فوجی کاروائ سے کيسے کيا جا سکتا ہے؟

    چاہے وہ عراق ہو، افغانستان، ويت نام يا تاريخ ميں وقوع پذير ہونے والا کوئ بھی مسلح تنازعہ – بے گناہ افراد کی ہلاکت ايک تلخ حقيقت بھی ہے اور قابل افسوس امر بھی۔ تاہم، تنازعے کی نوعيت سے قطع نظر دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا کر امريکی حکومت کو سياسی، سفارتی اور فوجی نقطہ نظر سے کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا ہے۔ علاوہ ازيں، اگر يہی حقيقت ہوتی تو افغانستان ميں ہميں دنيا کے سرکردہ اسلامی ممالک سميت پوری عالمی برادری کی حمايت حاصل نہيں ہوتی۔

    اس کے برعکس دہشت گرد تنظيميں تو اپنی بنيادی تعريف کے عين مطابق اپنی حيثيت کو برقرار رکھنے اور اپنی مرضی کو طاقت کے بل پر مسلط کرنے کے ليے تشدد پر مبنی کاروائيوں پر ہی انحصار کرتی ہيں۔ ان کی تمام تر حکمت عملی نہتے شہريوں کو نشانہ بنا کر اپنے حملوں کی "افاديت" کو بڑھانے اور افراتفری کی فضا پيدا کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔

    اور جب آپ دہشت گردی سے متعلق موجودہ ايشو کے تناظر ميں جاری بحث ميں ويتنام جنگ کا حوالہ ديتے ہيں تو بنيادی طور پر آپ يہ تاثر دے رہے ہيں کہ امريکہ کو کوئ حق نہيں پہنچتا کہ وہ آج کے دور ميں دہشت گردی کا شکار ہونے والے بے گناہ شہريوں کی مدد کو پہنچے کيونکہ چار دہائيوں قبل ہم ويت نام کی جنگ کا حصہ تھے۔ اور آج امريکہ ديگر ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی مذمت يا اس ضمن ميں کسی بھی کاروائ يا دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کی بات کرے تو اس کی حمايت نہيں کی جانی چائيے کيونکہ بحثيت ملک امريکہ کبھی نا کبھی کسی جنگ کا حصہ رہ چکا ہے۔

    دہشت گردی آج کی حقيقت ہے۔ کئ دہائيوں اور صديوں قبل ہونے والے جنگی معرکوں کے درست يا غلط ہونے کا تعين کرنا تاريخ دانوں يا علمی بحث ميں شامل ماہرين کا کام ہے۔ ليکن ان کو بنياد بنا کر آج کے دور ميں بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کا حوالہ دينا حقيقت سے لاتعلقی اور اس ناقابل ترديد سچ کو رد کرنے کے مترداف ہے کہ دہشت گردی صرف امريکہ کا ہی مسلہ نہيں ہے بلکہ ايک عالمی معاملہ ہے جس کے حل کے ليے تمام فريقين کی جانب سے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  10. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,363
    ,داعش کے اصولوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے امریکہ اور اسرائیل میں حملہ نہیں کرنا ہے۔
    داعش کی حقیقت صفحہ:10
    q.gs/LlrM/
    آپ نے لکھا ہے کہ داعش چھپ کرلڑنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے کمال ہے کیاآپ دیکھ نہیں رہے شام میں کیا داعش چھپ کے حملہ کررہی ہے عراق میں چھپ کے حملہ کررہی ہے اس تنظیم نے حماس پر بھی حملہ کیا ہے مگر اسرائیل میں حملہ کرنے سے مانع ہے جوکہ امریکہ کاماسٹر ہے۔
    شکریہ امریکہ وہ داعش کے ٹھکانوں کونیست ونابود کررہاہے مگر اسکا اپنا وزیر خارجہ جان کیری کہہ رہاہے کہ امریکہ نے عراق جنگ شروع کرکے بڑی غلطی کی ہے
    بہت خوب اب بے بس مسلمان حکمران امریکہ کو نا کرسکتے ہیں آپ خود انصاف سے بتائیں یہاں پر آپ نے لکھا ہے کہ امریکہ کوپوری عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے یہ لطیفہ بھی اچھا ہے آپ نے لکھا ہے کہ
    چلیں ہم سب کی سوچ امریکہ اوراسکی سیاسیات کے متعلق بے سروپا سہی ایک صدر بش جونیئر کے مشیر برائے سیکورٹی رچرڈ کلارککی سوچ کوآپ کیا کہیں گے صدر بش چاہتے تھے کہ رچرڈ کلارک 9/11کے حملوں کا ذمے دار صدر صدام حسین کو قرار دیں۔ لیکن اس امر کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ عراقی حکومت نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملے کرائے۔ چنانچہ رچرڈ نے استعفیٰ دے دیا‘ اپنے صدر کا غیر قانونی و غیر اخلاقی حکم تسلیم نہیں کیا
    امریکی ریٹائرڈ جنرل، ڈینئل بولگر نے اپنی چشم کشا کتاب’’ہم کیوں ہارے؟‘‘(Why We Lost: A General’s Inside Account of the Iraq and Afghanistan Wars)
    عراق پر حملے کا امریکہ نے بہانہ تراشہ جس کی تصدیق اس فورم پر موجود بے سروپاباتیں کرنے والے ممبران نے نہیں کی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اسلحہ کے معائنہ کاروں کے سربراہ ہانس بلکس نے کی ہیں وہ کہتے ہیں کہ بش انتظامیہ ان کے معائنہ کاروں پر دباؤ ڈالتی رہی کہ وہ اپنی رپورٹوں میں مزید پھٹکارے جانے والی زبان استعمال کریں۔

    http://www.bbc.com/urdu/news/030611_blix_pentagon_si.shtml

    واہ امریکہ کوعام اور نہتے عوام کی کتنی پرواہ ہے توذرا اقوام متحدہ کی بھی ایک بے سروپا بات امریکہ بہادرکے بارے میں پڑھ لیں بدھ کے روز مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ضلع اچین پر کئے گئے امریکی حملے میں پندرہ عام شہری مارے گئے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کے ڈرون طیارے نے حج سے واپس آنے والے مقامی قبائلی رہنما کے استقبال کے لئے جمع ہونے والے لوگوں کو نشانہ بنایا۔ افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے امریکی حملے میں پندرہ عام شہریوں کے مارے جانے اور تیرہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی فوج کے جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس نے داعشی عناصر کو نشانہ بنایا ہے تاہم اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرنے والوں میں متعدد اسکولی بچے، ایک ٹیچر اور حکومت کے حامی خاندان کے لوگ شامل ہیں۔ نیٹو کے حملوں میں افغان فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا معاملہ کابل اور واشنکٹن کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ رواں سال اگست میں جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند میں امریکی ڈرون حملے میں بائیس افغان فوجی مارے گئے تھے۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ وہ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کی باقیات اور داعشی عناصر کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں زیادہ تر عام شہری ہی مارے جا رہے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
    امریکہ کی دہشت گردی کوپروان چڑھاکر پھر دہشت گردی کوختم کرنے کے بہانے جوکشت وخون کاکھیل ہے اسکامقصد مسلمان ملکوں اورخطے میں افراتفری کشت وخون کے علاوہ کچھ نہیں جس کی مخالفت خودامریکہ کے بھی اندر ہورہی ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں